’کیا یہ میری غلطی ہے کہ مجھے فحش تصاویر اور پیغامات بھیجے جاتے ہیں‘


ٹی وی سٹار ایملی اٹیک کو ہر روز سینکڑوں فحش تصاویر اور پیغامات بھیجے جاتے ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کہ آخر کیا چیز ایسا کرنے والے مردوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور انھیں روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

ہر صبح اٹھتے ہی ایملی ایک برہنہ آدمی کی تصویر دیکھتی ہیں اور یہ سب ان کی خواہش پر نہیں ہو رہا۔

33 سالہ اداکارہ، پریزینٹر اور کامیڈین کہتی ہیں کہ ’یہ بہت بے عزتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ مجھے کچھ بھی بھیجا جا سکتا ہے اور میں اسے قبول کروں گی۔‘

ایملی کو برسوں سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر فحش پیغامات مل رہے ہیں۔ لیکن لاک ڈاؤن کے دوران ان کی تعداد اور لہجے میں شدت آئی، اور یہ پیغامات جنسی طور پر شدید جارحانہ ہوتے گئے۔

انھوں نے اس سب سے متعلق بی بی سی کے لیے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔

ایملی 17 سال کی تھیں جب انھیں چینل فور کی مشہور مزاحیہ فلم، ’دی انبیٹ ویینرز‘ میں شارلٹ ہینچکلف کے طور پر کاسٹ کیا گیا۔

ایملی کا کہنا ہے کہ ’وہ سکول میں خاصی مقبول تھیں۔ یہ ایک خیالی کردار ہے، لیکن ظاہر ہے کہ لوگ آپ کو ان کرداروں سے جوڑتے ہیں جو آپ ادا کرتے ہیں۔‘

خود کو موردِ الزام ٹھہرانا

ایملی کا کہنا ہے کہ کم عمری سے ہی انھیں مردوں کی جانب سے ان چاہی توجہ ملنے لگی تھی۔ ان کی حفاظت کی غرض سے ان کے اہلِ خانہ نے تجویز کیا کہ وہ اپنے رویے میں تبدیلی لائیں مثلا، میک اپ کرنا چھوڑ دیں یا سکول سکرٹ پہن کر نہ جائیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہ بہت غلط ہے کہ جو لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں انھیں لگتا ہے کہ اسے کنٹرول کرنے کا طریقہ آپ کو بدلنا ہے اور یہ سب کہیں جا کر ختم نہیں ہوتا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اپنی ساری زندگی میں نے صرف اس کی وجہ سے خود کو مورد الزام ٹھہرایا۔‘

ایملی نے اپنی بالغ زندگی کا بیشتر حصہ بھی خود کو موردِالزام ٹھہراتے گزارا۔ 

وہ کہتی ہیں کہ ’میں ان سب کے بارے میں پبلک میں بات کرنے سے گھبراتی ہوں کیونکہ میں انسٹاگرام پر بکنی کی تصاویر لگاتی ہوں، اپنے شوز میں سیکس کے بارے میں بات کرتی ہوں اور ایسی گفتگو کرتی ہوں جو غیر سنجیدہ ہوتی ہے۔۔۔ لوگ کہیں گے تم تو توجہ مانگ رہی تھی۔‘

’پھر آپ سوچتے ہیں کہ ’کیا یہ میری غلطی ہے؟‘

ایملی ہمیشہ ان پیغامات سے نمٹنے کے لیے مزاح کا سہارا لیتی رہی ہیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ اب یہ مزاح کی حد سے آگے نکل چکا ہے۔

’اس کی شدت کو سمجھنا ہو گا کیونکہ نوجوان لڑکیوں کو انسٹاگرام پر اسی طرح کے پیغامات مل رہے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر یہ آپ کی بیٹی، آپ کی بھانجی ہوتی تو کیا ہوتا؟‘ 

سنہ 2020 کی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ 12-18 سال کی عمر کی 76 فیصد لڑکیوں کو لڑکوں یا مردوں کی جانب سے عریاں تصاویر بھیجی گئی تھیں، جنھیں عام طور پر ’ڈک پِکس‘ کہا جاتا ہے۔ 

جب ایملی نے سیکنڈری سکول کی کچھ لڑکیوں سے بات کی تو وہ حیران رہ گئیں جب ان سب نے بتایا کہ انھیں بھی آن لائن جنسی اور فحش پیغامات ملتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں  کہ ’جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ صدمہ پہنچایا وہ یہ تھا کہ میں نے سوچا کہ لڑکیاں یہ کہنے جا رہی ہیں کہ یہ سکول کے لڑکے ہیں جو اپنے فون استعمال کرتے ہوئے خود پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے، لیکن یہ آن لائن پیغامات انھیں بڑی عمر کے مرد بھیج رہے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

عورتوں سے نفرت آن لائن اتنی مقبول کیوں ہے؟

’وہ ویڈیو کال میں برہنہ ہونے کا مطالبہ کرتا تھا‘ پاکستان میں ہراسانی کو رپورٹ کرنے کا رجحان کیسے بڑھا؟

آن لائن ہراسانی: کیا پاکستان میں سائبر کرائم کے قوانین خواتین کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں؟

’اپنی صفائی دو‘

ایملی نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ڈالی جس میں انھیں فحش پیغامات بھیجنے والے مردوں سے پوچھا گیا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔

وہ کہتی ہیں ’یہ لوگ اپنی پوری زندگی مجھے گالیاں دینے اور انتہائی خوفناک باتیں کرنے میں گزارتے ہیں اور جیسے ہی میں کہتی ہوں کہ ’اچھا میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں، چلو بات کریں‘ اس وقت غائب ہو جاتے ہیں اور کچھ جواب نہیں دیتے۔

ایملی کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے تو کبھی بھی اپنے والدین کے ساتھ اس بارے میں بات نہیں کی تھی، اور جب سے ان کی والدہ کامیڈین کیٹ رابنز کو انھیں ملنے والے پیغامات کا ایک نمونہ دکھایا گیا تب سے وہ بہت پریشان ہیں۔ 

وہ کہتی ہیں کہ وہ اپنی بیٹی پر اس کے نفسیاتی اثرات اور اس کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں۔

اگرچہ پیغامات بہت سے مختلف مردوں کی طرف سے ہیں، ایملی کے والد کیتھ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ہی شخصیت نے بھیجے ہیں۔

ان لوگوں کی ذہنیت سمجھنے کے لیے ایملی نے براہ راست دو آدمیوں کو میسج کیا جو باقاعدگی سے انھیں فحش مواد بھیجتے ہیں تاکہ ان سے وجہ پوچھیں۔ 

ایک نے ایملی کا پیغام پڑھنے کے فوراً بعد ایملی کو بلاک کر دیا، جب کہ دوسرے نے ان پر الزام لگاتے ہوئے جواب دیا  کہ وہ ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور کہا کہ ’اس کے فحش پیغامات کے پیچھے ایملی کی شہرت تھی۔‘

ان مردوں کی ذہنیت جاننے کی کوشش میں ایملی نے ’ریکلیم دیز سٹریٹس‘ کی شریک بانی جیمی کلنگر سے بات کی۔

جیمی کو اس وقت آن لائن فحش تصاویر، ریپ اور جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں جب انھوں نے سارہ ایورآرڈ کے قتل کے بعد ایک دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا۔

وہ کہتی ہیں ’اس کے پیچھے وجہ ہمارا لباس یا ہمارا کام نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کو خاموش اور کنٹرول کرنا چاہتے ہیں اور وہ آپ کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ انھیں آپ پر غلبہ حاصل ہو گیا ہے۔‘

پروفیسر جین مونکٹن سمتھ کی تحقیق قتل عام کی روک تھام کے بارے میں ہے، کوئی بھی ایسا عمل جو کسی دوسرے شخص کی موت کا باعث بنے۔ 

وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد بظاہر چھوٹی نظر آنے والی چیزوں سے شروع ہو کر سنگین جنسی حملوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ پولیس کو آن لائن بدسلوکی کی رپورٹ دینے کی تجویز دیتی ہیں تاکہ اس شخص کا نام ریکارڈ پر رہے۔

پروفیسر مونکٹن سمتھ نے ایملی کو بتایا کہ ’ریپ کوئی عام جرم نہیں ہے، قتل عام جرم نہیں ہے۔ ان جرائم تک پہنچنے سے پہلے اس شخص نے ایسی کئی نشانیاں چھوڑی ہوں گی جن سے اس کا پرتشدد رویہ ظاہر ہو گیا ہو گا، لیکن ان سب رویوں کا دفاع کیا جاتا ہے اور الزام متاثرہ فرد پر لگا دیا جاتا ہے۔‘

رویوں میں تبدیلی

ان کی گفتگو کے بعد ایملی نے پولیس کو آن لائن بدسلوکی کی رپورٹ دی اور پولیس کو تفصیلات بتاتے ہوئے خود کو کافی تناؤ میں محسوس کیا۔

ایک افسر نے کہا کہ اگر کئی دوسری خواتین نے بھی بدسلوکی کی رپورٹ کروائی ہے تو اس صورت میں وہ ان مردوں کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ اور اگر پیچھا کرنے جیسا عمل شامل ہو تو کارروائی بھی کر سکتے ہیں۔

لیکن افسران کے جانے کے بعد ایملی نے سوچا کہ آیا وہ واقعی کسی کو گرفتار کروانا چاہتی ہیں یا نہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ مانیں انھوں نے غلط حرکت کی ہے۔‘

سنہ 2021 میں ایملی نے پارلیمنٹ میں ایک تقریر کی جس میں انھوں نے اس آن لائن بدسلوکی کے بارے میں بتایا اور اب آن لائن سیفٹی بل میں سائبر جرائم کو شامل کیا گیا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ دو سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس بل کی منظوری گذشتہ ہفتے اراکین پارلیمنٹ نے دی تھی اور اب اسے پاؤس آف لارڈز پیش کیا جائے گا۔

اگرچہ ایملی نے اس کے لیے مہم چلائی ہے، لیکن اب وہ سوچتی ہیں کہ کیا صرف قانون میں ترمیم ہی اس کا حل ہے۔

 آن لائن سیفٹی کمپینر سائی اکیوو کا کہنا ہے کہ اگرچہ قانون مدد کر سکتا ہے، لیکن تعلیم اور آگاہی اور ساتھ ہی ساتھ بدلتے معاشرتی اصول بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔، 

ہمیں دراصل یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس سب بدسلوکی کے پیچھے وجہ کیا ہے‘ اور درحقیقت مردوں کے رویوں کو بدلنا پڑے گا اور انھیں سمجھانا پڑے گا کہ ایک اچھا رشتہ کیسے بنتا ہے، رضامندی کیا ہوتی ہے۔‘

اینڈریا سائمن، گروپ اینڈ وائلنس اگینسٹ ویمن کی ڈائریکٹر ہیں، وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ معاشرے کو خواتین پر الزام تراشی والی روش ختم کرنا ہو گی۔

وہ کہتی ہیں ’صرف عورت اور اس کے رویے پر ساری توجہ مرکوز ہے اور اسے بدلنا ہو گا۔‘

ایملی کا کہنا ہے کہ آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا، ان کے لیے اب تک کی سب سے مشکل چیزوں میں سے ایک رہا ہے۔ انھیں اس دوران تھراپی میں جانا پڑا اور اس پورے عمل کے دوران انھیں ماضی کے تلخ تجربات بھی یاد آئے۔

وہ کہتی ہیں ’میں جن چیزوں سے گزری ہوں اور جن کو میں نے اپنی زندگی کو معمول بنا لیا ہے، میں ان کے بارے میں جتنا زیادہ بات کرتی ہوں، اتنا ہی مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے یہ سب برداشت نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔‘

ایملی کہتی ہیں کہ میں اب بھی اس سے نمٹنا سیکھ رہی ہوں، اب بھی تھراپی میں جاتی ہوں اور اپنی ذات پر توجہ دے رہی ہوں۔‘

’میں جو کچھ کر رہی ہوں اسے نہیں بدلوں گی کیونکہ مجھے ہر وقت جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔اور ہمیں، ہمارے رویے کو نہیں بلکہ ان کو بدلنا ہے۔‘

’مجھے خود کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہئے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27672 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments