محمد عمر میمن: کچھ یادیں
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات یہ ہے کہ جس وقت میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے مختلف شخصیات کوکھنگال رہا تھا تومیرے سپروائزر نے مجھ سے کہا کہ مجھے ابن تیمیہ پر پی ایچ ڈی کرنا چاہیے۔ میں نے بھی سوچا کہ ابن تیمیہ تاریخ اسلام کے ایک اہم اور متنازعہ شخصیت ہیں، ان پر کام کرنے میں لطف بھی آئے گا اور تاریخ اسلام کے اس پہلو سے بھی آگہی ہوگی۔ آپ کو تو پتہ ہی ہوگا ابن تیمیہ ایک سخت گیر، قدامت پسند اور نہ معاف کرنے والے مسلمان عالم تھے جن کے فتوؤں کی زد میں بے شمار مسلمان آئے اور انہیں قتل کر دیا گیا۔
دراصل مسلمانوں کی تاریخ میں ان کی وجہ سے برداشت کا رویہ ختم ہوا۔ بھئی بات یہ ہے کہ جو لوگ پی ایچ ڈی کرتے ہیں وہ اپنے موضوعات کوچننے میں مکمل طور پر خودمختار نہیں ہوتے ہیں، خاص طور پر اس عمر میں جب آپ نوجوان ہوتے ہیں اور تعلیمی علمی ماحول میں اپنے سپروائزر کے ساتھ بہت، اپنے سے زیادہ عمر کے تجربہ کار لوگوں کے درمیان اٹھتے بیٹھتے ہیں تو ان کی رائے کو اہمیت بھی دینی پڑتی ہے اور اس پر عمل بھی کرنا ہوتا ہے۔ میری پی ایچ ڈی کے موضوع سے میرے اعتقادات کا کوئی تعلق نہیں ہے مگر ڈاکٹر صاحب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ کسی کے بارے میں کوئی بات مشہور ہو جائے تو غلط ہی صحیح وہ مشہور بات ہی سچی مانی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے بات ختم کردی تھی۔
میں نے شاہ صاحب کو اسی وقت فون کرکے عمرمیمن صاحب کے بنیاد پرست ہونے کے متعلق ان کے خیالات سے آگاہ کر دیا تھا۔
عمر صاحب ایک دفعہ کے علاوہ ہمیشہ مجھ سے کمال مہربانی سے باتیں کرتے رہے۔ ہمیشہ فون کا جواب دیا اورجب بھی فون پر بات کی، تفصیل سے بات کی۔ ہر سوال کا مناسب جواب دیا، میں تو صرف سوال کرتا تھا وہ طویل جواب دیتے تھے اور تھکتے بھی نہیں تھے۔ ان میں غضب کی انرجی تھی باوجود یہ کہ بیمار تھے مگر بیماری کو اپنے اوپر مسلط نہیں کیا تھا۔
ایک دن انہوں نے پوچھا کہ ڈاکٹرصاحب آج کل آپ کیا کر رہے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میں نے ابھی ابھی اپنی ایک ہم جماعت ڈاکٹر تابندہ اسلم کے والد اسلم صدیقی صاحب کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے اوراب اس کی پروف ریڈنگ سے فارغ ہوا ہوں۔
اچھا آپ ترجمہ بھی کرتے ہیں، انہوں نے تھوڑا حیرت کا اظہار کیا۔
میں نے بتایا کہ میں ترجمے میں کوئی مہارت نہیں رکھتا ہوں کچھ مضامین جو نیویارکر نام کے رسالے میں چھپے تھے ان کا ترجمہ آصف اسلم صاحب کی فرمائش پر کیا تھا، اس کے بعد تابندہ کے والد کی کتاب کا ترجمہ کر رہا ہوں، یہ کتاب مجھے بہت پسند آئی تھی۔ اسلم صدیقی صاحب پاکستان کے چند ایک مایہ ناز بینکروں میں ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کے حالات اور پاکستان کے سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ انہوں نے پاکستان بننے سے قبل ہندوستان میں حکومت کے طریقہ کار اور سیاسی حالات پر روشنی ڈالی ہے۔
دہلی میں محمد علی جناح سے ملاقات کے بعد سے نواز شریف کی حکومت تک پاکستان کے حالات کے بارے میں اپنی ایماندارانہ رائے کو لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔ مجھے کتاب بہت اچھی لگی اورمیں نے سوچا کہ اس کا ترجمہ پاکستان کے عام لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ بس یہ سوچ کر میں نے اس کا ترجمہ کیا جس میں ان کی صاحبزادی کی رضا بھی شامل ہے۔ اس کے بعد میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے پوچھا کہ اگر آپ کو ترجمہ بھیجوں تو آپ اس پر ایک نظر ڈال لیں گے؟
مجھے بڑی حیرت ہوئی جب انہوں نے ہاں کردی۔ میں نے فوراً ہی پوری کتاب انہیں ای میل پر بھیج دی تھی۔ اس سے زیادہ حیرت مجھے اس وقت ہوئی جب انہوں نے تین دن کے بعد مجھے فون کیا اور کہا کہ بھئی ڈاکٹر صاحب میں نے کتاب انگریزی میں تونہیں پڑھی ہے لیکن کتاب کے مختلف حصوں میں سے کچھ صفحات پڑھ لیے ہیں، میرا خیال ہے کہ آپ نے اچھا ترجمہ کیا ہے، اب مجھے کتاب میں دلچسپی پیدا ہوگئی ہے جب ترجمہ چھپ جائے تو مجھے بھیجیے گا، میں اس کتاب کو ایک ہی نشست میں پڑھوں گا۔ کتاب چھپنے کے بعد میں نے فوری طور پر ان کو بھیج دی تھی۔
مجھے نہیں پتہ ہے کہ انہوں نے میرا دل رکھنے کے لیے یہ بات کی تھی مگر مجھے یہ پتہ ہے کہ وہ لگی لپٹی بغیر اپنی رائے کا آزادانہ اظہارکرتے تھے۔ انہوں نے جہاں یہ بات کی اس کے ساتھ ساتھ کچھ گر کی باتیں ترجمے کے بارے میں بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ترجمہ کرنے والے کوکبھی بھی ترجمے میں اپنی رائے، اعتقاد وغیرہ کوشامل نہیں کرناچاہیے۔ ترجمہ صرف اورصرف مصنف کی تحریر کا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ حتی الامکان کوشش کریں کہ الفاظ کا اردو ترجمہ ہی شامل کریں جس کی وجہ سے ترجمہ مشکل ہوجاتا ہے مگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر ترجمہ ترجمہ نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے اردو کے الفاظ بعض دفعہ قاری کو ہضم نہیں ہوتے مگر زبانوں کے پھیلاؤ کے لیے یہ ضروری ہے۔
ایک دلچسپ بات انہوں نے اورکہی کہ بھئی ڈاکٹر صاحب کبھی کبھار ترجمہ کرکے اسے باآواز بلند پڑھا کریں اور دیکھیں کہ ترجمہ آپ کے کانوں کوکیسا لگتا ہے۔ پھر وہ ہنستے ہوئے بولے کبھی کبھار ایسا ہوا ہے کہ میں نے اپنا کیا ہوا ترجمہ باآواز بلند پڑھا ہے تو مجھے بھی کافی کچھ تبدیلیاں کرنی پڑگئیں۔
اس طرح کی بہت ساری باتیں عمر صاحب اپنی گفتگو میں کیا کرتے تھے جس سے مجھے ذاتی طور پر بہت فائدہ ہوا۔
ایک دفعہ جب میں انہیں آصف صاحب کی دی ہوئی کتابیں بھیج رہا تھا تومیں نے اس میں اپنی تین کتابیں ”آگہی کا سفر“، ”آگہی کے چراغ“ اور ”آگہی کے نشان“ جو میں نے طلبہ کے لیے لکھی ہیں وہ بھی بھیج دیں۔ کتابوں کے ملنے کے ایک ہفتے کے بعد ان کا فون آیا اورانہوں نے کہا کہ بھئی آپ کی تینوں کتابیں ملیں، دلچسپ ہیں۔ میوزیم والی کتاب شاید آپ نے جلدی میں لکھی ہے لیکن یونیورسٹی اور لائبریری والی دونوں کتابیں ”بہت“ اچھی ہیں۔ مجھے لفظ ”بہت“ سن کر بڑی خوشی ہوئی کیوں کہ اب مجھے اندازہ ہوچلا تھا کہ عمر میمن صاحب تعریف کرنے میں کافی کنجوسی سے کام لیتے ہیں کیوں کہ ان کا معیار بہت بلند تھا۔ وہ خود بہت محنت سے کام کرتے تھے اوردوسروں سے بھی امید رکھتے تھے کہ وہ محنت سے کام کریں، غلطی کی گنجائش نہیں تھی۔
وہ کہنے لگے اندلس کی لائبریری کے بارے میں جو آپ نے لکھا ہے اس سے کہیں زیادہ پاکستانی بچوں کو اس کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں سب کو اس کے بارے میں پتہ ہونا چاہیے خاص طور پر ہمارے ان مذہبی رہنماؤں اورملاؤں کو پتہ ہونا چاہیے جن کی کوتاہ نظری اور جہالت نے انہیں کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ اندلس کے مسلمانوں نے جدید دنیا کی تعمیر میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پوچھا ڈاکٹر صاحب آپ نے Ornament of the world، How Muslims، Jews and Christians Created a Culture of Tolerance in Medieval Spain نامی کتاب پڑھی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


