جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!
دفاعی جہاد کی سب سے بہترین تشریح عصر حاضر میں افغانستان میں سویت افواج (1979ء تا 1989ء) کی آمد تھی۔ چند افغان جمع ہوئے اور اس قوت کے خلاف برسرپیکار ہوئے لیکن آگے چل کر اس میں جو ملاوٹیں ہوئیں۔ ۔ ۔ مثلاً امریکی فوجی امداد و تربیت ’جنرل ضیاء کے سیاسی مصالح‘ افغان متحارب گروہوں کی باہمی دشمنیاں ’اتحاد و اتفاق کا مسلم قوم میں فقدان۔ ۔ ۔ ان سب نے مل کر اسے جہاد (دفاعی) سے زیادہ مختلف قوموں اور گروہوں کی ذاتی لڑائی بنا دیا۔
نتیجہ ہمارے سامنے ہے سویت یونین 31 سال پہلے افغانستان سے چلا گیا لیکن ملک ابھی تک تباہ حال ہے‘ باہم لڑائیاں جاری ہیں ’ایک نیا ملک۔۔۔ امریکہ‘ اس خانہ جنگی میں حلیف سے مخالف بن کر براراست کود پڑا اور عوام مر رہے ہیں۔ اس کے بعد طالبان کا ظہور اور ملا عمر کی اسامہ بن لادن کی حمایت میں ملک کا بیڑا غرق کرنے کی کہانی نہایت دردناک ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ ہمیں لاکھ سمجھائے طالبان کی آمد نیک شگون ہے ’وہ نہایت پارسا اور دیندار ہیں۔ ۔ ۔ لیکن جس طرح فدائی حملے کر کر کے اور اپنے مخالف طبقوں کے قتل عام سے وہ اسلامی حکومت کے قیام (اگر وہ قائم ہو جائے اور افغان مسلمان اسے تسلیم کر لیں ) کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ۔ ۔ اسے جنگ تو کہا جا سکتا ہے۔۔۔ اسلامی جنگ یا جہاد کہنا اسلام سے بیوفائی ہے!
پھر فاروقی صاحب ایسے مفکرین کی یہ عجیب منطق ہے۔۔۔ طالبان و امریکی افواج کی جنگ تو جہاد (دفاعی) ہے کیونکہ امریکہ حملہ آور و غاصب ہے لیکن طالبان و حزب اسلامی یا حزب وحدت کی جنگ۔۔۔ جہاد نہیں!
ایران عراق جنگ (1980 تا 1988ء) یا عراق کا کویت پر غاصبانہ قبضہ (1990ء) یا حالیہ دور میں سعودی عرب اور کچھ مسلم ممالک کی افواج کی یمن کے حوثی ملیشیا پر چڑھائی۔ ۔ ۔ انہیں ہم جہاد اور اپنی مثالوں میں شامل نہیں کرتے یہ الگ بات ہے مسلم فریقین اس کو اپنی دانست میں۔۔۔ جہاد۔۔۔ ہی تصور کرتے ہیں۔ آج کل سعودی عرب یا متحدہ عرب الامارات کی کسی بھی مسجد کا جمعہ کا خطبہ سن لیں (یا یو ٹیوب پر دیکھ لیں ) اس جنگ میں مرنے والوں کو شہدائے وطن او رجنگ کو۔۔۔ جہاد ہی کہا جاتا ہے ’اور ان کی مغفرت و بلندی درجات کی باقاعدہ دعا بھی کی جاتی ہے!
فاروقی صاحب کی۔۔۔ اقدامی جہاد کی تعریف نہایت دلچسپ ہے۔ ان کے خیال میں مسلم اقوام کو آگے بڑھ کرغیر مسلموں پر حملہ آور ہونا چاہیے اور ان کے ممالک میں اپنا نظام حکومت قائم کرنا چاہیے ’یہ اقدامی جہاد کہلائے گا۔ فاروقی صاحب کے مضمون میں قرآن و حدیث سے جو استنباط کیا گیا ہے اس پر ہم اگلے حصے میں بات کریں گے پہلے کچھ تصوروطن اور قومیتوں کو دیکھ لیں جو عصر حاضر میں کسی بھی ریاست کے قیام کی بنیاد ہیں۔
مثلاً دنیا میں دو سو کے قریب ممالک ہیں اور ان میں بسنے والی ہزاروں قومیتیں۔ فاروقی صاحب کے فہم جہاد کے مطابق اگر کسی طور پاکستان مستحکم ہو جائے اور پڑوسی بھارت پر حملہ آور ہو کر وہاں اپنا اسلامی نظام حکومت قائم کردے تو یہ اقدامی جہاد ہو گا اور نہایت پسندیدہ بھی۔ یا ترکی اگر جرمنی یا پڑوسی یورپی ممالک پر حملہ کرکے وہاں اسلامی حکومت قائم کر دیتا ہے تو یہ اقدامی جہاد نہایت مستحسن اقدام شمار ہو گا۔
ہمارے جہاد کے متوالوں کو۔۔۔ اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی ہے اب دنیا مختلف ملکوں میں تقسیم ہے جس کی پاسبانی صرف اس ملک کی فوج ہی نہیں کرتی کچھ بین الاقوامی اصول و ادارے اور دیگر ممالک بھی کرتے ہیں۔ دنیا ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چھوٹے یا کمزور غیر مسلم ممالک پر حملے کرکے اپنا اسلامی نظام قائم کر دینا۔۔۔ یہ اب ممکن نہیں رہا ہے۔ بلکہ غیر مسلم ممالک بھی چھوٹے غیر مسلم ممالک پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ بھوٹان۔۔۔ بھارت کا پڑوسی ایک چھوٹا ملک ہے مگر بھارت اس پر قبضہ کر کے اپنی چودھراہٹ قائم نہیں کر سکتا۔ دنیا میں اب ایسے نہیں ہو سکتا اور یہی آج کی زمینی حقیقت ہے چاہے آپ اسے مانیں یا نہ مانیں!
اصل مسئلہ یہ ہے جب آپ نوجوانوں کو یہ سکھائیں گے۔ ’قرآن کی دعوت لے کر اٹھو اور دنیا پر چھا جاؤ‘ ۔۔۔ تو وہ صرف یہ سمجھیں گے قرآن کے نزول کا مقصد۔۔۔ حکومت کا حاصل کر لینا ہے۔ حضرت عمرؓ کا یہ قول ضرور موجود ہے۔۔۔ ”اس قرآن کے ذریعے اللہ قوموں کو عروج و زوال دیتا ہے“ جو بلا شبہ بتا رہا ہے اس الہامی کتاب کی ہدایات کو ماننے سے دنیا جہاں کی کامیابی یعنی عروج ملتا ہے لیکن ہمارے کچھ مفکرین نے اس سے مطلب یہ نکالا۔
۔ ۔ ۔ ۔ قرآن کی پیروی کا مطلب حصول اقتدار ہے۔ وہ بیچارے یہ بھول گئے رسول اللہ ﷺ نے اس باب میں یہ بھی فرمایا۔۔۔ ’جو حکومتی عہدہ طلب کرے ہم اسے نہیں دیتے۔‘ اور فرعون کے مظالم سے تنگ آکر جب بنی اسرائیل نے حضرت موسی ؑ سے درخواست کی کہ اللہ کی مدد مانگیں۔۔۔ اللہ فرعون کی حکومت ختم کرے اور اسے برباد کر دے ’تو جواب آیا۔ ۔ ۔ زمین اللہ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے البتہ نیک انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہے۔
ہاں اتنا ضرور ہو سکتا ہے اور بعید از قیاس بھی نہیں۔ ۔ ۔ کسی غیر مسلم ملک میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ جائے کہ وہ انتخابات میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کرکے ملک کا اقتدار سنبھال لیں اور اسلام کو ملکی قوانین و کلچر کا حصہ بنا لیں ساتھ ہی غیر مسلم رعایا سے حسن سلوک سے پیش آئیں۔ مثلاً نیویارک میں مسلمانوں کی اتنی اکثریت ہو چکی ہے کہ بلدیاتی حکومت نے عید کے روز کو پبلک اسکولوں کے لئے چھٹی کا دن قرار دیا ہے۔
اسی طرح کینیڈا کے بعض علاقوں میں اتنی مسلم اکثریت ہے کہ روز عید۔۔۔ اسکولوں میں چھٹی کا سماں ہوتا ہے یا دو ایک شہروں میں جیسے ونڈسر میں مسلمانوں کو لاؤڈ اسپیکر پراذان نشر کرنے کی اجازت ان کی مجموعی آبادی کے تناسب کی وجہ سے دی گئی ہے۔ یہ ممکن ہے اور شاید آئندہ دو تین صدیوں میں اسی طرح اسلام کو سیاسی عروج حاصل ہو اور تارکین وطن دیار غیر میں اپنی حکومتیں قائم کر لیں یا حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے لگیں۔ آپ غور کریں تو مصر میں اخوان المسلمین کی۔۔۔ محمد مرسی حکومت کا قیام اسی طرح کی کوشش تھی ’کچھ تو درون خانہ ریشہ دوانیاں کچھ سیاسی مصلحتیں لیکن حقیقت یہی ہے اسے غیر مسلموں سے زیادہ پڑوسی مسلم حکمرانوں نے ناکام بنایا۔
لیکن بذریعہ جہاد۔۔۔ اقدامی جہاد کی کوئی کوشش بار آور نہیں ہوسکتی۔ خود فلسطین و کشمیر کو بین الاقوامی مسائل بھی اسی تناظر میں سمجھا جاتا ہے کہ وہاں کی عوام کو حق خود ارادیت۔۔۔ یعنی وہ اس زمین کے حقیقی باشندے ہیں انہیں کیا کرنا ہے اس کا اختیار انہیں ہی ملناچاہیے۔۔۔ ملنا چاہیے اور عوام کی اکثریت اپنے مستقبل کا فیصلہ بذریعہ ووٹ کرے۔ اگر اس بات کو مزید بڑھایا جائے تو خود ہی سمجھ آئے گا کہ 1948ء میں مولانا مودودی غالباً وہ واحد عالم دین تھے جنھوں نے کشمیر کی لڑائی کو جہاد تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔۔۔ آخر کیوں ’یہ بھی سوچنا چاہیے! یہاں پر ہم اس بحث میں نہیں پڑ رہے کہ خود مسلمان اپنے ممالک میں تو ایک اسلامی فلاحی ریاست گزشتہ تین سو برس میں قائم نہیں کر سکے دنیا کے دیگر غیر مسلم ممالک میں کیا فلاحی ریاست بنا کر دیں گے!
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



