سجدہ – افسانہ


ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ ہم دونوں نے خوف اور حیرت کے ملے جلے جذبات سے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر چھوٹے بھائی کو جو گھبرا کر اپنی کرسی سے اچھل کر اٹھا تھا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا ”آپ؟“ گویا وہ اس لڑکی کو جانتا تھا۔ لڑکی نے کوئی جواب دیے بغیر اپنے قدم ہماری سمت بڑھائے۔ چھوٹا بھائی پیچھے ہٹتا ہوا دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور ہکا بکا اس کے ننگے پاؤں دیکھنے لگا تھا۔

لڑکی اب اس کرسی پر بیٹھ چکی تھی جس پر کچھ دیر پہلے چھوٹا بھائی بیٹھا ہوا تھا۔

وہ لڑکی کسی طور گھر واپس جانے کو تیار نہ تھی تاہم مانتی تھی کہ میرے بھائی نے اس سے کبھی اظہار محبت کیا تھا نہ کوئی وعدہ، وہ تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہاں آ گئی تھی۔ تب میری زندگی کی ساتھی نے ایک ماں کا روپ دکھایا، اس لڑکی کو اپنی چھاتی سے لگایا اور اپنی بچیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھی ان بیٹیوں جیسی تھی۔ پھر اسے بہلا پھسلا کر منا لیا کہ ہم اسے گھر چھوڑ آئیں گے۔ اس نے اسے اپنے نئے جوتے لاکر دیے جھک کر اس کے پاؤں میں پہنائے اس کے گالوں پر بوسے دیے اور گھر سے یوں لے کر چلی جیسے وہ کوئی اور نہیں ہماری اپنی بیٹی تھی جسے رخصت کیا جانا مقصود تھا۔ ہر دو گیر پہنچ کر اس کی ماں کے غصہ ٹھنڈا کرنا اور انہیں ایسی راہ سجھانا کہ خاندان کی عزت بھی بچ جائے اور بچی کی زندگی سنور جائے، اگر چہ بہت مشکل کام تھا مگر اس نے کیا۔

لگ بھگ سات سال بعد جیسے یہی واقعہ ایک بار پھر دہرایا جا رہا تھا۔

ایک اور لڑکی اپنے دل کے کہے میں آ کر اپنے سب پیاروں کو چھوڑ کر ہمارے ہاں آ گئی تھی۔ اس بار لڑکی کا اپنے گھر سے نکل بھاگنے اور ہمارے ہاں آنے کا سبب چھوٹا بھائی نہیں، میں خود تھا۔ میں جو اس کا دوست تھا، اس کی شاعری کا قدر دان۔ ہم تقاریب میں اکثر ملا کرتے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ میں شادی شدہ ہوں اور اپنے بچوں میں خوش مگر ایک روز وہ ہمارے ہاں آ گئی تھی اور میری بچیوں کو اپنی گود میں سمیٹ کر کہنے لگی تھی: ”مجھے لگتا ہے پہلے جنم میں یہ بچیاں میری بچیاں تھیں۔“

ان دنوں میرا وہی چھوٹا بھائی ہمارے ہاں مہمان تھا۔ تب تک اس کی شادی ہو چکی تھی، اس کی دلہن بھی ساتھ تھی اور ہم ہر دو گیر والی لڑکی کا قصہ چھیڑ کر اس کی دلہن کے سامنے اسے ستا رہے تھے کہ کسی نے باہر کال بیل کے بٹن پر اپنی انگلی رکھ دی تھی۔ میں خود باہر نکلا، دیکھا تو وہی میری دوست باہر کھڑی تھی۔ میں اسے اندر لے آیا۔ وہ بھی میری دوست سے کئی بار پہلے مل چکی تھی لہٰذا تب تک یہ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ وقت گزرتا رہا ہم نے دن کا کھانا ساتھ کھایا، اس سے شعر سنے ادھر ادھر کی باتیں کیں مگر وہ یوں وہاں تھی جیسے اسے واپس نہیں جانا تھا۔ حتیٰ کہ شام کی چائے کا وہی وقت ہو گیا جس وقت کئی سال پہلے ہر دو گیر کی لڑکی ہمارے گھر میں گھسی تھی۔ چائے پر سب کے سامنے اس نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہمارے گھر آئی تھی۔

اس نے یہ سب کچھ بہت حوصلے سے سنا تھا اور اٹھ کر بیڈ روم میں چلی گئی۔ میں اپنی جگہ شرمسار تھا اور اپنے آپ کو اس کا مجرم سمجھنے لگا تھا۔ میں جانتا تھا کہ عورت کتنے ہی بڑے ظرف والی ہو اپنی محبت میں شراکت برداشت نہیں کر پاتی۔ ایک طرف مجھے اس کی فکر تھی تو دوسری طرف اس لڑکی کی، جو میری محبت کو نہ جانے کب سے اپنے دل میں پالے ہوئے تھی۔ کوئی آپ سے محبت کرے تو آپ اس سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ مجھے بہت سے دوستوں کی محبتیں حاصل رہی ہیں۔

میں ان سب کی محبتوں کا قدردان ہوں اور اس لڑکی کی محبت کا بھی تاہم مجھے اپنی زندگی کی ساتھی کی محبت جس انتہا پر ملی ہے میں نہیں چاہتا تھا کہ اس باب میں ذرا سا بھی رنج اسے پہنچے۔ مگر میرے چاہنے سے کیا ہو سکتا تھا جب وہ ہمارے گھر میں تھی جو محبت کے دعوے کے ساتھ آئی تھی اور کسی طور اپنے گھر واپس جانے کو تیار نہ تھی۔ میں اس کے پیچھے بیڈ روم میں نہیں گیا تھا۔ مجھ میں حوصلہ نہیں تھا کہ اس کے سوالوں کا جواب دیتا اور اسے اپنی اس محبت کا یقین دلاتا جس پر اب تک اسے یقین تھا اور شاید اب نہیں رہا ہو گا۔

میں، چھوٹا بھائی، بھابی اور وہ لڑکی چائے کی میز کے ارد گرد بیٹھے رہے۔ ہماری بیٹیاں اس سے بہت مانوس تھیں۔ وہ ان سے کھیلتے ہوئے بے اختیار بوسے دینے لگتی۔ کچھ دیر بعد میری بیگم خود ہی بیڈ روم سے باہر آئی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں مگر وہ، ہمیں دیکھ کر مسکرائی۔ پھر روئے سخن میری طرف کیا اور کہنے لگی: ”شام کا کھانا کہیں باہر چل کر نہ کھائیں ہمارے ہاں اتنے پیارے مہمان ہیں۔“

میں نے بوکھلا کر اس کی طرف دیکھا۔ چھوٹے بھائی نے قہقہہ لگایا، کہا: ”بھئی ہم تو وہی کھائیں گے جو دال ساگ گھر میں پکے گا۔ بھائی جان اپنے مہمان کے لیے خاص اہتمام کرنا چاہیں تو یہ۔“

وہ بھی مسکرا دی، میری دوست لڑکی سے مخاطب ہوتے ہو کہا : ”آپ کو کھانے میں کیا اچھا لگتا ہے۔“
”مچھلی“ ، اس نے کسی تکلف کے بغیر کہہ دیا تھا۔

”مچھلی“ ، اس بار یہ میری بیگم نے دہرایا تھا اور پھر مجھے مخاطب کر کے کہا تھا: ”وہ تو آپ ہی کو لانا پڑے گی۔“

لڑکی نے مچل کر کہا: ”مجھے معلوم ہے اچھی مچھلی کہاں سے ملتی ہے۔ رہو، گلفام، مہاشیر، سائمن، سلور نہیں۔ بلکہ چڑا مچھلی۔ بچیاں بھی مزے سے کھائیں گی۔ کوئی چھوٹا کانٹا نہیں ہوتا چڑا مچھلی میں۔“

وہ یہ کہہ کر پھر سے بچیوں کے ساتھ مصروف ہو گئی تھی۔ بیگم نے مجھے اشارہ کیا اور اٹھ کر بیڈ روم کی طرف بڑھ گئی۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیا اور جب ہم واپس آئے تو میں بچیوں سے کہہ رہا تھا: ”چلیں مچھلی لے آتے ہیں۔“

”مجھے معلوم ہے کہاں اچھی مچھلی ملتی ہے۔“ اس نے بچیوں کو میری طرف لپکتے دیکھا تو ساتھ چلنے کو تیار ہو گئی۔ جس دکان سے اس نے کہا، وہاں سے میں نے مچھلی خریدی اور اس کے گھر کی جانب گاڑی موڑ دی۔ اس کا گھر آیا تو مچھلی والا شاپر بڑی بیٹی کو تھماتے ہوئے میں نے کہا: ”جاؤ، اندر چھوڑ آؤ یہ۔“

بیٹی نے مچھلی والا شاپر تھاما، گاڑی کا دروازہ کھولا اور جھٹ اتر کر اس کے گھر میں گھس گئی تھی۔ لڑکی نے میری طرف دیکھا اور چپ چاپ گاڑی سے اتر گئی تھی۔

جب ہم گھر واپس آئے تو چھوٹا بھائی جیسے بدلہ لینے کو تیار بیٹھا تھا۔ اس نے کوئی تیکھا جملہ میری اسی مہمان کے حوالے سے کہا تھا جسے ہم اس کے گھر چھوڑ آئے تھے تو میری بیگم نے موضوع بدل دیا۔ اگلے روز بھائی اور بھابی چلے گئے۔ میں اپنی جگہ سہما ہوا تھا کہ وہ اس موضوع پر ضرور بات کرے گی۔ وہ چاہتی تو ایسا کر بھی سکتی تھی مگر اس نے اس جانب اشارہ تک نہ کیا اور دن گزرتے چلے گئے۔ آخر مجھ سے رہا نہ گیا، ایک روز کہہ دیا: ”اس لڑکی کے بارے میں تمہیں کچھ پوچھنا ہے؟“

”مجھے معلوم ہے وہ آپ کی دوست ہے۔“
”مگر وہ یہاں آ گئی تھی۔ ہمارے گھر۔ نہ جانے کے لیے۔“
”محبت کرنے والوں سے ایسی نادانی ہو جاتی ہے۔“
”مگر اس میں میرا۔“
اس نے میرا جملہ درمیان ہی میں کاٹ دیا۔
”مجھے آپ پر اعتماد ہے اور مجھے یقین ہے اس میں آپ کا قصور نہیں۔“
میں ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے چھوٹی بیٹی کے گال پر بوسہ دیا اور کہا:
”وہ سب جو آپ سے محبت کرتے ہیں، ہاں وہ سب، میرے لیے محترم ہیں۔“
۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4