جماعت اسلامی کے ایک پڑھے لکھے دانشور کا المیہ!
سابقہ ادوار میں ائمہ اربعہ کے طرز پر اجتہاد کی دو بڑی کوششیں ہو چکی ہیں۔ اول حافظ ابن تیمیہؒ اور دوئم شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جانب سے۔ دونوں نے اپنے مجتہد ہونے کا دعوی کیا مگر جمہور علماء نے اسے قبول نہیں کیا۔ عصر حاضر میں اجتہاد کی بڑی کوشش سید مودودیؒ نے کی جب انہوں نے ’رسائل و مسائل‘ کے نام سے لوگوں کے مذہبی مسائل کے جوابات دینا شروع کیے ۔ جس میں مردوں کے لئے داڑھی کا سائز (علماء احناف کے نزدیک ایک مٹھی داڑھی رکھنا واجب ہے جبکہ سید مودودی نے لکھاداڑھی وہ جو دور سے نظر آئے اور وہ ایک مٹھی سے کم بھی ہو سکتی ہے۔ مرحوم پروفیسر غفور ساری عمر سید مودودیؒ کی اسی رائے پر عمل کرتے رہے) ’عورت کو ووٹ کا حق دینا یا عورت کی حکمرانی (دیوبندی علماء جیسے مفتی تقی عثمانی۔۔۔ عورت کے ووٹ ڈالنے کے سخت مخالف ہیں اور عورت کے حکمراں یا وزیراعظم بننے کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں) وغیرہ وغیرہ۔
ہمیں نہیں پتہ اس اجتہاد کے موضوع کو یہاں زیر بحث لا کر فاروقی صاحب کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر مقصود۔۔۔ سید مودودی ؒ کی آراء پر تنقید ہے تو اس پر کچھ کہنا وقت کا ضیاع ہے ’اگر صرف لبرل و سیکیولر طبقے کو لتاڑنا ہے تویہ اور بات ہے‘ پر یہ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ سید مودودی ؒ مغربی طبقے کو دین کی طرف مائل کرنے پر اجتہاد کریں تو آوازیں آتی ہیں۔ واہ واہ ’بہت خوب۔۔۔۔ اور یہی بات کوئی مغربی تعلیم یافتہ شخص کہہ دے تو فاروقی صاحب کی نظر میں گمراہ اور مغرب پرست۔ اس علمی بحث کی یہاں کوئی ضرورت نہ تھی‘ ہو سکتا ہے قلم کی روانی میں اگر انہیں لبرل طبقے پر بار الزام بڑھانا مقصود تھا توانہوں نے وہی طریقہ اختیار کیا جو کسی تھانے کا انچارج استعمال کرتا ہے ’جب ملزم‘ تعاون ’نہیں کرتا تو وہ اس پر الزامات کے انبار لگا دیتا ہے۔
چہارم۔ ان کے مضمون کا ایک حصہ ڈان اخبار کی طالبان دشمنی پر مبنی ہے۔ سیاسی معاملات پر ہر ایک کو اپنی رائے رکھنے کا پورا حق ہے لیکن ان کے مضمون سے یہ جان کر دکھ ہوا کہ۔۔۔ جماعت اسلامی کے کارکنان کے نزدیک۔۔۔ افغان طالبان کا جہاد۔، اول تو جہاد ہے اور دوسرے دفاعی جہاد ہے جس کی مخالفت کر کے ڈان اخبار (اور ہمارے جیسے ناکارہ مسلمان بھی) توہین اسلام کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ہمارے دینی فہم کے مطابق۔۔۔ جہاد ایک اسلامی فریضہ ہے اور کسی اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے سے مسلمان۔۔۔ مسلمان نہیں رہتا۔ وہ لکھتے ہیں :
” نکہت ستار تو خیر دفاعی جہاد کی قائل ہیں مگر جس اخبار میں ان کا مضمون شائع ہوا ہے وہ تو طالبان کے دفاعی جہاد کا بھی مذاق اڑاتا رہتا ہے۔ ڈان میں طالبان کے ایسے کارٹون شائع ہوتے رہتے ہیں جن میں انہیں وحشی، درندہ صفت اور جنگجو دکھایا جاتا ہے۔“
افغان طالبان عموماً خود کش حملوں ’فدائی آپریشن‘ مساجد میں بم دھماکوں اور دوسرے مجاہدین سے براہ راست جنگ اور ان کا قتل عام بھی کر چکے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ان اعمال کے لئے فاروقی صاحب۔۔۔ قرآن و حدیث سے کون سی دلیلیں لائیں گے لیکن حیرت ہوتی ہے جن طالبان کی حمایت پر جماعت اسلامی نے اپنا امیر (منور حسن) تبدیل کر دیا ’اب اسی جماعت کے کارکنان کے ذہن میں یہ خیالات بھی موجزن ہیں کہ خود کش حملوں‘ بچوں کے قتل یا مساجد میں بم دھماکوں سے اسلامی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ طالبان کے کرتوتوں کو صرف یہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ مغرب کا طالبان مخالف پراپیگنڈہ ہے۔ فاروقی صاحب کو چاہیے وہ جماعت اسلامی کے محبوب گلبدین حکمت یار سے پوچھیں۔۔۔ طالبان ابھی تک کیا کچھ کر چکے ہیں!
بات صرف اتنی ہے۔۔۔ جماعت اسلامی کا کارکن تھک چکا ہے ’وہ سمجھتا ہے وہ ایماندار ہے‘ نیک ہے ’وطن دوست اور عوام سے مخلص بھی لیکن ہمارے ملک کے مقتدر حلقے اسے اقتدار دینے سے گریزاں ہیں۔ ستر برس کی اس مایوسی اور فرسٹریشن نے جماعت کے پڑھے لکھے طبقے کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سوچے آخر کہ کیا وجہ ہے انہیں اقتدار نہیں مل رہا۔ ایسا لگتا ہے فاروقی صاحب جیسے جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے کارکن سمجھنے لگے ہیں جماعت کی اس طویل ناکامی کی اصل وجہ سید مودودیؒ اور ان کے ریڈیکل نظریات ہیں جو :
مولوی مخالف ہیں۔ مولانا مودودیؒ نے نہایت بے رحمی سے روایتی مولویوں کے باطل نظریات کا قلع قمع کیا
آمریت مخالف ہیں۔ مولانا نے جنرل ایوب خان سے ٹکر لی اور جسے آمریت نواز ابھی تک بھلا نہیں سکے
پاکستان کی روایتی کشمیر پالیسی کے مخالف ہیں۔ مولانا نے قیام پاکستان کی بنیادوں (قائد اعظم کی جیب میں ہونے والے کھوٹے سکوں) اور بعد میں ڈکٹیٹروں کے قبضے یا کشمیر پر ہماری کھوکھلی پالیسی پر سچ لکھا!
جماعت کے نئے کارکنوں کو غیر محسوس طریقے پر یہ باور کروایا جا رہا ہے پہلے تو وہ اپنے آپ کو سید مودودی ؒ کے ریڈیکل افکارسے دور کریں اور پھر اقتدار حاصل کرنے کا کوئی چور دروازہ تلاش کریں۔ جماعت پچھلی حکومت میں عمران خان کے ساتھ خیبر پختون خواہ میں نا صرف کاندھے سے کاندھا ملا کر بیٹھی بلکہ اپنے قدیم نظریا ت کی قربانی بھی دی جیسے سود یا سودی قرضوں پر خاموشی ’کرپٹ سیاستدانوں کی ہم نشینی‘ عمران مخالف سیاستدانوں کی مخالفت وغیرہ مگر پھر بھی بات بنی نہیں۔
حال ہی میں مقتدر حلقوں نے کراچی (جو زمانہ قدیم سے جماعت کا گڑھ شمار ہوتا تھا) میں جماعت کے بجائے پی ٹی آئی کے ان افراد کو انتخابات جتوائے جنھیں ان کی اپنی بیویاں بھی ووٹ دیتے کتراتی ہیں مگر جماعت کو کراچی میں کوئی موقع نہیں دیا۔ اس سے پہلے مقتدر حلقے تیس برس تک ایم کیو ایم کو مواقع دیتے رہے اور جماعت کا کارکن ظلم کی چکی میں پستا رہا۔ اس رویے نے جماعت کے کارکن کی مایوسی اور بڑھا دی ہے۔ اسی لئے چور دروازے سے اقتدار کی جدوجہد بھی ایک آپشن بن کر پڑھے لکھے کارکن کے سامنے آئی ہے۔
چور دروازے کے لئے۔۔۔ طالبان یا داعش جیسی تنظیمیں نہایت مناسب قوتیں ہیں لیکن مجبوری جماعت اسلامی کے قدیم و نظریاتی کارکن کا ذہن بدلنا ہے۔ اس کے لئے اسلام کی ایسی تشریح جو فکر مودودیؒ کی مخالف ہو ’نئے نظریات سے میل کھائے اور ٹارگٹ سے قریب کرے‘ بہت ضروری ہے۔ فاروقی صاحب کی سوچ پر جماعت کا پرانا کارکن چونک پڑے گا اور شاید مخالفت بھی کرے لیکن نئی نسل کے کارکنان اس پر ایمان لائیں گے اور اسے قبول کریں گے۔
یہ ہے نئی اسٹریٹجی۔۔۔ یا۔۔۔ نئی جماعت اسلامی کی فکر۔ ۔ ۔ خدا حافظ فکر مودودیؒ!

حوالے :
قرآن پاک کی ان آیات کا ترجمہ جنھیں فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں پیش کیا۔
”جن لوگوں سے جنگ لڑی جارہی ہے انہیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیوں کہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے ہیں۔ ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے“ ۔ (الحج۔ 39 : 40 )
”تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ بڑے ظالم اور جفاکار ہیں اور ہمارے لیے خاص اپنی طرف سے ایک محافظ و مددگار مقرر فرما“ ۔ (النساء۔ 75 )
”جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جو کافر و نافرمان ہیں وہ ظالم اور سرکشی کے خلاف لڑتے ہیں۔ پس شیطان کے دوستوں سے لڑو کہ شیطان کی جنگ کا پہلو کمزور ہے“ ۔ (النساء۔ 76 )
”اے ایمان والو کیا میں تمہیں ایسی تجارت بتاؤں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچالے؟ وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنی جان اور مال سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہترین کام ہے اگر تم جانو“ ۔ (الصف: 11۔ 10 )
”اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھے ہوئے جم کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں“ ۔ (الصف۔ 4 )
”کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام آباد کرنے کو ان لوگوں کے کام کے برابر ٹھیرایا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں لڑے۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں کام برابر نہیں اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جو لوگ ایمان لائے۔ جنہوں نے حق کی خاطر گھر بار چھوڑا اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے لڑے ان کا درجہ اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا ہے اور وہی لوگ ہیں جو حقیقت میں کامیاب ہیں“ ۔ (التوبہ۔ 20۔ 19 )



