حمل کے مسئلے کے حل کے مطابق عورتوں اور مردوں کی اقسام
مصنف: ڈاکٹر لبنیٰ مرزا، سید محمد زاہد، رخسانہ فرحت
حمل کیا ہے؟
جب ایک مادہ کا انڈا ایک نر کے اسپرم کے ساتھ مل کر ایک ایمبریو بناتا ہے اور وہ ایمبریو کامیابی سے ایک عورت کے رحم کی دیوار سے جڑ کر غذائیت حاصل کر کے پھلنا پھولنا شروع کرتا ہے تو اس کو حمل ٹھہرنا کہتے ہیں۔ حمل کا دورانیہ مکمل ہونے کے بعد یہ بچہ اپنی ماں کے جسم سے علیحدہ ہوجاتا ہے جس کے بعد اس کی بلوغت تک پرورش کی ضرورت ہوتی ہے۔
حمل کیوں ہو جاتا ہے؟
کسی بھی انسان میں حمل ٹھہرنے کے لیے کئی عوامل لازمی ہیں۔ عیسائی بی بی مریم کے کنواری ماں ہونے پر یقین رکھتے ہیں لیکن زیادہ تر حمل جنسی تعلق سے ہی ہوتا ہے۔ جب انسان نے ڈی این اے کی مدد سے ولدیت ثابت کرنا شروع کیا تو خداؤں نے انسان عورتوں کے ساتھ بچے بنانا بند کر دیے۔ جدید سائنسی طریقہ کار سے آرٹفیشل انسیمینیشن سے یا ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے بھی حمل ممکن ہے۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ خواتین کی برتھ کنٹرول تک رسائی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ نادانستہ حمل ٹھہر جانا ان کے لیے قدرت کا انتقام ہے۔ ان افراد کا خیال ہے کہ جہاں جنسی تعلق سے لذت محسوس کرنے والے جسم کے حصے کاٹ کر یہ عمل تکلیف دہ نہ بنا دیا گیا ہو وہاں یہ نادانستہ حمل ٹھہر جانے کا خوف ان نوجوان نارمل بچہ دانی رکھنے والی خواتین کو جنسی تعلقات قائم نہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹرانس ومن، پوسٹ مینوپازل ومن اور مردوں میں جنسی تعلقات سے حمل ٹھہرنا بایولوجکلی ممکن نہیں ہے اس لیے بغیر بچہ دانی کے افراد، بانجھ افراد یا پوسٹ مینوپازل خواتین اس قدرتی انتقام سے مستثنیٰ ہیں۔
کیا حمل ایک مسئلہ ہے؟
حمل ایک نارمل نظام حیات ہے۔ ہم سب اسی کے نتیجے میں زندہ ہیں۔ حمل کو اس وقت مسئلہ سمجھا جاتا ہے جب وہ غیر متوقع یا نادانستہ ٹھہر گیا ہو۔ کبھی کبھار وہ غیر متوقع یا غیر دانستہ نہیں ہوتا لیکن حمل کے دورانیے میں حالات بدل گئے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے ایک اصلی زندگی کی کہانی میں پڑھا کہ ایک جاپانی جوڑے نے ایک ہندوستانی خاتون کو پیسے دے کر سروگیٹ ماں کے طور پر ہائر کیا لیکن ابھی یہ خاتون حمل سے ہی تھیں کہ اس جوڑے کی طلاق ہو گئی اور دونوں والدین نے یہ بچہ لینے سے انکار کر دیا۔ معلوم نہیں اس مسئلے کا آگے جا کر کیا حل نکلا؟
حمل کے مسئلے سے نبٹنے کے طریقوں کے لحاظ سے عورتوں کی دنیا میں کون سی اقسام پائی جاتی ہیں؟
انسان مادہ میں حمل ٹھہر جانے کی صلاحیت زیادہ تر نو سے تیرہ سال کی عمر میں ممکن ہے۔ دنیا کی تاریخ کی سب سے کم عمر ماں کی عمر پانچ سال ہے۔ اس کے بچے کے والد کی عمر کے بارے میں معلومات موجود نہیں ہیں لیکن بائیالوجی کے مطالعے سے وہ بلوغت کے بعد میں ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ اس گروہ میں حمل سے نبٹنے کی کوئی صلاحیت نہیں دیکھی گئی ہے۔ اس طرح کی عورتوں یا بچیوں کو حمل سے نبٹنے کے میدان میں صفر کہا جاسکتا ہے۔ ان کو نہ صرف حمل سے نبٹنا نہیں آتا بلکہ اس کے نتیجے میں ان کو شدید جسمانی امراض کی شکایت کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ گروہ اس میدان میں کچھ بہتری دکھانے میں ناکامیاب دکھائی دیتا ہے۔
دنیا میں کروڑوں خواتین لکھنے پڑھنے اور کسی بھی طرح کی جنسی تعلیم سے بے بہرہ ہیں۔ ان کی ایک بڑی تعداد کی کسی قسم کے میڈیکل علاج تک کوئی رسائی نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سی عورتوں کے سماج اور مذاہب ان کو حمل ٹھہرنے سے بچاؤ کے طریقوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کیتھولک برتھ کنٹرول کے خلاف ہیں۔ مدر ٹریسا بھی ہندوستان جیسے سماج میں ان عورتوں کو محض کیلنڈر میتھڈ استعمال کرنے کا مشورہ دیتی تھیں۔ حالانکہ کیلنڈر کا طریقہ کچھ خاص دنوں میں جنسی تعلق سے پرہیز پر مبنی ہے۔ جنسی تعلق سے پرہیز ان معاشروں میں کارآمد نہیں دیکھا گیا ہے جہاں جنسی تعلق کے لیے خواتین کی مرضی لازمی نہیں سمجھی جاتی ہے۔
اسرا نعمانی کی طرح کی حمل ٹھہر جانے کے مسئلے سے نہ نبٹ سکنے والی عورتوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو محبت کے دعوے یا شادی کے وعدے کے بعد جنسی تعلقات استوار کرتی ہیں۔ یہ عورتیں ان حمل کے نتیجے میں پہنچنے والے مالی، جذباتی، جسمانی اور معاشی نقصان کی سو فیصد ذمہ دار سمجھی جاتی ہیں اور اس ریپ بائے ڈسیپشن کے خلاف قوانین کی کمی کے باعث انصاف سے محروم رہتی ہیں۔ اسرا نعمانی کے پاکستانی بوائے فرینڈ ان کے حاملہ ہونے کی خبر سنتے ہی رفوچکر ہوئے اور ان خاتون نے پاکستان میں جیل کاٹنے کے بجائے امریکہ میں آ کر مولانا شبلی نعمانی کے خاندان کے اس بچے کو پیدا کیا اور اکیلے پالا ہے۔ اس عورت کی اتنی ہمت تک ہو گئی کہ اپنے بچے کے ساتھ حج کرنے بھی پہنچ گئی اور پھر اس پر ایک کتاب تک شائع کردی۔
پچھلے ہفتے ایک خاتون مریض نے اپنی میڈیکل ہسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے اپنے 44 سال کی عمر میں کیے ہوئے اسقاط حمل کا ذکر کیا۔ وہ یہ تذکرہ کرتے ہوئے کافی جذباتی ہو گئیں۔ کہنے لگیں کہ میری عمر زیادہ تھی، ہمارے خاندان میں کئی لوگوں کو ڈاؤن سنڈروم بھی تھا اور میری اور میرے بچے دونوں کی صحت کو خطرہ تھا۔ میری ایک معمولی سی نوکری تھی اور دو بچے پہلے سے ہی اکیلے پال رہی تھی۔ لیکن آج میں سوچتی ہوں کہ وہ بچہ آج کتنا بڑا ہوتا اور وہ کیسا ہوتا؟ یہ ایک تنہا سفر تھا اور میں نہیں سمجھتی ہوں کہ کسی اور کو میرے اوپر گزرے ہوئے حالات کا کوئی بھی اندازہ ہو سکتا ہے۔
ایک ایسا جوڑا جس کے جنسی ملاپ سے حمل ٹھہرنا ممکن ہو، اس حمل کے ٹھہرنے کی آدھی آدھی ذمہ داری رکھتا ہے۔ حمل کے مسائل سے متعلق عورتوں کی اقسام اور ان کے انجام پر بین الاقوامی سطح پر نہایت غور ہوا ہے، ہزاروں ہی کیا بلکہ لاکھوں کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان کے لیے نت نئے برتھ کنٹرول کے طریقوں، ان طریقوں سے دور رکھنے کے جسمانی اور نفسیاتی طریقوں اور اسقاط حمل سے متعلق قوانین پر کافی کام ہوا ہے۔ اس وقت جس امریکی سپریم کورٹ نے ملک میں خواتین سے اسقاط حمل کے حقوق سے متعلق رجعت پسند فیصلے کیے ہیں، ان میں اکثریت نہ صرف مردوں کی ہے بلکہ ان میں سے دو ججوں کلیئرنس تھامس اور بریٹ کیوانا پران کی زندگی میں سے گزرنے والی خواتین سے جنسی ہراسانی کے الزامات کا ماضی موجود ہے۔ دوسری طرف انسانی تاریخ میں جنگ و جدل کے مطالعے اور قدیم مصر کے اہراموں سے ملنے والے سامان میں ان بادشاہوں کی اگلی زندگی کے لیے جو کپڑے کے بنائے ہوئے بے کار کانڈوم دیکھے گئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے ہزاروں سالوں میں حمل کے مسئلے سے متعلق مردوں کی اقسام اور متعلق معلومات میں زیادہ تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے۔
لبنیٰ مرزا۔ ایم ڈی، ایف اے سی ای
نارمن، اوکلاہوما، امریکہ
ہمارے ملک میں اسقاط حمل کی خواہش مند چار طرح کی خواتین ہوتی ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد ان شادی شدہ خواتین کی ہوتی ہے جو بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتیں، اور حاملہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے معاشی اور معاشرتی مسائل حمل کو جاری رکھنے میں حائل ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان خواتین کی ہے جن کو طلاق ہو چکی ہوتی ہے اور وہ حاملہ ہوتی ہیں۔ ان کے دلائل سب سے مضبوط ہوتے ہیں کہ جب بچے کا والد اور اس کے رشتہ دار ماں کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں تو اکیلی عورت ان کے تخم کو اپنی کوکھ میں کیوں اٹھائے اور اپنے خون سے کیوں سینچے۔ اس نیکی کے بدلے میں اپنی زندگی کو بھی عذاب میں ڈالے۔
ان عورتوں ہی کو زیادہ مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تیسری جو شادی شدہ نہیں ہوتیں اور باہمی رضا مندی سے تعلقات کی وجہ سے حاملہ ہوتی ہیں۔ چوتھی قسم ان عورتوں کی ہے جو زنا با الجبر کا شکار ہوتی ہیں۔ ان میں کم عمر اور زنائے محرم کا شکار بچیاں بھی شامل ہیں۔ تیسری اور چوتھی قسم کی خواتین کے لئے اس حمل کو ضائع کرنا بہت مشکل اور جاری رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔
سید محمد زاہد
پاکستان
وہ کسی ہندی فلم کا سین تھا جس میں ایک انگریز جوڑا سروگیسی کے ذریعے ایک بچہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جوڑا ایک خوبصورت دوشیزہ کی تلاش میں ہوتا ہے تاکہ ان کے بچے کو ایک خوبصورت اور صحت مند ماں مل سکے۔ ایک نوجوان لڑکی سے ان کا معاہدہ طے ہوتا ہے جس کی رو سے وہ اس کو ہر ماہ ایک تگڑی رقم ادا کریں گے اور بچے کی پیدائش کے بعد اس کو لے کر اپنے ملک روانہ ہو جائیں گے۔
تمام معاملات بخوشی چلتے ہیں۔ لڑکی امید سے ہوتی ہے اور ہر ماہ باقاعدہ چیک اپ کراتی ہے۔ حمل کے کچھ مہینے بعد رپورٹ میں پتا چلتا ہے کہ آنے والا بچہ نارمل نہیں ہو گا۔ والدین اس بات کو لے کر اتنے دل برداشتہ ہوتے ہیں کہ لڑکی کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے ملک چلے جاتے ہیں۔ لڑکی کے پاس اب دو راستے تھے یا تو وہ اسقاط حمل کرا دے یا پھر اس بچے کو پیدا کر کے اس کی ساری ذمہ داریاں اٹھائے۔
حمل اگر تو انسانی خواہش پر ہوا ہے تو یہ کوئی مسئلہ نہیں، اس کو پورے وقت تک لے کر جانا اور ایک صحت مند بچہ پیدا کرنا اس خواہش کا خوشگوار انجام ہے۔
لیکن اگر یہ ان چاہا ہے تو انسانی زندگی کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس کے اثرات نا صرف عورت کی پوری زندگی پر بلکہ پورے خاندان اور معاشرے پر ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا حل اسقاط حمل ہے۔
جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں یونین کونسل کی سطح پر ایک بنیادی مرکز صحت ہے۔ جہاں کا کل عملہ ایک میڈیکل افسر، ڈسپنسر، نیوٹریشن سپروائزر، لیڈی ہیلتھ ورکرز، لیڈی ہیلتھ وزیٹر اور ویکسینٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔ دیہی خواتین کے لئے میڈیکل کی سہولت کے لئے سب سے آسان رسائی وہاں تک ہے۔ ہر ماہ سینکڑوں خواتین وہاں اسقاط حمل کے لئے آتی ہیں۔ بہت کم تعداد ایسی ہوتی ہے جہاں کوئی خاتون اپنی مرضی سے اسقاط حمل کے لئے آئے۔ اکثر وہ خواتین ہوتی ہیں جن کے شوہر عرصہ دراز سے بیرون ملک روزی کی تلاش میں خوار ہوتے ہیں۔ اور نفسانی و بشری تقاضوں سے مجبور یہ خواتین ناجائز تعلقات کے نتیجے میں حاملہ ہو جاتی ہیں۔ اس حمل کو سماج کے ڈر سے ساقط کرانا مجبوری بن جاتا ہے۔ اور ان کا ڈر جہاں ہیلتھ ورکرز، مڈوائف اور ہیلتھ وزیٹر کی چاندی کراتا ہے وہاں اکثر اس ڈر کے ہاتھوں اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
رخسانہ فرحت
ڈیرہ غازی خان۔ پاکستان


