شکرگزاری کے مریض
آج کل ہماری سیاست نسلوں سے منتقل کی گئی ”شکرگزاری“ کے لا علاج مرض میں اس قدر مبتلا ہے کہ علم اور دانش کی منتقلی کے بجائے اب ہم ”دہشت گردوں“ کی امریکا حوالگی یا منتقلی پر پھولے نہیں سما رہے اور ہمارے حکمران اور اپوزیشن کہلائی جانے والی جماعت تحریک انصاف کا بس نہیں چلتا کہ وہ صدر ٹرمپ کی قدم بوسی کر کے ”شکر گزاری“ پہ سجدہ ریز ہو جائیں اور اس وقت تک نہ اٹھیں جب تک امریکی آقا اٹھنے کا نہ کہیں۔
حالات و واقعات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ہمارے حکومتی حکمران حواس باختہ امریکی صدر کی ”شکرگزاری“ کے الفاظ پر ایسے بچھے جا رہے جیسا کہ کوئی انتہائی اہم معرکہ سر کر لیا ہو جبکہ سیاست کی ابجد سے ناواقف اپوزیشن کی پارٹی کے بانی عوام کی طاقت سے زیادہ صدر ٹرمپ کی ”شکر گزاری“ کے انتظار میں اب تک بندی خانے کی راہداریوں میں باولے باولے سے بنے ”امریکی شکر گزاری“ کی بھیک کے لئے کاسہ گدائی پھیلائے پھر رہے ہیں۔
ویسے تو ہماری تاریخ کسی بھی طرح بہت زیادہ شاندار نہیں رہی اور نہ ہی بر صغیر میں مغل بادشاہت نے وہ کارنامے انجام دیے جن پر فاخر ہو کر ہم سیاسی، تعلیمی یا سماجی شعور کے زینے چڑھ گئے ہوں یا بادشاہت کے غلامانہ ”شکرگزاری“ مزاج کے سبب ہم اپنے سماجی و سیاسی شعور پر دنیا بھر میں اتراتے پھریں، البتہ ان تمام قباحتوں نے ہمارے ادب و آداب اور غیرت کی حمیت کے جذبے کو اس قدر دریدہ کر دیا ہے کہ ہم اب صرف تاریخی طور سے ”شکر گزاری کی مریض“ بن کر رہ گئے ہیں اور ہر لمحہ ریاستی و انفرادی طور پر للچاتے ہوئے کسی بھی طاقتور کی ”شکر گزاری“ اور اس کی نگاہ ستائش کے منتظر رہتے ہیں۔
ہماری سیاسی تاریخ تو مغلیہ بادشاہت کی محلاتی سازشوں اور محل سرا کے اقتدار کی خواہش اور لالچ میں باپ بیٹے اور بھائی کے قتل سے لبریز ہے مگر ہم تاریخ کے حقائق کے بر خلاف سومنات کے مندر پر حملے کو بہادری گرداننے پر اڑے بیٹھے ہیں جبکہ عثمانیہ دور میں کتب خانوں کو جلانے کو بھول کر انسانی سماج کو تاراج کرنے والے قزاق شیر شاہ سوری، محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کو زبردستی ہیرو ماننے اور منوانے پر تلے بیٹھے ہیں، ہم بادشاہتوں کی طرف سے دان کی گئی ”غلام شکر گزاری“ کے اس قدر عادی بنا دیے گئے ہیں کہ پانچویں اور چھٹی نسل تک ”شکر گزاری“ کی چاپلوس عادت ہماری نسل کے مزاج میں اس طرح ڈال دی گئی ہے کہ ہم جدید دور میں رہنے کے داعی آج تک اپنے ریاستی آقاؤں کی مہربان جنبش ابرو کی ”شکر گزاری“ کو اپنا فرض سمجھ کر گز گز بھر کی سلامی اپنے حکمرانوں اور ان کے طاقتور اردلیوں کو دینے پر فاخر و شاداں رہتے ہیں اور مجال جو ہم میں کبھی ”حمیت“ نامی کیڑا جاگا ہو۔
مذکورہ تاریخی حقائق کی روشنی میں ہم نصابی اور تاریخی طور پر اپنی نسل کو ”شکرگزاری“ کی ایسی کھائی میں ڈال چکے ہیں جہاں ہماری نسل صرف طاقت ور چمگادڑوں کی خونخوار تاریخ پر بھی ”فرنگی شکر“ کے منتر پڑھتی نظر آتی ہے جبکہ ہمارے پورے سماج کو ریاست کے طاقتور ”کالے“ فرنگی گورا بننے کی کوشش میں ”شکر گزاری“ کی آخری حدوں کو چھونے میں بھی پرہیز کرتے نظر نہیں آتے، ان طاقت کے ریاستی آقاؤں نے اپنے ”شکر گزاری“ کے مزاج پر سماج کو ایسا جکڑا ہوا ہے کہ تمامتر کوشش کے بعد بھی کوئی ”دانش“ نوجوان نسل کو اب تک ”شکر گزاری“ کے غلامانہ مزاج سے نہیں نکال سکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہماری نسل کو یہ تک نہیں معلوم ہے کہ وہ تقسیم ہند سے پہلے 1942 ہی میں برطانوی سامراج اور امریکہ کے خفیہ معاہدے کے تحت قبل از آزادی ہی نسل اور قوم کے طور پر امریکی غلام بنائے جا چکے تھے، جس کی خاطر 3 جون 1947 کو برطانوی پارلیمنٹ نے قانون پاس کر کے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے ”اٹلانٹک“ معاہدے کی پاسداری کی جبکہ برطانیہ کے چرچل اور امریکہ کے روز ویلٹ کے تقسیم ہند سے قبل کیے گئے معاہدے ہی پر آزادی کی خود ساختہ تحاریک دکھا کر انتہائی چابکدستی سے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، دوسری جانب تقسیم کے وقت کے رہنما ”فرنگی شکر گزاری“ پر اس قدر نازاں تھے کہ انہوں نے نہایت ”شکرگزاری“ سے امریکا اور برطانیہ کی تقسیم کا تاج اپنے سر منڈھ لیا اور اسے دو ملکوں کی آزادی کا نام دے کر دونوں طرف کی عوام کو ”دھوکہ“ دیا اور معلومات یا تاریخی حقائق کی جانکاری نہ ہونے کی بنا پر عوام کی اکثریت اپنے رہنماؤں کی ایسی غلامانہ ”شکر گزار“ ہوئی کہ آج تک تقسیم ہند کی سیاسی تاریخ اصل تاریخی حقائق یا بیانیے سے بالکل مختلف ہے۔
پاکستان میں سات دہائیوں کی ”اقتداری مافیا“ کی ”شکر گزاری پر اگر سر سری نظر ڈالی جائے تو ملک کے قیام کے ابتدائی سالوں ہی میں ہمارے وزیراعظم لیاقت علی خان سیٹو اور سینٹو کی طرفداری میں امریکی“ شکر گزاری ”کے ممنون و مشکور ترقی کے شادیانے بجاتے رہے اور شکر گزاری کی اسی دیکھا دیکھی میں امر جنرل ایوب امریکی آشیر باد کے ایسے“ شکر گزار ”رہے کہ بلا شرکت غیرے ان کا اقتدار تاج برطانیہ اور امریکی خوشنودی کا ہی مرہون منت رہا، اسی اثنا برطانیہ کے نوازے گئے شاہنواز بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کو چن کر امریکی ایما پر ان کے ذریعے ایک ایسی سیاسی تحریک چلوائی گئی جس کے طفیل خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر کو کم کرنے کی ذمہ داری بھٹو کو تفویض کی گئی اور بہت سے کمزور نظریاتی سوشلسٹ بھی بھٹو کے ساتھ مل کر امریکی اقتدار دلوانے کی“ شکر گزاری ”میں شامل ہو گئے اور یوں بھٹو امریکہ اور فوجی اشرافیہ کی“ شکر گزاری ”میں سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننے سے بھی گریز نہ کیا، امریکی شکر گزاری“ کے داؤ پیچ سے جب آمر جنرل ضیا واقف ہوا تو جنرل ضیا نے امریکی مدد کے لئے دہشت گرد جہادی اور طالبان پیدا کیے اور دس برس سے زیادہ امریکی ”شکر گزاری“ پر آئین اور جمہوریت کو تاراج کیا گیا جبکہ جنرل ضیا نے ”امریکی شکر گزاری“ میں سماج کے اندر لسانیت اور تعصب کا ایسا بیج بویا جو آگے جاکر پاکستانی سماج کے لئے بم دھماکوں اور دہشت گردی پر بھی نہ رکا۔
ستم بالائے ستم دیکھئے کہ آمر جنرل ضیا کی شکر گزاری کے ثمرات سے نواز شریف نے کشف حاصل کیا تو پیپلز پارٹی کی جلاوطن رہنما بے نظیر بھٹو نے آمر جنرل ضیا اور نواز شریف گٹھ جوڑ کو تاراج کرنے کے لئے جب تمام جمہوری جماعتوں نے ایم آر ڈی کی بحالی جمہوریت کی تحریک چلائی تو اس کے ثمرات ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کی صورت میں بے نظیر بھٹو کے حصے میں آئے اور بعد کو جلاوطن کے دوران جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس کی ضمانت اور ”شکر گزاری“ کے تحت ملک لائی گئیں اور مشرف دور میں دہشت گردی کا شکار ہوئیں یوں بے نظیر بھٹو بھی امریکی ”شکر گزاری“ کا حصہ رہیں۔
امریکی شکر گزاری ”کا یہ مرض جب سرکتا ہوا جنرل پرویز مشرف تک آیا تو نائن الیون کے عوض امریکی ڈالروں کی نوازشات یا لالچ پر جنرل مشرف بھی پھولے نہ سمائے اور وہ“ امریکی شکر گزاری میں ”دہشت گردوں کی امریکا منتقلی کے سرخیل قرار پائے اور امریکی ڈالروں سے نوازے گئے۔ سنجیدہ سیاسی افراد کو ہمارے ہاں کی لولی لنگڑی چوتھی انتخابی حکومت سے یہ توقع تھی کہ شاید جمہوریت کی گاڑی کی کوئی سمت متعین ہو جائے یا ہماری للکارتی اپوزیشن سیاسی حکمت سے عوام کے مفاد کی پالیسیوں کو نافذ کرا پائے مگر اس وقت پاکستان کے عوام کے جمہوری خواب چکنا چور ہو گئے جب دیکھا گیا کہ حکمرانوں کی طرح اپوزیشن پارٹی کے رہنما عمران خان بھی اپنی رہائی کے لئے“ امریکی شکر گزاری ”کے تلوے چاٹنے میں مصروف عمل ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ“ شکر گزاری ”کا یہ موذی مرض اور کتنے حکمرانوں کے چراغ گل کرتا ہے یا آیا امریکی“ غلام شکرگزاری ”ہی عوام کا مقدر رہتا ہے۔


