قربانی کی عورت – دوسرا حصہ
مفتی عمران قادری سے میں نے فتویٰ لے لیا ہے۔ اُس کی کاپی بھی ان کاغذات میں شامل ہے۔ اس فتویٰ کے مطابق مجھے پورا حق پہنچتا ہے کہ میں جب چاہوں تمہیں طلاق دے سکوں۔ اور یہ فوری طور پر نافذالعمل ہو گی۔ عدالت کی اتنی جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ مفتی عمران قادری کے فتویٰ کے خلاف کوئی فیصلہ دینے کی کوشش کرے۔ سو اب تم میری طرف سے مکمل طور پر فارغ ہو۔ میں اب اپنے دفتر جا رہا ہوں۔ شام سے پہلے واپس نہیں آؤں گا۔ تمہارے لئے اچھا ہو گا کہ میرے واپس پہنچنے سے قبل تم میرے گھر سے جا چکی ہو۔ تم کہاں جاؤ گی یہ تمہارا مسئلہ ہے۔ میں تو خیر تمہاری نظر میں پہلے بھی ایک بُرا آدمی تھا، اب باہر نکل کر ذرا دنیا کا بھیانک چہرہ بھی دیکھو ”۔
کنزا جیسے سکتے میں آ چکی تھی۔ وہ یاسر کی بات سن تو رہی تھی مگر الفاظ اُس کے دماغ تک نہیں پہنچ رہے تھے۔
یاسر نے اپنی بات جاری رکھی ”بیٹے کے بارے میں طلاق میں کچھ نہیں لکھا۔ اگر تم بیٹے کو میرے پاس چھوڑنے کے لئے راضی ہو تو میں تمہیں ایک معقول رقم اور تمہارا جیب خرچ دینے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن اگر تم بیٹے کو ساتھ لے جانا چاہو تو تمہیں میری طرف سے اور کچھ نہیں ملے گا۔ مجھے عدالتوں کے دھکے کھانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ لیکن اگر تم کوئی بھی معاملہ عدالت تک لے جاؤ گی تو تمہیں بہت
پچھتانا پڑے گا۔ خواہ وکیلوں پر میرے کتنے بھی پیسے خرچ ہو جائیں، لیکن میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا۔ یوں بھی مجھے یقین ہے کہ تم سعد کو کہیں بھی لے جاؤ مگر جب بڑا ہو گا تو میرا بیٹا ہے، میرے پاس لَوٹ آئے گا ”۔
۔
کنزا کے کمرے سے، سعد کے بُری طرح رونے کی مسلسل آواز بیگم کنیز یوسف کے کانوں کو پریشان کر رہی تھی۔ ”کنزا اُسے چُپ کیوں نہیں کرا رہی؟“ یہ سوچ سوچ کر اُن کا غصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ آخر تنگ آ کر انہوں نے ایک ملازمہ کو بھیجا کہ دیکھ کر آئے، بچہ آخر کیوں اس طرح بغیر وقفے کے، روئے چلا جا رہا ہے؟
ملازمہ نے اُلٹے پاؤں واپس آ کر جو کچھ بتایا، اُس سے بیگم صاحبہ کی پریشانی میں اور اضافہ ہوا۔ مجبوراً اُنہیں خود فوراً پوتے کی آواز پر وہاں پہنچنا پڑا۔ وہاں کا نقشہ بعینہ ویسا ہی تھا، جیسا ملازمہ نے بیان کیا تھا۔
سعد لگاتار ہچکیاں لے کر رو رہا تھا لیکن کنزا کو تو جیسے اُس کی آواز سنائی ہی نہیں دے رہی تھی۔ وہ تو بے سُدھ سی لیٹی، آنکھیں جھپکے بغیر چھت کو گھورے جا رہی تھی۔ کچھ کاغذات تھے جو اُس کے ایک ہاتھ میں اُڑسے بستر پر پڑے تھے۔
دادی نے آتے ہی پوتے کو اُٹھا کر اُسے بہلانے کی کوشش کرتے ہوئے کنزا کو پکارا۔ جب دو تین آوازوں کے بعد بھی کنزا کی
طرف سے کوئی ردّ ِ عمل نہ آیا تو انہوں نے اُسے جھنجھوڑا۔ تب جا کر وہ کہیں اپنے سکتے کے عالم سے باہر آئی اور اُس نے بچے کو تھاما، اُسے گلے سے لگایا اور بہلانے کی کوشش کرنے لگی۔
بیگم کنیز یوسف نے، اُن کاغذات کے بارے میں پوچھا جو چند لمحے قبل کنزا کے ہاتھ میں تھے۔ کنزا نے وہ کاغذات بیگم صاحبہ کے حوالے کر دیے۔
سب کاغذات کو بیگم صاحبہ نے باری باری دیکھا۔ جب انہوں نے نکاح نامہ کی نقل پڑھی تو اُس میں کنزا کے لئے حق مہر کے علاوہ کسی بھی طرح کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ مزید یہ کہ اس کی رو سے یاسر کو حق حاصل تھا کہ وہ جب چاہے اور کوئی وجہ بتائے بغیر، کنزا کو طلاق دے سکتا تھا۔ نکاح نامہ پڑھتے ہی انہوں نے ایک ملازمہ کو آواز دی۔ ملازمہ آئی تو اُسے حکم دیا کہ وہ سعد کو تھوڑی دیر دوسرے کمرے میں لے جائے اور اُسے بہلانے کی کوشش کرے۔
ملازمہ کے جاتے ہی بیگم صاحبہ، کنزا سے مخاطب ہوئیں ”اب تم ذرا اُٹھ کر بیٹھ جاؤ، نجانے اتنا سا موقع بھی شاید پھر کبھی ملے یا نہ ملے“ ۔ کنزا پلنگ کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تو بیگم صاحبہ نے بات آگے بڑھائی
”میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ شادی تمہاری مرضی کے بالکل برخلاف ہوئی تھی۔ اور ایسا تم نے صرف خاندان کی عزت اور والد کے کاروبار کو بچانے کے لئے کیا۔ پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ شادی کے بعد تم نے اس گھر کو اپنانے کا ٹھوس ارادہ کر لیا تھا۔ پڑھی لکھی ہونے کے باوجود تم نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس نکاح نامہ میں تمہاری زندگی کے تحفظ کے ضمن میں تو ایک شق تک موجود نہیں تھی۔ پھر بھی، اور یاسر کے تمام تر منفی رویّے کے باوجود تم نے اس گھر کو گھر بنانے کی اپنی سی کوشش جاری رکھی۔ کیا میرا یہ اندازہ درست ہے؟“ ۔
”جی! آپ کا اندازہ بالکل درست ہے“ ۔
”ایک خاوند کی حیثیت سے، ایک مرد پر بیوی کے لئے جو پیار و محبت اور دوسرے فرائض عائد ہوتے ہیں، وہ اُن پر بھی عمل نہیں کرتا تھا۔ بلکہ ہاتھ اُٹھانے کے سوا، وہ تمہاری تضحیک کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ تم پھر بھی صبر کیے جا رہی تھیں۔ یہاں تک کہ تم نے مجھ سے بھی کوئی شکایت نہیں کی۔ حالانکہ میں نے ہمیشہ تمہیں ایک بہو سے زیادہ ایک بیٹی کا پیار دینے کی کوشش کی“ ۔
”آپ بجا فرما رہی ہیں۔ آپ نے مجھے اس گھر میں ایک ماں سے بھی زیادہ محبت دی“ ۔
”اچھا! اب یہ بتاؤ! اگر یاسر کا ارادہ بدل جائے اور وہ کسی طرح طلاق واپس لے کر تمہیں پھر سے اپنانا چاہے تو کیا تم اُسے پھر سے قبول کر لو گی؟“ ۔
”آپ کی قسم کبھی نہیں۔ کسی صورت میں بھی نہیں“ ۔
”یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب تمہارے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ کوئی ایسی جگہ بھی نہیں ہے کہ جہاں تمہیں کچھ دیر کے لئے ہی سہی مگر پناہ مل سکے۔ نعمان کے ساتھ ہونے والے جھگڑے نے تمہارے چہرے پر ایک بدنما داغ بھی بنا دیا ہے۔ اس لئے بہت مشکل ہے کہ کوئی تم پر ترس کھائے بغیر تم سے شادی بھی کر لے“ ۔
”میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہاں سے نکلنے کے بعد میرے ساتھ کتنا برا ہونے والا ہے۔ لیکن اب میں یہاں کی ذلّت بھری زندگی کی نسبت زمانے کی ٹھوکروں کو ترجیح دوں گی“ ۔
”شاباش! مجھے تمہارا یہ ارادہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ تو سنو! تم آج سے پہلے بھی میرے لئے بہو سے زیادہ ایک بیٹی کی حیثیت رکھتی تھیں اور آج کے بعد تم صرف میری بیٹی ہو۔ اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میں اپنی بیٹی کو زمانے کی ٹھوکریں کھانے دوں“ ۔
”لیکن ماں جی! آپ تو خود یہاں یاسر کے رحم و کرم پر ہیں۔ آپ میری کیا مدد کر سکیں گی؟“ ۔
”بات تھوڑی لمبی ہے لیکن میں مختصر کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ یاسر کی پیدائش کے بعد ہم دونوں میاں بیوی کی خواہش تھی کہ اب خدا ہمیں ایک بیٹی سے نواز دے تو بس ہمارا خاندان مکمل ہو جائے گا۔ مجھے اور بچوں کی بالکل خواہش نہیں تھی۔ مگر کرنا خدا کا کیا ہوا کہ یاسر اکیلا ہی رہ گیا“ ۔
”آپ نے ڈاکٹروں سے رابطہ نہیں کیا؟“ ۔
”کیا تھا بیٹی! ایک سے بڑے ایک ڈاکٹروں سے ہم دونوں نے معائنہ کرایا۔ ہر ایک کا یہی کہنا تھا، دونوں طرف سب ٹھیک ہے، بس ابھی اوپر والے کی مرضی نہیں ہے۔ تبھی سے ہم نے اپنی ہونے والی بیٹی کی ضرورتوں کے لئے پیسہ جمع کرنا شروع کر دیا تھا“ ۔
”لیکن جب بیٹی تھی ہی نہیں تو ؟“ ۔
”ہمارا خیال تھا چند سال اور انتظار کرتے ہیں، ورنہ ہم کوئی بیٹی گود لے لیں گے۔ اسی لئے اُس کے زیور تک بنوانے شروع کر دیے۔ پھر زندگی کچھ اس ڈگر سے چلتی رہی کہ بیٹی گود لینے کا موقع ہی نہیں بنا۔ لیکن وہ پیسے اور وہ زیور ابھی بھی میرے پاس ہیں اور یاسر کو ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ اب جب تم اس گھر سے جا رہی ہو، تو وہ تمام زیور اور پیسے میں تمہیں دے دینا چاہتی ہوں“ ۔
”مجھے کیوں؟ میں تو آپ کی بہو تھی، جسے آپ نے بیٹیوں جیسا پیار دیا۔ لیکن اب تو وہ رشتہ بھی ختم ہو گیا“ ۔
”تم اس گھر میں بہو بن کر آئی تھیں لیکن اب رخصت ہو رہی ہو تو میری بیٹی بن کر ۔ مجھے خوشی ہو گی اگر تم اسے قبول کر کے مجھے ایک بیٹی کی ماں ہونے کا شرف بخش دو گی“ ۔
(بیگم صاحبہ کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔ نجانے کب کے رُکے ہوئے، اب بند توڑ کر اپنا راستہ بنا رہے تھے )
”آپ یقین رکھیں! میں آپ کی بیٹی ہی رہوں گی اور جب بھی ضرورت ہو گی، میں آپ سے پیسے بھی لے لوں گی۔ لیکن ابھی ایسی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ابھی میرے پاس کافی پیسے ہیں“ ۔
”میں جانتی ہوں، تمہارے پاس صرف حق مہر کے پیسے ہیں اور وہ بھی تم نے دو سال کے لئے فسکڈ ڈپازٹ کرائے تھے۔ دو سال پورے ہونے میں ابھی پانچ مہینے پڑے ہیں۔ ابھی اُسے چھیڑو گی تو نفع کا ایک پیسہ بھی نہیں ملے گا۔ اس لئے تمہیں فوری طور پر کچھ پیسوں کی ضرورت ضرور پڑے گی“ ۔
”نہیں ماں جی! میری اصل رقم ہی کافی ہے۔ میں نے منافع کا کیا کرنا ہے؟“ ۔
”اب تم دنیا کے کارزار میں جاؤ گی تو تمہیں قدم قدم پر پیسے کی ضرورت پڑے گی اور پیسہ ہی تمہارا بہترین ساتھی بھی ہو گا۔ اس لئے تم نے پیسے کو بہت سوچ سمجھ کر اور بچا بچا کر خرچ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ بھی تمہیں کچھ مشورے دینے ضروری ہیں“ ۔
”وہ کیا ماں جی؟“ ۔
”دیکھو بیٹا! جب آدمی کسی چاردیواری میں ہوتا ہے تو اُسے کچھ حفاظتی مدد بھی حاصل ہوتی ہے۔ چاہے انسان کسی قید خانے میں ہی
کیوں نہ ہو۔ کئی آندھیوں اور طوفانوں سے اُس کی بچت بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ مگر جب انسان آزاد ہو جاتا ہے، جیسا کہ تم اب ہو رہی ہو تو اُس میں کچھ قباحتیں بھی ہوتی ہیں ”۔
”جو کچھ بھی ہو گا ماں جی! لیکن یہاں کی ذہنی اذیت سے تو کم ہی ہو گا“ ۔
”میں تمہیں ہر آنے والی مصیبت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرنا چاہتی ہوں“ ۔
”وہ کیسے۔ ؟“ ۔
”پہلے تو میں تمہیں اپنی ایک پرانی سہیلی کے پاس بھیجتی ہوں۔ وہ عورتوں کا ایک ہوسٹل چلاتی ہے۔ وہاں بچوں والی ورکر ویمن بھی رہتی ہیں۔ اس لئے وہاں میرے پوتے کی دیکھ بھال کے لئے بھی تمہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا۔ میرا مشورہ مان کر تم ایک اور کام بھی کرنا۔ باہر نکلتے ہی اپنے ہر ملنے والے کو بتا دینا کہ تمہاری طلاق ہو چکی ہے“ ۔
”ایسا کس لئے ماں جی؟“ ۔
”اس لئے کہ اب جب تم اپنے دوستوں اور واقف کاروں سے ملو تو اُن کے لئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے، تمہارا ساتھ دینا ہے، تمہاری ہمّت بندھانی ہے یا نہیں؟ اور اگر ساتھ دینا ہے تو کس قدر۔ یوں کچھ اور مشکلیں تو ہوں گی مگر جھوٹے وعدوں اور منافق دوستوں سے بچ جاؤ گی“ ۔
”میں سمجھ گئی یہ ایک بہت اہم نکتہ ہے۔ میں اس کے لئے آپ کی شکر گزار ہوں“ ۔
”ایک بات اور، زندگی کے مختلف مراحل، واقعات، حادثات اور مقامات، کبھی بھی صرف بُرے یا صرف اچھے نہیں ہوتے۔ کبھی شر کی بہتات ہوتی ہے اور کبھی خیر کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی بہت بُرے حادثات میں سے خیر کا ایک ایسا پہلو نکل آتا ہے جو پہلے کہیں دھیان میں ہی نہیں ہوتا۔ میں دعا کروں گی کہ تمہارے لئے اس بدقسمتی میں سے کوئی خوش قسمتی کا معجزہ ہو جائے“ ۔
کنزا نے اُٹھ کر کنیز یوسف کو گلے لگایا اور پھر اپنا ضروری ضروری سامان پیک کیا۔
اور یاسر کے واپس آنے سے کہیں پہلے اُس کا گھر چھوڑ دیا۔
(اس کے بعد کیا ہوا؟ اس افسانہ کے تیسرے اور آخری حصہ میں ملاحظہ فرمائیں )

