یوں تو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ گرفتاریوں اور جیلوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان تب تک حقیقی سیاستدان نہیں بن سکتا جب تک اس نے جیل کی ہوا نا کھائی ہو۔ ہم نے تاریخ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھر ان کو پھانسی لگتے دیکھا، مگر بھٹو اپنے اندر ایک عظیم قائدانہ صلاحیت رکھتے تھے اور حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندہ کے طور پر ابھرے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جہاں نصرت بھٹو پر ظلم ڈھائے گئے وہیں بے نظیر بھٹو نے بھی مشکلات کا سامنا کیا۔
اسی طرح آصف زرداری نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا۔ 1999 کے مارشل لا کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے میاں صاحبان معاہدہ کر کہ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ اسی طرح پانامہ لیک کے بعد سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو اسی طرح بعد ازاں انھیں پارٹی صدارت سے بھی فارغ کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس نا اہلی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کے خلاف نیب کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا جس کے نتیجہ میں نواز شریف صاحب کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن ر صفدر کو 5 سال قید با مشقت کا فیصلہ سنایا۔
Read more