وقت کم مقابلہ سخت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کا تذکرہ ہے جب انٹر کے پرچے دینے کے بعد فراغت ہی فراغت تھی۔ گرمیوں کے کوفت سے بھرپور لمبے دن تھے جو کسی صورت کاٹے نہیں کٹتے تھے۔ اب ہم عمیرہ احمد کی ہیروئن تو تھے نہیں کہ نیم کے گھنے سائے میں آنکھیں موندے پڑے رہتے یا چوپائے کی جملہ نسلوں کے جانور بیچ کے میٹھی نیند کے مزے لے سکتے اس لئے گرمیوں کی دوپہر خصوصآً بہت بری لگتی تھی۔ ایسی ہی ایک دوپہر کا یہ قصہ ہے۔

ہم اپنے تندور ہوئے کمرے میں آگ اگلتے گدے پر پڑے غصے سے چھت کو گھور رہے تھے۔ لائٹ تھی اور پنکھا چل رہا تھا اس لئے روایت کے عین مطابق گھوں گھوں کی آواز کے ساتھ گھومتے پنکھے کے پروں کو گھورنے سے قاصر تھے۔ البتہ سین کی مناسبت سے ماتھا پسینہ کے قطروں سے بھرا پڑا تھا۔ مثبت رپورٹنگ کا رواج ابھی عام نہیں تھا۔ اس لئے پسینے کے قطروں کو بھی نمکین پانی کی ننھی منی چمکتی بوندوں جیسی مہذب تشبیہ دینا ممکن نہ تھا۔

ویسے اگر تب یہ رواج عام ہوتا تو ہم روایت سے چار ہاتھ بڑھ کے مثبت رپورٹنگ کرتے اور پسینے کو بھی ماتھے کے مساموں سے پھوٹتی مسرت و انبساط کی فراوانی قرار دے ڈالتے۔ خیر ایسے ہی بے تکے خیال اس وقت بھی دماغ میں گھوم رہے تھے جب ہی تو یہ بات دماغ سے نکل چکی تھی کہ چچی اور امی بازار گئی ہیں اور بچوں کی پوری فوج کی ذمہ داری ہمارے ناتواں ( اصل مراد چربی کے بوجھ سے ڈھلکتے ) کندھوں پر ہے۔ ایسے میں اچانک آنے والی دھینگا مشتی کی آوازیں خیالات کی دنیا سے اوقات میں واپس لے آئیں۔

اس بار دنگل کے لئے میدان چچی کی بیٹھک قرار پایا تھا اور کھلاڑیوں میں گھر کے بچوں کے علاوہ پڑوسیوں کے، ان کے گھر آئے مہمانوں اور خدا جانے کس کس سے ادھار لئے گئے بچے سبھی شامل تھے۔ خیر ہماری شکل دیکھ کے آدھی سے زیادہ قوم تو بیٹھک کے بیرونی دروازے سے رفو چکر ہو گئی البتہ باقیوں نے ہماری قیام امن کی اپیل کو اتنی ہی گھاس ڈالی جتنا کہ عمران خان فرانس کے وزیر اعظم کو ڈالتا ہے۔ اب جو صورتحال کا جائزہ لیا۔ اچھا یاد آیا بخدا ہمارا یقین کیجیئے کرن جوہر کی فلمیں دیکھنے سے پہلے سے ہمارے اندر یہ نیچرل ٹیلنٹ موجود ہے کہ پریشانی کی صورت میں بے اختیار منہ سے ہنسی نکلتی ہے اور اگر اسے روکنے کی کوشش کریں تو یہ باہر نکلنے کے لئے اور بھی مچل اٹھتی ہے۔ اب بھی یہی ہوا کہ کمرے کی حالت، اس کے سبب چچی کے ممکنہ غصے اور امی کے ہاتھوں اپنی تواضع کا تصور کرتے ہی بے اختیار ہنسی کا فوارہ منہ سے چھوٹ گیا۔

ادھر بچے جو ایک لحظے کے لئے سہمے تھے، ہماری ہنسی کو ”کیری آن“ کا سگنل سمجھ کے زیادہ شدت سے اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے۔ حالت کچھ یوں تھی کہ چچی کی ایک بیٹی اور پھوپھی کی صاحب زادی تو دنیا و مافیہا سے بے خبر سب خواتین کے کمروں سے برآمد شدہ میک اپ پر ہاتھ صاف کر رہی تھیں۔ ہمارا چھوٹا بھائی اور چچی کے دو لڑکے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے اور اب گالیوں کا اسٹاک ختم ہوجانے کے سبب محض ”تو“، ”نہیں تو“، ”تو تو تو“ کہنے کا سلسلہ جاری تھا۔

آثار بتاتے تھے کہ گالی گفتار کی نوبت ہاتھا پائی سے فرصت پانے کے بعد آئی تھی۔ اب ہماری ہنسی سے تینوں کو ہی تقویت ملی تھی اور ”تو۔ تو“ کی آوازوں میں زیادہ شدت آ گئی تھی۔ ایک کونے میں سر دیے پھوپھی کے سب سے بڑے نمونے کو دریافت کیا جو کسی کہانی کی کتاب میں غرق تھے، حالانکہ عمر میں سب سے بڑا ہونے کے سبب ان کی یہ ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات میں ہم کو فوری مطلع کریں گے۔ اس کے علاوہ تماش بینوں میں ہماری اماں اور چچی کا ایک ایک نمونہ شامل تھا۔

صورتحال کی سنگینی اس وقت زیادہ شدت سے محسوس ہوئی جب یہ سمجھ آیا کہ معرکے کا آغاز ایک دوسرے کی ہوم ورک کاپیاں پھاڑنے سے کیا گیا تھا۔ اسی سے یاد آیا کہ سب بچوں کو گرمیوں کی چھٹی کا ہوم ورک ختم کروانے کی ذمہ داری ہماری تھی اور آدھی چھٹیاں گزرنے کے باوجود بھی ہوم ورک کو کسی نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔ آج یہ حسین اتفاق ہوا ہی تھا کہ ہوم ورک کاپیاں بستوں سے برآمد ہوئیں تو بھی ان کا انجام دیکھ کے اب رونا آ رہا تھا۔

پہلے تو ہم نے سب بچوں کو چیخ چلا کے چپ کروانے کی کوشش کی۔ ویسے آپس کی بات ہے، تینوں کے منہ سے فراٹے سے نکلتی گالیاں دیکھ کے دل ہی دل میں ایک کمینی سی خوشی بھی ہوئی تھی۔ واہ میرے شیر بھائی۔ اگر کسی سے جھگڑا ہوا تو منہ چھپا کے نہیں بیٹھیں گے بلکہ ایسی کھری کھری سنائیں گے اور گالیوں سے نوازیں گے کہ دشمن دم دبا کے بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا۔ شاید انہی خیالات کے سبب ہمارے چہرے پر امڈتی ہنسی تھی کہ اب تک حالت سکون میں کہانی میں غرق بھائی صاحب اور میک اپ پر صاف کرتی کزنز بھی اب اپنی ”وکیبلری“ کی وسعت کا ثبوت دینے میں مصروف ہو گئیں۔

اس کے آگے کی داستان خاصی دکھ بھری اور آہوں اور سسکیوں سے بھرپور ہے کیونکہ اماں اور چچی کب خود سے دروازہ کھول کے گھر میں داخل ہوئیں ہم کو معلوم نہیں ہو سکا تھا۔

گزشتہ روز اسمبلی میں اسد عمر کی ”وکیبلری“، عمران خان کی تجارتی فورم پر دوران تقریر احسن اقبال کے بارے میں تبصرہ اور اس سے قبل فیاض چوہان کی جانب سے اپنی زباندانی کا شاندار ثبوت دیکھ کے یہ قصہ بے حد یاد آیا کہ جب وقت کم اور مقابلہ سخت والی کییفیت تھی۔ سب کزنز گالیاں دینے کے ساتھ ساتھ کن انکھیوں سے ہماری جانب بھی داد طلب نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور پرزہ پرزہ ہوم ورک کاپیاں ہوا کے دوش پر اڑتی پھر رہیں تھیں۔
ڈس کلیمر: دونوں واقعات میں اتفاق بالکل نہیں، بس چونکہ ہم کو اچانک یہ قصہ یاد آ گیا، اس لئے سوچا کہ آپ کے ساتھ بھی شیئر کریں، بس اتنی سی بات تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 18 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi