منظور پشتین کو پیار سے منا لیں
جائز حقوق نا ملنے پر 31 اگست 2014 کو چاچا کے گھر سے نکل گیا۔ منزل معلوم نہیں تھی۔ کہاں جاؤں گا؟ کہاں رہوں گا؟ کیا کروں گا؟ دن کہاں گزراوں گا؟ رات کیسے بسر ہوگی کچھ پتا نہیں تھا۔ مگر بغاوت کر چکا تھا دہلیز پار کر لی تھی، میٹرو میں بیٹھا دو چار چکر لگائے تنگ آ کر قرطبہ چوک اتر گیا۔ دکانوں کو دیکھتے پیدل چلتے جانے کب شہدا مسجد آ گئی مغرب کی آذان ہو رہی
Read more



