”صد رنگ“ میں ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو (2)

ڈاکٹر خالد سہیل: وجاہت صاحب میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ اگرچہ ‘گرین زون فلاسفی’ کی کئی تہیں ہیں۔ اس کی کچھ اپنی گہرائیاں ہیں۔ اس کی اپنی پیچیدگیاں ہیں لیکن ہم نے اس کو اتنا عام فہم زبان میں کتابوں میں لکھا ہے اور لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ اب سکولوں میں بچے بھی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں آپ کو ایک دلچسپ واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ ٹورانٹو میں ہمارے ایک دوست شاعر ہیں۔ جن کا نام رشید ندیم ہے۔ میں پہلے ان کا ایک شعر آپ کو سنانا چاہوں گا جو آپ کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ
یہ شہر اگر ظرف کشادہ نہیں رکھتا۔
میں بھی یہاں رہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

وجاہت مسعود: ہمارے ایک شاعر دوست ہیں جو کہ نفیس اور خوبصورت بھی ہیں اور شرمیلے بھی۔ ان کا نام ہے شعیب بن عزیز۔ ان کا ایک شعر آپ سے عرض کروں
خوب ہوگی یہ سرا دہر کی لیکن اس کا
ہم سے کیا پوچھتے ہو’ ہم نے ٹھہرنا کب ہے
ڈاکٹر خالد سہیل: عمدہ شعر ہے۔ رشید ندیم نے جب میری پہلی کتاب جو کہ دو ہزار تین میں شائع ہوئی اپنے بچوں کو دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں سہیل انکل کی فلاسفی ہے جو میں آپ کو سمجھاؤں گا۔ اس وقت ان کی بچی افروز کی عمر پانچ سال تھی جبکہ بیٹا امروز سات سال کا تھا۔ اس تعارف کے دو ہفتے کے بعد ایک دن ان کی بیٹی افروز اپنے کمرے میں رو رہی تھی تو رشید ندیم نے کہا کہ بیٹا آپ کیوں رو رہی ہیں؟ تو وہ کہتی ہے
PAPA I AM IN MY RED ZONE. I CANNOT TALK.
تو وہ واپس آ گئے۔ قریباً پانچ منٹ بعد وہ بچی واپس آئی اور کہا:
PAPA I AM IN MY YELLOW ZONE. NOW I CAN TALK.
اس نے اپنے پاپا سے کہا کہ: بڑے بھائی امروز نے اس کی گڑیا کو اتنی زور سے پھینکا ہے کہ گڑیا کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے اس لیے میں ‘ریڈ زون’ میں ہوں۔
رشید ندیم نے پوچھا: بیٹا میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو وہ کہتی ہے:
Papa if you promise me to buy a new doll then I’ll go to my green zone.
رشید ندیم مجھے یہ واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں: اگرچہ بچی نے ایک نئی گڑیا خریدنے کے لیے آپ کی فلاسفی کا استعمال کیا لیکن اس سے یہ واضح ہوگیا کہ اس کو آپ کی فلاسفی کی سمجھ آ گئی تھی۔
گرین زون فلسفے کی ایک اور مثال لیجئے۔ کینیڈا میں ہمارے ایک دوست ہیں، روفی صاحب۔ روفی صاحب ایک موسیقار ہیں اور بہت عمدہ طبلہ بجاتے ہیں لیکن وہ ایک آرگنائزیشن کے ڈائرکٹر بھی ہیں جس میں ان کے ساٹھ ملازم ہیں۔ میری کتاب پڑھنے کے بعد وہ ایک مقامی اسٹور گئے اور چھوٹے چھوٹے ساٹھ گرین جھنڈے، ساٹھ ییلو اور ساٹھ ریڈ جھنڈے خرید لائے اور دروازے کے پاس میز پر رکھ دیے۔
اب جب کوئی بھی ان کا ورکر آفس میں آتا ہے تو میز پر وہ تینوں فلیگز پڑے ہوتے ہیں۔ وہ جس زون میں ہوتا ہے وہ فلیگ اٹھا کے وہ اپنی میز پہ رکھ دیتا ہے۔
دیکھیں وجاہت صاحب ہمارا ماننا ہے کہ اگر آپ خود گرین زون میں ہیں تو لازمی نہیں کہ دوسرا شخص بھی گرین زون میں ہو۔لہذا یہ جاننا کہ جو آپ کا مخاطب ہے، کیا وہ بھی گرین زون میں ہے۔ بہت ضروری ہے۔
اگر کسی شخص کے میز پر ریڈ زون کا فلیگ ہو تو وہ لوگ واپس چلے جاتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں جب تک کہ وہ گرین زون میں واپس نہ آجائے۔ ہم نے لوگوں کو یہ بتایا کہ ‘بامقصد گفتگو اور با معنی تبادلہ خیال کے لیے دونوں انسانوں کا گرین زون میں ہونا بیحد ضروری ہے’۔
آہستہ آہستہ وجاہت صاحب یہ جو گرین زون فلاسفی ہے اب مختلف اسکولز میں، مختلف کالجز میں، مختلف اداروں میں پڑھائی جارہی ہے۔ پروفیشنلز نے اس کو اڈاپٹ کرنا شروع کیا ہے۔ آپ نے کمبینیشن تھیریپی کے بارے میں بھی پوچھا تھا۔ سو عرض ہے کہ ہمارے کلینک میں، جس کا نام ہم نے creative psychotherapy clinic رکھا ہے۔ اس میں ہم انفرادی تھراپی بھی کرتے ہیں، ریلیشن شپ تھراپی بھی، میریٹل تھراپی بھی اور گروپ تھیراپی بھی کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جو مریض کی ضرورت ہے وہ وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے لہذا ہم مریض کی جو ضرورت ہے اس کے مطابق اپنی تھیراپی کا استعمال کرتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوںکہ یہ جو فلاسفی میں نے لکھی ہے اور جو کہ عام فہم زبان میں ہے اب لوگ اس کو قبول کر رہے ہیں اور وہ دوسروں تک پہنچا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی ماہرین نفسیات موجود ہیں جنہوں نے اپنی پریکٹس میں اس کا استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔اب میں اور میری دوست ثمر اشتیاق مل کر گرین زون فلسفے پر ایک اردو کی کتاب بھی تیار کر رہے ہیں۔
وجاہت مسعود: ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پہ دیکھا جائے تو یہ جو انسانی معاشرے میں مکالمہ ہے۔ کس کو کیا خبر ہوتی ہے کہ کسی کے اندر کیا ماتم چل رہا ہے۔ وہ کن خیالات میں سے گزر رہا ہے؟ میں تو کئی دفعہ کسی کو فون کرتے ہوئے بھی پہلے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ کسی stress میں تو نہیں ہیں؟ سو تو نہیں رہے؟ میٹنگ میں تو نہیں ہیں؟ یہ چیزیں ہمیں بظاہر سادہ معلوم ہوتی ہیں لیکن یہ بہت اہم ہیں۔ قوموں کے بیچ بھی یہ معلوم کرنا کہ کب کوئی ریڈ زون میں ہے۔ کب کوئی ییلو زون پہ ہے یہ جان کر ہی کچھ ڈائیلاگ ممکن ہے اور جب کوئی فرد یا قوم گرین زون میں ہو وہ تو کوالٹی زون ہے۔

آسٹرین ماہر نفسیات وکٹر فرینکل جو کہ ہولوکاسٹ survivor تھے اور معجزاتی طور پہ بچ نکلے تھے۔ انہوں نے جب جنگ ختم ہوئی تو بہت ہی شاندار contribution دیا نفسیات کو۔ اور ان کا خاص موضوع یہ تھا کہ کوئی انسان اپنی زندگی میں معنی کیسے پیدا کرے۔ ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ جن ماہرین نفسیات سے متاثر ہیں ان میں وکٹر فرینکل کا مقام بہت بلند ہے۔ کچھ فرمائیے ان کے بارے میں۔ ان کی کتاب Mans search for meaning کے بارے میں۔ کیسے آپ نے وکٹر فرینکل کے کام کو اپنے تصور حیات میں اور اپنے کام میں جذب کیا ہے یا اس میں شامل کیا ہے؟۔
ڈاکٹر خالد سہیل: دیکھیں وجاہت صاحب بات یہ ہے کہ انسان اپنی انفرادی اور سماجی زندگی میں بہت دکھ برداشت کرتا ہے۔ دکھی رہتا ہے ۔پریشان رہتا ہے۔ مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کی ‘چاہے وہ فرائڈ ہوں ینگ ہوں یا ایڈلر سب کی کوشش رہی ہے کہ وہ کیسے انسانی دکھوں کو کم کریں اور سکھوں کو بڑھاوا دیں۔ اس سلسلے میں وکٹر فرینکل کی بھی قابل قدر خدمات ہیں۔ فرینکل کا یہ مشاہدہ تھا کہ اگر سو مریض ماہر نفسیات کے پاس جاتے ہیں تو ان میں سے اسی تو اینزائٹی یا ڈیپریشن یا کسی اور نفسیاتی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں لیکن بیس ایسے مریض ہوتےہیں جو زندگی کی بے معنویت سے الجھ رہے ہوتے ہیں۔ان کی زندگی بے کیف اور بے رنگ ہوتی ہے۔
ہم اگر اس کیفیت کو وجودیت کے الفاظ میں کہیں تو وہ ایک existential neurosis، desperation "ایگزسٹینشل نیوروسز” ایک ‘وجودی ناامیدی’ کا شکار ہوتے ہیں۔ میں آپ کو اپنے ایک مریض کے بارے میں بتائوں۔ ان کی عمر پچتر سال ہے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس گھر ہے کار ہے۔ کوئی معاشی مسائل نہیں ہیں لیکن وہ پھر بھی ایک بے معنی اور بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں۔
جو لوگ زندگی میں بے مقصدیت یا بے معنویت کا شکار ہو جاتے ہیں وکٹر فرینکل نے ایسے لوگوں کی کیفیات پر اپنی توجہ مرکوز کی اور پھر اس کو سمجھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کے جو بھی جذباتی، سماجی تناؤ ہیں اگر کوئی انسان ان میں کوئی مقصد تلاش کر لے تو وہ بیماری بدل سکتا ہے اور اس کے بعد اس کی جو شدت ہے۔ جو اس کی تکلیف ہے وہ کم ہوسکتی ہے۔ یہ مقصد بیماری کی شدت میں کمی لے آتا ہے۔ اس کی مثال میرے جو ذہن میں آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ، کینیڈا میں وہ خواتین جن کے بچے کسی نشہ میں مبتلا ڈرائیور کی زد میں آگئے۔ انہوں نے اب ایک گروپ بنایا ہے
MADD…..Mothers against drunk drivers
تو یہ اس کی ایک مثال ہے کہ انہوں نے بجائے اس دکھ کو ‘جو اپنے جوان بچوں کی موت کا نتیجہ تھا’ انہوں نے اس دکھ کو ٹرانسفارم کیا۔ انہوں نے اس سے کوئی ایسی تحریک یا کوئی ایسا مقصد یا کوئی ایسی چیز چلائی جس سے ان کو اب لگتا ہے کہ وہ وہ سوسائٹی کو کنٹریبیوٹ کر رہی ہیں۔ وہ اپنی ذہنی کیفیت کو بہتر بنا رہی ہیں۔
وجاہت مسعود: نسلوں کے ایک ممکنہ دکھ کو کم کر رہی ہیں۔
ڈاکٹر خالد سہیل: ہم اسے روایتی زبان میں صدقہ جاریہ کہتے ہیں کہ آپ کوئی ایسا کام کریں جو شخصیت کو سنوارے اور دوسروں کو اس سے فائدہ بھی ہو۔ وکٹر فرینکل نے اپنی اس تھیراپی کو ‘لوگو تھیراپی’ کا نام دیا۔ جس کا مقصد زندگی میں معنی تلاش کرنا اور اپنی کسی بھی پریشانی، کسی بھی دکھ کو ٹرانسفارم کرنا ہے۔ میں نے وکٹر فرینکل کے کام کو کچھ اس طرح گرین زون تھیراپی میں استعمال کیا ہے کہ پرسکون زندگی تخلیق کرنے کے تین راستے ہیں
THREE ROADS TO GREEN ZONE LIFESTYLE
CREATING
SHARING
SERVING
میں سمجھتا ہوں کہ ہر بچے کو فطرت ایک خاص صلاحیت ودیعت کرتی ہے۔ ہر انسان کے پاس ایک گفٹ ہے۔ کچھ لوگ ان صلاحیتوں کو فنون لطیفہ میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض خواتین جو ہیں وہ بہت اچھے کھانے بناتی ہیں۔ بعض کوئی انٹیریر ڈیکوریشن کا بعض کو سلائی کا شوق ہے۔ بہت سی ایسی چیزیں جن کے اندر ان کی ایک دلچسپی ہے۔ تو ہم اپنے مریضوں سے کہتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی میں ہر روز ایک گھنٹہ GREEN ZONE HOUR ‘گرین زون آور’ نکالیں۔جس میں آپ وہ کام کریں جس کے لیے آپ ایکسائٹڈ ہوں۔ جس سے آپ انسپائرڈ ہوں۔ جس سے آپ کو خوشی ملے۔
یہ جو گرین زون گھنٹہ ہے لوگ جب شروع کرتے ہیں تو وہ عادت بنتا ہے۔ عادت سے پھر وہ پیشن بنتا ہے اور پھر پیشن سے وہ خواب بنتا ہے ۔ لوگ اس مشغلے کو ذوق و شوق سے کرتے ہیں اور پھر ہم ان کو کہتے ہیں کہ آپ جو بھی تخلیق کررہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ آپ اس مشغلے کو کچھ لوگوں کے ساتھ ‘شیئر’ کریں۔ کریئٹنگ پھر شیئرنگ۔ شیئرنگ سے ایک فیملی آف دی ہارٹ بنتی ہے اور پھر تیسرا serving کہ کس طرح آپ اپنی community کو تحفے واپس لوٹا سکتے ہیں۔ اپنی سوسائٹی کی بہتری کے لئے کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ یہ جو تین سٹیجز ہیں کریئٹنگ شیئرنگ اور سرونگ۔ یہ ان ڈائریکٹلی لوگوں کی زندگی کو بامعنی بناتی ہیں۔ اس لیے جو میری گرین زون فلاسفی ہے اس میں میں نے تقریبا دس ماہرین کے خیالات اور نظریات ضم کیے ہیں۔ یہ جو تین مرحلے ہیں۔
Creating، sharing and serving
بلا واسطہ لوگوں کی زندگی کو بامعنی بناتے ہیں۔ یہ دراصل انسپریشن ہے وکٹر فرینکل کی۔ ان کی میننگ فل تھراپی کی۔ لوگو تھیریپی کی۔
ہمارا کام زندگی کو بامقصد اور بامعنی بنانا ہے۔ جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب آپ کے نزدیک خوشی کے دو راز کیا ہیں؟ اگر تمام چیزوں کو مختصر بیان کیا جائے تو میں کہتا ہوں کہ خوشی کے دو راز ہیں اور وہ یہ ہیں جو میں سمجھتا ہوں:
ایک ہے جذبہ (Passion) اور ایک ہے ہمدردی (Compassion)۔
اگر آپ کی زندگی میں ایک passion ہے جیسے میرے لیے لکھنا اور پڑھنا ایک compassion آپ کی انسانوں سے ایک ہمدردی ہے تو جو میری professional life ہے وہ میرا کمپیشن ہے اور جو creative life ہے وہ میرا پیشن ہے اور یہی میں لوگوں کو، اپنے دوستوں کو، عزیزوں کو، مریضوں کو کہتا ہوں کہ زندگی میں کوئی پیشن ہونا چاہیے اور انسانی ہمدردی بھی ہونی چاہیے۔ وجاہت صاحب آپ تو جانتے ہیں کہ میں ایک انسان دوست شخص ہوں۔ انسانیت کے لیے جو آپ کی ہمدردی ہے وہ آپ کا کمپیشن ہے دنیا کو بہتر بنانے میں۔ تو میرے نزدیک یہ دو چیزیں انسانی خوشی کا اصل راز ہیں۔
وجاہت مسعود: ڈاکٹر صاحب میرے ذہن میں میری کم عمری سے دو سوالات کھٹکتے رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ موقع پاؤں کہ آپ کا تعلق بیک وقت نفسیات سے بھی ہے اور ادب سے بھی ہے. یہ جو ولیم رائخ MASS PSYCHOLOGY OF FASCISM جیسی کتاب لکھتا ہے اور ازرا پاؤنڈ بیسویں صدی کے چند بڑے شاعروں میں سے ایک ہیں۔ ان کے ساتھ جو ریاستی سطح پہ سلوک کیا گیا میری سمجھ سے کچھ بالا ہے۔ یہ اگر صرف فاشزم کی حمایت کرنے کا معاملہ ہوتا ہے تو سمجھ میں آتا لیکن رائخ اور ایزرا پاؤنڈ والا معاملہ میری سمجھ سے بالا ہے۔ براہ مہربانی کچھ رہنمائی فرمائیے۔

ڈاکٹر خالد سہیل: میرا زیادہ فوکس ایک طویل عرصے تک ایذرا پاؤنڈ کی زندگی کو سمجھنے اور اس کی جو گتھیاں ہیں ان کو سلجھانے میں رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں ابھی ہم انٹرویو سے پہلے بات کر رہے تھے کہ جب میں نے اور امیر حسین جعفری نے اختر حسین جعفری کے بارے میں کتاب لکھی اس میں ہم نے رقم کیا کہ اختر حسین جعفری صاحب جو تھے وہ بھی ایزرا پاونڈ سے متاثر تھے۔ ایذرا پاونڈ چونکہ ایک زمانے میں جس جدیدیت کے گروپ کے ممبر تھے اس میں ٹی ایس ایلیٹ بھی تھے۔ ارنسٹ ہیمنگوئے بھی تھے ۔ ان کی ٹیگور کے ساتھ بھی ایک دوستی تھی. یہ وہ لوگ تھے جن کو آپ جدیدیت کے علمبردار کہتے ہیں۔ جو رہنمائی کرتے ہیں۔ ایک طرف تو ایذرا پاؤنڈ کی ایک تخلیقی شخصیت تھی جس کے بنیاد پر انہوں نے کئی جدید کانسپٹس ڈیولپ کیے جن میں امیجزم، واٹرسیزم شامل ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جدید شاعری کی بنیادیں بھی انہوں نے رکھی ہیں۔
لیکن ایذرا پائونڈ کی شخصیت کا ایک سیاسی پہلو بھی تھا۔ ایذرا پاؤنڈ امریکہ سے اٹلی چلے گئے تھے۔ وہاں وہ مسولینی سے بھی ملے تھے۔وہ ہٹلر سے متاثر تھے۔ وہ وہاں پر ایک پروگرام کرتے تھے۔ ریڈیو پروگرام۔ وہ جو ریڈیو پروگرام تھا وہ ان کی حکومتوں ان کی سوچ کی معاونت میں تھا۔ وہ ایک آدھ گھنٹے کا چھوٹا سا ویکلی پروگرام کرتے تھے لیکن جب جنگ ختم ہوئی اور حالات بدلے تو امریکہ نے ایذرا پائونڈ سے کہا کہ آپ نے تو غداری کی ہے۔ دلچسپ بات وجاہت صاحب یہ تھی ان پہ مقدمے چلنے شروع ہوئے۔ جب مقدمے چلنے شروع ہوئے اس وقت تک وہ اس حد تک پاپولر ہو چکے تھے کہ بہت سے ماہرین نفسیات بھی ان سے انسپائرڈ تھے۔ ماہرین نفسیات نے کہا کہ یہ تو بہت زیادتی ہوگی کہ ایک شخص جو اتنا بڑا ادیب ہے۔ اتنا بڑا دانشور ہے۔ اس کو سولی پہ چڑھا دیا جائے۔ اس کو مار ڈالیں۔ چار پانچ سائکائٹرسٹ تھے وہ ملے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ایذرا پائونڈ کو موت سے بچانا ہے۔ انہوں نے جج سے درخواست کہ ایذرا پائونڈ کا نفسیاتی تجزیہ ہونا چاہیے۔ جب وہ نفسیاتی تجزیہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ یہ نفسیاتی طور پہ نارمل نہیں ہیں اور ان کو بجائے جیل میں ڈالنے کے اور ان کو قتل کرنے کے یا سولی پہ چڑھانے کے ان کو ایک سائیکاٹرک ہاسپٹل میں داخل کیا جائے۔
اس میں ایک دلچسپی کی بات جو میرے لیے تھی کہ جب مقدمہ چلا تو ایذرا پاؤنڈ کے خلاف ایک ہی شہادت تھی وہ جو ریڈیو اسٹیشن کا سیکیورٹی گارڈ تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ شخص اٹالین تھا تو جب یہ ایذرا پائونڈ گفتگو کرتے تھے تو یہ انگریزی میں بات کرتے تھے جب کہ اس سیکیورٹی گارڈ کو انگریزی سمجھ نہیں آتی تھی۔ چنانچہ ایذرا پائونڈ کے خلاف جو شہادت تھی وہ قانونی حوالے سے ناکافی تھی۔ اس قانونی کمزوری نے ایذرا پائونڈ کو بچا لیا۔

چنانچہ ایذرا پائونڈ کئی برس امریکہ کے نفسیاتی ہسپتال میں رہے ۔ وہ شام کو ایک درخت کے نیچے بیٹھتے تھے اور ان کے شاگرد اور مداح ایک دیوانے شاعر کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ کئی برس بعد ان کو رہا کر دیا گیا۔ ایذرا پاؤنڈ زندگی کے آخری دور میں پھر اٹلی آئے تھے لیکن میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ اپنے آخری دور میں ان کو کچھ احساس ندامت تھا۔ احساس خجالت تھا کہ میں نے اپنی نوجوانی میں زندگی کے جو فیصلے کیے وہ ٹھیک نہیں تھے۔ وہ آخری عمر میں اپنے آپ سے زیادہ خوش نہیں تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایذرا پاؤنڈ کی جو زندگی ہے وہ پیچیدہ اور گنجلک ہے۔ اس کے بہت سے پہلو ہیں۔۔ سیاسی پہلو، نفسیاتی پہلو، ادبی پہلو، قانونی پہلو۔ ایزرا پائونڈ کی کہانی پیچیدہ لیکن دلچسپ کہانی ہے۔ ایذرا پاؤنڈ کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ ادب میں یا ادبی دنیا میں ان کا جو کنٹریبیوشن ہے یا جو چیلنج ہے۔ وہ ہماری روایتی سوچ کے مقابل میں غیرمعمولی ہے۔
وجاہت مسعود: آپ سے گفتگو کرتے ہوئے ابراہم میسلو کا نام میرے ذہن میں آرہا ہے۔ وہ ایک امریکی ماہر نفسیات ہیں۔ وکٹر فرینکل آسٹرین تھے۔ میسلو کہتے ہیں انہوں نے انسانی ضروریات کی درجہ بندی کی ہے اور کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ جو آپ کا creating sharing and serving کا فلسفہ اس درجہ بندی کے بہت قریب آ جاتا ہے تو کچھ ذرا فرمائیے کہ یہ سلسلہ کیا ہے؟ اور پہلے تو یہی کہ ابرہیم میسلو کا ذرا تھوڑا تعارف ہو جائے ہمارے دیکھنے والوں کے لیے۔

ڈاکٹر خالد سہیل: وجاہت صاحب انسانی نفسیات کو ابراہیم میسلو نے جو تحفہ دیا ہے وہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ سگمنڈ فرائیڈ اور ایڈلر اور کارل ینگ جو ہیں ان کی توجہ کا مرکز وہ لوگ تھے جو نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔ کلینکس میں ان ماہرین کے پاس مریض آتے تھے۔ اس زمانے میں ہسٹیریا کا زیادہ چرچا تھا اور لوگوں کو اینگزائٹی کا بڑا مسئلہ تھا۔ انہوں نے نفسیاتی مریضوں کو دیکھا، ان کے مسائل کو سمجھا، اس کی بنیاد پر انسانی نفسیات کی ایک تھیوری پیش کی۔ چاہے وہ تحلیل نفسی ہو یاانفرادی نفسیات ہو۔ میسلو نے ایک نیا نقطہ نظر پیش کیا ۔
میں ایک مثال سے اپنے موقف کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔
اگر کسی محقق کو انسانی جسم کی خفیہ صلاحیتوں کو سمجھنا ہے تو اسے معذور لوگوں پر جو لنگڑا کر چلتے ہیں تحقیق کرنے کی بجائے ان کھلاڑیوں پر تحقیق کرنی چاہیے جو اولمپکس میں حصہ لیتےہیں اور انعام حاصل کرتے ہیں۔
میسلو نے ان شخصیات کے انٹرویو لیے جو اپنی زندگی میں کمال کے درجے تک پہنچے۔ ادیب’ شاعر’ دانشور’ سائنسدان۔ میسلو نے ہمیں بتایا کہ عام انسان اپنی بنیادی ضروریات ۔۔۔بھوک۔۔۔پیاس۔۔۔جنسی تسکین۔۔۔میں الجھے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو شخصیت کی اعلیٰ مقام تک پہنچتے ہیں وہ بہت سی بنیادی ضروریات سے بالا تر ہو جاتے ہیں۔ میسلو نے ایسی شخصیات کو جو نام دیا ہے وہ SELF ACTUALIZED PEOPLE ہے۔ ایسے لوگ آپنی زندگی کے مقاصد اپنے خواب اور اپنے آدرش بہت عزیز رکھتے ہیں اور یہی خصوصیت انہیں عام انسانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ میسلو کا انسانی نفسیات کو دوسرا تحفہ روحانی تجربات کی تفہیم ہے۔

میسلو سے پہلے وہ روحانی تجربات جو صدیوں سے ہمیں مذہبی کتابوں میں، صوفی، سنت اور سادھوئوں کی آب بیتیوں میں ملتے تھے انہوں نے ان تجربات کو انسانی تجربات سمجھتے ہوئے ان کو نفسیاتی طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ میں سمجھتا ہوں ان کی بڑی کانٹریبیوشن ہے۔ انہوں نے ان تجربات کو PEAK EXPERIENCES کا نام دیا۔ انہوں نے کہا جب ہم مذہبی یا روحانی نام لیتے ہیں تو ایسی اصطلاحات ہمیں سائنسی اورنفسیاتی سوچ سے دور لے جاتی ہیں۔ میسلو کا کہنا تھا کہ روحانیت انسانیت کا ہی حصہ ہے اس کا کسی مافوق الفطرت ہستی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں میسلو سے متفق ہوں۔ ہمارا مشترکہ نقطہ نظر یہ ہے کہ spirituality is part of humanity not divinity
میری نگاہ میں ابراہم میسلو کے دوتصورات self actualized people اور peak experiences انسانی نفسیات کے دو قیمتی تحفے ہیں۔
وجاہت مسعود: مجھے یاد آتا ہے سر ہم سن ستر کے آخر میں گوجرانوالہ میں ایک ماہر سوشیالوجی مظہر الحق خان صاحب سے پڑھتے تھے۔ ان کی ایک کتاب تھی ‘پردہ اور تعد د ازدرواج’ بڑےمخصوص موضوع پہ تھی لیکن انہوں نے اسی طرح سیلف ایکچولائزیشن کے لیے ایک لفظ استعمال کیا تھا، تکمیلی شخصیت۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات یعنی سونا، جاگنا اور یہ صبح سے شام کرنا اس سے اوپر اٹھ جاتے ہیں۔ یہ لوگ ایک اگلے مرحلے میں پہنچ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کینیڈا میں رہتے ہوئے آپ کے شمالی امریکہ میں بھی، یورپ میں بھی آپ کے رابطے تو کم و بیش ہر جگہ پہ ہیں۔ آپ نے وہاں فیمیلی آف دی ہارٹ کی بنیاد رکھی۔ ہم آپ سے پہلے، اس تصور سے بے نیاز نہیں تھے تو ہم اس کو alternative family کہہ دیا کرتے تھے کہ بھئی یہ وہ دوست ہیں جن کے ساتھ مل کے ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ جن کے ساتھ ہم دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔ میں کئی دفعہ سوچتا ہوں کہ جو انسانوں میں دوسرے کا دکھ درد، خوشی شیئر کرنے کی صلاحیت ہے اس کا بہت تھوڑا تعلق جو ہے بائیولوجیکل رشتوں سے ہے۔ زیادہ تو جو ہے وہ تعلق کی نوعیت ہے کہ آپ فلاں شخص ہماری زندگی کا کتنا حصہ ہے۔ معذرت چاہتا ہوں اگر اس میں کچھ ادب کے منافی بھی رویہ آ جائے لیکن گزشتہ آٹھ دس برسوں میں پاکستان میں آپ کے چاہنے والے جو ہیں وہ میرے اور آپ کے اندازے سے کہیں زیادہ ہیں تو کیا یہاں پر بھی کوئی قلمی قبیلہ بنانے کا آپ کا ارادہ ہے؟ اور ہمیں یہ بھی بتائیے کہ فیملی آف ہارٹ کیا ہے؟ اور یہ کیا کرتی ہے؟
ڈاکٹر خالد سہیل: وجاہت صاحب میں جب ٹورانٹو میں 1984ء میں گیا تو مجھے محسوس ہوا وہاں جو گروپس تھے جن میں کچھ ادبی کچھ سیاسی اور کچھ مذہبی گروپ تھے۔ ان سب کی جو روایات تھیں وہ ایک مخصوص سوچ کی حامل تھیں اگرچہ اس گروپ کے لوگ پاکستان سے وہاں گئے تھے لیکن آپ حیران ہوں گے کہ بعض لوگ جو پاکستان میں روایتی نہیں بھی تھے کینیڈا جا کے اور بھی زیادہ مذہبی ہو گئے۔ اب آپ اسے ‘شناخت کا بحران’ کہیں یا اپنے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ کہیں انہوں نے روایت کو زیادہ ہی شدت سے اختیار کرنا شروع کردیا۔ میں کچھ عرصہ ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا لیکن جو میری سوچ، میری فکر تھی ان کے ساتھ میل نہیں کھاتی تھی۔ میں نے ان کے ساتھ انٹیگریٹ کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ پہ کئی طرح کے اعتراضات کیے گئے۔ کچھ نظریاتی حوالے سے کچھ سماجی حوالے سے کچھ اور حوالوں سے تب میں نے سوچا کہ مجھے اپنا ایک گروپ بنانا چاہیے۔ اس گروپ کی ابتدا ایسی ہوئی کہ ہمارے پشاور کے ایک دوست تھے جو پی ٹی وی کے ساتھ کام کرتے تھے ان کا نام تھا ڈاکٹر ڈینس آئزک۔

وجاہت مسعود: جی ہاں وہ پی ٹی وی میں تھے ان کا انتقال بھی کینیڈا ہی میں ہوا۔
ڈاکٹر خالد سہیل: وہ میڈیکل کالج میں میرے دوست تھے۔ ہماری دوستی تھی۔ جب وہ کینیڈا آنے لگے تو انہوں نے مجھے پیغام دیا کہ میں اور میری بیوی اور بچے ہم آرہے ہیں تو میں نے ان کو خوش آمدید کہا اور ان کا تعارف کروانے کے لیے آٹھ دس لوگوں کو ڈنر پہ بلایا۔ ڈنر کے دوران لوگوں کو پتہ چلا کہ وہ تو ڈینس آئزک کو پی ٹی وی کے ڈرامہ رائٹر کے طور پہ جانتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ بہت اچھے شاعر تھے. جیسے میں آپ کو ان کا بھی ایک شعر سناتا ہوں کہ
گھر سے چلے ارادہ منزل لیے ہوئے
منزل ملی تو اپنے ارادے بدل گئے۔
یہ ان کا فرسٹ ایئر کا شعر ہے۔ ہم نے ان کی شاعری سنی پھر وہ میوزک ڈائریکٹر تھے۔ بہت اچھا گاتے تھے۔ انہوں نے اپنی موسیقی کے فن کا اظہار کیا۔ وہ لوگوں کو اتنا پسند آیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ محفل دوبارہ کرنی چاہیے۔ پہلے ہم گھروں میں ملتے تھے۔ وجاہت صاحب میرے لیے حیرانی تھی کہ جو گروپ دس لوگوں سے شروع ہوا وہ جلدی دس سے پندرہ، بیس، پچیس، تیس میں بدل گیا۔ اب گھروں میں چونکہ ہمارے دوست کی کوئی بیگم کھانا پکا رہی ہوتی تھیں ہیں تو میرے لیے بہت مشکل ہوتا تھا کہ خواتین کو تکلیف دوں اور ان کو فون کر کے کہوں کہ پانچ اور لوگ آ رہے ہیں۔ جو بات گھروں کی بیسمنٹوں سے شروع ہوئی تھی ہم اس کو بعد میں ریسٹورنٹس میں لے گئے۔ ہم دس ڈالر کا بفے کھاتے اور ریسٹورنٹ کے نیچے ایک بیسمنٹ میں ایک ہال مل جاتا تھا۔ ہم بیس پچیس لوگ ہوتے تھے۔ جناب وہاں پر پھر شاعری، ادب، فلسفہ، نفسیات کے مکالمے ہوتے تھے۔ افکار اور گفتار کی آزادی تھی۔ وہ جیسے انگلستان میں ہائڈ پارک ہے۔ ہمارے فیمیلی آف دی ہارٹ کی بنیاد مکالمہ تھا۔ ہر موضوع پر چاہے وہ متنازعہ فیہہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم ڈائلاگ پر ایمان رکھتے ہیں۔ ڈائلاگ جسے سقراط نے بھی پسند کیا اور فرائڈ نے بھی سراہا۔ ڈائلاگ کو سچ کی تلاش کا اہم راستہ جانا۔

ہم مختلف لائبریریوں میں پروگرام کرتے تھے۔ یہ سلسلہ بیس سال تک چلتا رہا پھر کووڈ کی وبا آ گئی۔ اس دوران ہم نے آن لائن پروگرامز کیے۔ اس کا یہ فائدہ یہ ہوا کہ ہم پروگرام ٹورانٹو میں کرتے تھے لیکن اس میں پاکستان، انڈیا، یورپ کے لوگ بھی شامل ہوجاتے۔ لیکن وجاہت صاحب بات یہ تھی کہ وہ لوگ جن کو میں کریٹیو مائنارٹی کہتا ہوں اکثر کی جو فیملیز تھی وہ بہت روایتی تھیں لیکن یہ غیر روایتی لوگ جو فنکار لوگ یا دانشور لوگ ہیں ان کی فیملیز، ان کی کمیونٹیز اتنی روایتی تھیں کہ وہ ان خاندانوں کے راندہ درگاہ تھے ہم نے سب کو جمع کیا۔ ہم نے کہا کہ آپ یہاں آئیں آپ ہمارے دوست ہیں۔ تو یہ ساری بات تھی۔ ان کو ہم نے جمع کیا اور وہاں سے پھر جو سات آٹھ لوگوں سے بات شروع ہوئی پھر سات سو حتی کہ میرا خیال ہے اب ہمارے جو دوست پرویز صلاح الدین اور رفیق سلطان جو گروپ میں شامل ہیں وہ کہتے ہیں کہ اب لوگ کئی ہزاروں میں ہیں اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس وقت تک میں نے کوئی شعوری کوشش نہیں کی لیکن دوست چونکہ محبت کرتے ہیں پیار کرتے ہیں تو کبھی کبھی وہ کہتے ہیں کہ جی ہم اپنے شہر میں ایک فیملی آف دی ہارٹ نہ بنا لیں۔ تو ہم کہتے ہیں جی آپ ضرور بنائیں اگر آپ بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ تو ایک نام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو غیر روایتی سوچ رکھتے ہیں جو کریئٹیو شخصیت رکھتے ہیں ان کو ایک موقع، ایک سپیس ایک طرح کا سٹیج پروائڈ کیا جائے تا کہ وہ اپنے جذبات کا، خیالات کا اظہار کریں اور انہیں کسی قسم کا خوف نہ ہو۔ ہم نے کینیڈا میں بیس برسوں میں ان گنت سیمینارز کیے اور بہت ہی متنازع فیہ موضوعات پہ کیے اور لوگوں کا فیڈ بیک بہت مثبت رہا۔
وجاہت مسعود: ڈاکٹر سہیل آپ عورتوں میں بہت ہردلعزیز ہیں جوان خواتین سے لے کے بوڑھی عورتوں تک سب آپ سے محبت کرتی ہیں؟ آپ کی خواتین میں ہردلعزیزی کا کیا راز ہے۔؟
ڈاکٹر خالد سہیل: وجاہت صاحب میں نے جب مشرق سے مغرب ہجرت کی اور کینیڈا میں میں جب نیوفرلینڈ اور نیو برانز ویک میں تھا ان علاقوں میں پاکستانی لوگ نہیں تھے۔ میری کینیڈا میں جو پہلی دوست بنیں ان کا نام ڈونا کیوینا تھا۔ وہ سپیشل ایجوکیشن کی ٹیچر تھیں۔ جب ہماری دوستی ہوئی تو ڈونا کا بوائے فرینڈ حسد کا شکار ہو گیا۔ ایک دن میں نے ڈونا سے کہا کہ دیکھو میرا مقصد آپ کی زندگی کے لئے مسائل پیدا کرنا نہیں ہے۔ میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ تو ڈونا نے سٹینڈ لیا. ڈونا نے کہا نہیں ہماری دوستی ایک معصومانہ دوستی ہے۔ ایک رسپکٹ فل دوستی ہے۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں۔ ڈونا نے مجھے یہ ایک سوچ انٹروڈیوس کی کہ اگر کسی مرد اور عورت کی دوستی ہے تو اس کو کوئی ڈیفینسیو نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مجھے ایک اعتماد دیا۔ بعد میں پھر ان کی شادی ہوئی۔ میں نے ان کی شادی اٹینڈ کی تو پھر اس وقت انہوں نے مجھے کہا کہ دیکھیں جو ہماری دوستی ہے وہ قائم ہے اور اب میری شادی بھی ہو گئی ہے اور جو میرے شوہر ہیں یہ بھی آپ کے دوست ہیں۔ وجاہت صاحب خواتین جو ہیں نا وہ بنیادی طور پر قابل احترام ماحول چاہتی ہیں۔ ٹورانٹو جا کر میری پاکستانی خاتون زہرہ نقوی سے دوستی ہوئی اور پھر دوستیوں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔
‘ہم سب’ میں کالم لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا تو کئی ایسی دوست بھی بنیں جو مجھے اپنا مینٹور اپنا استاد سمجھتی ہیں ایک مجھے ڈاکٹر دوست کہتی ہیں۔ مختصر یہ کہ میں ان خواتین کا احترام کرتا ہوں وہ میرا احترام کرتی ہیں۔
وجاہت مسعود: خواتین کی یہ حس جو ہے نا پہچاننے کی کہ کہاں منفی اپروچ ہے اور کہاں پہ احترام کا جذبہ ہے بہت تیز ہے۔
ڈاکٹر خالد سہیل: میرے ایک دوست ہیں انہوں نے اپنی بیوی سےکہا کہ آپ میرے باقی مرد دوستوں سے دور رہتی ہیں لیکن ڈاکٹر سہیل کو آپ اپنے گھر ڈنر پر بھی بلاتی ہیں تو اس کی کیا وجہ ہے۔؟ انہوں نے ایک اہم جملہ کہا انہوں نے کہا کہ "ڈاکٹر سہیل کی آنکھوں میں حیا ہے”۔
اب اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں مجھے نہیں پتہ کیسے سمجھتے کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ عورت کے ساتھ ایک احترام کا تعلق ہونا چاہیے۔ آپ اس کی کمپنی میں اس سے ایک انسانی سطح، ایک آرٹسٹ اور ادیب کے مقام پہ بات کریں۔ اگر آپ اس میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ آپ کی دوست بن جاتی ہیں۔ میں ہو سکتا ہے کہ اس معاملے میں تھوڑا خوش قسمت رہا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں خواتین سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔ ان کے ساتھ مل کر کام کرتا ہوں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ میں genuinely اگر کسی بھی مرد یا عورت میں تخلیقی امکان دیکھتا ہوں تو میں ان سے کہتا ہوں میں آپ کا فین ہوں۔ پنکھا جھلتا ہوں کہ تخلیقی چنگاری شعلہ بن جائے۔
وجاہت مسعود: ڈاکٹر صاحب آخری سوال۔ آپ کے خیالات میں، رویوں میں زندگی بھر کے کام میں، انسان دوستی کو رواداری کو بنیادی مقام حاصل ہے ہم ایک ایسی دنیا سے گزر رہے ہیں جہاں پہ جنگ موجود ہے، نفرت کی سیاست موجود ہے، وقتی طور پہ ایسے بھی لگ رہا ہے کہ یہ بڑھ جائے گی اور روشن خیال رویوں کی پسپائی ہو رہی ہے۔ امریکہ سے لے کے بھارت تک فلسطین سے لے کے افریقہ تک اور بہت سی جگہیں ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں آپ کہ انسانوں کی منزل کس چیز میں ہے۔ روشنی خیالی میں، رواداری میں، احترام میں، تنوع میں، رنگارنگی میں ہے، انکلوژن میں ہے۔ یا انا میں ہے، نفرت میں ہے۔ اختلاف میں ہے، جنگ میں ہے۔ ایک فلسفی ذہن رکھتے ہوئے آپ کو انسانیت کس طرف جاتی نظر آ رہی ہے؟
ڈاکٹر خالد سہیل: وجاہت صاحب میں ایک انالاجی سے اپنے فلسفہ حیات اور موقف کی وضاحت کرنا چاہوں گا. میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم ایک فرد کی زندگی کو دیکھیں تو جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ دو سال کی عمر میں خود کشی نہیں کرتا۔ چار سال کی عمر میں نہیں کرتا۔ چھ سال کی عمر میں نہیں کرتا لیکن جب وہ ٹین ایجر ہوتا ہے تو نوبلوغت میں اگر وہ زندگی کی کسی خوشی سے محروم ہوجائے یا کوئی اس کو مسئلہ ہو تو اس کے اندر خود کشی کا رجحان آتا ہے۔ وہ خود کشی کا سوچتا ہے۔ کچھ اقدام خود کشی بھی کرتے ہیں۔ کچھ کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ خودکشی میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں
لیکن اکثریت جو ٹین ایجرز کی ہے وہ ایک لیول پہ زندگی کو موت پر ترجیح دیتی ہے اور آہستہ آہستہ بلوغت تک پہنچتی ہے اور دانائی سیکھتی ہے اور بہتر انسان بننے کی کوشش کرتی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پوری انسانیت جو ہے وہ بیسویں صدی میں اپنی بلوغت کو پہنچی ہے جب ہم نے ایٹمی بم اور وسیع تباہی کے ہتھیار ایجاد کیے ہیں۔ پہلی دفعہ بیسویں صدی میں یہ ممکن ہوا کہ اگر انسان اجتماعی خود کشی کرنا چاہے تو دنیا کے دس ممالک کے جو پولیٹیکل لیڈرز ہیں وہ اگر چاہیں تو ایٹم بم سے یہ کام کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس کے بارے میں برٹرینڈ رسل، آئن سٹائن اور فرائڈ نے امن کی تحریکیں چلائیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم بطور انسانیت کے ایک دوراہے پہ کھڑے ہیں۔ میں انسانی ارتقا کا حامی ہوں۔ میں بیسکلی امید پرست ہوں۔ میں بنیادی طور پر ارتقا میں یقین رکھتا ہوں۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ انسانیت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے۔
یہ دور چاہے بیس سال کا ہو، چالیس سال کا ہو، پچاس سال کا نصف صدی کا ہو۔ یہ ہمیں ایک بہت بڑا وقت بہت بڑا دورانیہ لگتا ہے چونکہ ہماری طبعی عمر پچاس ساٹھ ستر سال ہے لیکن انسانی تاریخ میں ایک صدی جو ہے وہ کچھ اتنا بڑا عرصہ نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ بعض دفعہ جو پسپائی ہے۔ وہ عارضی ہے۔
میں اکثر مریضوں سے بھی کہتا ہوں کہ growth does not happen in a straight line۔ نشوونما، افزائش، صحت یابی اور ارتقا کا عمل سیدھی لکیر نہیں ہے۔
ہم دو قدم آگے جاتے ہیں، ایک قدم پیچھے جاتے ہیں۔
ہم تین قدم آگے جاتے ہیں، ایک قدم پیچھے جاتے ہیں
وجاہت صاحب میں یہ ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے پچھلے پچاس سالوں میں پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی بڑا شہر ایسا نہیں جہاں عوام نے فلسطینیوں کے حق میں اپنے جذبات احساسات اور خیالات کا اظہار نہ کیا ہو۔ عوام میں ایک آگہی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح جو بھی ناانصافی ہے یہ سوشل میڈیا کے ذریعے عیاں ہو جاتی ہے۔ میڈیا کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہو وہ سوشل میڈیا سے ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ عارضی طور پہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک پسپائی کا دور ہے اور ایک بہت ہی تکلیف دہ وقت ہے۔ اس وقت کی جو انسانی تاریخ ہے اس میں بہت کچھ خون سے لکھا جا رہا ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ یہ ایک طویل مدتی بات ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم آپ اور میں شاید اس دنیا میں نہ ہوں لیکن ہمارے بچے اور ان کے بچے آج سے پچاس سال، سو سال کے بعد پر امن زندگی گزار رہے ہوں گ۔
انسان نے بنیادی طور پر یہ سیکھنا ہے کہ مل کر کیسے رہنا ہے۔ جو فراست کی بات ہے کہ پرامن بقائے باہمی۔ peaceful co-existence کیسے ہو، چاہے آپ کسی بھی رنگ، کسی بھی نسل، کسی بھی زبان، کسی بھی کلچر سے منسلک ہوں۔ ہم مل جل کر محبت پیار سے اکٹھے رہیں ۔
کنفیوشس کہتے تھے کہ: ” میں آپ سے وہ سلوک کروں گا جو میں توقع کروں کہ آپ مجھ سے کریں”۔ یہ جو سنہری اصول ہے۔ یہ آہستہ آہستہ لوگوں میں جو سماجی شعور اور آگہی پیدا کر رہا ہے۔ ایک وقت آئے گا جب عوام ان طاقتور لوگوں اور ظالموں جابروں کا ہاتھ جھٹک دیں گے اور اس کے بعد کہیں گے کہ عوام جو ہیں وہی اصل طاقت کا سرچشمہ ہیں۔ میرے والد صاحب کہا کرتے تھے بیٹا جو رہنما ہے وہ حکمرانی کرنے کے لیے نہیں۔ وہ خدمت کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جو کسی بھی قوم کا جو ruler ہے وہ عوام کو serve کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ تو میں بہرحال یہ سمجھتا ہوں کہ آج سے پچاس، سو سال کے بعد انسانیت جو ہے دوبارہ جس ڈگر سے تھوڑی سی ہٹی ہے وہ دوبارہ اسی راستے پہ آئے گی اور ہم دوبارہ دانائی کے امن کے اور آشتی کے راستے پر چلیں گے اور کرہ ارض پر پرامن معاشرے قائم کریں گے۔
وجاہت مسعود: ڈاکٹر صاحب آپ کی بے حد عنایت۔ آپ سے گفتگو کر کے ہمیں بے حد اعزاز محسوس ہوا اور ان گنت موضوعات پر ہماری رہنمائی ہوئی۔ یہ تھی پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام صد رنگ میں ممتاز دانشور. شاعر افسانہ نگار، ماہر نفسیات اور کالم نویس، محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے گفتگو۔ آج تک کے لیے اتنا ہی۔ پھر ملاقات ہوگی۔ آداب۔
(نوٹ: ڈاکٹر خالد سہیل کے نوجوان دوست عمر فاروق نے بڑی محبت اور ریاضت سے اس ٹی وی انٹرویو کو قلمبند کیا ہے۔)



