ہماری پون صدی کے گرد گھومتے سوالات اور کپتان کو جواب


وطن عزیز کا سی وی ریورس آرڈر میں دیکھا جائے تو موجودہ پندرہ سالہ ہائبرڈ حکمرانی کے دور کا ذکر ہی سب سے پہلے آئے گا۔ اس مخلوط دور میں تمام اختیارات جنرل قمر جاوید باجوہ، جنرل راحیل شریف اور جنرل اشفاق کیانی کے پاس تھے اور ساتھ ہی ساتھ قوم اور سیاست دان ان جمہوریت پسند جرنیلوں کے تہ دل سے مشکور بھی تھے کہ انہوں مارشل لا نہیں لگایا۔ اب کی بار انہوں نے مارشل لا لگانے کی بجائے وزرائے اعظم لگائے، ڈرائے دھمکائے اور اتارے چڑھائے۔

اس دور میں جرنیلوں کے درمیان ارب پتی بننے کا، سیاست دانوں کے درمیان جرنیلوں کی فرمانبرداری بلکہ چاپلوسی کا اور غریبوں کے درمیان سسک سسک کر مرنے کا مقابلہ رہا۔ تینوں ہی جان خدا کو دینے کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے اور مولانا طارق جمیل، مولانا فضل الرحمان، مولانا خادم رضوی اور مرشد گھریلو خاتون کے توشہ خانوں سے ملنے والے افیون کے تحفوں میں مست رہے۔ ملا مسجدوں کے سپیکروں سے نفرت اور جہالت کا زہر اگلتے رہے، ایٹمی اثاثے محفوظ رہے اور آبادی اور قرضے بڑھتے رہے۔

مخلوط حکومتوں کے ان پندرہ برسوں سے پہلے کوئی نو سال جنرل مشرف کے مارشل لا کے تھے۔ ان نو برسوں کے دوران میں ہم نے امریکہ کو دھوکہ دیا۔ ڈالر لیے اور اچھے برے طالبان کا کھیل کھیلا۔ خود کش بم دھماکوں میں فوجیوں، پولیس والوں اور سویلین کی لاشیں اٹھاتے رہے لیکن طالبان اپنے ہی بچے تھے اپنے بچے ہی رہے۔ ٹرمپ کو بہرحال تینتیس ارب ڈالر کا دکھ کھا گیا۔

جنرل مشرف کے مارشل لا سے قبل یعنی 1988 سے 1998 تک تقریباً دس سال بھی ہائبرڈ حکومت کے تھے۔ یہ دور جنرل حمید گل، جنرل اسلم بیگ اور صدر غلام اسحاق خان کی مہربانیوں کا تھا۔ اس دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے جب جب وزیر اعظم بننے کی کوشش کی تو انہیں باور کرایا گیا کہ سویلین حکومت دو مارشل لاؤں کے درمیان وقفے کے طور پر قائم کی گئی ہے نہ کہ جمہوریت یا وطن عزیز کی محبت میں۔ اس ہائبرڈ دور سے پہلے جنرل ضیا الحق کا مارشل تھا۔

مرد مومن مرد حق کا مارشل لا 1977 سے 1988 تک گیارہ سال پر محیط تھا۔ جنرل ضیاء کے دور میں ہمیں افغانستان کی بربادی کا پہلا ٹھیکہ ملا۔ ہم نے بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور افغانستان کے ساتھ ساتھ خود کو بھی برباد کر لیا۔ ہم نے ڈالر لیے اور مجاہدین پیدا کیے (یہ طالبان کی ابتدائی شکل تھی لیکن کام وہی کرتے تھے جو اب طالبان کر رہے ہیں)۔ معاشی لحاظ سے یہ بہت ”سنہرا“ دور تھا۔ خاموش مجاہد جنرل اختر عبدالرحمن اپنی ساری تنخواہ سے مجاہدین کے بیوی بچوں کو راشن پہنچا دیتے تھے۔ پھر ملک کے جید کالم نگار جناب ہارون رشید صاحب سے دو سو روپے ادھار مانگ کر اس کو ڈالر میں تبدیل کراتے اور بنک میں جمع کروا دیتے تھے۔

جنرل ضیا الحق ایک جمہوریت پسند جنرل اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے خود کو ایک ریفرنڈم کے ذریعے منتخب بھی کرایا۔ اس ریفرنڈم میں ایک ہی سوال تھا؛ اگر اللہ ایک ہے تو پھر جنرل محمد ضیا الحق اگلے پانچ سال کے لیے پاکستان کا صدر ہے۔ اس سوال کا جواب ”ہاں“ یا ”نہ“ میں دینا تھا۔ لوگ ووٹ دینے نہیں آئے لیکن ووٹ گنتی کرنے والے تو آئے تھے اور سارا دن پولنگ سٹیشنز پر موجود بھی رہے۔ شام کو ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹی وی نے قوم کو اللہ کے ایک ہونے اور جنرل محمد ضیا الحق کے صدر پاکستان منتخب ہونے کی مبارک باد پیش کر دی۔ جنرل ضیا الحق ہوائی جہاز کے حادثے میں ہلاک نہ ہو جاتا تو شاید اب بھی وہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم کرنے کی کامیاب کوشش کر رہا ہوتا۔

جنرل ضیا الحق کے گیارہ سالہ مارشل لا سے پہلے پی پی پی کی حکومت تھی اور جناب ذوالفقار علی بھٹو ایک با اختیار وزیر اعظم تھے۔ تازہ تازہ ڈھاکہ فال ہوا تھا۔ فوجی جرنیلوں کی قابلیت سب کے سامنے آ چکی تھی۔ بھٹو صاحب اور اس وقت کی قومی اسمبلی نے آئین بنایا اور مارشل لا کا راستہ روکنے کی ایک بھرپور کوشش تو کی لیکن بھٹو صاحب محتاط پھر بھی رہتے تھے۔ اور حالات نے ثابت کیا کہ بھٹو صاحب کا ڈر ٹھیک تھا۔ اتنی بڑی شکست اور آرٹیکل چھ کی موجودگی کے باوجود پاک فوج کے طالع آزما جرنیل صرف سات برسوں میں پھر مارشل لا لگانے اور بھٹو صاحب کو پھانسی پر لٹکانے کے قابل ہو گئے۔

بھٹو صاحب کے اس مختصر جمہوری دور سے پہلے 1958 سے 1971 تک ایوب خان اور یحییٰ خان کے مارشل لاؤں کا دور تھا۔ ایوب خان پاک فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ تھے اور 1958 میں جب انہوں نے مارشل لا لگایا تھا تو اس وقت وہ تیسری ایکس ٹینشن پر تھے۔ یہ دور پاکستان میں امریکی ہوائی اڈے بڈبیر، فرینڈز ناٹ ماسٹرز کے راگ اور مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی غداری سے تعبیر ہے۔

جنرل ایوب خان نے 1958 میں جب مارشل لا لگایا تو پاکستان کی عمر گیارہ برس تھی۔ وطن عزیز کے پہلے گیارہ سال گورنر جنرلز کا دور تھا۔ اس دوران قائد اعظم سمیت چار گورنر جنرل گزرے۔ ان گیارہ برسوں میں سات وزرائے اعظم آزمائے گئے۔ ان میں سب سے لمبا عرصہ، تقریباً چار سال، لیاقت علی خان کو ملا اور باقی کے سات برس چھ وزرائے اعظم میں تقسیم ہوئے۔ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ابتدائی گیارہ برسوں کے دوران آٹھ سال تک ایوب خان آرمی کے سربراہ رہے۔ اسی دوران وہ کوئی دس مہینے کا عرصہ باوردی وزیر دفاع بھی رہے۔ اس سے ان کی حکومت میں دلچسپی اور مداخلت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ان تمام ادوار میں جج اور ملا جرنیلوں کی مدد اور خوشامد میں سیاست دانوں کے ہم پلہ تھے۔ ظاہر ہے کہ کچھ مستثنیات تو سبھی شعبوں میں تھیں، لیکن بدقسمتی سے بہت کم۔

اب ایسے میں کپتان جو کہ خود بھی چار برس با اختیار وزیر اعظم رہنے کا دعوی کرتے رہے، سوال پوچھتے ہیں کہ کون ہے جو پنجاب کی منتخب حکومت سے زیادہ طاقتور ہے کہ سب سے بڑی سیاسی پارٹی کا سربراہ، سابق وزیر اعظم، اپنی صوبائی حکومت کے ہوتے ہوئے بھی اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہیں کروا سکا۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik