منظور پشتین کو پیار سے منا لیں

جائز حقوق نا ملنے پر 31 اگست 2014 کو چاچا کے گھر سے نکل گیا۔ منزل معلوم نہیں تھی۔ کہاں جاؤں گا؟ کہاں رہوں گا؟ کیا کروں گا؟ دن کہاں گزراوں گا؟ رات کیسے بسر ہوگی کچھ پتا نہیں تھا۔ مگر بغاوت کر چکا تھا دہلیز پار کر لی تھی، میٹرو میں بیٹھا دو چار چکر لگائے تنگ آ کر قرطبہ چوک اتر گیا۔ دکانوں کو دیکھتے پیدل چلتے جانے کب شہدا مسجد آ گئی مغرب کی آذان ہو رہی

Read more

ماؤں کی سنائی داستانیں اور آزاد میڈیا کی نوٹنکی

مائیں جو کہانیاں ہمیں بچپن میں سنایا کرتی تھیں ان میں اکثر ایسے مقامات آتے تھے جہاں کردار بیک وقت ہنسنے یا رونے کی کیفیت سے گزرتے تھے۔ منگل کی سہ پہر سے میرا بھی کچھ ایسا ہی عالم ہے۔ نوجوانوں کی ایک تحریک اٹک کے پار سے اُٹھی تھی۔ گزشتہ اتوار کو اس نے میرے شہر لاہور کے تاریخی موچی دروازے میں ایک جلسہ کا اہتمام بھی کیا۔ اس جلسے کو بہت بھونڈے انداز میں روکنے کی کوشش ہوئی۔

Read more

افغان دوستوں سے درخواست: پشتون تحریک کو یرغمال مت بنائیں

منظور پشتین کے احتجاج شروع کرنے کے کچھ دن بعد ہمسایہ ملک افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ کرکے پشتون تحریک کے کردار کو مشکوک بنا دیا۔ افغان صدر نے نہ صرف اس تحریک کا کریڈٹ منظور پشتین سے لے کر اپنے سر لیا بلکہ یہ تاثر بھی دیا کہ پشتین نے انہی کے خواہش پر یہ تحریک شروع کی ہے۔ منظور پشتین نے بار بار یہ بات واضح کہ ہے کہ ان

Read more

کیا ہم بے حس ہو چکے ہیں؟

منظور پشتین کے سماجی شعور کی جڑیں شاید ان کی پشتون شناخت میں ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پشتون ساتھیوں کی تکالیف سے متاثر ہوں جو انہوں نے اپنے بچپن سے دیکھی ہیں۔ مگر جو سوالات وہ پوچھ رہا ہے وہ ہم سب کے لئے اہم ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ سے جس مکالمے نے جنم لیا ہے اس کا تعلق ہماری ریاست کے اپنے شہریوں سے جابرانہ روئے سے ہے اور ہماری ریاست کے کردار، ترجیحات اور اقدامات

Read more