محمد عمر میمن: کچھ یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شاہ فضل عباس کا فون واشنگٹن سے آیا۔
آپ عمرمیمن صاحب کو کتنا جانتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا۔

شاہ فضل عباس حلقہ ارباب ذوق واشنگٹن کے سرگرم کارکن ہیں، ادب، موسیقی، ثقافتی، سماجی اور ہر قسم کی سیاسی و انقلابی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، غالب کے عاشق ہیں۔ دیوان تقریباً ازبر ہے، گاہے بگاہے مرزا کے شعر سناتے ہیں اورایک الگ تشریح کے ساتھ اپنا بھی سر دھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی سر دھننے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ان سے جب بھی بات ہوتی ہے تو غالب کے کچھ اور اسرار کھل جاتے ہیں اور کسی ایسے اچھے خاصے شعر کے جس کے بارے میں پہلے میرا گمان ہوتا ہے کہ مجھے اس کے معنے کا اندازہ ہے، کے نئے معانی بیان کردیتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے جب واشنگٹن گیا تو معظم صاحب اور ستیہ پال آنند صاحب سے ملنے کا اشتیاق تھا، عرصہ ہوا معظم صاحب نے کیلی فورنیا یونیورسٹی سے عبدالقادر بیدل عظیم آبادی پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ شاہ صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ ان دونوں سے ملاقات کروائیں گے جو ستیہ پال آنند صاحب کے گھر پر ہوگی جہاں اور بھی پڑھے لکھے لوگ آتے ہیں اور شوقینوں کے لیے بوتل ہر وقت کھلی ملتی ہے۔ انہوں نے ہی بتایا تھا کہ آنند صاحب خود تو احتیاط سے پیتے ہیں لیکن بے احتیاط لوگوں کا دل نہیں توڑتے۔

اس دن آنند صاحب سے خوب ملاقات رہی، جتنی دیر ان کے پاس بیٹھے رہے انہیں سنتے رہے، سوال کیا حوالوں کے ساتھ اس کا تفصیلی جواب ملا۔ آنند صاحب سے مل کر جس قسم کی آنند ہوتی ہے اسے بیان کرنا مشکل ہے، اور سمجھانا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ سراپا علم اور غضبناک یادداشت کے ساتھ چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ انہوں نے خلوص و محبت کے ساتھ اپنی کتاب بھی مجھے دی اور بہت سے ادبی و سیاسی سوالوں کا جواب بھی دیا۔

معظم صاحب ٹریفک کے اژدھام میں پھنسے رہے اور نہیں پہنچ سکے جس کا مجھے بڑا قلق رہا، مجھے وہاں سے نکلنا پڑا، کیوں کہ شہر میں بہتے ہوئے دریائے پوٹومک کے دوسرے کنارے پر آنکھوں کے ڈاکٹر حمید پراچہ انتظار کر رہے تھے۔ معظم صاحب سے ملاقات نہ ہونے کی خلش کے ساتھ مجھے وہاں سے اٹھنا پڑا۔ شاید قسمت دوبارہ یہاں لائے اور معظم صاحب سے ملاقات ہو اور بیدل کی زندگی کے اہم گوشوں سے آگہی ہو۔ معظم صاحب علم کا خزانہ ہیں جتنا ان کے بارے میں سنتا ہوں اتنا ہی زیادہ پراشتیاق ہوتا ہوں کہ کس طرح اس خزانے سے چوری کی جائے۔

عمر میمن صاحب کی وفات کے بعد میں نے معظم صاحب سے ان کے بارے میں ٹیلی فون پر بات کی تھی۔ وہ انہیں بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ امریکا میں ان کی سرگرمیوں سے آگاہ تھے۔ ان کی علمیت کے دل دادہ تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وسکونسن میں اپنی پروفیسری کے دوران عمر میمن صاحب کبھی نچلے نہیں بیٹھے۔ پڑھنا، تحقیق کرنا اور اردو ادب میں ہونے والی تبدیلیوں پر مستقل نظر رکھنا ان کا کام تھا۔ انہوں نے ترجمے میں جو کام کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جس وقت عمر میمن صاحب امریکا آئے تھے اس وقت یہاں اردو بولنے والوں کی کوئی خاص تعداد نہیں تھی، ان حالات میں انہوں نے اپنے لیے جگہ بنائی اور مسلسل کام کرتے رہے۔ معظم صاحب نے کمال مہربانی سے بہت ساری باتیں ان کے بارے میں بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ ان کے دو بیٹے ہیں جو ان کے آس پاس ہی رہتے ہیں۔ بہت بعد میں سید کمال ابدالی صاحب نے بتایا تھا کہ عمر میمن صاحب نے ایک جاپانی خاتون ناکوکو صاحبہ سے شادی کی تھی۔

ان کا فون ناکوکو صاحبہ ہی اٹھاتی تھیں اور عمر صاحب کو بتاتی تھیں کہ کس کا فون ہے۔ ناکوکو صاحبہ سے ان کی ملاقات ہارورڈ یونیورسٹی میں ہوئی تھی جہاں وہ خود ماسٹرز کر رہے تھے جب کہ ناکوکو صاحبہ موسیقی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ بعد میں انہوں نے کمپیوٹر میں مہارت پیدا کرلی۔ ابدالی صاحب نے یہ دلچسپ بات بتائی کہ ناکوکو صاحبہ روشن خیال اور ترقی پسند ہیں۔ وہ ہر ظلم کے خلاف ہیں اورخاص طور پر فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم سے پریشان رہتی ہیں۔

وہ درویش صفت خاتون ہیں۔ گو کہ ان کا تعلق جاپان کے مشہور و معروف اور مالدار صنعتی گھرانے سے ہے لیکن وہ انتہائی سادہ زندگی گزارتی ہیں اور دنیا کے سیاسی معاملات میں وہ صحیح نظریے سے اپنے آپ کو وابستہ رکھتی ہیں۔ ان کے دو لڑکے ہیں، بڑے لڑکے کا نام عاصم ہے جس نے عربی زبان میں پی ایچ ڈی کی اور چھوٹے بیٹے کا نام انیس ہے جس نے علم الزبان میں پی ایچ ڈی کی ہے اور امریکا اور یورپ کی جامعات سے منسلک ہے۔

سید کمال ابدالی صاحب دلچسپ آدمی ہیں جن کے پاس معلومات کا خزانہ ہے۔ انہوں نے اور عمر میمن صاحب نے مل کر جارج اصلیبہ کی کتاب ”Islamic Science and Making of European Renaissance“ (اسلامی سائنس اور یورپ کی نشاط ثانیہ کی تشکیل) کا ترجمہ کیا ہے۔ انہوں نے باتوں باتوں میں بتایا کہ لوگ خواہ مخواہ عمر میمن صاحب کو ایک جھگڑالو اور لڑاکا آدمی کی طرح پیش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ صاف گو انسان تھے اوراپنے احساسات کو ایمانداری سے بیان کرتے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ جو سچ کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے وہی لوگ ان کے بارے میں افواہیں پھیلاتے ہیں۔ میری چالیس سالہ دوستی میں، میں نے انہیں اور ان کے خاندان کو انتہائی ایماندار پایا۔

بات شاہ فضل عباس صاحب کے فون سے چلی اور یہاں تک پہنچ گئی۔ بہرحال شاہ فضل کے جواب میں میں نے کہا کہ عمر میمن صاحب کو جانتا تو ہوں، پر کم جانتا ہوں۔ صرف ایک دفعہ آصف فرخی کے گھر پر مختصر سی ملاقات ہوئی تھی لیکن فون پر گھنٹوں بات ہوتی ہے۔ ایک دفعہ تو مستقل ساڑھے تین گھنٹے ان سے بات ہوتی رہی۔ انہیں بات کرنے کا بہت شوق ہے۔ جب باتیں شروع کرتے ہیں تو کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ موضوع کی کمی ہے، نہ معلومات کی اورنہ ہی الفاظ کی۔ سنتے رہیے اور سوال کیجیے پھر سنتے رہیے، بس خوش قسمتی ہے کہ وہ میرے فون کو سنتے ہیں اور گھر پر نہ ہوں تو پلٹ کر فون بھی کرلیتے ہیں۔

ایک دفعہ یہ ہوا کہ امریکا جاتے وقت آصف فرخی صاحب نے کتابوں کا ایک بنڈل پکڑا دیا کہ یہ عمر میمن صاحب کو پوسٹ کر دیا جائے۔ میری عادت ہے کہ لوگوں کی جانب سے دیے گئے خط، کتاب یا اورکوئی چیز بھیجنے کے لیے ہو تو امریکا پہنچ کر چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ڈاک خانے کے سپرد کردیتا ہوں۔

آصف صاحب نے کہا تھا کہ ان سے فون پر بات بھی کر لیں۔

مجھ سے غلطی یہ ہوگئی کہ میں نے بنڈل کھول کر دیکھ لیا۔ ساری کی ساری دلچسپ کتابیں تھیں، میں نے سوچا کہ پوسٹ کرنے سے پہلے انہیں پڑھ لیا جائے۔ کراچی میں جہاز پر سوار ہونے کے بعد سے کتابیں ختم کرنے میں تقریباً دس دن لگ گئے، جس کے بعدمیں نے انہیں بک پوسٹ کے ٹکٹ لگا کر ڈاک خانے کے حوالے کر دیا۔

امریکا میں ڈاک کے ذریعے کتابیں بھیجی جائیں تو ڈاک خرچ میں زبردست رعایت ملتی ہے۔ محکمہ ڈاک علم کی تشہیر اور کتابوں کی ترسیل کے لیے بہت کم معاوضہ لیتا ہے مگر ان کی رفتار سست ہوتی ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کتابیں ان تک پہنچنے میں مزید چار دن لگ جائیں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply