کرشن چندر کا لازوال افسانہ: ان داتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ آدمی جس کے ضمیر میں کانٹا ہے

(ایک غیر ملکی قونصل کے مکتوب جو اس نے اپنے افسر اعلیٰ کو کلکتہ سے روانہ کیے )

8 اگست 1943 ء کلایو اسٹریٹ، مون شائین لا۔
جناب والا،

کلکتہ، ہندوستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ہوڑہ پل ہندوستان کا سب سے عجیب و غریب پل ہے۔ بنگالی قوم ہندوستان کی سب سے ذہین قوم ہے۔ کلکتہ یونیورسٹی ہندوستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ کلکتہ کا ”سونا گاچی“ ہندوستان میں طوائفوں کا سب سے بڑا بازار ہے۔ کلکتہ کا سندر بن چیتوں کی سب سے بڑی شکار گاہ ہے۔ کلکتہ جوٹ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ کلکتہ کی سب سے بڑھیا مٹھائی کا نام ”رشوگلا“ ہے۔ کہتے ہیں ایک طوائف نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن شومئی قسمت سے وہ اسے پیٹنٹ نہ کرا سکی۔ کیوں کہ ان دنوں ہندوستان میں کوئی ایسا قانون موجود نہ تھا۔ اسی لئے وہ طوائف اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھیک مانگتے مری۔ ایک الگ پارسل میں حضور پر نور کی ضیافت طبع کے لئے دو سو ”روشو گلے“ بھیج رہا ہوں۔ اگر انھیں قیمے کے ساتھ کھایا جائے تو بہت مزا دیتے ہیں۔ میں نے خود تجربہ کیا ہے۔

میں ہوں جناب کا ادنٰی ترین خادم
ایف۔ بی۔ پٹاخا
قونصل مملکت سانڈ وگھاس برائے کلکتہ۔
9 اگست کلایو اسٹریٹ
جناب والا،

حضور پر نور کی منجھلی بیٹی نے مجھ سے سپیرے کی بین کی فرمائش کی تھی۔ آج شام بازار میں مجھے ایک سپیرا مل گیا۔ پچیس ڈالر دے کر میں نے ایک خوبصورت بین خرید لی ہے۔ یہ بین اسفنج کی طرح ہلکی اور سبک اندام ہے۔ یہ ایک ہندوستانی پھل سے جسے ”لوکی“ کہتے ہیں، تیار کی جاتی ہے۔ یہ بین بالکل ہاتھ کی بنی ہوئی ہے اور اسے تیار کرتے وقت کسی مشین سے کام نہیں لیا گیا۔ میں نے اس بین پر پالش کرایا اور اسے ساگوان کے ایک خوشنما بکس میں بند کر کے حضور پر نور کی منجھلی بیٹی ایڈتھ کے لئے بطور تحفہ ارسال کر رہا ہوں۔

میں ہوں جناب کا خادم
ایف۔ بی۔ پٹاخا
10 اگست

کلکتہ میں ہمارے ملک کی طرح راشننگ نہیں ہے۔ غذا کے معاملہ میں ہر شخص کو مکمل شخصی آزادی ہے۔ وہ بازار سے جتنا اناج چاہے خرید لے۔ کل مملکت ٹلی کے قونصل نے مجھے کھانے پر مدعو کیا۔ چھبیس قسم کے گوشت کے سالن تھے۔ سبزیوں اور میٹھی چیزوں کے دو درجن کورس تیار کیے گئے تھے۔ (نہایت عمدہ شراب تھی) ہمارے ہاں جیسا کہ حضور اچھی طرح جانتے ہیں پیاز تک کی راشننگ ہے اس لحاظ سے کلکتہ کے باشندے بڑے خوش قسمت ہیں۔

کھانے پر ایک ہندوستانی انجینئر بھی مدعو تھے۔ یہ انجینئر ہمارے ملک کا تعلیم یافتہ ہے۔ باتوں باتوں میں اس نے ذکر کیا کہ کلکتہ میں قحط پڑا ہوا ہے۔ اس پر ٹلی کا قونصل قہقہہ مار کر ہنسنے لگا اور مجھے بھی اس ہنسی میں شریک ہونا پڑا۔ دراصل یہ پڑھے لکھے، ہندوستانی بھی بڑے جاہل ہوتے ہیں۔ کتابی علم سے قطع نظر انھیں اپنے ملک کی صحیح حالت کا کوئی اندازہ نہیں۔ ہندوستان کی دو تہائی آبادی دن رات غلہ اور بچے پیدا کرنے میں مصروف رہتی ہے۔

اس لئے یہاں پر غلے اور بچوں کی کمی کبھی نہیں ہونے پاتی، بلکہ جنگ سے پیشتر تو بہت سا غلہ دساور کو جاتا تھا اور بچے قلی بنا کر جنوبی افریقہ بھیج دیے جاتے تھے۔ اب ایک عرصے سے قلیوں کا باہر بھیجنا بند کر دیا گیا ہے اور ہندوستانی صوبوں کو ”ہوم رول“ دے دیا گیا ہے۔ مجھے یہ ہندوستانی انجینئر تو کوئی ایجی ٹیٹر قسم کا خطرناک آدمی معلوم ہوتا تھا۔ اس کے چلے جانے کے بعد میں نے موسیو ژاں ژاں تریپ ٹلی کے قونصل سے اس کا تذکرہ چھیڑا تو موسیو ژاں ژاں تریپ ٹلی نے بڑے غور و خوض کے بعد یہ رائے دی کہ ہندوستانی اپنے ملک پر حکومت کی قطعاً اہلیت نہیں رکھتا۔ چوں کہ موسیو ژاں ژاں تریپ کی حکومت کو بین الاقومی معاملات میں ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ اس لئے میں ان کی رائے وقیع سمجھتا ہوں۔

میں ہوں جناب کا خادم
ایف۔ بی۔ پی
11 اگست

آج صبح بولپور سے واپس آیا ہوں۔ وہاں ڈاکٹر ٹیگور کا ”شانتی نکیتاں“ دیکھا۔ کہنے کو تو یہ ایک یونیورسٹی ہے۔ لیکن پڑھائی کا یہ عالم ہے کہ طالب علموں کو بیٹھنے کے لئے ایک بنچ نہیں۔ استاد اور طالب علم سب ہی درختوں کے نیچے آلتی پالتی مارے بیٹھے رہتے ہیں اور خدا جانے کچھ پڑھتے بھی ہیں یا یوں ہی اونگھتے ہیں۔ میں وہاں سے بہت جلد آیا کیوں کہ دھوپ بہت تیز تھی اور اوپر درختوں کی شاخوں پر چڑیاں شور مچا رہی تھیں۔

ف۔ ب۔ پ
12 اگست

آج چینی قونصل کے ہاں لنچ پر پھر کسی نے کہا کہ کلکتہ میں سخت قحط پڑا ہوا ہے۔ لیکن وثوق سے کچھ نہ کہہ سکا کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ ہم سب لوگ حکومت بنگال کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ اعلان کے جاری ہوتے ہی حضور کو مزید حالات سے مطلع کروں گا۔ بیگ میں حضور پر نور کی منجھلی بیٹی ایڈتھ کے لئے ایک جوتی بھی ارسال کر رہا ہوں۔ یہ جوتی سبز رنگ کے سانپ کی جلد سے بنائی گئی ہے۔ سبز رنگ کے سانپ برما میں بہت ہوتے ہیں، امید ہے کہ جب برما دوبارہ حکومت انگلشیہ کی عملداری میں آ جائے گا تو ان جوتوں کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہو سکے گا۔

میں ہوں جناب کا وغیرہ وغیرہ۔
ایف۔ بی۔ پی

13 اگست

آج ہمارے سفارت خانے کے باہر دو عورتوں کی لاشیں پائی گئی ہیں۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتی تھیں۔ شاید ”سکھیا“ کی بیماری میں مبتلا تھیں ادھر بنگال میں اور غالباً سارے ہندوستان میں ”سکھیا“ کی بیماری پھیلی ہوئی ہے۔ اس عارضے میں انسان گھلتا جاتا ہے اور آخر میں سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو کر مر جاتا ہے۔ یہ بڑی خوفناک بیماری ہے۔ لیکن ابھی تک اس کا کوئی شافی علاج دریافت نہیں ہوا۔ کونین کثرت سے مفت تقسیم کی جا رہی ہے۔ لیکن کونین میگنیشیا یا کسی اور مغربی دوا سے اس عارضے کی شدت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دراصل ایشیائی بیماریوں کو نوعیت مغربی امراض سے مختلف ہے۔ بہت مختلف ہے، یہ اختلاف اس مفروضے کا بدیہی ثبوت ہے کہ ایشیائی اور مغربی دو مختلف انسان ہیں۔

حضور پر نور کی رفیقۂ حیات کے باسٹھویں جنم دن کی خوشی میں بدھ کا ایک مرمر کا بت ارسال کر رہا ہوں۔ اسے میں نے پانسو ڈالر میں خریدا ہے۔ یہ مہاراجہ بندھو سار کے زمانے کا ہے اور مقدس راہب خانے کی زینت تھا۔ حضور پرنور کی رفیقۂ حیات کے ملاقاتیوں کے کمرے میں خوب سجے گا۔

مکرر عرض ہے کہ سفارت خانے کے باہر پڑی ہوئی لاشوں میں ایک بچہ بھی تھا جو اپنی مردہ ماں سے دودھ چوسنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اسے ہسپتال بھجوا دیا ہے۔

حضور پر نور کا غلام
ایف۔ بی۔ پی
14 اگست

ڈاکٹر نے بچے کو ہسپتال میں داخل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بچہ ابھی سفارت خانہ میں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ حضور پر نور کی ہدایت کا انتظار ہے۔ ٹلی کے قونصل نے مشورہ دیا ہے کہ اس بچے کو جہاں سے پایا تھا۔ وہیں چھوڑ دوں۔ لیکن میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ اپنے حکومت کے صدر سے مشورہ کیے بغیر کوئی ایسا اقدام کروں جس کے سیاسی نتائج بھی نہ جانے کتنے مہلک ثابت ہوں۔

ایف۔ بی۔ پی
16 اگست

آج سفارت خانے کے باہر پھر لاشیں پائی گئیں۔ یہ سب لوگ اسی بیماری کا شکار معلوم ہوتے تھے۔ جس کا میں اپنے گزشتہ مکتوبات میں ذکر کر چکا ہوں۔ میں نے بچے کو انہی لاشوں میں چپکے سے رکھ دیا ہے۔ اور پولیس کو ٹیلی فون کر دیا ہے کہ وہ انھیں سفارت خانے کی سیڑھیوں سے اٹھانے کا بندو بست کرے۔ امید ہے آج شام تک سب لاشیں اٹھ جائیں گی۔

ایف۔ بی۔ پی
17 اگست

کلکتہ کے انگریزی اخبار ”سٹیٹسمین“ نے اپنے افتتاحیہ میں آج اس امر کا اعلان کیا ہے کہ کلکتہ میں سخت قحط پھیلا ہوا ہے۔ یہ اخبار چند روز سے قحط زدگان کی تصاویر بھی شائع کر رہا ہے۔ ابھی تک وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فوٹو اصلی ہیں یا نقلی۔ بظاہر تو یہ فوٹو سوکھیا کی بیماری کے پرانیوں کے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن تمام غیر ملکی قونصل اپنی رائے ”محفوظ“ رکھ رہے ہیں۔

ایف۔ بی۔ پی

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8 9