قربانی کی عورت – دوسرا حصہ
یاسر، اب اکثر اُس کی خواب گاہ میں آنے لگا تھا۔ لیکن ایسا وہ صرف اُس وقت کرتا جب اُس کے خیال میں کنزا سو چکی ہوتی تھی۔ ایسے میں وہ بیٹے کے پاس آتا، تھوڑی دیر اُس سے کھیلتا، کبھی کبھی گود میں بھی اُٹھا لیتا اور پھر اُسے واپس لٹا کر نکل جاتا۔ اگر کبھی اُس کی آمد پر کنزا بیٹے کے ساتھ مصروف ہوتی تو دروازے سے ہی واپس ہو لیتا۔ ایک بات بہرحال اُس نے طے کر رکھی تھی کہ انتہائی ضرورت کے بغیر اُسے کنزا سے کوئی بات نہیں کرنی۔ وہ اب لفظوں کی بجائے اپنے رویّے سے اُس کی تذلیل کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھا۔ وہ جانتا تھا کنزا پڑھی لکھی، انا پرست اور حسّاس لڑکی ہے۔ ایسی تضحیک بالآخر اُسے توڑ کر رکھ دے گی اور یاسر کا منشا بھی یہی تھا۔
کنزا تو ابھی اس معاملے پر سوچ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ تو شاید اپنا بھی امتحان لے رہی تھی۔ جیسے کہ وہ دیکھنا چاہتی ہو کہ یاسر کی دھتکار اور اپنی توہین وہ کہاں تک برداشت کر سکتی ہے؟
یاسر نے اپنی ماں اور کنزا ، دونوں کے اکاؤنٹ کھلوا کر اے ٹی ایم کارڈ انہیں دے رکھے تھے۔ وہ دونوں کے اکاؤنٹس میں ہر وقت ایک معقول رقم موجود رکھتا تھا۔ گھر یا ذاتی ضرورتوں کے لئے ساس یا بہو کو جتنی بھی رقم درکار ہوتی وہ بینک سے لے لیتی تھیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی فضول خرچ نہیں تھی، مگر پھر بھی وہ خود اُن کے اکاؤنٹس آن لائن چیک کرتا رہتا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کہیں بھی، کسی وقت بھی اور کسی انداز میں بھی اُس کے گھر کے بارے میں پیسے کی کمی کا ذکر ہو۔ اُسے اس معاملے میں اپنی اچھی شہرت بہت عزیز تھی۔
کنیز یوسف کو بے شک اچھی طرح معلوم تھا کہ اُن کی پہلی بہو کے طلاق لینے میں سراسر قصور، یاسر کا ہی تھا، مگر نہ تو وہ تب یاسر کو سمجھا سکی تھیں اور نہ ہی وہ اب کنزا کی کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں تھیں۔ یاسر، شادی سے لے کر اب تک کنزا کے ساتھ جو سلوک کر رہا تھا، وہ سب جانتی تھیں۔ اسی لئے کنزا کے ساتھ اُن کا رویّہ نہایت مثبت اور محبت والا تھا۔ وہ حتی الامکان اُس کی دل جوئی کا سامان کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ وہ یاسر کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ یاسر سے اس موضوع پر کبھی کوئی بات نہیں کرتی تھیں۔ بے شک اُن کی زندگی عیش آرام میں گزر رہی تھی، مگر یہ سب کچھ تبھی تک تھا جب تک یاسر مہربان تھا۔
یاسر کے خاندان کی روایت کے مطابق، دوسری عورتوں کی طرح کنیز یوسف کی ملکیت میں بھی کوئی جائیداد وغیرہ بالکل نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اُن کے خاوند کا خود سے بنایا ہوا یہ گھر بھی یاسر کے نام تھا۔ اگر کسی وجہ سے یاسر اُن سے ناراض ہو جاتا تو اُن کے پاس سر چھپانے کو بھی کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں تھا۔ ساس اور بہو، دونوں نے جیسے ایک خاموش معاہدہ کر رکھا تھا کہ اپنے اندرونی حالات کے بارے میں گھر کے نوکروں کو بھی اصل خبر نہیں ہونے دینی۔
اسی نوع کے حالات میں چھ مہینے اور گزر گئے تھے کہ کنزا کی یونیورسٹی میں اولڈ سٹوڈنٹس کی ایک میٹنگ آ گئی۔ وہاں یونیورسٹی کے بہت سے پرانے طلبا و طالبات سے اُس کی ملاقات ہوئی۔ اُن میں بہت سے ایسے بھی تھے جو کنزا سے کافی پہلے ڈگریاں لے کر جا چکے تھے۔ اُن کی اکثریت زندگی کے اتار چڑھاؤ سے گزر کر اب کامیاب عملی زندگی گزار رہی تھی۔ بہت سوں نے آپس میں فون نمبروں کا تبادلہ کیا اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہنے کا عزم بھی۔
اُس کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈین بھی وہاں موجود تھے، جنہوں نے کنزا کا تعارف رانا محمد شفیق سے کرایا۔ رانا شفیق ہی دراصل وہ شخص تھا، جس نے ایم بی اے کے دوران کنزا کے لئے سکالرشپ کا بندوبست کیا تھا۔ وہ تو خود کو اس حیثیت سے ظاہر کرنا ہی نہیں چاہتا تھا، لیکن ڈین صاحب چونکہ اب ریٹائر ہونے جا رہے تھے، اس لئے انہوں نے یہ انکشاف ضروری سمجھ لیا تھا۔
رانا عمر میں پانچ اور یونیورسٹی میں اُس سے تین سال سینئر تھا۔ اُس نے انگلش لٹریچر میں ایم اے کیا تھا لیکن باپ کی وفات کے بعد اب اپنا فیملی بزنس سنبھال رہا تھا۔ کنزا نے اُس کا نمبر بھی لے لیا تاکہ کسی مناسب موقع پر اُس کا باقاعدہ شکریہ ادا کر سکے۔
گھر واپس پہنچنے کے بعد اُس نے جوں جوں یونیورسٹی کے پرانے ساتھیوں سے رابطے کر کے اُن کے حالات جاننے کی کوشش کی تو اُس پر منکشف ہوا کہ اُن میں سے کتنے ہی اُس کی نسبت کہیں زیادہ مشکلات سے گزرے مگر انہوں نے اپنے مصائب کے آگے ہتھیار نہیں ڈالے۔ آخرکار وہ کامیاب بھی ہوئے۔ جبکہ وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑے بیٹھی تھی۔ تبھی اُس نے طے کیا کہ وہ اب اپنی تعلیم کو مزید ضائع نہیں ہونے دے گی۔ اُس کا پہلا ارادہ تو جاب کرنے کا ہی تھا مگر رانا شفیق سمیت زیادہ دوستوں نے اُسے جاب کی بجائے اپنا بزنس کرنے کا مشورہ دیا۔
جب اُس نے طے کر لیا کہ وہ اپنا بزنس کرے گی تو پہلا سوال جو سامنے آیا، وہ تھا سرمائے کا ۔ یاسر سے وہ اس ضمن میں کوئی مدد لینے لے لئے تیار نہیں تھی۔ وہ تو ابھی اُسے کچھ بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ نعمان سے کاروبار اور جائیداد میں حصہ طلب کرے گی۔ اسی مقصد سے وہ نعمان سے ملنے اُس کے دفتر پہنچی۔ وہ تو اُس کا سوال سن کر ہی حیران رہ گیا۔
”دیکھو! جائیداد میں تمہارا جو بھی حصہ بنتا تھا وہ تمہاری شادی پر خرچ کر دیا گیا تھا۔ جہاں تک کاروبار کا تعلق ہے تو یہ میں نے خود بنایا ہے۔ اس سے تمہارا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اور تمہیں پیسوں کی کیا ضرورت ہے؟ تم یاسر ہاشمی جیسے امیر ترین بزنس مین کی بیوی ہو۔ دولت کی تو ریل پیل ہے تمہارے آس پاس۔ انتہائی عیش و آرام کی زندگی گزار رہی ہو تم“ ۔
کنزا تو اچھی طرح جانتی تھی کہ جس کاروبار کے بارے میں نعمان کا دعویٰ تھا کہ اُس نے خود بنایا ہے، اُسی کاروبار کو بچانے کے لئے تو اُس کی زندگی قربان کی گئی تھی۔ مگر نعمان کے دفتر میں اُس نے مزید بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور وہاں سے اُٹھ آئی۔
چند دن کے بعد وہ اُس کے گھر پہنچی (جو کبھی اُس کا بھی گھر تھا) ۔ وہ اپنی گفتگو کی سنجیدگی کے پیشِ نظر بیٹے کو ساتھ نہیں لائی تھی۔ زاریہ کو پہلے ہی نعمان نے سب کچھ بتا دیا تھا۔ زاریہ کو یہ ڈر تھا، شاید یاسر بھی اس مطالبے میں کنزا کے ساتھ ہے۔ اُس نے کنزا کو نہایت با اخلاق انداز میں خوش آمدید کہا۔ دونوں گھر اور بچوں کے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔ زاریہ کو بالکل خبر نہیں تھی کہ کنزا وہاں کیسی زندگی گزار رہی ہے۔ کنزا بھی اس معاملے میں خاموش رہی۔
نعمان کے گھر پہنچنے تک کھانا تیار تھا۔ وہ کھانا کھا رہے تھے کہ کنزا نے اپنا مطالبہ دہرایا اور دوسری صورت میں عدالت جانے کی دھمکی دے دی۔ نعمان نے اُسے ڈرانے کی غرض سے ذرا زیادہ ہی غصہ دکھانے کی کوشش کی۔ کنزا نے بھی جواب میں کھری کھری سنا دیں۔ نعمان کو اپنے دلائل کمزور پڑتے نظر آئے تو اُس نے ہاتھ اُٹھا نے کی بے وقوفی کر ڈالی۔ کنزا نے اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اُس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ نعمان کے ہاتھ میں میز پر پڑی ہوئی پھل کاٹنے کی چھُری تھی۔ اس سے پہلے کہ زاریہ حالات کو سمجھ کر کچھ بیچ بچاؤ کی کوشش کرتی، نعمان آپے سے باہر ہو گیا اور اُس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھُری چل گئی۔ کنزا کے بازو اور چہرے پر بری طرح زخم آ گئے۔ جب نعمان نے کنزا کا لہو بہتا دیکھا تو اُسے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ کنزا کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا۔
یاسر کو خبر ملی تو اُس نے پہلے کنیز یوسف صاحبہ کو ہسپتال بھیجا۔ نعمان انہیں وہاں دیکھ کر کھسک لیا۔ کنزا کے بازو، رخسار اور پیشانی پر زخم آئے تھے اور تینوں مقامات پر ٹانکے لگا کر پٹیاں کی جا چکی تھیں۔ لیکن وہ ابھی تک ہوش میں نہیں آئی تھی۔ البتہ اُسے آپریشن تھیٹر سے ایک پرائیویٹ کمرے میں منتقل کیا جا چکا تھا۔ ”ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کوئی زخم بھی زیادہ گہرا نہیں ہے، اس لئے امید ہے وہ ہفتے دس دن میں بھر جائیں گے“ ۔ یہ بات زاریہ نے انہیں بتائی اور ڈرتے ڈرتے یہ بھی پوچھا ”کیا وہ پولیس کو رپورٹ کرنا چاہتی ہیں یا نہیں؟“ انہوں نے یاسر سے پوچھ کر بتانے کا کہا۔
نعمان وہاں سے سیدھا یاسر کے پاس پہنچا۔ اُسے رو رو کر اپنی بے گناہی کا یقین دلایا اور سارے واقعہ کو ایک حادثہ کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ یاسر، نے اُسے تسلی ضرور دی مگر معاملہ کی مکمل چھان بین سے پہلے اپنا فیصلہ سنانے سے بھی انکار کر دیا۔
ڈاکٹروں نے محتاط رہنے اور آرام کرنے کی شرط پر ، دوسرے دن کنزا کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔
اگلے دنوں میں ایک نرس روز گھر آ کر کنزا کی پٹی تبدیل کرتی رہی۔ خود کنزا ، زیادہ وقت اس واقعہ پر غور کرتی اور آئندہ کے لئے سوچتی رہتی۔ مسلسل تشویش اور خوف میں مبتلا، البتہ یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ لگاتار رابطے میں تھی اور مستقبل کے بارے بات چیت کرتی رہتی تھی۔ مگر مستقبل اُس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا تھا؟ یہ اُس کے وہم و گمان میں دُور دُور تک بھی نہیں تھا۔
سات دن کے بعد پٹی کھول دی گئی اور دس دن کے بعد ٹانکے بھی نکل چکے تھے۔ جِلد بے شک جُڑ گئی تھی مگر دائیں رخسار اور پیشانی پر اچھے خاصے بدنما نشان باقی رہ گئے تھے۔ جو اُس کے خوبصورت حُسن کو گہنانے کے لئے بہت کافی تھے۔
یاسر، اس تمام عرصہ میں کبھی کبھار ہی اُسے دیکھنے آیا لیکن اُس نے کسی سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ اس لئے کوئی نہیں جانتا تھا، وہ کیا سوچ رہا ہے اور اُس کے ارادے کیا ہیں۔ اب جبکہ ٹانکے نکلنے کے بعد زخم بھی بھرنے لگے تھے تو وہ ایک دن اُس کے پاس آیا، چند لمحے اُسے غور سے دیکھتا اور کچھ سوچتا رہا مگر کچھ بولا نہیں، نہ ہی اُس نے بیٹھنے کی زحمت گوارا کی۔ تھوڑی دیر کھڑے رہ کر وہ چلا گیا اور تین دن تک پھر اِدھر کا رُخ نہیں کیا۔
چوتھے دن جب وہ بیٹے کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی تو وہ آیا اور خلافِ معمول صوفے پر بیٹھ گیا۔ پریشانی اُس کے چہرے سے عیاں تھی۔ کنزا نے اُسے ایسا پریشان کبھی نہیں دیکھا تھا، اس لئے نہ چاہتے ہوئے بھی سوال کر بیٹھی
”کیا بات ہے آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں؟“
”نقصان ہو گیا ہے کاروبار میں“ ۔
”اچھا؟ پہلے تو آپ کو کسی کاروباری نقصان پر ایسے پریشان نہیں دیکھا۔ ہوا کیا ہے آخر؟“ ۔
”رقم ڈوب گئی ہے میری۔ ایک خوبصورت جانور خریدا تھا میں نے، تاکہ اپنے گھر کی رونق بڑھا سکوں اور لوگوں کو دکھا سکوں کہ میں بھی خوبصورت جانور خرید اور پال سکتا ہوں“ ۔
”کہاں ہے وہ جانور؟ اور کیا ہوا ہے اُسے؟“ ۔
”یہیں ہے اور ابھی تک میرے گھر میں ہے۔ مگر اب اُس کی خوبصورتی داغدار ہو چکی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ اس جانور کو نہ تو ہلال کیا جا سکتا ہے اور نا ہی کسی عید پر اس کی قربانی کی جا سکتی ہے۔ اُسے خریدنے پر خرچ کی گئی رقم بھی کسی طرح واپس نہیں آ سکتی اور اپنے گھر کو اس نحوست سے پاک کرنا بھی ضروری ہو گیا ہے۔ بہت بڑی رقم ڈوب گئی ہے میری“ ۔
کنزا حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی، جیسے وہ کسی حد تک سمجھ گئی ہو کہ یاسر کا اشارہ دراصل کس طرف ہے۔ تبھی یاسر نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا عدالتی طرز کا ایک لفافہ اُسے تھما دیا۔
”یہ کیا ہے؟“ کنزا نے پوچھا
”عدالت میں میری طرف سے دائر کی گئی طلاق کی کاپی ہے۔ ہفتے دس دن میں عدالت کے آرڈر بھی وصول ہو جائیں گے۔ میں نے
جب تمہیں پسند کیا تھا تو تم حسن کا طلوع ہوتا ہوا سورج تھیں۔ میں ایک اکھڑ کاروباری ہونے کے باوجود خوبصورتی کا دلدادہ ہوں۔ اسی لئے تمہیں ہر قیمت پر خرید کر ہی دم لیا تھا۔ پر میں ایسا بھی سخی نہیں ہوں کہ کسی بدصورت عورت کو اپنے گھر کی مالکن کے طور پر گھر میں گھومتا پھرتا بھی دیکھ سکوں۔ اس سے میری ذہنی صحت، میرے گھر کی شہرت اور میرے کاروبار پر ، یعنی تینوں پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ چنانچہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

