شاعر، فکشن نگار، مترجم اور صحافی سید کاشف رضا سے ایک مکالمہ



وہ شہر کراچی کا ایک کردار ہے۔ میں اسے سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی وہ کسی سرد نیوز روم میں سر جھکائے خبریں بنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشاعرے میں شعر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں نے اسے جنبش قلم سے ناول تخلیق کرتے ہوئے دیکھا، اور کی بورڈ کی ”ٹک ٹک“ میں کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے۔ مگر سب سے پر وقت وہ منظر ہے، جس میں وہ مطالعہ کر رہا ہے، برادرز کراموزوف کا مطالعہ۔

شاعر، فکشن نگار، مترجم، صحافی اور سوشل میڈیا مبصر؛ سید کاشف رضا کے یوں تو کئی حوالے ہیں، مگر سب سے اہم حوالہ ادب سے ان کی کمٹمنٹ ہے۔ ان کے کریڈٹ پر جہاں ”ممنوع موسموں کی کتاب“ جیسی نظموں کی خوب صورت کاوش ہے، وہیں ”چار درویش اور ایک کچھوا“ جیسا ناول بھی ہے۔ ناول، جسے ناقدین اور قارئین نے یکساں سراہا، اور جو یو بی ایل لٹریری ایوارڈ کا حق دار ٹھہرا۔ ایک ایوارڈ کاشف رضا کے کیے ہوئے ترجمے کے حصے میں بھی آیا۔ یہ ترجمہ تھا محمد حنیف کے کاٹ دار ناول ”اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز“ کا۔ ایوارڈ یہ تھا کہ وہ ترجمہ زیر عتاب آیا، ضبط ہوا۔

نوم چومسکی کے منتخب مضامین کو بھی ”دہشت کی ثقافت“ کے زیر عنوان وہ اردو روپ دے چکے ہیں۔ ارون دھتی رائے کی ایک کتاب کو ”آزادی“ کے نام سے اردو میں پیش کیا۔

صحافی ہیں، تو ادب کے ساتھ ساتھ سیاست پر بھی گہری نظر۔ سوشل میڈیا پر خاصے متحرک ہیں۔ ادھر بھی ان کے تجزیہ توجہ کا محور رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ان سے ایک مختصر مکالمہ ہوا، جو احباب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اقبال: غالب، اقبال، فیض، جون؛ اکیسویں صدی میں کس شاعر کو، اس کے موضوعات متعلقہ پاتے ہیں؟

کاشف رضا: یہ سب متعلقہ ہیں۔ غالب، اقبال اور فیض بڑے اور مکمل شاعر تھے۔ ان کا اثر پوری بیسویں صدی کی اردو شاعری پر ہے۔ اکیسویں صدی میں تو ان کے ساتھ ساتھ میر تقی میر بھی متعلقہ ہیں۔ میر انیس، نظیر اکبر آبادی اور مومن خاں مومن کی شاعری بھی کسی نہ کسی حوالے سے ہمارے عصر سے اور ہمارے احساسات سے جڑتی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن کوئی بھی عصر اپنی نمائندگی خود کرتا ہے اور فیض صاحب کے بعد کے زمانے میں اور ہمارے زمانے میں بہت سے شاعر یہ ذمے داری پوری کر رہے ہیں۔ عصری تقاضے پورے کرنے میں نثری نظم اب زیادہ نمایاں ہے، لیکن نثری نظم کے شاعروں کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ صنف کوئی بھی ہو، اپنی ادبی روایت کے گہرے مطالعے کے بغیر معنی آفریں نہیں ہو سکتی۔ میرے لیے جدیدیت بڑی حد تک کلاسیکیت ہی کی تجدید نو ہے۔

اقبال: کوئی فکشن نگار، جسے پڑھ کر تقلید کی خواہش پیدا ہوئی ہو؟ یا کہہ لیجیے، پسندیدہ ادیب کون ہیں؟

کاشف رضا: نوجوانی میں مارک ٹوئن، اسٹیونسن اور پھر ڈی ایچ لارنس بہت پسند تھے۔ اس کے بعد کنڈیرا، امبرٹو ایکو، ٹالسٹائی، چیخوف، ہیمنگوے، مارکیز، کونریڈ اور بورخیس میرے پسندیدہ ادیب رہے ہیں۔ ان سب کا محل وقوع ہمارے محل وقوع سے مختلف ہے۔ ان کا تاریخی پس منظر، سیاسی، سماجی اور نفسیاتی حوالے ہم سے مختلف ہیں تاہم وجودی اور فکری حوالے سے ان کے سروکار مجھے اپنے سروکار محسوس ہوتے ہیں۔ جیمز جوئس کی لسانی کتربیونت بہت تخلیقی ہے، سکھانے کے لیے مارگریٹ ایٹ ووڈ اور یوسا کے پاس بھی بہت کچھ ہے۔

جولین بارنز اور این مک ایون کے ناولوں کے ساتھ اچھا گزارا ہو جاتا ہے۔ آرویل سیاسی پس منظر کے حامل فکشن کا گرو ہے، مگر اس کے ہاں سیاست بہت نمایاں ہو جاتی ہے، جسے میرے دیگر پسندیدہ ادیب کمرے میں رکھے آتش دان کی طرح ہلکی آنچ پر فروزاں رکھتے ہیں۔ کونریڈ کے متون میں سیاسی تعبیرات کی بہت گنجائش ہے۔ اردو میں منٹو سب کو پسند ہے، میں بیدی کو، منشا یاد کو بھی پسند کرتا ہوں۔ شوکت صدیقی کا خدا کی بستی اور عبداللہ حسین کے ناولٹ، خاص طور پر ندی بہت پسند ہے۔

مگر میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرا اردو فکشن کا مطالعہ نسبتاً کم رہا ہے۔ میں نے اردو شاعری زیادہ پڑھی ہے، کیوں کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایک دن میں فکشن نگار بھی کہلاؤں گا۔ مغربی فکشن کا مطالعہ میرے لیے ایک طرز زندگی یعنی وے آف لائف رہا ہے۔ یعنی میں سوچتا تھا کہ شاعری جب تک کر سکا، کروں گا، مگر زندگی کے متنوع تجربات کی مسرتیں مغربی فکشن کے مطالعے سے کشید کروں گا۔ بہ قول غالب؛ سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی۔

لوگوں کو کچھ طے کرنا ہوتا ہے، تو وہ فال نکالتے ہیں، میں اس موضوع پر کوئی کتاب نکال لیتا ہوں۔ ایک طرز زندگی کے طور پر فکشن کے مطالعے کی ایک مثال آپ کو دوں گا کہ کورونا کے زمانے میں اور پھر آصف فرخی صاحب کی وفات کے بعد میں کئی ہفتے بہت افسردہ اور ڈپریسڈ رہا۔ ایسے میں ایک دن میں نے ڈکنز کا ناول ”پک وک پیپرز“ نکالا، اور اس کے چند ہی صفحات کے مطالعے سے میرا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔ یہ ہوتی ہے فکشن کی قوت، ایسی قوت جو آپ کے طرز زندگی کو بھی ایک راہ پر ڈال دے، بلکہ کئی نئی راہیں دکھا دے۔ ایسی ہی راہیں مجھے نوجوانی میں اسٹیونسن اور مارک ٹوئن نے دکھائی تھیں۔

اقبال: کیا کہنے۔ اچھا، کوئی ایک کتاب، جو متعدد بار پڑھی اور آج بھی پڑھنے کی خواہش ہے؟

کاشف رضا: جس کتاب کو دوبارہ پڑھنے کی خواہش ہو وہ دوبارہ پڑھ بھی لیتا ہوں، کیوں کہ کتاب خرید کر پڑھتا ہوں، اور میری پسندیدہ کتابیں میرے پاس ہی ہوتی ہیں۔ میلان کنڈیرا کے ناول ”ان بیئرایبل لائٹ نیس آف بینگ“ اور ”دا جوک“ تین چار بار پڑھے ہوں گے۔ سٹیونسن کی ٹریژر آئی لینڈ اور میر امن کا قصہ چہار درویش بھی متعدد بار پڑھا ہے۔ ہیمنگوے کی کتاب ”آ موویبل فیسٹ“ دو بار پڑھی۔ بورخیس اور چیخوف کے متعدد افسانے ایک سے زائد بار پڑھے ہیں، اور چیخوف کے افسانوں کی کلیات تو میرے موبائل میں بھی موجود ہے کہ جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی۔

جوئس کو سمجھنے کے لیے بہت کدو کاوش کرنی پڑتی ہے، اور اسے بار بار پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ سکاٹ فٹزجیرلڈ کا ناول ”دا گریٹ گیٹس بی“ ایک سے زیادہ بار پڑھنا چاہیے۔ میں نوجوانی میں ڈکنز، ہارڈی اور ڈی ایچ لارنس کو پڑھتا تھا۔ خواہش ہے کہ انھیں دوبارہ پڑھ سکوں۔ مگر بہت سے مصنفین کو ایک مرتبہ بھی پورا نہیں پڑھا، سو پہلے انھیں ہی ان کا حق دینا چاہیے، یعنی انھیں پڑھنا چاہیے۔

اقبال: اچھا، عام خیال ہے کہ آج ادیب حاشیے پر ہیں، بے معنی ہو گئے ہیں، کیا اس خیال سے متفق ہیں؟

کاشف رضا: ادیب ہمیشہ سے حاشیے پر تھے۔ یہ تشویش کی بات نہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ سیکس اپیل والے فن کار اوپر آ گئے ہیں جن کی بالائی منزل خالی ہے۔ جن ادیبوں کی حکومتی سطح پر سنی جاتی تھی، جیسے سوویت یونین میں میکسم گورکی تھا یا فرانس میں آندرے مالرو تھا، انھوں نے اپنی سرکاری حیثیت کے باعث زیادہ نیک نامی نہیں سمیٹی۔ لیکن ادیب کی بات سنی جائے یا نہ سنی جائے، اسے کرنی ضرور چاہیے۔ کیوں کہ ادیب اپنی تحریروں سے اور اپنے سماجی کومنٹ سے اپنے گرد و پیش کی، اپنے سماج کی اور اپنے عصر کی تعبیر بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اس تعبیر پر کوئی اور کان دھرے نہ دھرے، وہ تاریخ کے صفحات پر نقش رہتی ہے اور اگلے زمانے کے لیے موجود رہتی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا نے جہاں ہر شخص کو بھاشن دینے کے قابل بنا دیا ہے، وہاں لکھنے والوں کی ذمے داری بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ خود کو ہجوم سے اور ہجومی نفسیات سے الگ اور بالاتر کیسے کریں۔ اگر وہ سیاسی یا سماجی کومنٹ کر رہے ہیں، تو کیا انھوں نے سیاست اور سماج کے تناظر پر کافی حد تک غور کر لیا ہے یا وہ بس اپنے موڈ پر چلنے کے خواہاں ہیں۔

اگر وہ اپنے موقف کے تناظر اور اثرات سے واقف ہیں، تو پھر انھیں جھجکنا بھی نہیں چاہیے، اور دو ٹوک انداز میں اپنی رائے دینی چاہیے۔ عوام کو نظریاتی، مذہبی اور ریاستی مہابیانیوں کا کنٹوپ پہنایا جاتا ہے۔ ادیب ایسے کنٹوپ پہنے لوگوں کی مضحکہ خیزی واضح کرتا ہے۔ جو ادیب خود ہی کنٹوپ پہن لے، وہ دوسروں کے کنٹوپ کیا اتارے گا۔ مہابیانیوں کا کنٹوپ پہنانے یا پہننے والوں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ سنجیدہ بہت ہوتے ہیں۔ ان کی سنجیدگی کا مضحکہ اڑانا چاہیے، اور انھیں ان کی اوقات دکھانی چاہیے۔ آج کل تو یہ صورت حال ہے کہ جن لوگوں کے خلاف انقلاب آنا چاہیے تھا، انھیں خود بڑی زور کا انقلاب آیا ہوا ہے۔ ایسے لوگوں کا جتنا مضحکہ اڑایا جائے کم ہے۔

اقبال: کیا ملک ڈیفالٹ کرنے والا ہے، آپ کو کیا لگتا ہے؟

کاشف رضا: اس مالی سال میں تو نہیں، مگر اگلے سال یا اس سے اگلے سال یا اس سے اگلے سال ملک ڈیفالٹ کر سکتا ہے، کیوں کہ پاکستان کو ہر سال پچیس سے تیس ارب ڈالر کا قرضہ واپس کرنا ہے۔ عمران خان دور میں پاکستان کے غیر ملکی قرضوں میں پچھتر سال کے کل غیر ملکی قرضوں کے مقابلے میں مزید چھہتر فی صد اضافہ ہوا۔ بجٹ میں عوام کے دیکھنے کی چیز ترقیاتی بجٹ ہوتی ہے۔ جمہوری دور کے آخری سال، یعنی دو ہزار اٹھارہ میں ترقیاتی بجٹ گیارہ سو تیس ارب روپے تھا، جو کم ہوتا ہوتا چھ سو ارب روپے رہ گیا ہے۔

پہلے ہم دفاعی بجٹ کو روتے تھے، مگر اب ایک پنجابی محاورے کے مطابق مونچھیں داڑھی سے بڑھ چکی ہیں، یعنی غیر ملکی قرضے کی واپسی پر ہونے والا خرچ دفاعی بجٹ سے بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ میں آپ کو سادہ سی مثال دوں گا۔ اگر آپ بینک سے ایک لاکھ روپے قرضہ لیں گے، تو آپ اسے ایسے کام میں لگائیں گے جس سے آپ کو بھی منافع ہو، آپ کا گھر بھی چلتا رہے اور بینک کی قسط بھی نکلتی رہے۔ پاکستان نے غیر ملکی قرضے لے کر انھیں غیر پیداواری مقاصد پر خرچ کیا۔ ٹینک، توپیں اور ہوائی جہاز خریدے، جنھوں نے ملکی پیداوار میں دھیلے کا بھی اضافہ نہیں کیا۔ اسی قرضے کو پیداواری مقاصد پر بھی خرچ کیا جا سکتا تھا۔ منگلا اور تربیلا ڈیم غیر ملکی قرضے سے ہی بنائے گئے۔ آج ملک کی سستی ترین بجلی ان دو ڈیموں سے حاصل ہوتی ہے اور یہ ڈیم قرضے سے بہت زیادہ کما کر دے چکے ہیں۔ ہمارے پاس گھاس کھانے کو پیسہ نہیں تھا، مگر ہم نے دفاع پر رقم لگائی، اور اس کے باوجود ملک کے نصف حصے سے محروم ہو گئے۔

ایک ریاست یا تو فلاحی ریاست ہوتی ہے یا سیکیورٹی اسٹیٹ۔ ہم نے دوسرا راستہ پسند کیا۔ حل کیا ہے؟ حل ہے ترجیحات میں تبدیلی کا۔ دنیا کے سب ملکوں نے اپنی ترقی کی ابتدا ریجنل ٹریڈ سے کی ہے۔ چین اچھا ہمسایہ ہو گا، مگر آپ اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر جا کر چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا احوال دیکھ لیں۔ چین ہمیں بیچتا بہت زیادہ ہے، اور خریدتا کم بہت ہی کم ہے۔ ہمارا مال یورپ خریدتا ہے یا امریکا، اور ان ہی دو سے ہمیں نفرت ہے۔

بھارت اور ایران سے تجارتی راستے کھولنے چاہئیں۔ پاکستان اگر بھارت کو افغانستان اور وسط ایشیا تک کی راہ داری دے دے، تو صرف اس راہ داری سے کروڑوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کو سیاسی قیادت نے انیس سو ننانوے میں اور پھر دو ہزار پندرہ میں حل کرنے کی کوشش کی، مگر اصلی حکم رانوں نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔ جب اصلی حکم رانوں کا اپنا دور آیا تو انھوں نے پہلے پرویز مشرف اور پھر عمران باجوہ ہائبرڈ دور میں کشمیر معاملے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور اب یہی غنیمت لگتا ہے کہ بھارت دو ہزار انیس سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلا جائے۔

ہماری معیشت بہتر ہوتی، تو ہم اپنی شرائط پر اصرار کر سکتے تھے۔ آرمینیا نے سن نوے کی دہائی میں آذربائیجان کو شکست دے کر نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے بعد آذربائیجان نے جنگی اور مذہبی جنون بڑھانے کے بجائے اپنی تیل کی پیداوار بڑھائی اور معیشت میں آرمینیا سے آگے نکل گیا۔ اب حال ہی میں آذربائیجان نے آرمینیا کو ناک رگڑنے پر مجبور کر کے اپنے مطلوبہ اور مقبوضہ علاقے واپس لے لیے ہیں۔ کاش ہم بھی ایسا کر سکتے۔

بڑھک بازی کے کلچر نے ہمیں پچھتر سال میں کچھ نہیں دیا تو اب اگر کوئی پڑوسی بات کرنا چاہتا ہے، تو اس سے بات ہی کر کے دیکھ لیا جائے۔ مگر پچھتر برسوں میں عوام کی ذہن سازی کچھ ایسے کی گئی ہے کہ انھیں ٹھڈا مار کر دروازہ کھولنے والے لیڈر پسند ہیں۔ اگر آپ مسئلے کا حل ٹھڈا مار کر نکالیں گے، تو آپ کا حریف بھی ٹھڈا مار سکتا ہے۔ دلدل میں دھنسا آدمی اگر ٹانگیں چلانا شروع کر دے، تو دلدل میں مزید دھنستا جاتا ہے۔

سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا، تو جواب یہ ہے کہ جب اور اگر ہم نے ملک پر کسی ٹھڈے مارنے والے کو حکم ران بنا دیا تو دوسرے ملک بھی ہمیں ٹھینگا دکھائیں گے۔ ہر سال پچیس سے تیس ارب ڈالر کا قرضہ ہمیں دوستوں سے ادھار  لے کر ہی واپس کرنا ہے۔ اگر کسی کو بات کرنے کی ہی تمیز نہیں ہو گی، تو اسے کوئی ملک پیسے کیوں دے گا؟ مستقل بنیادوں پر معیشت ٹھیک کرنی ہے، تو پہلے سیاست ٹھیک کرنی ہو گی۔ ایسی حکومت لانی ہو گی، جو وفاق کے چاروں یونٹوں، کشمیر اور گلگت بلتستان کو ساتھ لے کر چل سکے۔ پچھتر برسوں میں ہم نے اپنی معیشت دو چیزوں پر چلائی۔ دوسروں کے لیے پراکسی جنگیں کر کے ان سے امداد وصول کر کے یا سستی لیبر بیرون ملک بھیج اور بیچ کر ڈالر اور ریال ملک میں لا کر۔ معیشت کی حقیقی ترقی تب ہو گی، جب ہماری ایکسپورٹس بڑھیں گی اور ملک میں فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ آئے گی۔ اس کے لیے پہلے ایسی قیادت لانی ہو گی جو ملک میں ہمہ گیر قومی اتفاق رائے پیدا کر سکے۔ جس ملک کا چیف جسٹس ہر روز حکومت کے سر پر ہیڈ ماسٹر کا ڈنڈا لے کر بیٹھا ہو، وہاں سرمایہ کاری کون کرے گا۔

اقبال: اگر آپ کو مسند اقتدار سونپ دیا جائے، تو فروغ ادب کے لیے کیا اقدامات کرنا چاہیں گے؟

کاشف رضا: مسند اقتدار وغیرہ سے مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ مجھے کیمرے کی آنکھ میں زندگی بسر کرنے کی خواہش نہیں۔ ایسی زندگی میرے نزدیک ہول ناک ہے۔ فروغ ادب کے لیے حکومتی اقدامات کا منتظر نہیں رہنا چاہیے۔ ویسے بھی جس ملک میں غریبوں کو روزمرہ اخراجات کے لالے پڑے ہوں، وہاں ادیب اپنے لیے حکومت سے کچھ مانگتے اچھے نہیں لگتے۔ ادب بنیادی طور پر معاشرے کی ایک ایکٹیویٹی ہوتی ہے۔ حکومت اس کے لیے مناسب ماحول فراہم کر سکتی ہے، لیکن ایک ڈوبتا ہوا ملک اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ ادیبوں کے بجائے اچھی پیکنگ والے فن کاروں کی حکومتی پذیرائی کی جاتی ہے۔ انھیں وزیراعظم ہاؤس میں بلا بلا کر انھیں فرمائشی انٹرویو دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں ادیب حکومتی ایوانوں سے دور ہی رہیں، تو اسی میں ان کی عزت ہے۔

اقبال: کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے بہت سے ادیبوں کو نگل لیا، ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

کاشف رضا: میرے لیے تو فیس بک نثر کا ذاتی اسلوب مانجھنے کے کام بھی آئی۔ مگر فیس بک ایک عوامی فورم ہے، اس لیے یہاں ہر قسم کا آدمی موجود ہے۔ پاکستان میں حماقت اتنی متنوع اقسام میں موجود ہے کہ جنت الحمقاء میں بھی اتنی ورائٹی نہیں ملے گی۔ سوشل میڈیا پر ہر وقت آن لائن رہنا کسی طور مناسب نہیں۔ میرے فرصت کے وقت کا زیادہ تر حصہ اب بھی کتابوں کے مطالعے پر ہی صرف ہوتا ہے، مگر سوشل میڈیا پر کچھ بہت ہی مفید تحریریں بھی مل جاتی ہیں، اس لیے یہ میڈیا بے سود تو بالکل نہیں۔

رہی تخلیقی صلاحیتوں کی بات تو تخلیق کو ذہن میں اچھی طرح پکانے کے لیے تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تخلیق جب تک مکمل اور کامل نہ ہو جائے، اسے دنیا کی نظروں سے حتی الامکان بچانا چاہیے، اور سوشل میڈیا پر کاتا اور لے دوڑی والا کام نہیں کرنا چاہیے۔ تخلیقی تنہائی تو دنیا میں ویسے ہی نایاب ہو رہی ہے، اور اس مسئلے کا تعلق صرف سوشل میڈیا سے نہیں، نئے عالم گیر کلچر سے ہے۔ اس پر بات پھر کبھی سہی۔

اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکر، جنھیں نوجوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟

کاشف رضا: سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بہت عمدہ پوسٹ کرتے ہیں۔ فرنود عالم جب کسی معاملے پر تفصیلی پوسٹ کرتے ہیں، تو اپنا نقطہ نظر بڑی خوب صورتی سے قاری کے دل میں اتار دیتے ہیں۔ عدالتی امور پر احمد علی کاظمی شرح صدر کر دیتے ہیں، معیشت اور پولیٹیکل اکانومی پر ذیشان ہاشم اور عاصم بشیر کی پوسٹیں عمدہ ہوتی ہیں۔ سلمان حیدر کبھی سنجیدہ اور کبھی مزاحیہ پوسٹ کرتے ہیں، اور دونوں خوب ہوتی ہیں۔ ہم سب سے وابستہ دوستوں عدنان کاکڑ، وسی بابا اور ظفر عمران کی نوک جھونک دل چسپ ہوتی ہے۔ وسی بابا تو ایک نئی طرز فغاں ایجاد کر رہا ہے، جو مستقبل کی پاکستانی زبان ہو سکتی ہے۔ جمشید اقبال کی فکری پوسٹیں زبردست ہوتی ہیں۔ ناصر بیگ چغتائی اور اکرم خان سیاسی معاملات میں تجربے سے بھرپور رائے دیتے ہیں۔ صولت پاشا کی سیاسی رائے چٹکلے پر مشتمل ہوتی ہے، مگر اس میں بصیرت پنہاں ہوتی ہے۔ فکر انگیز سینئرز میں ارشد محمود بھی ہیں۔ مبشر زیدی کی پوسٹ بہت دل چسپ ہوتی ہے اور وہ کئی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔

اویس اقبال کے ذہن میں سوالوں کی فیکٹری لگی ہے اور وہ بہت موقعے کی جگہ پر وار کرتا ہے۔ لفظ ”یوتھیا“ کے بانی محسن سعید کے فقرے کی کاٹ کا کوئی مقابلہ نہیں۔ کچھ لوگوں کی رائے سے مجھے کبھی کبھی اختلاف بھی رہتا ہے، مگر ان کی پوسٹ دل چسپی سے پڑھتا ہوں۔ ان میں عامر ہاشم خاکوانی، یاسر جواد اور اسلم ملک شامل ہیں۔ پھر معین نظامی ہیں، جن کی نثر میں شہد جیسا ذائقہ ہے اور ان کی لطیف نثر میں ادبی چاشنی بھرپور ہوتی ہے۔

امر سندھو اور جامی چانڈیو کی اردو اور سندھی پوسٹ سے یہ پتا چلتا ہے کہ سندھ کے دانش ور کیا سوچ رہے ہیں۔ عابد میر اور ذوالفقار علی زلفی بلوچستان کی کھڑکیاں ہیں۔ اقبال خورشید، رمضان بلوچ اور دیگر دوست فلموں اور کراچی سے محبت رکھتے ہیں۔ شاہ زیب صدیقی ایک نوجوان ہے جو سائنسی معاملات پر بہت عمدہ پوسٹیں کرتا ہے۔ دوست محمود الحسن اپنی شفاف یادداشت کی مدد سے بڑی موقعے کی چیز نکال کر لاتا ہے۔ فرحان خان اور شیراز حسن گزرتے ہوئے وقت کو اور اپنی شہری آوارگیوں کو بڑی دل چسپی سے ڈاکومنٹ کرتے ہیں۔

رامش فاطمہ کم لکھتی ہیں، لیکن جم کر لکھیں تو بہت عمدہ لکھتی ہیں۔ کچھ خواتین نے اپنی الگ ہی سبھا سجائی ہوئی ہے۔ یہ خواتین زندگی سے بھرپور ہیں اور ملک کی دیگر خواتین کے لیے مثال ہیں۔ ان میں زری اشرف، بینا بخاری اور ان کی دوسری سہیلیاں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سارہ حسین، آمنہ احسن اور شازیہ نواز کی تحریریں دل چسپ ہوتی ہیں۔ بیرون ملک سے حسین عابد، شیراز راج اور حسن مجتبیٰ کی جانب سے عمدہ چیزیں سامنے آتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگ اب بھی رہ گئے ہوں گے۔

اقبال: مریم، بلاول یا عمران خان، اگلا الیکشن کون جیتے گا؟

کاشف رضا: اگلے الیکشن میں شاید سادہ اکثریت کسی ایک جماعت کو نہیں ملے گی۔ صورت حال بدلتی بھی رہتی ہے۔ پچھلے الیکشن میں نواز شریف کی نااہلی کا بہت اثر پڑا تھا۔ الیکشن تک کون کون اہل رہتا ہے، اس کا اثر بھی الیکشن پر ہو گا۔ مردم شماری کے بعد پنجاب کی نشستیں کم ہو جائیں گی۔ فاٹا کی نشستیں پچھلی مردم شماری کے حساب سے بھی کم ہونی ہیں۔ اس سب کا بھی اثر پڑے گا۔

اقبال: دوبارہ زندگی ملی، تو کون سا کردار نبھانا چاہیں گے۔

کاشف رضا: سن اسی کی دہائی میں جب میرا بچپن تھا تو ہمارے والدین کو لگتا تھا کہ زندگی بہت زیادہ تبدیل نہیں ہو گی۔ ہم ائرفورس بیس پر رہتے تھے جہاں زندگی ویسے بھی بہت ساکت ہوتی ہے۔ مجھے نصابی کتابوں میں واجبی سی دل چسپی تھی۔ میرا خیال ہے کہ اگر میں انھیں سنجیدگی سے لیتا، تو ملازمت کے لیے صحافت کے بجائے ادب سے یک سر مختلف کسی شعبے کا انتخاب کر سکتا تھا۔ بچپن میں میری صحت بھی بہت کم زور تھی، اور میں بہت سی چیزوں میں اپنے ہم عمروں سے پیچھے رہ جاتا تھا۔ اگر میں ایک صحت مند اور ہر لحاظ سے نارمل بچہ ہوتا تو شاید وہ نہ ہوتا جو آج ہوں۔ یہ کتابیں ہی تھیں جن سے میں نے سیکھا کہ مجھے کیسی زندگی بسر کرنی ہے، اور اپنی محدودات کے باوجود کیسے زندگی میں اپنے خواب پورے کرنے ہیں۔ لین یو تانگ کی کتاب ”جینے کی اہمیت“ نے اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ میرا خیال ہے میرا حافظہ بھی مزید بہتر ہونا چاہیے تھا، تاکہ پڑھی ہوئی چیزیں اور زیادہ یاد رکھ سکوں۔ لیکن میں نے جو زندگی بسر کی ہے وہ بیش تر ویسی ہی ہے جس کا میں نے خواب دیکھا تھا۔

کتابیں اور سفر مجھے بہت عزیز رہے اور پھر فطرت کا اور عورت کا جمال۔ مجھے ان سب سے مقدور بھر استفادے کا موقع ملا۔ کچھ مالی آسودگی بھی میسر رہی، جس کے باعث میں اپنی زندگی اس طرح بسر کر سکا، جیسی میں چاہتا تھا، مگر اس آسودگی کے حصول میں وقت کافی ضائع ہوا۔ بچپن اور لڑکپن میں کرکٹ سے شغف میں بہت وقت ضائع ہوا۔ ایسے ہی فضول کاموں میں وقت ضائع کرنے کا افسوس ہے۔ اس کے علاوہ تو میرا خیال ہے کہ میں دوبارہ بھی کم و بیش ایسی ہی زندگی جینا چاہوں گا۔

اقبال: کس ہدایت کار کے کام نے متاثر کیا؟ کون سا اداکار اور کون سی اداکارہ پسند ہے؟

کاشف رضا: یہ سوال آپ نے خوب پوچھا۔ فلم اور موسیقی سے میں بہت متاثر رہا ہوں اور اپنی شاعری اور تخلیقات کے لیے بھی ان سے انسپریشن حاصل کرتا ہوں۔ مجھے کئی طرح کی فلمیں پسند ہیں، مگر میرے پسندیدہ ترین ہدایت کار اٹلی کے برنارڈو برٹولوچی ہیں۔ برٹولوچی کے والد صاحب شاعر تھے اور خود برٹولوچی کی فلمیں بہت شاعرانہ ہیں۔ برٹولوچی نے سینماٹوگرافر وٹوریو سٹورارو سے بہت کام لیا۔ میں اس جوڑی کے شاٹس دیکھ کر ویسے ہی واہ واہ کرتا ہوں، جیسے اچھی شاعری سن کر کی جاتی ہے۔

ہانگ کانگ میں پیدا ہونے والے وانگ کارروائی ایک حیرت انگیز ڈائریکٹر ہیں۔ ان کی فلم ”ان دا موڈ فار لو“ روشنیوں اور سایوں کا اور پر معنی خاموشیوں کا ایک شاہ کار ہے۔ ڈیوڈ لین بڑے اسکیل پر بنائی جانے والی فلموں کا شہنشاہ تھا۔ فرانسس فورڈ کپولا کی فلم گاڈفادر تو سبھی کو پسند ہے، مگر مجھے اس سے زیادہ ان کی فلم ”ایپوکیلپس ناؤ“ بہت پسند ہے، اور میں نے اسے کئی بار دیکھا۔ یہ فلم نہ صرف جنت نگاہ بلکہ فردوس گوش بھی ہے۔

الفریڈ ہچکاک بھی میرا فیورٹ ہے اور میں اس کی فلمیں کئی بار دیکھ سکتا ہوں۔ کیمرے کی آنکھ کے پیچھے وہ ایک انتہا درجے کا نظر باز تھا اور اس کی فلموں میں ایک نشہ سا ہے، جو ایک مرتبہ آپ کو چڑھ جائے تو پھر آپ ہچکاک سے گریز نہیں کر سکتے۔ سٹینلے کوبرک، انگمار برگمین، ووڈی ایلن مجھے الگ الگ وجوہات کی بنا پر پسند ہیں۔ پیٹر جیکسن نے لارڈ آف دا رنگز بنا کر فلم کی دنیا میں ایک نئی اور حیرت انگیز پیش رفت کی ہے۔ واچووسکی بھائیوں نے، جو اپنی جنس تبدیل کر کے اب دو بہنیں ہیں، ”میٹرکس“ بنا کر موضوع اور سنیماٹک تاثر کے شعبوں میں ایک اور انقلاب برپا کر دیا تھا۔ بلیڈ رنر کا ہدایت کار رڈلے سکاٹ بہت ہی موثر طریقے سے کہانی کو آگے لے کر چلتا ہے۔ میلوش فورمین نے کیا شان دار فلمیں بنا رکھی ہں۔ ایرانی سنیما کہانی کی پیش کش میں کمال دکھاتا ہے مگر سنیما تو اور بھی بہت کچھ ہے۔ غرض کس کس کا ذکر کیا جائے۔

پچھلے ایک سال کے دوران مجھے دو فلموں نے بے انتہا متاثر کیا ہے۔ ایک پال ٹامس اینڈرسن کی ”دیئر ول بی بلڈ“ اور دوسری کوئن برادرز کی ”نو کنٹری فار اولڈ مین“ ہے۔ نو کنٹری فار اولڈ مین کو میں دیکھ دیکھ کر نہیں تھک رہا۔ کوئن برادرز کو ایک اور تخلیقی سینماٹوگرافر روجر ڈیکن کی خدمات حاصل تھیں۔

اقبال: کچھ ذکر اب اداکاروں کا بھی ہو جائے؟

کاشف رضا: اداکاروں میں جیک نکلسن، اینتھنی ہاپکنز، مارلن برانڈو اور ڈینیئل ڈے لوئس کے ہاں بہت تنوع ہے، اور انھوں نے ہر کردار میں اپنا نقش چھوڑا ہے۔ یہ چار تو پسندیدہ ترین ہیں۔ ڈینئل ڈے لوئس نے ”دیئر ول بی بلڈ“ میں مجھے حیران کر دیا۔ ان کے علاوہ ہمفرے بوگارٹ کو کون بھول سکتا ہے۔ پرانی فلموں میں اینتھنی کوئن اور رچرڈ برٹن جیسے شان دار اداکار پھر کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔ اس دور کے اداکاروں میں سب سے زیادہ شان دار گریگری پیک تھے۔

اگر میں اپنے کندھوں پر کوئی اور منھ لگا سکتا تو وہ گریگری پیک کا ہوتا۔ خیر تفنن برطرف۔ ویسے سب سے خوب صورت چہرہ روبرٹ ریڈفرڈ کا تھا۔ ال پچینو کی سب نہیں، مگر تین چار فلمیں بہت عمدہ ہیں۔ جارج کلونی بہت پروقار ہے۔ غیر انگریز اداکاروں میں ٹونی لیونگ سب سے زیادہ پسند ہے، جسے وانگ کارروائی کلوز اپ شاٹس میں دکھاتا ہے اور جو بیش تر صرف اپنی آنکھوں سے کام لے کر شان دار اداکاری کرتا ہے، اسپین کا حیوئر بارڈم ہے اور نیدرلینڈز کا رٹگر ہائر ہے جس نے ”بلیڈ رنر“ میں کمال کی اداکاری کی۔

پاسبان عقل کو کبھی کبھی تنہا چھوڑ کر ایڈونچر اور تھرل والی فلمیں بھی دیکھتا ہوں۔ جیمز بونڈ، انڈیانا جونز اور پائریٹس آف دا کریبیئن سیریز بہت پسند ہیں، اور ان کے اداکار شان کونری، ہیریسن فورڈ اور جونی ڈیپ مجھے بہت پسند ہیں۔ پاک و ہند کے اداکاروں میں دلیپ کمار، امیتابھ بچن، ششی کپور، دھرمیندر اور ندیم بہت عمدہ اور نیچرل اداکار ہیں۔ مغل اعظم، گائیڈ، کرما، شعلے جیسی فلمیں جب بھی کہیں لگی ہوں انھیں دیکھنے لگتا ہوں۔

اداکارائیں بہت سی پسند ہیں اور مختلف زمانوں میں یہ پسند مختلف رہی ہے۔ میں نے بچپن میں جو اولین فلمیں دیکھی تھیں، ان میں ایک فلم امیتابھ اور امجد خان کی ”یارانہ“ تھی۔ اس میں نیتو سنگھ بہت اچھی لگی تھی۔ پھر مجھے بچپن میں شہناز شیخ پر کرش رہا۔ میں ان کی آنکھیں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔ نوے کی دہائی میں جوہی چاولا، روینہ ٹنڈن اور سونالی باندرے پسند رہیں۔ پرانی فلمیں دوبارہ دیکھیں تو مدھوبالا اور ٹینا منیم بہت پسند آئیں۔ پھر کرینہ کپور نے ان سب کا نقش مٹا دیا۔ مجھے جو حسن پسند آتا ہے، اس کا تعلق اکثر پنجاب یا بنگال سے نکلتا ہے۔ بنگال سے سشمیتا سین، بپاشا باسو اور رانی مکھرجی، پنجاب سے پونم ڈھلوں، جوہی اور نیتو سنگھ۔ مغربی اداکاراؤں میں بھی پسند بدلتی رہی۔ کبھی شیرون سٹون، کیٹ ونسلیٹ اور نکول کڈمین بہت پسند تھیں۔ انجلینا جولی نے بہت بے قرار رکھا۔ انگرڈ برگمین جیسا خوب صورت چہرہ میں نے شاید کبھی نہیں دیکھا ہو گا۔ کیتھرین ڈینیوو ایک مکمل ساحرہ تھیں۔

ریٹا ہے ورتھ، کیتھرین ہپ برن اور لورین بکال بہت دل نواز اداکارائیں تھیں۔ کچھ برسوں سے مجھے نیٹلی پورٹمین بہت پسند ہیں۔ ایوا گرین اور ہیدر گراہم بہت پیاری ہیں۔ مگر جہاں تک اداکاری کا تعلق ہے تو میرل اسٹریپ ان سب سے بڑی اداکارہ ہیں۔ ان سے بہتر اداکارہ اگر کوئی ہے، تو میں نے نہیں دیکھی۔ وہ اتنی حسین تو نہیں، لیکن کرداروں کا جو تنوع ان کے پاس ہے وہ کسی اور کے پاس نہیں۔

ان ہدایت کاروں اور اداکاروں کا میرے تخیل پر اور میری تخلیقات پر بہت اثر ہے، اور کچھ گلوکاروں کا بھی۔ میرے لیے اپنی شاعری ایک یاد نامہ ہے، جسے دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ یہ شعر یا یہ مصرع فلاں حسن کی ستائش میں لکھا تھا۔ اسی طرح فلمیں اور موسیقی بھی تخلیق کے لیے بہت انسپائر کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کوئی بھی تخلیق کار صرف اپنی صنف سے وابستہ تخلیق کاروں سے ہی متاثر نہیں ہوتا، بلکہ دیگر فنون سے وابستہ تخلیق کاروں سے بھی متاثر ہوتا ہے۔

اقبال: اگلی کتاب کون سی ہوگی؟

میری شاعری کا پہلا مجموعہ دو ہزار تین میں شائع ہوا تھا، تو اس میں غزلیں اور آزاد نظمیں بھی تھیں۔ اس کے بعد میں نے جو غزلیں اور آزاد نظمیں کہیں وہ اب تک غیر مطبوعہ ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اب ان کا مجموعہ آنا چاہیے۔ نثری نظموں کا مجموعہ دو ہزار بارہ میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد جو نثری نظمیں کہیں انھیں الگ سے شائع کرنا چاہیے۔ سفری نان فکشن کے تین حصے کتابی سلسلے ”آج“ میں شائع ہوئے تھے۔ ایک دو اور سفری نان فکشن زیر تکمیل ہے، جس کے بعد انھیں اکٹھے شائع کیا جا سکتا ہے۔

اقبال احمد کی تحریروں کے تراجم اور تصحیح پر مشتمل کتاب بھی تیار ہے۔ جو مضامین لکھے ان سے بھی ایک آدھ مجموعہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ ایک آدھ ترجمے پر بھی کام جاری ہے۔ مگر ناول کی کام یابی کے بعد میں نے سب سے زیادہ وقت مطالعات کو دیا ہے۔ میرے کتب خانے میں موجود کتابیں میری منتظر رہتی ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد ان میں سے بیش تر کو پڑھ لوں۔ کتابوں پر تبصرے بھی کئی لکھ رکھے ہیں، ان پر بھی نظرثانی کر کے انھیں مفصل اور بہتر بنا کر شائع کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.