جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!


اس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے پہلے یہ دیکھیں اس‘ مشرف بہ مغرب ’کی تعریف کیا ہے؟ ان کے پورے مضمون سے عیاں ہے۔۔۔ اسلام کی ایسی تشریح جو مغرب کو قابل قبول ہو وہی۔۔۔ مشرف بہ مغرب۔۔۔ کی تعریف ہے۔ موجودہ دور میں سوائے جہاد کے ہم نہیں سمجھتے ایسی کون سی اسلامی تشریح کی ضرورت پیش آئی ہے جسے اس طرح پیش کرنا ضروری ہو گیا ہے کہ مغرب بھی خوش ہو جائے اور اسلامیت بھی برقرار رہے۔ مثلاً

تصور حکمرانی۔ سیاست میں جمہوریت کا تصور مغرب کا دیا ہوا ہے لیکن بہت سے مسلم ممالک نے مغربی طرز جمہوریت کو اختیار کیا ہے اور یہ نظام۔ لولا لنگڑا ہی سہی۔ مسلم ممالک میں رائج ہے۔ اسی لئے مغرب کو اسلامی سیاست یا طرز حکومت کی ایسی کسی تشریح کی ضرورت ہی نہیں جو اس کے جمہوری مفہوم کے قریب تر ہو۔ چنانچہ کسی مسلم مفکر نے ایسی کوئی تشریح پیش ہی نہیں کی کہ اسلامی سیاست کو مشرف بہ مغرب کروایا جائے! اس کے علاوہ سمجھنے کی بات یہ ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ اسلام میں شورائیت یعنی باہم مشورہ سے حکومت طے کرنے کا اصول چلا آ رہا ہے جو بہت حد تک اسلامی سیاست کے قریب ہے۔ اس پر دو رائے ضرور ہو سکتی ہیں کہ اسلامی کسی مادر پدر آزاد جمہوریت کاقائل نہیں اور اسے احکام خداوندی کا تابع بنانا چاہتا ہے لیکن عوام سے مشورہ یا ان کی رائے لینے کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ یہی مغربی جمہوریت کا بنیادی عنصر ہے ’اس پر کئی بہترین کتب اسلامی ذخیرہ کتب میں موجود ہیں اور قدیم علماء نے کافی معلومات جمع کر دی ہیں۔

عبادات۔ اکثر مغربی و امریکی ممالک میں مسلمانوں کو اپنی عبادات ادا کرنے کی پوری اجازت ہے ’وہ مسجد بنا سکتے ہیں اور جمع ہو کر جمعہ و عیدین کی اجتماعی عبادات ادا کر سکتے ہیں۔ کسی مسلم مفکر کو اسلام کی ایسی تشریح کی کوئی ضرورت نہیں (نہ ہی کسی نے کی ہے ) جن سے اسلامی عبادات پر زد پڑے اورنہ مغرب کی اکثریت کسی خاص مذہب کے طرز عبادت کو ختم کر کے کوئی نئی رسم عبارت جاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ مذہبی آزادی۔۔۔ سیکولرو لبرل مغرب کا تسلیم شدہ اصول ہے!

مسلم کلچر اور سماجی ضرورتیں۔ ۔ ۔ بہت سے مغربی ممالک میں مسلمان اپنے کلچر اور تہذیب کو زندہ رکھے ہیں ’وہ حلال ذبیحہ کھاتے‘ اپنے مذہبی تہوار مناتے اوراپنے روایتی لباس پہنتے ہیں اور اس میں کوئی مغربی حکومت روڑے نہیں اٹکاتی۔ نہ ہی کسی مسلم مفکر نے اسلامی کلچر کی ایسی کوئی تشریح کی ہے ’جس میں یہ کہا گیا ہو‘ اگر تم مغرب میں رہتے ہو تواسلامی ذبیحہ نہ کھاؤ یا ’عربی زبان نہ سیکھو‘ اپنی مذہبی کتب کا مطالعہ نہ کرو یا اپنی نئی نسل کو جو مغرب میں پیدا ہوئی ہے اسے اپنے مذہب و کلچر کی تعلیم نہ دو وغیرہ۔ ۔ ۔ جس سے مغرب خوش ہو یا اسلام کا مشرف بہ مغرب تصور نکلتا ہو۔ (ہاں یہ پابندیاں آنجہانی سویت یونین میں تھیں یا موجودہ دور کے سوشلسٹ چین میں ضرور ہیں۔) علی ہذ القیاس دیگر موضوعات بھی ہو سکتے ہیں۔

تصورجہاد۔ ۔ ۔ مغرب اور مسلمانوں کا جو کچھ اختلاف ہے۔۔۔ وہ تصور جہاد پر ہے جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے مگر کچھ تفصیل یہاں بھی دیکھ لیں۔ فاروقی صاحب یا ان کے ہم خیال چاہتے ہیں مسلم اقوام۔ ۔ ۔ مغربی ممالک کے ساتھ جہاد۔۔۔ اور شاید ’اقدامی جہاد‘ ۔۔۔ کریں اور مغرب میں اسلامی حکومت قائم کریں۔ ہم سا کوئی نالائق پوچھے۔۔۔ حضور! پچاس سے اوپر مسلم ممالک میں اسلامی حکومت ہے نہیں اور آپ دیار غیر میں اسلام نافذ کرنے کی دعوت دے رہے ہیں ’جہاں مسلمانوں کی اکثریت بھی نہیں!

(ایسے تلخ مگر حقیقی سوالات کرنے والے پر ان کا پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے آپ اسلام کو۔۔۔ مشرف بہ مغرب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں‘ آپ مغرب سے مرعوب ہیں اسی لئے اس کی حمایت میں دلیلیں دے رہی ہیں) اورمسلمانوں کی ناکامی کے لئے عذر یہ تراشتے ہیں۔ ۔ ۔ کیونکہ مسلم ممالک میں مغرب زدہ طبقہ۔۔۔ اشرافیہ میں شمار ہوتا اور صاحب اقتدار ہے (اسی لئے مغرب در پردہ ان کی مدد بھی کرتا ہے) اس لئے اسلامی حکومت قائم ہونے نہیں دیتا۔

لیکن یہ عذر تراشتے وہ یہ بھول جاتے ہیں ’صرف مغرب کی مدد ہی نہیں‘ مسلمان فرقوں میں اس درجے تقسیم ہیں کسی ایک پر اتفاق ہی نہیں کر سکتے تو حکومت کیا بنائیں گے ’اسلامی نظام (فقہ) کیسے نافذ کریں گے اور باقی مسلمانوں و غیر مسلم کے حقوق کے ضامن کیسے بنیں گے! یہ اتنا طویل موضوع ہے اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں آئیے اس کو مختصراً دیکھتے ہیں۔

مسلم ممالک میں مغرب زدہ طبقے کی پیدائش پر۔۔۔ فاروقی صاحب نے (اس مضمون میں نہیں ’ان کے دیگر مضامین میں) سرسید احمد خان کو خوب مورد الزام ٹھہرایا اور لتاڑا ہے۔ ان کی دانست میں برصغیر میں مغربیت کا بیج سرسید احمد خان نے بویا ہے جو آج ہمیں اسلام سے دور کر رہا ہے۔ نہ سر سید ہوتے نہ ہی ان کا بنایا ہوا انگریزیت پر مبنی۔۔۔ علی گڑھ یونی ورسٹی کا تعلیمی نظام ہوتا اور نہ ہی آج ہمیں مغربیت کی شکل دیکھنے کو ملتی۔

ہم آسانی سے اسلامی حکومت قائم کر لیتے۔ اب انہیں کون سمجھائے‘ انگریزی پڑھنے والے مولانا محمد علی جوہر ’حسرت موہانی‘ اقبال اور محمد علی جناح نہ ہوتے تو کیسے پاکستان بنتا ’کیونکر آپ اسلامی حکومت کا یہاں خواب دیکھتے۔ پھر آٹھ سو سال سے اوپر برصغیر پر مسلمانوں (مغلوں و دیگر مسلم بادشاہوں) کی حکومت قائم رہی آپ کو کس نے روکا تھا۔۔۔ اسلامی حکومت قائم کرنے سے‘ کر لیتے مگر نہیں کر سکے!

دوئم۔ ایک نکتہ آفرینی فاروقی صاحب نے یہ بھی کی ہے۔ ۔ ۔ جہاد۔۔۔ دفاعی نہیں ہوتا بلکہ۔۔۔ اقدامی بھی ہوتا ہے اور اسے صرف دفاعی کہنے والے۔ اسلام کومشرف بہ مغرب کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ دفاعی جہاد سے ان کی مراد یہ ہے ایک گروہ اپنے علاقے میں اپنے مذہب و روایات کے تحت زندگی گزار رہا تھا یکایک دوسرا غیر مسلم گروہ اس پر حملہ آور ہوا تاکہ اسے برباد کردے ’اب یہ فریق اپنے دفاع میں جو جنگ لڑے گا یا اپنے مذہب و روایات و عوام کو بچانے کے لئے جو جنگ لڑی جائے گی اسے دفاعی جہاد کہتے ہیں۔ اقدامی جہاد سے مراد۔ ۔ ۔ مسلم ریاست کو آگے بڑھ کر کافر یا غیر مسلم ریاستوں پر حملہ کرنا چاہیے اور وہاں اسلامی حکومت قائم کرنی چاہیے!

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6