معصوم بچے آٹزم کے شکنجے میں
پچھلے دنوں ایک دوست کے ہاں گیا تو وہاں ایک بچے سے ملاقات ہوئی۔ پہلی نظر میں ہی یہ بچہ معذور سا لگا۔ اس کے منہ سے وقتاً فوقتاً رال بہنے لگتی تھی اور اس کا سر بار بار ایک طرف ڈھلک جاتا۔ بچے کی عمر چار سال کے قریب ہوگی لیکن وہ اب بھی سہارا لے کر اور ڈگمگاتے ہوئے چلتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی ہڈیاں اس کا توازن برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ وہ اپنے باپ سے باتیں بھی کرتا جا رہا تھا جو میرے لئے ناقابل فہم تھیں کیونکہ یہ بے ربط تھیں اور محض آوازوں پر مشتمل تھیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بچہ کس مرض کا شکار تھا؟ یہ آٹزم کا شکار تھا۔
Read more
