سجدہ – افسانہ


وہ سب جو مجھ سے محبت کرتے تھے یا میرے پیارے تھے، وہ میرے خاندان کے افراد تھے یا لفظ سے جڑے ہوئے اس گھرانے سے جس میں، میں رچا بسا ہو ا تھا؛ سب ہی اس کے لیے محترم تھے۔ مجھے ملنے کوئی آ جاتا تو اس کی آؤ بھگت کرنا جیسے اس کے ایمان کا حصہ تھا۔ کہوٹہ سے مری اور پھر مری سے اسلام آباد تبادلہ ہو گیا تو یہیں ہم نے گھر بنا کر مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اوپر تلے بچیوں کی شادی ہو گئی تو ہم پیاری سی بہو لے آئے۔ اس نے اسے بیٹیوں جیسا پیار دیا۔

سب سے چھوٹی بیٹی اور وہ جیسے ایک ساتھ اس کی کوکھ سے نکلی تھیں۔ ان سب مصروفیات کے باوجود وہ مجھ سے ایک لمحہ غافل نہ ہوتی۔ ہم ایک ساتھ باہر نکلتے، کسی پروگرام میں جانا ہوتا تو ایک ساتھ جاتے۔ مجھے بھی اپنا آپ اس کے بغیر ادھورا لگنے لگتا۔ مجھے یاد ہے کسی پروگرام کے بعد ایک لڑکی میری طرف بڑھی اور میرے پاس کھڑے پاکر اسے مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی : ”میڈم ہمیں سر بہت اچھے لگتے ہیں۔“

اس نے قہقہہ لگایا اور کہا تھا: ”بیٹی! مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ کے سر مجھے بھی بہت اچھے لگتے ہیں۔“

ملتان سے آئے ہوئے میرے دوست قاضی کو اس نے یہ ’اچھا لگنے‘ والا واقعہ بھی سنایا تھا اور کورونا وبا کا شکار ہونے اس سے نکلنے کے بعد ہسپتال پہنچ جانے والا قصہ بھی۔ پہلے پہل ہماری بہو کا کووڈ پازیٹو نکلا اور ایسا کہ بخار، جسم ٹوٹنے اور کھانسی کے ساتھ اس کا منہ چھالوں سے بھر گیا تھا۔ کئی دن وہ اس تکلیف میں رہی۔ ہمارے بیٹے کی دلہن تھی تو بیٹے کی ماں کو کیسے آرام آتا۔ کبھی اس کے لیے یخنی بن رہی ہے، تو کبھی تو ایسی نرم غذا کہ وہ نگل پائے۔

خدا خدا کر کے وہ ٹھیک ہوئی اور اس کا کووڈ نیگیٹو ہوا تو میرا اور بیٹے کا ٹسٹ پازیٹو نکل آیا۔ ایک طرف بیٹا ایک طرف میں اور ابھی ہم اس سے نکلے نہ تھے کہ سب سے چھوٹی بیٹی بھی اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ وہ سب کی خدمت میں جت گئی مگر مجھے لگتا تھا کہ سب سے زیادہ اگر اسے فکر تھی تو میری۔ ابھی چند روز قبل کا میرے سچ مچ کے مر جانا ایسا تھا کہ اسے حد درجہ خوف زدہ کر گیا تھا۔ ہاں اگر وہ زندگی کا فرشتہ بن کر وہاں پہنچ نہ گئی ہوتی تو میں مر ہی تو گیا تھا۔

۔
مر جانا اور کیا ہوتا ہے؟

مجھے یاد ہے میں واش روم تک چل کر گیا تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے مجھے متلی سی ہوئی تھی۔ دم الٹنے لگا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ کچھ زیادہ برا ہونے والا تھا۔ جو کچھ ہونا تھا یہاں اس جگہ نہیں ہونا چاہیے۔ میں اٹھا تو آنکھوں کے سامنے دھند بڑھتی گئی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میں نے وہاں سے اٹھتے ہی پاجامہ اوپر کھسکا لیا تھا اور ازار بند تھامے تھامے واش روم کا دروازہ کھولا تھا۔ بس اس کے بعد جیسے سوئچ آف ہو گیا تھا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا میں نہیں جانتا تھا۔

جب میں زندہ تھا ہی نہیں تو میں کیسے جان سکتا تھا۔ حتی کہ مجھے دور سے کوئی آواز سنائی دی۔ یوں جیسے کہیں اور مکھیاں بھنبھناتے ہوئے ایک دائرے میں گھوم رہی تھیں۔ یہ دائرے میں گھومتی مدہم آواز رفتہ رفتہ قریب آتی گئی۔ اب میں اس آواز کو پہچان سکتا تھا۔ وہ میرا نام لے کر مسلسل پکار رہی تھی۔ اس کی آواز میں بیٹی اور بہو کی رندھائی ہوئی ”باباجان، باباجان“ کی آوازیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔ میں نے آنکھیں کھول دیں تو جیسے وہ میری چھاتی پر ڈھے گئی تھی۔

تاہم اس نے اپنی ہمت ڈھینے نہیں دی تھی۔
اس کے ماتھے پر رگ پھڑپھڑا رہی تھی اور وہ میرے مہمان کو بتا رہی تھی۔
”میں ہمت چھوڑ دیتی تو یہ میرے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔“

اس نے بتایا تھا کہ وہ مجھے بیڈ روم اچھا بھلا اپنے بیڈ پر ٹانگیں پسارے لیپ ٹاپ پر کام کرتے چھوڑ کر گئی تھی۔ بیٹی کے لیے ناشتہ بنانے کچن میں کہ اسے یونیورسٹی جانا تھا۔ اسی بیٹی کی بیڈ روم سے چیخ چیخ کر ”بابا، بابا“ کہنے کی آواز آئی تو بھاگتے ہوئے وہاں پہنچی تھی۔ یہ وہاں بے سدھ پڑا تھا۔

”ہاں بھائی صاحب! بے سدھ۔ بالکل بے جان۔ آنکھیں چھت پر لگی ہوئیں، منھ چوپٹ اور زبان دوہری ہو کر تالو کو چھو رہی تھی۔ نچلا دھڑ فرش پر اور اوپر والا بیڈ پر سے ڈھلکتا ہوا۔ میں نے، بہو نے اور بیٹی نے بہ مشکل انہیں کھینچ کھانچ کر بستر پر کیا تھا تو بھی ان کی آنکھیں اسی طرح کھلی ہوئی تھیں مگر جیسے یہ کچھ بھی دیکھ نہیں رہے تھے۔ میں، بیٹی، بہو مسلسل انہیں پکار رہے تھے۔“

اس نے سامنے دیوار پر لگی پینٹنگ پر نظر جما رکھی تھی مگر لگتا تھا وہ جیسے کہیں اور دیکھ رہی تھی۔ کہنے لگی:

”نہ جانے مجھے یہ کیسے خیال آیا تھا کہ اگر میں نے اب کچھ نہ کیا تو یہ ہمیشہ کے لیے چلے جائیں گے۔ بھائی صاحب! کوئی اپنے پیارے کو یوں اچانک مرنے دے سکتا ہے۔ میں نے ان کی چھاتی کو زور زور سے دبانا شروع کر دیا۔ میں نے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں بائیں ہاتھ کی انگلیاں دھنسا لی تھیں اور ان کی چھاتی کو ہر بار جتنی زور سے دبا سکتی تھی، ایک جنون میں دباتی رہی۔ ان کی سانسیں جیسے ان کی چھاتی میں کہیں دب کر رہ گئی تھیں۔

میں ان کے پاؤں کی طرف آئی۔ دونوں ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور انہیں جتنا اوپر اٹھا سکتی تھی اٹھایا۔ یہ حیلہ کارگر نہ ہوا تو پھر بھاگ کر سر کی جانب پہنچی اور مٹھیاں ان کی چھاتی پر دبا کر پاگلوں کی طرح اتنی بار دبایا کہ مجھے خدشہ ہو چلا تھا کہ ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی ہوں گی۔ میں نے ہمت نہیں ہاری۔ انہیں پکارے جاتی اور پسلیاں دبائے جاتی۔ یہاں تک کہ میرے خدا نے میری سن لی اور انہوں نے جیسے سانس لینے کے لیے ازخود پسلیاں پھیلائی تھیں۔ میں رک گئی اور ان کے چہرے پر نظر کی۔ ان کے ہونٹ بھی لرزے تھے۔ پھر میں نے دیکھا ان کا کھلا ہوا منھ بند ہوا، ناک کے نتھنوں میں حرکت ہوئی اور انہوں نے آنکھیں کھول دی تھیں۔“

۔
مر جانا اور کیا ہوتا ہے؟
اب اگر میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے جیسے ایک تاریک کھائی میں گر جانا۔

تہہ در تہہ بچھی ہوئی دبیز تاریکی کی قبر میں۔ جہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ سوائے اس تاریکی کی دلدل کے جو آپ کو ، آپ کے وجود کو یوں نگل لیتی ہے جیسے آپ تھے ہی نہیں۔

رات کے پچھلے پہر میری آنکھ کھل جاتی ہے تو میں کھڑکی سے چھن چھن کر اندر آتی روشنی میں اسے جائے نماز بچھائے سجدے میں گرے پاتا ہوں۔ میں منتظر ہوں کہ وہ سجدے سے سر اٹھائے مگر یہ انتظار طول کھینچتا جاتا ہے۔ وہ سر اٹھاتی ہے، کچھ دیر کے بعد سلام پھرتی ہے۔ میں آنکھیں میچ کر سویا پڑے رہنے کا مکر مارے رکھتا ہوں۔ اب اس نے دعا کے ہاتھوں میں چہرہ چھپایا ہوا ہے اور گسک گسک کر روتے ہوئے اپنے خدا کا شکر ادا کر رہی ہے اور کہہ رہی ہے : ”ہم بے شک وہی ہیں جو ایک ساتھ تیری جنت سے نکالے گئے تھے۔ میریا سوہنے ربا! ایک بار پھر کرم کرنا ہمیں اپنے پاس بلانا ہو تو اکٹھے بلا لینا۔“ میں دوسری طرف پہلو بدل لیتا ہوں اور چپکے سے ”آمین“ کہتا ہوں تو میری آنکھیں بھی آنسوؤں سے بھر جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4