اک ہاری جنگ کے بارے میں نوبل لیکچر: سویٹلانا ایلکسیوچ، نوبل انعام 2015
اردو قالب: قیصر نذیر خاورؔ
میں اس مقام پر اکیلے نہیں کھڑی۔ میرے اردگرد آوازیں ہیں، سینکڑوں آوازیں۔ یہ میرے ساتھ بچپن سے ہمیشہ رہی ہیں۔ میں مضافات میں پلی بڑھی ہوں۔ ہم جب بچے تھے تو گھر کے باہر کھیلنا ہمیں پسند تھا لیکن جیسے ہی شام ہوتی تو گاؤں کی ان عورتوں کی تھکی آوازیں ہمیں مقناطیس کی طرح کھینچ لیتیں جو اپنے جھونپڑوں کے پاس بینچوں پر اکٹھی ہوئی ہوتیں۔ ان میں سے کسی کا خاوند، باپ یا بھائی نہیں تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہمارے گاؤں میں مرد تھے، مجھے یاد نہیں۔
جنگ کے دوران ہر چار میں سے ایک بیلارسین یا تو محاذ پر یا پھر مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ لڑتے ہوئے مارا جا چکا تھا۔ جنگ کے بعد ہم بچے عورتوں کی دنیا میں رہتے تھے۔ مجھے جو سب سے زیادہ یاد ہے وہ یہ ہے کہ عورتیں موت کے بارے میں نہیں بلکہ محبت کے بارے میں باتیں کیا کرتی تھیں۔ وہ اس بارے میں کہانیاں سنایا کرتی تھیں کہ انہوں نے، جن سے وہ پیا ر کرتیں تھیں، کیسے، ان کے جنگ پر جانے سے ایک دن پہلے انہیں الوداع کہا تھا۔
وہ اس بارے میں باتیں کرتیں کہ انہوں نے ان کا انتظار کیسے کیا اور یہ کہ وہ ابھی بھی کیسے ان کی منتظر ہیں۔ سالوں بیت گئے تھے لیکن وہ پھر بھی ان کی منتظر تھیں۔ وہ کہا کرتیں : ”مجھے اس کی پرواہ نہیں، اگر اس نے اپنے بازو گنوا دیے ہیں یا ٹانگیں کھو دی ہیں، میں اسے اٹھائے پھروں گی۔“ بازو نہیں۔ ٹانگیں نہیں۔ میرا خیال ہے مجھے بچپن سے ہی محبت کے بارے میں علم رہا ہے۔
میں یہاں اس سرود گاہ سے اٹھنے والے کچھ المیہ گیت پیش کر رہی ہوں جو میں سنتی تھی۔
پہلی آواز:
”تم یہ سب کیوں سننا چاہتی ہو؟ یہ بہت ہی اداس کر دینے والا ہے۔ میں اپنے خاوند سے جنگ کے دوران ملی تھی۔ میں تب ایک ٹینک کے عملے میں تھی جس نے سیدھا برلن جانا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم رائش تاگ (Reichstag) کے نزدیک کھڑے تھے۔ وہ ابھی تک میرا خاوند نہیں بنا تھا۔ اور اس نے مجھے کہا تھا:“ چلو شادی کر لیتے ہیں۔ مجھے تم سے پیار ہے۔ ”
میں تب بہت گھبرائی ہوئی اور پریشان تھی۔ ہم جنگ کے سارے عرصے میں کیچڑ، گند، گرد اور خون میں رہ رہے تھے اور میں نے بیہودہ، بے شرمی اور فحش باتوں کے سوا کچھ نہیں سنا تھا۔ میں نے جواب دیا:
”پہلے مجھے عورت تو بناؤ۔ مجھے پھول دو۔ میرے کانوں میں کچھ میٹھی میٹھی ان کہیوں کی سرگوشیاں کرو۔ میں جب فوج سے فارغ ہو جاؤں گی تو اپنے لیے عروسی جوڑا بناؤں گی۔“
میں تب اتنی پریشان تھی کہ میں اسے تھپڑ مارنا چاہتی تھی۔ اس نے یہ سب سہا۔ اس کا ایک گال بری طرح جل چکا تھا اور اس پر زخموں کے نشان موجود تھے۔ میں نے دیکھا اس کے داغوں پر آنسو رواں تھے۔
”ٹھیک ہے، میں تم سے شادی کرلوں گی۔“ ، میں نے کہا تھا۔ بالکل ایسے ہی۔ میں خود پر یقین نہ کر سکی کہ میں نے یہ کہا تھا۔ ہمارے اردگرد سوائے راکھ اور ٹوٹی، چورا ہوئی اینٹوں کے اور کچھ نہ تھا، مختصر یہ کہ ہر طرف جنگ تھی۔ ”
دوسری آواز:
”ہم چرنوبل نیوکلیائی پلانٹ کے پاس رہتے تھے۔ میں ایک بیکری میں کام کرتی تھی اور سموسے بنایا کرتی تھی۔ میرا خاوند ایک آگ بجھانے والا تھا۔ ہم نئے نئے بیاہے گئے تھے۔ ہم سٹور پر بھی جاتے تو ہاتھوں میں ہاتھ دیے ہوتے۔ جس دن ری۔ ایکٹر پھٹا، میرا خاوند فائر سٹیشن پر ڈیوٹی پر تھا۔ انہوں نے عام کپڑے پہن رکھے تھے اور صرف قمیضوں میں ہی تھے۔ وہ اسی طرح اطلاع ملتے ہی دوڑ پڑے۔ جوہری توانائی کے سٹیشن میں دھماکہ ہوا تھا لیکن انہیں خصوصی لباس نہیں دیے گئے تھے۔
ہم بس ایسے ہی رہتے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں۔ وہ ساری رات آگ بجھاتے رہے اور تابکاری کا ایسے شکار ہوتے رہے جو زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ اگلی صبح انہیں ہوائی جہاز کے ذریعے سیدھا ماسکو پہنچایا گیا۔ وہ شدید تابکاری کی وجہ سے سخت علیل تھے۔ آپ ایسی حالت میں چند ہفتوں سے زیادہ جی نہیں پاتے۔ میرا خاوند تنومند تھا۔ وہ ایک کھلاڑی تھا۔ وہ سب سے آخر میں مرا۔ میں جب ماسکو گئی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ اسے خصوصی اور ایک الگ کمرے میں رکھا گیا ہے اور اس سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں۔
” لیکن مجھے اس سے محبت ہے۔ “ ، میں نے ان کی منت کی، ”فوجی اس کی نگہداشت کر رہے ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟“ ، ”میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ “ انہوں نے مجھ سے بحث کی: ”یہ اب وہ بندہ نہیں رہا جس سے تم محبت کرتی تھیں۔ وہ اب ایک ایسا جسم ہے جس کی معلومات کا اندراج کرنا ضروری ہے۔ کیا تمہیں سمجھ نہیں آتی؟“ میں لیکن بار بار خود کو ایک ہی بات سمجھاتی رہی: مجھے محبت ہے۔ مجھے محبت ہے۔ رات میں، میں چمنی پر چڑھ جاتی تاکہ اسے دیکھ سکوں۔
یا پھر میں رات میں صفائی کرنے والوں سے پوچھتی۔ میں نے ان کو پیسے دیے تاکہ وہ مجھے اندر جانے دیں۔ میں نے اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، میں اس کے انت تک اس کے ساتھ رہی۔ اس کی موت کے کچھ ماہ بعد ہی میں نے ایک ننھی بچی کو جنم دیا لیکن وہ کچھ ہی دن زندہ رہی۔ وہ۔ جس کے بارے میں ہم بہت پر جوش تھے لیکن میں اسے زندہ نہ رکھ سکی۔ اس نے البتہ مجھے میری جان بچا لی۔ اس نے ساری تابکاری خود میں جذب کر لی تھی۔ وہ بہت ہی چھوٹی تھی۔ ننھی گڑیا جیسی۔ لیکن مجھے دونوں سے پیار تھا۔ کیا آپ پیار و محبت سے کسی کو مار سکتے ہیں؟ محبت اور موت کیوں ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں؟ یہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کیوں آتے ہیں۔ اس کی وضاحت کون کر سکتا ہے؟ میں ان کی قبروں پر اپنے گھٹنوں پر گر جاتی ہوں۔ ”
تیسری آواز
”میں نے پہلی دفعہ ایک جرمن کو مارا تھا۔ میں اس وقت دس سال کی تھی اور ہمارے مزاحمت کار/پارٹی کے جیالے مجھے مہم پر لے گئے تھے۔ یہ جرمن زخمی حالت میں زمین پر لیٹا ہوا تھا۔ مجھے کہا گیا کہ میں اس کی پستول لے لوں۔ میں بھاگ کر گئی، اس نے اپنا پستول دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور میرے چہرے کا نشانہ لیا لیکن وہ پہلے گولی نہ چلا سکا، میں نے چلا دی۔
کسی کو ہلاک کرنے نے مجھے خوفزدہ نہیں کیا تھا۔ میں نے جنگ کے دوران اس کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔ بہت سے لوگ مارے گئے تھے اور ہم ان مردوں کے درمیان زندہ تھے۔ بہت سال بعد مجھے اچانک اس جرمن کے بارے میں ایک خواب آیا۔ یہ نجانے کہاں سے چلا آیا تھا۔ مجھے یہ خواب بار بار آتا رہا۔ میں اڑ نا چاہ رہی ہوتی لیکن وہ مجھے ایسا نہ کرنے دیتا۔ میں اوپر اٹھتی۔ اڑتی، اڑتی۔ وہ مجھے پکڑ لیتا اور میں اس کے ساتھ نیچے گر جاتی۔ میں کسی قسم کے گڑھے میں گرتی۔ یا میں اٹھنے کی کوشش کرتی۔ کھڑا ہونا چاہتی۔ لیکن وہ مجھے کھڑا نہ ہونے دیتا۔ اس کی وجہ سے میں اڑ کر دور نہ جا سکتی۔
یہی ایک خواب۔ مجھے دہائیوں تک پریشان کرتا رہا۔
میں اس خواب کے بارے میں اپنے بیٹے کو نہ بتا سکی۔ وہ ابھی بچہ تھا۔ میں ایسا نہ کر سکی۔ میں اسے پریوں کی کہانیاں سناتی رہی۔ میرا بیٹا اب بڑا ہو چکا ہے۔ لیکن میں اسے اب بھی بتا نہیں پا رہی۔ ”
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


