عصمت چغتائی کے افسانوں کا مجموعہ: لحاف

ایک ایسے وقت میں جب شہوت انگیز ادب لکھنا نہ صرف خواتین کے لیے بلکہ مرد ادیبوں کے لیے بھی جرم تھا، جہاں سیکس جیسے موضوعات پر قلم اٹھانے سے ادیب کتراتے تھے عصمت چغتائی یقیناً داد تحسین کی مستحق ہے جنہوں نے اس وقت کے قدامت پسند معاشرے کے خلاف علم بغاوت کی اور 111 صفحات پر مشتمل آٹھ مختصر کہانیوں والا لحاف لکھا۔ یہ کتاب 1940 کی دہائی میں لکھی گئی جب اردو ادب میں سگمنڈ فرائیڈ کے نظریات جگہ بنا رہے تھے، جب سعادت حسن منٹو اور عزیز احمد جیسے لکھاری شہوت انگیز موضوعات کو کاغذ کی زینت بنا رہے تھے۔
اس کتاب کا پہلا باب جس کا نام زندگی ہے میں عصمت چغتائی نے اپنی مختصر سوانح عمری بیان کی ہے جس میں وہ اپنے بچپن، اپنے خاندان، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے قدامت پسند والدین، اپنے تعلیمی کیریئر، اپنی شادی، اپنی ملازمت، گاندھی جی سے اس کی ملاقات، عصمت چغتائی کا پردہ کرنے کی وجوہات، اور جوانی میں کچھ پرکشش مردوں سے اس کے پیار کرنے کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ اس کہانی کے آخر میں، وہ یہ پرمغز بات کرتی ہے کہ ایک بیوی اور ایک عورت کو پیار، عزت اور مساوات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے شوہر شاہد نے اسے یہ تینوں چیزیں مہیا کی جس کی وجہ سے انہوں نے کامیاب اور پرسکون ازدواجی زندگی گزاری۔
اس کتاب کی تیسری مختصر کہانی کا عنوان پیشہ ہے جس میں عصمت چغتائی نے جسم فروشی کے بارے میں بات کی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جسم فروشی سانپ اور زہر کی طرح ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سید میاں کے مزار پر طوائفوں کا ایک گروہ ہمیشہ نظر آتا تھا۔ اس کہانی میں وہ صنف نازک کو پاکیزگی کا درس دیتی نظر آتی ہے اور کہتی ہے کہ خواتین کو اپنا جسم اور اپنی عزت کو ہر حالت میں محفوظ رکھنا چاہیے کیونکہ اس کے جسم کو پیسے کمانے کے لیے نہیں بنایا گیا ہے۔
اس کتاب کی چوتھی کہانی میں ایک آرٹسٹ جس کا نام چوہدری ہے جو کہ ایک عورت (رانو) کا پورٹریٹ بنانا چاہتا ہے اس غرض سے رانو اس کے سامنے بیٹھی ہے۔ رانو جس کی پیٹھ پر تل ہے۔ وہ چودھری کے ذہن میں سرایت کر جاتا ہے۔ جس سے چوہدری اتنا متاثر ہو جاتا ہے کہ بار بار کوشش کرنے کے باوجود وہ پورٹریٹ بنا نے میں ناکام ہو جاتا ہے۔
پانچویں کہانی ایک بیکار شخص، غربت، مہنگائی، خواتین کی ملازمتوں اور قدامت پسندی کے بارے میں ہے۔ اس کہانی میں ایک شخص باقر میاں جو کنٹریکٹ پر ملازم تھا اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی بیوی حاجرہ ایک پرائیویٹ سکول میں ملازمت کرنے لگتی ہے۔ باقر میاں چونکہ ایک قدامت پسند شخص ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیوی ملازمت کرے دوسری طرف ان کے دوستوں کی جانب سے انہیں بیوی کی نوکری کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ عصمت چغتائی کا کہنا ہے کہ جب شوہر بیکار ہو اور کام نہیں کرتا تو بیوی کے پاس کام کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں اور خاندان کا پیٹ پالے۔
کہانی نمبر چھ کا موضوع بھی جسم فروشی ہے۔ اس میں ایک عورت جس کا نام لاجو ہے
ایک طوائف ہے۔ جو کہ بدترین اور مشکل حالات زندگی گزار رہی ہوتی ہے وہ کئی گھروں میں نوکرانی کا کام کرتی ہے۔ آخر کار وہ مرزا کے گھر جاتی ہے اور نوکرانی کا کام شروع کرتی ہے۔ مرزا برے کردار کا حامل شخص ہے اور جسم فروشی کی ہوس میں مبتلا ہے۔ کچھ عرصے بعد مرزا کی شادی راجو سے ہو جاتی ہے لیکن مرزا بدستور جسم فروش عورتوں کے گھروں میں جاتا ہے۔ ایک دن مرزا اپنی بیوی راجو کو ایک غریب آدمی متوا کے ساتھ کھڑا دیکھتا ہے، وہ اسے مارتا ہے اور طلاق دیتا ہے۔ متوا ایک غریب آدمی تھا جو مرزا کے گھر آیا کرتا تھا اور راجو اسے صدقہ اور بچا ہوا کھانا دیا کرتی تھی۔
کہانی نمبر سات معاشرے پر ایک طنز ہے جہاں غزالہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جو کہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کا نوکر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے۔ یہ مختصر کہانی ایک ماں کے درد کی بھی داستان ہے جس کی بیٹی کی شادی کی عمر گزر رہی ہوتی ہے۔ مزید برآں، اس کہانی میں عصمت چغتائی کہتی ہیں کہ پیسے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ یہ اس وقت کہتی ہیں جب حاجرہ اور ان کی والدہ نے اپنا گھر بیچنا چاہا۔ تو ہندو اور مسلمان امیر کبیر لوگ اے اور دونوں ماں اور بیٹی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر ان کے گھر کو مارکیٹ سے کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی۔
آٹھویں کہانی ایک گاؤں، اس کے باشندوں، ان کی غربت اور ان کے طرز زندگی کی کے بارے میں ہے۔
کہانی نمبر دو اس کتاب کی شہ رگ کہلائی جا سکتی ہے جس نے عصمت چغتائی کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ لحاف ایک شادی شدہ خواتین کے جنسی پیاس کے بارے میں ایک مختصر خاکہ ہے جس کا شوہر لڑکوں کے ساتھ ہم جنس پرستی میں ملوث ہے اور گھر میں اس کی بیوی جنسی تسکین کے لیے بھی وہی طریقہ اختیار کرتی ہے اور وہ بھی ایک اور کنیز کے ساتھ ہم جنس پرست میں مبتلا ہوتی ہے۔ بیگم جان کی عمر 40 کی دہائی میں ہے وہ گوری چٹی جلد کی بہت خوبصورت اور پرکشش عورت ہیں۔
وہ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہے۔ لیکن، ایک چیز کی کمی اسے اندر کھائے جا رہی ہے وہ یہ کہ اس کے شوہر کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اپنے شوہر کو بار بار جسمانی طور پر سج دھج کر بہکاتی رہتی ہے لیکن اس کا شوہر پھر بھی اس کے لیے ٹھنڈا رہتا ہے۔ یہ نامکمل جنسی خواہش بیگم جان کو ہم جنس پرستوں کا عادی بنا دیتی ہے اور اپنی جنسی بھوک ربو سے مٹاتی ہے جو اس کے گھر میں نوکرانی ہے۔ وہ دن کے وقت بیگم جان کو مساج کرتی ہے اور رات کو ان کے ساتھ ایک بستر میں سو کر اپنی جنسی پیاس بجھاتی ہے۔
عصمت چغتائی اردو میں شہوانی ادب کے سرخیلوں میں سے ایک تھیں۔ اس نے بڑی بہادری سے سیکس جیسے موضوعات کو قلمبند کیا ہے جن پر لکھنا گویا اس وقت گناہوں کا ارتکاب کرنے کے مترادف تھا۔ اس بہادری پر وہ یقیناً تعریف کی مستحق ہے۔

