بچوں کی جنسی تعلیم کے لئے گھر پہلا ادارہ ہے


ہر بچے کا پہلا تعلیمی ادارہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم آپ بچے کو کتاب سے نہیں دے سکتے۔ بچے گھر سے سیکھتے ہیں۔ ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اپنے ارد گرد کی چیزوں سے سیکھتے ہیں۔ اپنی حرکتوں اور آس پاس کے انسانوں کی حرکتوں سے سیکھتے ہیں۔ والدین سے سیکھتے ہیں۔ پر والدین میں بھی خاص کر ماں سے سیکھتے ہیں کیوں کہ باپ کی نسبت ماں بچے سے زیادہ انس رکھتی ہے اور بچہ بھی ماں سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ بچہ ماں سے بہت کچھ سیکھتا ہے، جیسا کہ کھانا، پینا، بات کرنا اور یہاں تک کہ ماں کا پلو پکڑ کر چلنا بھی، میں یہاں پر آپ کو Abraham Maslow کی مثال پیش کرنا چاہوں گی

Abraham Maslow امریکہ کے نیو یارک کی بہت ہی پسماندہ بستی میں پیدا ہوئے۔ Abraham Maslow کے والدین بہت غریب تھے۔ پر وہ اپنے ماحول اور گھر سے ابتدائی تعلیم سیکھتے رہے پر زمانہ دیکھتا ہے کہ وہی Abraham Maslow دنیا کا بہت بڑا psychologistبن جاتا ہے اور Abraham Maslowدنیا کو Maslow ’s Hierarchy of Needs دیتا ہے جس سے psychologyکے علم میں ایک تہلکہ مچ جاتا ہے Abraham Maslow کے five Hierarchy of Needs ہیں

وہ ان پانچ اسٹیج کی بات کرتے ہیں جہاں پہنچ کر انسان کو تسلی ہوتی ہے کہ وہ کچھ کر پایا ہے، پر ایسا نہیں کہ وہ ایک اسٹیج پر پہنچ گیا اور وہ سمجھے کہ اس نے سب کچھ پا لیا۔ جب وہ ایک اسٹیج پر کامیابی پا لیتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اب اس سے آگے والی اسٹیج پر پہنچے اگر ایسا نہیں تو اس نے کچھ حاصل نہیں کیا پھر ایک وقت وہ بھی آئے گا جب وہ اس آخری اسٹیج کو پا لے گا جس کے بعد بس self actualization تک پہنچ گیا جس میں بس وہ دیتا ہے لیتا کچھ نہیں اگر وہ اس self actualizationتک نہیں پہنچ پاتا جب تک وہ کسی کو دینے کے لائق نہیں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سے کچھ لیتا ہی رہتا ہے۔

Abraham Maslow جن پانچ چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہے ان میں سب سے پہلے needs physiological آتی ہیں جن میں جسمانی ضرورتیں جیسے کہ کھانا، پانی، سونا، ہوا، سیکس، (بچے پیدا کرنے کا عمل (reproduction) اور دوسرے اسٹیج پر وہ سیفٹی، بچاؤ کی بات کرتا ہے جس میں جسم کی حفاظت، گھر کا محفوظ ہونا، زمین کا محفوظ ہونا، محفوظ ماحول، کام کی جگہ کی حفاظت۔ تیسرے اسٹیج میں وہ love belonging کی بات کرتا ہے جس میں مہر و محبت، پیار، میل ملاپ اور چوتھے میں وہ Esteemکی بات کرتے ہیں جس میں عزت، احساسات جس میں وہ دوسروں کو عزت دیتا ہے اور دوسروں سے بھی یہی چاہتا ہے کہ اسے عزت ملے جس میں آزادی کی بات کی جائے۔

آخری اور پانچویں میں self actualization جس میں انسان کسی مسائل کا سامنا نہ کرے بلکہ سارے مسائل کو حل کر سکے اور اس میں اتنی طاقت آ جائے کہ وہ دوسروں کو کچھ دے سکے اور دوسروں کی مدد کر سکے

Maslow’s Hierarchy of Needs

یہ ساری باتیں Abraham Maslow کی ہیں ان باتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب تک انسان آخری اسٹیج تک نہیں پہنچ پاتا وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتا، پر میرا مقصد یہاں پر میسلو کی تھیوری لکھنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتانا ہے کہ انسان کی کاملیت اسی میں ہے کہ وہ اطمینان کی حدود کو چھو جائے اور سب کی زندگیوں کو بہتر بنانے والا بنے۔

میں یہاں پر میسلو کی باقی چار اسٹیج پر بات نہیں کروں گی پر سب سے پہلی اسٹیج پر بات کروں گی کیونکہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس معاشرے میں کوئی بھی اس پہلے اسٹیج سے آگے بڑھ ہی نہیں پاتا اگر یہ پہلا قدم ہی طاقت ور نہ ہو تو وہ کسی بھی حالت میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ میسلو کے اس فرسٹ اسٹیج کے لیے انسان کو کیا کرنا چاہیے؟

ہمارے پاس شاید اس کا یہ جواب ہو کہ اس کے لیے انسانی جسم کی کچھ ضروریات پوری ہوں جیسا کہ پانی، کھانا، سونا، ہوا، لیکن جب sexکے بارے میں بات کی جائے تو لوگ اسے دوسری معنیٰ میں جوڑ دیتے ہیں اور لوگ اسے intercourse مباشرت ہی سمجھتے ہیں۔ اور اسے نا سمجھنے کی صورت میں شادیاں کرتے ہیں اور کئی کئی بچے جنتے ہیں۔ یا چپکے سے کسی بھی صورت میں یہ عمل کرتے ہیں۔ میں اپنی سوسائٹی میں دیکھتی ہوں کہ وہ دو دو شادیاں بھی کرتے ہیں۔ ان شادیوں سے ان کے بہت سے بچے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کا خیال نہیں رکھ پاتے۔ کیوں کہ انسان زندگی کے معنی بس یہی سمجھتا ہے؟

اگر حقیقت کو جانچا جائے تو شادی بس زندگی کا ایک حصہ ہے۔ زندگی میں self actualizationتک پہنچنے کے لیے بہت جد و جہد کی ضرورت ہے یہ باتیں لوگ اس وقت سمجھ پائیں گے جب وہ sexکو اچھی طرح سمجھ پائیں گے اور بچوں کے لیے گھر جب پہلا تعلیمی ادارہ ثابت ہو گا جب والدین شعور یافتہ ہوں گے۔ اور یہاں شعور کے معنیٰ ہرگز پڑھا لکھا نہیں بلکہ والدین وہ علم جانتے ہوں جو علم کے تقاضوں پر پورا اترتا ہو۔

اس حوالے سے میں یہاں sex education کے بارے میں کچھ بتانا چاہوں گی۔ ہمارے پاس جیسے ہی sex کا لفظ آتا ہے تو لوگ فورا ً intercourse سے جوڑ دیتے ہیں اس لیے میں اسے sexuality education کہوں گی کیوں کہ یہ بس مباشرت نہیں ہے بلکہ یہ بہتInclusive term یعنی وسیع اصطلاح ہے،

جیسا کہ انسان اپنے بارے میں کیا سوچتا ہے؟ کیا محسوس کرتا ہے؟ کیا دیکھتا ہے؟ اس کا مزاج کیا ہے؟ اور وہ دوسروں کی بری نظر، برے کام کیسے دیکھتا ہے، یہ سب sex نہیں، پر بچے ان باتوں پر بہت سوچتے ہیں۔ اور بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ وہ ایسے ماحول میں اپنے آپ کا خیال کیسے رکھے؟

Sexuality education کی Inclusive term میں بچہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ احساسات۔ اظہار کرنا، بولنا۔ محسوس کرنا۔ اپنا خیال رکھنا اور بھی بہت کچھ۔ اب ہمارے ذہن میں ایک سوال لازماً اٹھے گا کہ اس تعلیم کو کس طرح دینا چاہیے اور اس تعلیم سے کیا حاصل ہو گا؟

Abraham Maslow

سب سے پہلے میں بچے کی عمر کے بارے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ کس عمر میں بچے کو کیا سکھانا کیا بتانا چاہیے؟

3سال کے عمر کے بچوں کے سامنے ان کے جسموں کے حصوں کے نام صحیح لینا چاہیے، ٹھیک سے پڑھانا چاہیے اور اچھے سے بتانا چاہیے، پر ہمارے پاس مائیں اپنے بچوں کے سامنے ان کے جسمانی اعضا کے نام تبدیل کر کے لیتی ہیں اس صورتحال سے بچوں کے ذہن میں بچپنے سے یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ ان حصوں کا نام لینا یا بتانا شرمندگی کی بات ہے

اسی طرح بہت سے لوگوں کے سامنے جب ایسی باتیں آتی ہیں تو وہ چھپاتے ہیں پھر وہ اگر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کسی کو کچھ بتا نہیں پاتے کہ انہیں کس اعضاء میں کیا بیماری لاحق ہوئی ہے

3سال سے 5 سال تک کے بچوں کو ان کے جسم کے حصوں کے بارے میں معلومات دینی چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ ان حصوں کو اور کوئی ہاتھ نہ لگائے خاص کر جب مائیں ان بچوں کو نہلائیں تو وہ ان بچوں کو یہ بتائیں کہ کوئی بھی ان کے جسم پر ہاتھ نہ لگائے اگر کوئی ہاتھ لگائے تو فوراً گھر میں آ کر بتائیں۔

5سال سے 8 سال کے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے گھر کے اندر اور گھر کے باہر اپنا خیال رکھ سکتے ہیں۔ وہ اپنے جسم کے مالک ہیں۔ اگر کوئی بھی ان کے جسم کو چھیڑے، ہاتھ لگائے یا کوئی تصویر بنائے تو وہ فوراً گھر میں بتائیں۔

8سال سے 12 سال کے بچوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور انہیں یہ بتانا چاہیے کہ جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو اپنا خیال کیسے رکھیں بچے گھروں میں یا گھروں سے باہر حاملہ خواتین دیکھتے ہیں ان بچوں کو حاملہ عورتوں، حمل اور حاملہ ہونے کے عمل کے بارے میں بتانا چاہیے۔

اس عمر کے بچے جب گھروں میں اپنی ماؤں اور بازاروں میں حاملہ عورتوں کو دیکھتے ہیں تو بہت سوال کرتے ہیں۔ اور مائیں جھوٹ بول کر انہیں خاموش کرا دیتی ہیں۔ لیکن ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اچھے سے سکھائیں۔ اگر مائیں نہیں سکھا سکتیں تو انہیں اچھی کتابیں اور ویب سائیٹ کے بارے میں بتائیں جہاں سے بچے اچھے سے سیکھ پائیں۔ پر بدقسمتی سے مسئلہ یہ ہے کہ ان موضوعات پر ہمارے اسکولوں میں بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ ہمارے اسکول کے نصاب میں reproduction (تولید) کے اسباق پڑھائے ہی نہیں جاتے۔

مائیں ہمیشہ یہ سمجھتی ہیں کہ یہ بچے ان مسائل پر بات نہیں کرتے تو انہیں دلچسپی نہیں پر ایسا نہیں ہے بچے بہت کچھ جانا چاہتے ہیں۔ جب بچوں میں جوانی Pubertal changes آتی ہیں، جب وہ جوان ہونا شروع ہوتے ہیں تو لازمی انہیں یہ معلومات چاہیے ہوتی ہے۔

اگر گھر میں اسے ایسی معلومات نہیں مل پاتی۔ تو وہ دوسروں سے ایسی معلومات تلاش کرتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ ان بچوں کو دوسری جگہ سے ملنے والی معلومات ٹھیک نہ ہو اور وہ ان بچوں کے لیے مضر ہوں۔

12 سے 18 سال کے بچوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ Rape آبرو ریزی کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے اور اس عصمت دری کے دوران کون کون سی بیماریاں ہو سکتی ہیں جس سے بچاؤ لازمی ہے۔

اور جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اس میں جب بچے ایسے سوال کرتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں بچے ان کاموں میں ملوث ہیں پر ایسا نہیں ہے بچے معلومات چاہتے ہیں۔

بہت دفعہ مائیں اپنے بچوں کو بات کرنے نہیں دیتیں۔ اس سے یہ نقصان ہوتا ہے ماں اور بچے کے درمیان تلخی بڑھ جاتی ہے۔ اور وہ دروازہ بند ہوجاتا ہے جس سے بچے ماؤں کے قریب جاتے ہیں۔

پھر آنے والے وقتوں میں بچے کسی بھی مسئلے کا شکار ہو جاتے ہیں تو وہ ماؤں سے کچھ نہیں کہہ پاتے۔

بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں تو انہیں عزت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی باتوں کو سنا جائیں انہیں خاموش نہیں کرانا چاہیے۔ اگر کوئی انہیں خاموش کرائے گا تو بچے مسئلے میں گھر جائیں گے پھر وہ اپنا مسئلہ بیان نہیں کر پائیں گے۔

ایک لمحہ سوچ کر جواب دیں کیا آپ کے بچوں نے آپ سے ایسے سوال کیے ہیں اور آپ چڑ گئے ہوں، آپ کو غصہ آیا ہو، آپ حیران ہوئے ہوں۔ اور آپ نے سوالوں کے غلط جواب دیے ہوں؟ ان ساری باتوں سے کس قسم کے نقصان ہوتے ہیں میں کچھ مثال دیتی ہوں۔

میں اپنی مثال دینا چاہتی ہوں جب میں 7th گریڈ میں تھی۔ اور میری ساتھی کلاس فیلو کو پہلی بار کلاس میں ماہواری آ گئی اور اس کی شلوار اور وہ ڈیسک لال ہو گئی جس پر وہ بیٹھی ہوئی تھی تو ہم نہیں جانتے تھے کہ یہ کیا ہے وہ لڑکی رونے لگی۔ کلاس ٹیچر نے اپنے چادر کو اس کی ٹانگوں پر لپیٹ کر اسے گھر بھیج دیا اور جب میں نے یہ بات اپنے گھر میں اپنی پھوپھو سے پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ اس لڑکی کو السر تھا اور یہ السر پیٹ کی بیماری ہے پھر زندگی میں پہلی بار میرے ساتھ ہوا تو میں بھی یہی سمجھی کہ یہ السر ہے اور اب میں بہت جلد مر جاؤں گی۔ بہت روئی پریشان رہی پھر بتایا گیا کہ یہ نارمل ہے اور بڑھتی جوان ہوتی ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے۔

بس یہ جوانی کی تبدیلیاں لڑکیوں میں ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ ان مسائل کا سامنا لڑکوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک لڑکے نے بچپن کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ جب وہ اسکول پڑھتے تھے تب ان کے گاؤں کے اسکولوں میں واش روم دور کہیں فاصلے پہ ہوا کرتے تھے تو ٹیچر بچوں کو سینئر بڑے لڑکوں کے ساتھ بھیجتے تھے ایک دفعہ وہ کسی بڑے لڑکے کے ساتھ گیا تو اس نے اچانک بڑے لڑکے کے Private part پر بال دیکھ کر حیران ہوا اور پوچھنے پر اس کو بتایا گیا کہ اس نے یہ جگہ صاف کیا تھا اور یہ رات کو اگ آئے۔ جب وہ بچہ جوان ہونے کے عمل سے گزر رہا تھا تو اس کے موئے زحاف اگ رہے تھے اور اسے یاد تھا جو اسکول کا سینئر لڑکا اسے بتا چکا تھا کہ یہ رات میں اگتے ہیں یہ صاف کرنے سے بڑے ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ٹانگوں سے نیچے تک پھیل جاتے ہیں جن باتوں سے وہ لڑکا پریشان رہا اور سوچتا رہا اگر کبھی راستے میں یہ بال اگ آئے اور بڑے ہو گئے تو ہو کیا کرے گا نہ اس نے صاف کیے حتی کہ وہ اس خوف کی وجہ سے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔

ہمیں بچوں کو جوان ہو نے پر hygiene جیسے کہ صفائی کے بارے میں بتانا چاہیے۔ پر ہماری مائیں یہی سمجھتی ہیں کہ اگر انہیں ایسی باتیں بتائیں تو ان کے ذہن ان ہی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے۔ پر ایسا نہیں ہے۔ بچے اپنے آس پاس اور دوستوں سے معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ معلومات حقیقت کے قریب نہیں ہوتی، اگر والدین انہیں خود سے معلومات دیں تو وہ غلط معلومات سے بچ جائیں گے۔ بچوں کو غلط معلومات دینے کے بجائے حقیقت بتانا ضروری ہے۔ اور اس سے یہ فائدہ ملتا ہے اگر بچہ کے ساتھ کوئی غلط کام یا sexual abuseکرنا چاہے تو اس صورتحال میں بچہ اپنے والدین سے بات کر سکتا ہے۔ اور اس طرح کے مسائل کو بتانے کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ جب کہ بچپن سے والدین اپنے بچوں کے جسمانی حصوں کو شرمندگی سمجھیں تو بچہ ہمیشہ ڈرتا رہے گا۔ ان کے ساتھ کیا ہوا اور کس نے کیا پھر وہ کبھی نہیں بتا پاتے۔

بچوں کو sexuality education دینا بہت ضروری ہے۔ جب تک ان چیزوں کو چھپائیں گے انہیں باعث شرمندگی سمجھتے رہیں گے ہم میسلو کی آخری اسٹیج تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

بلکہ آخری اسٹیج تو دور کی بات ہے ہم دوسرے اسٹیج یعنی کہ خیال رکھنا مہر محبت کی اہمیت اور دوسری بہت سی چیزوں سے محروم رہیں گے۔ اور کبھی بھی ہم کامیاب نہیں ہوں گے اس وجہ سے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں سے دوستی کریں۔ چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی ان کو ہر وہ بات بتائیں جو ضروری اور اہم ہے۔ کیونکہ بچوں کا گھر پہلا تعلیمی ادارہ ہے! ۔

مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے آپ اپنے بچوں کو صحیح تعلیم دیں گے اگر خود نہیں دے سکتے ہو تو بہت سی اچھی کتابیں اور ویب سائیٹ اپنے بچوں کو دیں اور ہمیشہ ان کے سوالوں کا احترام اور ان کے سوالوں کو ویلکم کریں اور انہیں خاموش نہ کرائیں ہو سکتا ہے کہ بچہ جب دوسروں کے سامنے ایسے سوال اٹھائے تو جواب دینا اتنا آسان نہیں رہے اور آپ بچوں کو کہیں کہ گھر جا کر جواب دیں گے یا بعد میں!

مجھے امید ہے کہ اس حوالے سے آپ اپنے بچوں کو صحیح تعلیم دیں گے اگر خود نہیں دے سکتے ہو تو بہت سی اچھی کتابیں اور ویب سائیٹ اپنے بچوں کو دیں اور ہمیشہ ان کے سوالوں کا احترام اور ان کے سوالوں کو ویلکم کریں اور انہیں خاموش نہ کرائیں ہو سکتا ہے کہ بچہ جب دوسروں کے سامنے ایسے سوال اٹھائے تو جواب دینا اتنا آسان نہیں رہے اور آپ بچوں کو کہیں کہ گھر جا کر جواب دیں گے یا بعد میں!

اور ہو سکتا ہے کہ آپ بچوں کو ایسی حرکت اور ایسی وڈیوز دیکھتے دیکھ لیں تو انہیں ہرگز تشدد کا نشانہ مت بنائیں لیکن کچھ دیر بعد مناسب وقت میں انہیں بتائیں کہ کچھ کام لوگوں کے سامنے نہیں کیے جاتے کچھ privacy کی چیزیں ہیں انہیں چھپایا جاتا ہے۔ ان چیزوں کے بارے میں والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اچھے طریقے سے تعلیم دیں تاکہ بچے کے دماغ میں کوئی سوال نہ رہ جائے اور اس سوال کو تلاش کرنے میں بچہ غلط قدم نہ اٹھائے۔

Facebook Comments HS