معصوم بچے آٹزم کے شکنجے میں

پچھلے دنوں ایک دوست کے ہاں گیا تو وہاں ایک بچے سے ملاقات ہوئی۔ پہلی نظر میں ہی یہ بچہ معذور سا لگا۔ اس کے منہ سے وقتاً فوقتاً رال بہنے لگتی تھی اور اس کا سر بار بار ایک طرف ڈھلک جاتا۔ بچے کی عمر چار سال کے قریب ہوگی لیکن وہ اب بھی سہارا لے کر اور ڈگمگاتے ہوئے چلتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی ہڈیاں اس کا توازن برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنے باپ سے باتیں بھی کرتا جا رہا تھا جو میرے لئے ناقابل فہم تھیں کیونکہ یہ بے ربط تھیں اور محض آوازوں پر مشتمل تھیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچہ کس مرض کا شکار تھا؟ یہ آٹزم کا شکار تھا۔

Read more

قدرتی آفات اور قومی سیاستدانوں کا رویہ

ستر برس بیت چکے اور اگر گردش ایام کو پیچھے کی طرف لوٹایا جائے تو عیاں ہو گا کہ ستر برس پہلے مملکت پاکستان جہاں کھڑا تھا آج بھی وہیں موجود ہے۔ وہی مسائل کا انبار ہے، وہی قرض تلے سسکتی عوام ہے اور وہی فرعونیت اور سفاکیت کا راج ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ چہرے بدل گئے ہیں لیکن اندروں نہیں بدلا، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ تاریک ہو گیا ہے۔ یوں تو ہر آفت خواہ آسمانی ہو

Read more

پاکستان کا نازک دور اور اشرافیہ کی عیاشی

جب سے ہوش سنبھالا ہے ایک بات ہر دوسرے دن سماعتوں سے ٹکراتی ہے کہ ”پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے“ پچھتر سال ہونے کو آئے ہمیں آزاد ہوئے لیکن یہ کم بخت نازک دور ایسا چمٹا ہے کہ عوام کی جان چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ عوام کا خصوصی تذکرہ اس لیے کیا کیونکہ یہ نازک دور صرف عوام کے لیے ہے۔ سیاستدانوں، بڑے سرکاری افسران یا طاقتور ادارے پہلے دن سے پانچوں

Read more

افغانستان: شکریہ اہل پاکستان

غلام خان بارڈر کا زیرو پوائنٹ کراس کرتے ہی ہم ایک ایسے ملک کے مہمان بن چکے تھے جہاں بائیس سال مسلسل جنگ رہی تھی اور امن قائم ہوئے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا تھا۔ خبروں میں بتائے جانے والے حالات کے مطابق وزیرستان جیسے علاقے سے گزر کر افغانستان میں داخل ہونا خاصا جان جوکھم میں ڈالنے والا کام تھا لیکن الحمدللہ ہمیں کسی بھی قسم کی پریشانی یا خوف کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فوجی آپریشن کے

Read more