محبت ایک مکاشفائی بھید ہے

آسمان و زمین کی وسعتوں میں ایک چیز جو مشترکہ خصوصیت کی حامل ہے۔ اس کا نام محبت ہے جو اپنی آفاقی صداقتوں کی بدولت آج بھی زندہ ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم رہے گی یہ اپنا بھرم و وقار قائم رکھے گی۔ اگر اسے فطری تقاضوں کے تحیر میں یہ لکھا پڑھا اور سنا جائے کہ محبت ازلی و ابدی ہے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ کیونکہ نا اس کا کوئی شروع اور نا کوئی

Read more

انصاف کا عصا

قدرت کے کارخانے میں شب و روز کا خوبصورت سنگم ہے۔ جہاں ہم ہر روز پرانی امیدوں کو دفن کر کے نئی امیدوں کا منھ دیکھتے ہیں۔ ہر دن کا اپنا مزاج و کیفیت ہوتی ہے جہاں ہماری نفسیات کا لٹو گھومتا ہے۔ دن کے اجالے میں ہماری آنکھیں دیدنی اور نادیدنی واقعات کو اپنی آنکھوں میں چھپا لیتی ہیں۔ جب کہ شام تفکرات کے آنچل میں ڈھل کر ان تمام واقعات کو ذہن کی پردہ سکرین پر دوبارہ آن

Read more

تبدیلی کی شروعات

یہ بھی دنیا میں عجیب رویہ ہے، ہر انسان دوسرے کو تبدیل کرنے کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔ جب کہ اسے خود تبدیلی کا پہاڑا ازبر نہیں ہوتا۔ اگر ان غیر فطری رویوں پر غوروخوض کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی سرشت میں قول و فعل میں تضاد کی جنگ ہے۔ انسان نے روز اول سے ہی دوسروں کو سکھانے کی کوشش کی ہے جب کہ اپنی ذات سے روپوشی۔ آپ اسے کچھ بھی سمجھ لیں۔ شاید

Read more

دن بدلتے نہیں حالات سدھرتے نہیں

عصر حاضر میں ہر انسان تبدیلی کا نعرہ بلند کر رہا ہے۔ شاید تبدیلی کا یہ نعرہ دوسروں کے لئے مخیر ہوتا ہے اور اپنی ذات کے لیے کنجوسی کا نوالہ۔ بلاشبہ یہ فکری سوچ کا اعلی نمونہ ہے اور ہیئت و حرکت میں بے مثال بھی۔ اس امر کے باوجود بھی ہمارے تمام تر وسائل اور کوششیں رائیگاں کیوں چلی جاتی ہیں؟ آخر ایسے وہ کون سے محرکات ہیں جن کے باعث تبدیلی کا عمل رک جاتا ہے؟ اگر

Read more

ہمیں غربت کے کرب کو حسوس کرنا ہو گا

یہ خدا کی منشا ہے کہ اس نے کائنات کا نظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ دنیا میں سب چیزیں اس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں، ہر چیز اس کے تابع اور اس کی مرضی سے بڑھتی ہے۔ اس لیے خدا کی وحدانیت اور لاثانیت کا اقرار کرنا ہر متنفس پر فرض ہے۔ لیکن اس نے بنی آدم کو سب چیزوں پر اختیار بخشا ہے اور ساتھ یہ بھی حکم صادر کیا ہے کہ کوئی کسی کے ساتھ ظلم و ستم نہ کرے اور نہ اپنی حاکمیت جتائے تاکہ اس کے قلب و ذہن میں اس کی خدائی کا خوف و ڈر رہے اور وہ عاجزی اور انکساری کا لبادہ اوڑھ کر اپنی زندگی بسر کرے۔ اس کے برعکس اگر دنیا کے معاشی حالات کا تجزیہ کیا جائے تو ہر ملک کی صورتحال ایک دوسرے سے فرق ہے۔

Read more

دولت ہوا کی چران

میرا اعتبار مت کرنا کیونکہ میں کسی کی بھی نہیں ہوں، نہ کوئی میرا مذہب اور نہ کوئی میری سمت ہے۔ البتہ میں زمین کے چار کونوں کی ملکہ ہوں، اس لیے میری شہرت اور مانگ دنیا کے کونے کونے میں پائی جاتی ہے۔ میرا وجود تعجب خیز ہے مجھے حاصل کرنے کے لئے خواہ کوئی امیر ہے یا غریب وہ میرے پیچھے پیچھے بھاگتے ہیں۔ اس سے میری طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میرے پاس بیک وقت

Read more

خواہشات کے گچھے

دنیا خواہشات کا گھر ہے جو ہمارے دل و دماغ کی سجاوٹ کا وہ آئینہ ہے، جس میں خواہشات کی تصویر بار بار بن کر کبھی ٹوٹتی اور کبھی بکھرتی ہے۔ ظاہر ہے جو چیز بار بار نظر آئے گئی اس کی کشش ثقل حسرتوں کا جہاں آباد کر لے گی اور وہ چیز انسان کے مصمم ارادے میں شامل ہو جائے گی پھر انسان کے لیے جتنا ممکن ہو گا وہ اس کے حصول کے لیے شب و روز

Read more

قسمت کی ریکھائیں؟

قسمت جسے مقدر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس لفظ کو لوگ اکثر روز مرہ زندگی میں اپنی گفتگو کا حصہ بنا کر قسمت کا حال دریافت کرتے ہیں۔ اور اس بات کی قیاس آرائی کرتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا خوش قسمت ہے اور فلاں بڑا بدقسمت ہے۔ یہ بات کہاں تک درست اور حقائق پر مبنی ہے؟ اسے زیر بحث بنا کر اس حقیقت کا کھوج لگاتے ہیں۔ ویسے آج کا انسان ہر لحاظ سے باشعور

Read more

رشتوں کا تقدس؟

رشتے احساس کی گہری جھیل جیسے ہوتے ہیں، جس میں اخلاق کے موتی اور محبت کے چشمے پائے جاتے ہیں۔ ان کی گہرائی، چاشنی، کشش اور لطافت زندگی کے ساتھ بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جڑی ہوتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے انہیں جتنی زیادہ قربت ملتی ہے یہ اتنی ہی تیزی سے بڑھتے اور پھلتے ہیں۔ جہاں ان کی ٹھنڈک اور تازگی سکون قلب کا باعث بنتی ہے۔ خدا تعالی نے روز اول سے ہی خاندان کی بنیاد

Read more

منظور راہی کے افسانوی مجموعہ بانجھ موسموں کے سفر کا اجمالی جائزہ

کائنات کی وسعتوں میں ایک وسیع عمل تخلیق ہے جس کی سعادت اور مقصدیت ادب کے ان فرزندوں کو حاصل ہوتی ہے جو رنگ کائنات کو رشک و تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور پھر انہیں یہ نعمت قدرت کے خزانے سے مل جاتی ہے جسے وہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے اپنے قلم کی سیاہی سے انسانیت کے پرچار کے لیے قلم بند کر دیتے ہیں۔ ادب کی تخلیق اور چاشنی خواہ کسی بھی صنف

Read more

زندگی کا شکوہ ؟

زندگی بنی آدم کے لئے ایک سوال ہے نہ کوئی اس کا شروع ہے اور نہ آخر، بلکہ نسل در نسل ایک بہاؤ ہے جو روز اول سے چلا رہا ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے یہ سلسلہ اس وقت تک جاری و ساری رہے گا۔ اگر ہم روئے زمین پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آج دنیا میں زندگی کی بدولت ہی گہما گہمی ہے۔ اس کا وجود آفتاب صداقت کی مانند ہے اور

Read more

اپنی غلطیوں کی نشاندہی؟

دنیا میں کوئی بھی انسان اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ صرف نیکی ہی کرتا ہو اور بدی نہ کرتا ہو۔ اگر ہم انسانی جبلت کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے، کہ انسان نے اپنے ذہن میں برائی کے سانپ پال رکھے ہیں جن کے خوف اور زہر سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا۔ بلکہ انہیں جب موقع ملتا ہے تو یہ بنی آدم کو آسانی سے ڈس

Read more

بھروسے کی چال

  بھروسا وقت کی دستک ہوتا ہے، جس کے اثرات و ثمرات لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ کثرت سے جڑے ہوتے ہیں۔ ہر زمانے کی اپنی روداد ہوتی ہے، جو اس کے تاریخی، ثقافتی، تہذیبی، اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے، اور ماضی کے جھروکوں کو دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ ہر انسان اپنے ماضی کو کیوں یاد کرتا ہے؟ آخر اس میں کون سے اعتبار کے زاویے ہوتے ہیں، جن

Read more

یادوں کا سحر

انسانی فطرت کے رچاؤ میں یادوں کی خوبصورتی کا ایک گلشن آباد ہوتا ہے۔ جس میں یادوں کے کچھ یادگار اور کچھ درد بھرے لمحات شامل ہوتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے، جو اپنی کرامات کے باعث سوچ و خیال کو ماضی میں لے جاتا ہے۔ کبھی یہ دستک انسان کو زور سے سنائی دیتی ہے اور کبھی آہستہ لیکن قلب و ذہن پر ضرور اثر انداز ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی میں جو دن

Read more

جھوٹ ایک پھندا ہے

جھوٹ ایک معاشرتی ناسور ہے، جو اس وقت تک اچھا نہیں ہوتا جب تک اسے سچ کا غسل نہ دیا جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوٹ ایسے بولا جاتا ہے، جیسے اس کے دریا بہتے ہیں۔ اور اگر کوئی بیچارا سچ بولتا ہے تو وہ پیاسا مارا جائے گا۔ یعنی جھوٹ اپنی انا پرستی کے دریا بہاتا ہے، جس سے چھوٹی چھوٹی نہریں اور ندیاں بھی بہتی ہیں۔ لیکن وہ آبی بخارات میں تبدیل ہو کر

Read more

دل کے داغ دھوئے کون؟

دنیا میں ہر انسان کے دل کی کیفیت ایک جیسی نہیں ہو سکتی، کسی کا دل شیشے کی طرح صاف ہے اور کسی کا دل پتھر کی طرح سخت ہے۔ ہم یہ قیاس آرائی ضرور کر سکتے ہیں کہ پاکیزہ دل شیشے کی طرح صاف ہو سکتا ہے اور سخت دل پتھر کی طرح۔ بلاشبہ اس بات کا اطلاق حساسیت اور اثر پذیری پر مبنی ہے۔ کون کس حالت میں ہے؟ اس کیفیت کو وہی جانتا ہے جس پر یہ

Read more

گردش ایام

زندگی خدا کا ایک معجزہ ہے جس کے حقائق روز اول سے تاحال دنیا میں موجود ہیں۔ اس عالمگیر سچائی سے واقف ہونے کے لیے خیالات کی مجسمہ سازی سے سوچ و بچار کا چراغ جلا کر اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اور ان تلخ حقائق کا تبادلہ خیال کیا گیا ہے، جو زندگی سے بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ آسمان و زمین کی وسعتوں میں ایک چیز حیرتوں کے نور سے منور ہے، جس کا

Read more