سجدہ – افسانہ


محض اکتاہٹ اور بیزاری نہیں بلکہ کچھ اور جس کا سبب ایک بے اعتمادی تھی جو کہیں میرے اندر تھی۔ کیا جو کچھ ہو رہا تھا سب ٹھیک تھا؟ اندر ہی اندر ایک خوف سا تھا؛ نامعلوم سا خوف۔ جس بے اعتمادی اور خوف کا میں ذکر کر رہا ہوں، اب میں سوچتا ہوں تو اس کا تعلق میری پہلی منگنی کے ساتھ جاکر جڑ جاتا ہے۔ وہ منگنی کئی برس رہی۔ منگنی کا لفظ آتے ہی اس کے ساتھ ایک رومان وابستہ ہو جاتا ہے میرے لیے ایک اذیت کے تسلسل کے سوا اس لفظ کے کوئی معنی نہ تھے۔

یہ منگنی آخرکار جائیداد کے جھگڑے میں ٹوٹ گئی تھی۔ ابھی میں طالب علم تھا کہ بزرگوں کے بیچ رشتے اور جھگڑے والی جائیداد کا معاملہ طے ہوا تھا۔ یونیورسٹی سے فارغ ہوا ملازمت میں آیا، تب بھی منگنی چلتی رہی۔ میں اس منگنی سے خوش نہ تھا مگر جو بزرگوں نے طے کیا تھا اس سے سرتابی کی ہمت بھی نہیں رکھتا تھا۔ ایک مسلسل اذیت کی سیاہ تنگ سرنگ تھی جس سے میں برسوں سے گزرتا رہا۔ ابا جی انتقال کر گئے تو دوسری جانب سے یہ چال چلی گئی کہ چپکے سے وہ جائیداد بیچ دی گئی۔ مجھے موقع مل گیا۔ ہمت بٹوری اور اس رشتے کو آگے چلانے سے انکار کر دیا جس کی بنیاد محبت نہ تھی۔ منگنی ٹوٹ گئی اور ساتھ ہی اس رشتے پر جو اعتماد تھا وہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

محبت اس رشتے کی بنیاد کیسے بن پائے گا میں نہیں جانتا تھا۔ آپ محبت کیے جائیں اور مقابل آپ کی جھولی میں کیا ڈالتا ہے اس کی بابت وہاں کچھ گماں بھی تو نہیں باندھا جا سکتا جہاں اس رشتے کے معاملات دونوں بزرگوں کے درمیان طے ہونے ہوں اور جہاں سہاگ رات گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے تک ایک دوسرے سے ملنا اور بات کرنا ممکن نہ ہو۔ تو یوں ہے کہ ہمارا خاندان بھی اسی روایت پر کاربند تھا۔ ابھی پہلی منگنی سے آزادی کو زیادہ دن نہ گزرے ہوں گے کہ اماں نئی مہم پر نکل کھڑی ہوئیں۔

”فلاں؟“
”نہیں۔“
” اور فلاں؟“
”وہ بھی نہیں۔“
اماں کو غصہ آ جاتا کہتیں :
”تمہارا باپ چھوڑ کر چلا گیا ورنہ تم سے پوچھتی بھی نہیں۔“

اماں نے ہمت نہیں ہاری۔ بالآخر ایک روز ان کی زبان پر اس کا نام آ گیا جس کا نام شاید روز ازل مقدر کی تختی پر میرے نام کے ساتھ لکھ دیا گیا تھا۔ اس کا نام آتے ہی میرے سامنے جیسے وہ کہیں سے پنجوں کے بل چلتی ہوئی آئی تھی اور اپنی قیامت کی قامت کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی۔

کیسا حسین اتفاق تھا کہ میں اس لڑکی سے مل چکا تھا۔

جی، اگر ایک مناسب فاصلے سے محض دیکھنے کو ملاقات کہا جاسکتا ہے تو ہماری ملاقات ہو چکی تھی۔ ہمارے آبائی گاؤں چکی میں ہمارے قریبی عزیزوں کے ہاں شادی کا موقع تھ الہٰذا ہم سب بہن بھائی اماں کے ساتھ چکی پہنچے تھے۔ جس گھر میں ہمیں ٹھہرایا گیا تھا اس کے وسیع صحن کے دونوں طرف کمرے تھے۔ سامنے والے کمروں میں میری منگیتر اس کے بہن بھائی اور ماں باپ ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہیں مجھے ایک اجنبی لڑکی نظر آئی تھی جس کے بارے میں مجھے بعد میں پتا چلا تھا کہ وہ میری منگیتر کی بھابی کی بہن تھی، جو ان دنوں وقارالنسا ء کالج راولپنڈی میں پڑھ رہی تھی۔

میں نے جس رات اسے دیکھا تھا وہ پورے چاند کی رات تھی۔

میں نے لڑکیوں کے قہقہے سن کر تجسس میں، جس کمرے میں ہم ٹھہرائے گئے تھے، اس کے دروازے سے باہر جھانک کر دیکھا تھا۔ وہاں صحن کے وسط میں بچھی کھاٹوں پر بیٹھی لڑکیوں میں سے کسی نے اس کا نام پکارا تھا اور وہ سامنے والے کمرے سے نکلتے ہوئے تیز قدموں سے چل کر لڑکیوں کی ٹولی تک پہنچی تھی۔ پورے چاند کی روشنی میں اپنی زلفوں کو اچھالتے ہوئے۔ چاندنی بھی جیسے اس کی زلفوں کے ساتھ اچھل رہی تھی۔ جب وہ لڑکیوں کی ٹولی کے پاس پہنچ کر کھڑی ہو گئی تو میں نے دیکھا اس کا چہرہ بھی اسی چاندنی میں دمک رہا تھا۔ کھلی زلفیں، مانگ ایک طرف سے نکلی ہوئی مناسب قامت اور چاند کی روشنی سے نہاتا چہرہ۔ میں وہاں سے ہٹ گیا مگر میری سماعت جیسے وہیں تھی۔

” تم بھی مہندی لگوا لو۔“
مجھے یہ آواز پہچاننے میں دیر نہ لگی کہ یہ میری منگیتر کی آواز تھی۔

”لو، لگاؤ۔ مگر پورا ہاتھ نہ تھوپ دینا بس ایک گولا بناؤ، ہتھیلی کے درمیان۔ پورے چاند جیسا۔ اتنا ہی کافی ہے۔“

اس کے ساتھ ہی وہ ہنسی تھی اور شاید وہاں موجود سب لڑکیاں ہنسی تھیں مگر مجھے صرف اس کی ہنسی سنائی دی تھی۔ سب سے الگ اور سب سے جدا۔

اسے دیکھنا اور وہ بھی بس چند لمحوں کے لیے۔ تو یہ تھی ہماری اکلوتی ملاقات۔
یہ محبت کی شادی نہیں مقدر میں لکھی ہوئی شادی تھی۔

محبت تو ہمیں بعد میں ہوئی تھی۔ ایک ہی ہلے میں نہیں رفتہ رفتہ۔ بلکہ مجھے کہنا چاہیے اس نے میرے اندر محبت قطرہ قطرہ ٹپکائی تھی۔ ہر گزرتی ساعت میں۔ ہر سانس کے ساتھ۔ ہر خوشی اور دکھ میں ساتھ دے کر ۔ مجھے یوں سنبھال کر جیسے میں کانچ کا بنا ہوا تھا۔ اس باب میں اس کے ہاں جو وارفتگی رہی گہرا اخلاص اور بے ساختگی؛ وہی بے اختیاری والی اس نے میرے اندر اس رشتے پر اعتماد مستحکم کیا اور یقین دلایا کہ محبت پہلی نظر میں نہیں ہوتی یہ دوسرے وجود کو اس کی کل میں قبول کرنے، ایثار اور برداشت میں اپنے آپ کو جھونک دینے اور زندگی کی ہر سانس کی گرہ دوسرے کی سانسوں سے باندھ دینے سے جنم لیتی ہے، یوں جیسے بنجر زمین کو پہلے نتوڑ کیا جاتا ہے، جھاڑ جھنکار صاف کرنے، اور اس کی سخت ہو جانے والی سطح کو توڑ کر پلٹا دینے کے لیے گہرا ہل چلا یا جاتا ہے۔

پھر اسے ہموار کیا جاتا ہے، سہاگہ پھیرا جاتا ہے، کھاد ڈالی جاتی پھر کہیں بیج ڈال کر اسے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے تو بیج سے کونپل پھوٹ کر زمین سے باہر جھانکتی ہے۔ اس نے محبت کی اس کونپل کو میرے دل کی بنجر اور سخت زمین کے اندر سے پھوٹتے دیکھنے کے لیے اس سے بھی کہیں زیادہ محنت کی تھی۔ محنت نہ کہیے ریاضت کہیے۔ اسی ریاضت کی عطا تھی کہ اب وہ ننھی منی کونپل چھتنار شجر ہو گئی تھی۔ ایسے میں اگر وہ کہتی تھی کہ مجھے یوں مرنے نہ دے گی تو ایسا کہنے کا مطلب میں ہی سمجھ سکتا تھا۔

مطلب محبت کا ہو، ایثار یا قربانی کا ، لغت کھول کر سمجھا اور سمجھایا نہیں جا سکتا کہ ہر لغت میں ایک لفظ کے مقابل کچھ اور الفاظ رکھ دیے جاتے ہیں۔ کہہ لیجیے محض الفاظ کا ایک گچھا یا کچھ وضاحتیں۔ یہ حیلہ مطلوبہ لفظ کے معنی ایک حد تک سمجھا کر ہانپنے لگتا ہے۔ کہنے کو ہر لغت زبان کا خزانہ ہوتی ہے۔ کسی سیٹھ کی بھری ہوئی تجوری کی طرح لفظوں سے بھری ہوئی یا گولیوں سے بھرے میگزین والے پستول کی طرح مگر واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی لغت کے پاس اپنا کچھ نہیں ہوتا۔

اس کا سارا مال ہتھیایا ہوا ہوتا ہے ؛ زندگی سے اور زندگی کے اچھے برے تجربوں سے۔ اسی لیے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ لغت کے پاس کسی لفظ کے حقیقی معنی ہو ہی نہیں سکتے، یہ تو ہمارے پاس ہوتے ہیں ؛کچھ زید کے پاس، کچھ بکر کے پاس۔ تین سوا تین دہائیوں کی رفاقت میں اس نے مجھے محبت، ایثار، قربانی اور اس قبیلے کے سارے لفظوں کے حقیقی معنی سجھا دیے تھے ؛ یوں کہ ہر لفظ زندہ ہو کر اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ میرے سامنے آتا رہا تھا۔

جب میری پوسٹنگ کہوٹہ میں ہوئی تب تک ہماری اوپر تلے تین بچیاں ہو چکی تھیں۔ تیسری بچی کو ہوئے کچھ دن ہی ہوئے تھے۔ اتنے کہ ابھی چھلا نہانے میں بھی کچھ دن باقی تھے کہ مجھے تبادلے کا حکم نامہ مل گیا تھا۔ تبادلے کا یہ حکم نامہ کسی مہلت کے بغیر فوراً وہاں پہنچنے کا تھا ؛ وہی ”ود امی جیٹ افیکٹ“ والا۔ مجھے اسی روز مقامی دفتر سے رخصت کی چٹھی تھما دی گئی۔ یہ سب کچھ مجھے بوکھلا دینے اور پریشان کرنے کے لیے کافی تھا۔

جب میں نے اپنے ٹرانسفر آرڈرز والی چٹھی اس کے سامنے رکھ دی تو اس کا چہرہ جو بچی جنم کے درد سہ سہ کر پہلے سے زرد تھا، کچھ اور زرد پڑ گیا تھا۔ اس نے چھٹی پڑھ کر مجھے کچھ کہے بغیر دیکھا تھا اور چند ساعتوں تک ایک تار دیکھتی رہی تھی۔ مجھے لگا وہ مجھ سے کہیں زیادہ پریشان ہو گئی تھی۔ تاہم کچھ دیر ہی میں وہ سنبھل کر مجھے حوصلہ دے رہی تھی۔

حوصلہ اور ہمت کی دولت اس کے پاس بے پناہ تھی۔
انہی دنوں میں ایک اور واقعہ ہو چکا تھا۔
ہماری زندگیوں کو بہت گہرائی میں جاکر متاثر کرنے والا واقعہ۔

ہوا یوں تھا کہ جب تیسری والی بیٹی پیدا ہوئی تو ہماری دوسری بھابی اسے گود میں اٹھا کر دیر تک دیکھتی رہی تھیں۔ ان کی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہہ رہے تھے اور وہ بے اختیار بچی کو چومتے ہوئے کہنے لگیں : ”میری بچی، میری جان“

میں نے انہیں حوصلہ دینے کو کہہ دیا: ”بھابی، یہ آپ ہی کی بچی ہے۔“

بھابی تو جیسے یہی جملہ سننے کی منتظر تھیں۔ شدت جذبات سے کانپتے ہونٹوں سے بس دو لفظ باہر لڑھکائے : ”میری بچی۔“

پھر اس کی جانب دیکھا اور رندھائی ہوئی آواز میں کہا:
”تم اب اسے اپنا دودھ نہیں پلاؤ گی۔“

بھابی ایسا کہتے ہوئے اٹھیں اور بچی سمیت سرعت سے کمرے سے نکل گئیں۔ اماں یہ سارا منظر دیکھ رہی تھیں۔ کبھی ہنستیں، کبھی رو دیتیں۔ ذرا سنبھلیں تو گڑیا کی چیزیں سمیٹ کر وہ بھی کمرے سے نکل گئیں۔ ہمارے کمرے میں سناٹا گونج رہا تھا۔ ہم دونوں چپ تھے۔ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہ جانے کتنی دیر چپ بیٹھے رہے کہ بچی کی دوسرے کمرے سے رونے کی آواز آئی۔ وہ تڑپ کر اٹھ بیٹھی اور کہا:

”بچی رو رہی ہے۔“
میں چپ رہا۔ اس کی قمیص آگے سے گیلی ہو رہی تھی۔ کہنے لگی: ”اسے بھوک لگی ہوئی ہے۔“
اس بار میں نے کہا: ”اماں فیڈر لے گئی ہیں۔“

وہ چپ ہو گئی مگر ادھر بھابی سے بچی چپ نہیں ہو رہی تھی حتیٰ کہ وہ اسے اٹھائے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئیں اور بچی ماں کے پہلو میں ڈال کر روتے ہوئے باہر نکل گئیں۔

جب میں نے کہوٹہ تبادلے کی خبر اماں کو سنائی تو وہ بہت دیر تک بے قراری سے برآمدے میں چکر کاٹتی رہیں۔ زندگی کی اونچ نیچ کو جس طرح وہ سمجھتی تھیں، شاید ہی کوئی اور سمجھتا ہو گا۔ اسی شام وہ ایک فیصلے پر پہنچ چکی تھیں۔ مجھے بلا کر پاس بٹھایا اور کہا:

”دیکھو بیٹا! تم وہاں رہو گے اور تمہارے بچے یہاں، تو سب پریشان رہیں گے۔ مناسب یہ ہے بچوں کو اپنے ساتھ رکھو۔ تمہارا دل ملنے کو کرے تو آجانا۔ ہمارا جی چاہے گا ملنے کو تو ہم وہاں پہنچ جائیں۔ کہوٹہ کون سا سمندر پار ہے۔“

میں نے اماں کی طرف دیکھا تو میری آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے میرا ماتھا چوما اور کہا:

”میں جانتی ہوں تم ایک دوسرے کے بغیر نہ رہ سکو گے۔“

ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے مگر منجھلی بیٹی ہمارے ساتھ نہیں جا رہی تھی۔ اماں کا مشورہ تھا کہ جب ہم وہاں گھر رہنے کے قابل بنا لیں گے تو پھر بیٹی لے جانا۔ تینوں کو ایک ساتھ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ پھر کچھ ایسا ہوتا چلا گیا کہ منجھلی بیٹی ہمیشہ کے لیے بھابی اور بھائی کے پاس رہ گئی۔

ہم اسے صبح و شام یاد کرتے رہتے۔ وہ اکثر کہتی: ”بڑے حوصلے والی ہے ہماری بچی۔“ مگر سچ یہ ہے کہ اس کا اپنا حوصلہ بہت بڑا تھا۔

وہ جانتی تھی کہ والد صاحب کی وفات کے بعد ہم نے بڑے بھائی کو باپ جیسا احترام دیا تھا۔ وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے مگر بھائی اور بھابی کے لیے تو جیسے ہم سب ان کے بچوں جیسے تھے۔ انہوں نے ہماری بیٹی کو بہت محبت دی۔ اسے پڑھایا لکھایا، ڈاکٹر بنایا اس کی شادی بڑے دھوم دھام سے کی اور پھر ان کے بچوں کو اتنا پیار دیا کہ وہ کہیں دور جانے کا نام تک نہیں لیتے۔

ذرا ایک ایسی ماں کا تصور کیجئے جس کے کلیجے پر ہاتھ پڑا ہو، اس نے اپنے جگر کے ٹکڑے سے دور رہنا قبول کر لیا ہو اور برسوں اس کی جدائی میں چھپ چھپ کر روئی ہو۔ اس کی ممتا کو قرار نہ ہو مگر اس نے ضبط کیا ہو اور اپنی بے قراریاں کسی اور پر ظاہر نہ ہونے دی ہوں کہ ایسا کرنے سے زندگی تلخ ہو سکتی تھی۔ ہاں اس کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی تو زندگی نے تلخ ہو جانا تھا؛ مگر میں نے کہا نا! اسے مجھ سے محبت تھی۔ محبت عطا کا نام ہے، دیے چلے جانے کا نام۔ سب کچھ قربان کردینے کا نام۔ ایک بار اس نے اسی بیٹی سے کہا تھا:

”کبھی کبھی مجھے لگتا ہے بیٹی میں ہم تمہارے مجرم ہیں۔ بیٹوں کو ماں باپ جوان کر کے اور اپنی ساری محبتیں لٹانے کے بعد گھر سے رخصت کرتے ہیں، تمہیں بچپن میں رخصت کر دیا۔“

بیٹی نے ماں کو جھٹ گلے لگا لیا اور کہا:
”ماما جان! آپ نے جو کیا وہ بھی محبت کی انتہا تھی، ہم سب کے لیے۔“

پھر وہ دونوں جیسے روتے ہوئے ایک دوسرے کے بدن کو جھلارا دینے لگی تھیں۔ اس نے میری محبت میں میری امی جان، بھائی اور بھابی کی خوشیوں کی خاطر ان سارے برسوں میں ضبط اور ایثار کا ایسا طرز عمل اختیار کیا تھا کہ اب ہر کسک، ہر تڑپ، ساری تاہنگ اور بے قراری کے تمام برس سونا ہو کر ہماری زندگی کا سرمایہ ہو گئے ہیں۔

یہیں دو لڑکیوں کا قصہ بھی سن لیں جو اپنے اپنے گھروں سے بھاگ کر ہمارے ہاں آ گئی تھیں۔ دو لڑکیاں جنہوں نے اپنی اوڑھنیوں کے پلو میں اپنی عزت کا سونا باندھا ہوا تھا اور ہماری سینت سینت کر رکھی ہوئی عزت کا بھی۔ میں جن لڑکیوں کا یہاں ذکر کرنے جا رہا ہوں ان میں سے ایک ہر دو گیر گاؤں کی تھی اور دوسری اس جڑواں شہر کی جس میں اب ہم نے مستقل سکونت اختیار کر رکھی ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان کئی برس پڑتے ہیں تاہم پہلے واقعے کا تعلق میری ذات سے نہیں میرے چھوٹے بھائی سے جاکر جڑ جاتا ہے جو ان دنوں ماسٹر ڈگری کا امتحان دے کر فارغ ہونے کے سبب کہوٹہ میں ہمارے ہاں ٹھہرا ہوا تھا اور وہاں کے ایک نجی کالج میں پڑھانے لگا تھا۔ جس لڑکی کا میں ذکر کر رہا ہوں اسی کالج پڑھاتی تھی اور ایک روز اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اچانک ہمارے گھر میں آ گھسی تھی۔ یوں جیسے کوئی اس کے تعاقب میں تھا۔

ہم شام کی چائے صحن میں بچھی کرسیوں پر بیٹھے پی رہے تھے۔ وہیں ہمارے اردگرد اڑتی تتلیوں جیسی ہماری بچیاں بھاگ رہی تھی۔ امن کا زمانہ تھا تب ہر وقت صدر دروازے پر زنجیر ڈالے رکھنے کا اہتمام نہ ہوتا تھا۔ ہر دو گیر کی یہ لڑکی اچانک گھر میں گھسی، گھوم کر زنجیر دروازے پر ڈالی جیسے اپنے تعاقب میں آنے والے کو وہیں روک دینا چاہتی تھی۔ ہم نے دیکھا وہ سیاہ فینسی برقعے میں پوری طرح لپٹی ہوئی تھی مگر اس کے پاؤں میں جوتے نہ تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4