حسین نقی پر کیا بیتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 412
  •  

میں حسین نقی کے بالکل ساتھ کھڑا تھا اور رپورٹرز کی لائن میں سب سے آگے جہاں سے چیف جسٹس اور حسین نقی دونوں کے چہرے کے تاثرات کا باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا تھا۔ حسین نقی کا لہجہ سخت تھا، نہایت سخت. مگر میری دانست میں یہ لہجہ انہوں نے چیف صاحب کے لہجے کے ردعمل میں اختیار کیا تھا وہ یہ سوچ کر نہ آئے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ چیف جسٹس پہلے سے سوچ کر آئے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے مگر حسین نقی کے لیے یہ غیر متوقع تھا۔

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ چیف جسٹس حسین نقی اور ان کے پروفائل کے بارے میں پہلے سے نہ جانتے تھے۔ اسی لیے ان کے نزدیک جسٹس رضا معتبر و محترم شخص تھے مگر حسین نقی نہیں… چیف جسٹس صاحب نے چلا کر پوچھا کہاں ہے حسین نقی؟

حسین نقی ہجوم میں سے برآمد ہوتے ہی بولے، “میں ہوں حسین نقی”

چیف جسٹس نے اسی لہجے میں پوچھا”تم ہو کیا چیز؟”

میرا خیال ہے یہ وہ لہجہ، انداز اور سوال تھا جس نے حسین نقی کو بھی غصہ دلا دیا وہ بھی آواز کی اسی پچ سے ترکی بہ ترکی جواب دینے لگے۔ تین چار جملوں کا ہی تبادلہ ہوا تھا کہ چیف نے چلا کر حکم صادر کیا کہ حسین نقی کو میری عدالت سے باہر لے جاو گویا ان کے پاس دلائل کم پڑ گئے تھے تبھی وہ اپنی طاقت کا استعمال کرنے لگے۔ ایک پولیس والا فوراً روسٹرم تک آ پہنچا اور گھسیٹ کر باہر لے جانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس پر وہ دہائی دینے لگے آپ مجھے سنے بغیر باہر نہیں نکال سکتے۔

چیف جسٹس نے رحم کیا اور بلند آواز میں کہا پھر فوراً معافی مانگو۔ حسین نقی نے فوراً معافی مانگ لی۔ بولنے لگے تو چیف نے پھر چلانا شروع کر دیا “تمہاری ہمت کیسے ہوئی جسٹس عامر رضا سے بدتمیزی کرنے کی”۔ حسین نقی بھی شاید کہنا چاہتے ہوں کہ آپ کی ہمت کیسے ہو رہی ہے مجھ سے بد تمیزی کرنے کی، مگر انہوں نے نہیں کہا۔

حسین نقی صرف اتنا کہہ پائے کہ میں آپ سے عمر میں بیس برس بڑا ہوں. دراصل وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے مگر کچھ بھی نہ کہہ پائے، وہ بتانا چاہتے کہ میری اور جسٹس عامر رضا کی تلخ کلامی ضرور ہوئی ہے مگر میں نے ان سے استعفی نہیں مانگا تھا، وہ کچھ بھی نہ کہہ پائے۔ انہیں کچھ کہنے ہی نہ دیا گیا۔ دوبارہ حکم صادر ہوا” take him out of my court”  وہ پھر کہنے لگے مجھے سن تو لیجیے، مگر فیصلہ سنایا جا چکا تھا…

حسین نقی کا حال قتل کے اس مجرم جیسا تھا جس کے خلاف تمام عدالتوں میں پورے شواہد کے ساتھ جرم ثابت ہو چکا ہو اور اب چیف کے پاس بھی کوئی راستہ نہ ہو۔ پچاسی سال کے بوڑھے حسین نقی کو تقریباً گھسیٹتے ہوئے عدالت سے باہر لے جایا گیا… میں حیران تھا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے منصف اعلی پچاسی سال کے کسی شخص کے خلاف اسے سنے بغیر فیصلہ کیسے سنا سکتے ہیں۔ نہ سنا گیا، نہ شک کا فائدہ دیا گیا اور حسین نقی کو بے عزت کر کے عدالت سے باہر نکال دیا گیا….

اسی بارے میں: حسین نقی کی داد رسی کے لئے حاضر ہیں: چیف جسٹس پاکستان

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 412
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں