کرونا بمقابلہ تعلیمی سرگرمیاں۔ آن لائن کلاسز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیم و تحقیق کے جہاں اور بہت سے مقاصد ہیں، وہاں ان دونوں نیک اعمال کا ایک نہایت اہم اور بڑا مقصد انسان کو ان دیکھے، ان چاہے، اور بالکل ہی مختلف قسم کے حالات کے لئے تیار کرنا ہے۔ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال نے پوری دنیا کو ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور دنیا بھر کی اقوام کو، اداروں کو، ترقی کو، سائنس کو، اور ٹیکنالوجی کے معراج کو ایک بار تو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ مگر میرا یہ بھی ایمان ہے، کہ انسانی ذہانت، سائنسی تحقیق، منطق، اور تجربات جلد اس بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نکال لیں گے۔ البتہ اس سارے معاملے سے مستقبل میں سائنسی انداز اور ترجیحات یقیناً بدل جائیں گے۔

زندگی کے اکثر شعبے مشکلات کا شکار ہیں، اور کچھ تو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دنیا تو اس دہائی میں ترقی کی نئی راہیں دریافت کرنے چلی تھی، اور ہر شعبہ زندگی میں انسانی ترقی کے بلند و بانگ دعوے ہو رہے تھے، مگر اچانک سے نمودار ہونے والی مصیبت نے سب کچھ الٹ دیا۔ کہاں تو نئے سیاروں کی تلاش میں نکلنے والے خلائی جہاز اڑنے تھے، الٹا مسافروں کو لے کے جانے والے جہاز زمین پر ٹھہر گئے ہیں۔ کھیل کے میدان خالی، ٹور ازم ایک خواب، اجتماعی محفلیں ماضی کی کہانی۔

ہر طرف سے ایک ہی آواز و خواہش، کہ ”چلے بھی جاؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے“ مگر اس وائرس نے ایسے بھلا کہاں جانا؟ فی الحال تو اس وائرس کی وجہ سے گلشن کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے، دکانیں، پارکس، پلازے، جہاں سب پہ تالے لگ گئے، وہیں دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کو بھی اس وبا کی وجہ سے اپنے تمام امور ایک بار جامد کرنے پڑ گئے۔ پاکستان میں اکثر تعلیمی ادارے بشمول اعلیٰ تعلیم کی درسگاہوں کے، 31 مارچ سے اچانک بند ہو گئے۔

(سندھ میں البتہ اس سے کچھ عرصہ پہلے بند ہو گئے تھے ) ۔ طلبا، اساتذہ، اور انتظامی عہدیداران اس کے لیے ہر گز تیار نہیں تھے۔ مگر کچھ ہی دنوں میں کچھ حد تک معاملہ فہمی، کے بعد پالیسیز بننی شروع ہوئیں۔ ظاہر ہے کاروبار زندگی کو مکمل طور پر روکنا، اداروں کو تالے لگانا، چلتے ہوئے نظام کو بریک لگا کے روک دینا، بہت مشکل، تکلیف دہ، اور مسائل میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا تھا۔

اس وقت دنیا بھر کی یونیورسٹیز اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح سے نبھانے کے لئے کٹھن قسم کے حالات سے دو چار ہیں۔ زندگی کا پہیہ چلانے کی لیے، اداروں کو مشکلات سے بچانے کے لیے، لوگوں کو مایوسی کی کیفیت سے نکالنے کے لیے، اور وقت کی قدرو قیمت کا احساس کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں نے سماجی فاصلہ، لاک ڈاؤن، سمارٹ لاک ڈاؤن، ہرڈ امیونٹی، آن لائن سرگرمیاں، اور اس طرح کی دیگر اصطلاحات بار بار استعمال کیں۔ اسی وجہ سے تعلیمی اداروں بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے اداروں نے آن لائن کلاسز کے آپشن کو با عمل بنانے کی کوشش کی۔ اور اس کے بارے میں طلبا، اساتذہ اور اپنے انتظامی شعبہ جات کو تیار ہونے کے لیے کہا گیا۔

پاکستان کی یونیورسٹیز کے طلبا کا پہلا رد عمل فطری طور پر اس کے مخالف تھا، لہٰذا کافی شور مچایا گیا، (آئین نو سے ڈرنا، طرز کہن پہ اڑنا۔ منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں ) اس سلسلے میں سوشل میڈیا پہ ٹرینڈ بھی چلائے گئے، اداروں کے سربراہوں کو ای۔ میل، اور دوسرے ذرائع سے پیغامات بھیجے گئے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو وائس چانسلرز کے ساتھ میٹنگ کرنی پڑی، اور طلبا کو درپیش مسائل نہ صرف زیر غور آئے، بلکہ ان کی بتائی ہوئی مشکلات کا حل نکالنے کے لیے بھی کافی اقدامات کی یقین دہانی ہوئی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری یونیورسٹیز میں زیادہ تر طلبا کا تعلق دیہات سے ہے، اور ان کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت یا تو موجود نہیں، اور اگر ہے تو پھر اس کی سپیڈ، اور ڈیٹا لمٹ کی وجہ سے وہ زیادہ با عمل نہیں۔ بہت سوں کے پاس لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کی سہولت بھی نہیں۔ اس کے بعد دوسرا مسئلہ طلبا اور ان کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بھی اس سب کے لیے تیار نہ ہونا تھا۔ ذہنی طور پر بھی اور اس جدت کی وجہ سے بھی۔ بہت سے لوگ ابھی تک اس فاصلاتی تعلیم کے آپریشنز کو اور اس کی صحیح سپرٹ کو سمجھ نہیں سکے۔

ایک تو یہ لفظ ”آن لائن“ بذات خود الجھاؤ (confusion) کا باعث رہا۔ کیونکہ یہ بنیادی طور پر آن لائن تعلیم نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد اساتذہ اور طلبا کے درمیان رابطہ جوڑنا، مضامین، عنوانات، سوال جواب، اور خیالات کا تبادلہ ممکن بنانا تھا۔ آج کل الیکٹرک رابطوں کے لئے بہت سے ذریعے موجود ہیں، جن میں ای۔ میل، واٹس ایپ گروپس، میسنجرز، گوگل کلاس روم، اور ان کے ساتھ ساتھ لائیو سیشن کے لیے مائکروسافٹ ٹیم، جٹسی، زوم جیسے بہت سی ایپلیکیشنز موجود ہیں۔ سرکاری سطح پر ٹیلی ویژن کو بھی بنیادی تعلیم لیے استعمال میں لایا گیا۔

یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ ان وسائل سے مکمل ہونے والی تعلیم (آپ چاہے اس کو آن لائن، آف لائن، یا فاصلاتی تعلیم یا جو بھی نام دیں ) کبھی بھی بالمشافہ (face to face) تدریس کا متبادل نہیں ہے۔ اس میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ کا نہ ہونا، ایک بے ترتیب قسم کا ٹائم ٹیبل، اساتذہ کی ٹریننگ، کلاس کا معمول، سسٹم کی ہم آہنگی، اور دیگر اس طرح کے مسائل موجود ہیں۔ چلیں، کسی نا کسی طرح پڑھا ہی لیں گے، اور کورس مٹیریل بھی پہنچا دیں گے، مگر امتحان اس سے بھی بڑا چیلنج، اس سے بھی زیادہ پیچیدہ عمل۔ سمیسٹر سسٹم میں امتحانی نظام ایک مستقل اور متحرک قسم کی مشق ہے۔ اسی وجہ سے، اور اس طرح کی تدریسی عمل پہ بیشمار میمز بھی بنائی گئیں، کہ آن لائن پڑھ کے کس طرح کے انجینئر یا ڈاکٹر بنیں گے، اور ان کی کارکردگی کتنی بری ہو گی۔

لیکن ان تمام تر نکات اور جائز اعتراضات کے باوجود میں تعلیمی سر گرمیوں کے تسلسل کے حق میں ہوں۔ جیسا کہ میں نے مضمون کے آغاز میں عرض کیا، کہ تعلیم کا ایک بہت بڑا مقصد ہی اچانک سے پیش آنے والے نئے طرز کی مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ نوجوان ”No online classes۔ ۔ ۔“ کا ٹرینڈ چلانے کی بجائے علمی اور عملی میدان کے ٹرینڈ سیٹرز بنیں۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تو بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں سے وابستہ لوگ نہ صرف اپنی، بلکہ دنیا کی تبدیلی کے علمبردار ہیں۔

معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی کے ذمہ دار ہیں۔ تعلیم و تحقیق کے یہی تو وہ مراکز ہیں جنہوں نے ارتقا کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ تعلیم، تحقیق، جستجو، کوشش، سائنسی انداز فکر، سماجی اور معاشرتی توازن جتنا آج درکار ہے، ماضی قریب میں کبھی بھی نہیں تھا۔ علم و عمل اور سائنسی تحقیق کے انکاری پہلے ہی یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ”سائنس سے اعتبار اٹھ گیا یا سائنس کا پول کھل گیا“ ۔ تو ان حالات میں، ہم آنکھیں بند کر لیں؟

لیبارٹریز کو تالے لگا دیں؟ سوچ، فکر، تجسس، نظریات سب پہ پابندی؟ سائنس کو اپنے مزید کمالات دکھانے کا اس سے اچھا موقع کب ملے گا؟ سوشل سائنسز کے لئے اس مایوس اور خوفزدہ معاشرے کے سماجی پہلو جانچنے کا، ان کو پرکھنے کا، اور اس ساری کیفیت میں بہتری کا سامان کرنے کے لیے یہی تو وقت ہے۔ ٹھیک ہے فیس ٹو فیس رابطہ نہیں ہے تو کیا ہوا، رابطہ تو ہے ناں۔ انٹرنیٹ ہے، تو کچھ وقت کے لئے فیس بک، نیٹ فلکس، ارطغرل غازی سے معذرت کر کے کچھ میڈیکل سائنس کی بات ہو جائے، موجودہ حالات میں فزکس سے کیا فائدہ ممکن ہے؟

انجینئرنگ سے کیا کیا نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں؟ آئیں ناں، بات کرتے ہیں، مباحثے کرتے ہیں، اندھیرے میں چھپ کر کیوں بیٹھیں، روشنی کی طرف راستہ تلاش کرتے ہیں۔ دوائی نہیں بنا سکتے تو کیا ہوا، وینٹیلیٹرز بنانے کی کوشش کرتے ہیں، سینی ٹائزر بنا لیتے ہیں۔ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی تدابیر کر سکتے ہیں، سافٹ ویئرز اور کمپیوٹر ٹیکنالوجیز سے جغرافیائی میپنگ (geographic mapping) تو آسانی سے ممکن ہے۔ دنیا بھر کے عالم اور محقق اس بیماری پہ قابو پانے کی کوشش میں ہیں۔

خیر بانٹنے والی سائنس ہمیشہ سے ضروری اور اب تو اور بھی زیادہ اہم۔ آج کے حالات کے تناظر میں، جب کسی شاپنگ مال کا یا دفتری عمارت کا خود کار دروازہ، سینسر کی بدولت آنے والے کا اندازہ کر کے خود سے کھلتا ہے، تو اس سائنسی عمل کو خراج تحسین پیش کرنا بنتا ہے۔ جب پانی کے سینسر والے نلکے کو آپ کے ہاتھوں کی موجودگی کا علم ہو اور وہ پانی مہیا کرنا شروع کرے، تو اس آئیڈیا کے خالق کو جھک کے سلام کرنا بنتا ہے۔ ( اور یہ تو کرونا کے تناظر سے ہٹ کے بھی ایک اچھا عمل ہے، کہ پانی کو ضائع ہونے سے بھی تو بچاتا ہے ) ۔

طلبا اپنے وقت کی قیمت کا اندازہ کر لیں، اور سمجھ لیں کہ یہ عام حالات نہیں ہیں، پوری دنیا وبا کی زد میں ہے۔ تھوڑا سا ”اوکھا“ ہونا ہی پڑے گا / ہونا پڑا ہے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی نے اگلے سال کی گرمیوں تک آن لائن تدریسی انتظامات کیے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی سماجی فاصلوں میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ وہ چھوٹے گروہوں مثلاً ریسرچ گروپس وغیرہ کو تو بالمشافہ تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں کی اجازت دینے پہ تو غور کر رہے ہیں مگر بڑے پیمانے پہ فاصلاتی تعلیم ہی رائج رہنے کا امکان ہے۔

موجودہ دور کے حالات میں صرف ایک بات یقینی ہے، کہ ہمارا مستقبل قریب کافی غیر یقینی ہے۔ اسی لیے یہ فاصلاتی تعلیم، تعلیمی اداروں کی خواہش نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ ہماری زندگی کا جب ہر پہلو کرونا سے متاثر ہوا ہے تو ظاہر ہے تعلیمی سرگرمیوں نے بھی ہونا تھا۔ جب ہم نے اپنے روز مرہ کے باقی معاملات ایڈجسٹ کر لیے ہیں، تو اس عمل کو ایڈجسٹ/ قبول کرنے میں اتنا شور کیوں؟ ایک اور بات بھی اٹل ہے، کرونا سے پہلے کی زندگی، کرونا کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ والی زندگی، اور کرونا کے بعد والی زندگی، سب میں نمایاں فرق ہونا ہے۔

مشکلیں تو آئیں گی، مصیبتیں ڈرائیں گی، ضد پہ تم اڑے رہو، جذبے سے جڑے رہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعید احمد بزدار کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *