محمد عمر میمن: کچھ یادیں
جی میں نے پڑھی ہے، میرے جواب سے انہیں تھوڑی حیرت بھی ہوئی تھی جس کاوہ اظہار کرنے سے رکے نہیں۔
تقریباً دس سال پہلے ہماری دوستی ثروت انصاری سے ہوئی تھی جو ساؤتھ کیرولینا میں رہتی ہیں اوراکثر بہت عمدہ کتابیں بھیجتی رہتی ہیں۔ انہوں نے ماریہ اوسلومینی کول کی یہ کتاب بھیجی تھی جسے میں نے بڑی دلچسپی سے پڑھا تھا اور ماریہ اوسو مینی کول کی غیرجانبداری اورعلمیت پر عش عش کر اٹھا تھا۔
عمر میمن صاحب کہنے لگے کہ وہ اس وقت اس کتاب کا ترجمہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب اس خاتون نے بڑی محنت کی ہے اور بغیر کسی تعصب کے مسلمانوں کے زمانے کے یورپ کی تفصیلات لکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں اگر آپ کوعربی نہیں آتی تھی تو آپ کا تعلیم یافتہ لوگوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ بڑی دیر تک اندلس اور اس زمانے کے مسلمان عالموں کے بارے میں بہت سی باتیں بتاتے رہے۔ انہوں نے ہی بتایا کہ مینی کول صاحبہ بذات خود یہودی تھیں اورحال ہی میں ان کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔
انہوں نے یہ کتاب لکھنے میں بڑی محنت کی ہے۔ ارے بھئی آج بھی یورپ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی علمی قابلیت کو تسلیم کرنے میں بخالت سے کام لیتے ہیں۔ مگر تاریخی حقیقتوں کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔ مینی کول کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ اندلس کا بہت کچھ منظرعام پر لے آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کولمبس امریکا پہنچا تو وہ یہ سمجھا کہ مقامی لوگ عربی بول رہے ہیں کیوں کہ اس وقت یہی سمجھا جاتا تھا کہ عربی ساری دنیا کی زبان ہے مگر کولمبس کے ساتھ جانے والے عربی ملاحوں نے کولمبس کو سمجھایا کہ یہ کوئی اور زبان ہے۔
انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اندلس گیا ہوں، قرطبہ اور غرناتا دیکھا ہے۔ میں نے بتایا کہ میں اندلس گیا ہوں اور وہاں خاصا وقت گزارا ہے۔
وہ کہنے لگے ڈاکٹر صاحب وہاں جا کربھی صحیح معنوں میں اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ کتنے زیادہ علم دوست تھے اور ان میں کس حد تک رواداری تھی۔ انہوں نے کہا کہ مینی کول صاحبہ کا کمال یہی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے اس دور کو زندہ کرکے سامنے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کل اس طرح کی باتوں کو نہ کوئی سمجھتا ہے اور نہ ہی سمجھانا چاہتا ہے۔ ان کے لہجے کا دردمیں آج بھی محسوس کرتا ہوں۔
میں اسے اپنی خوش قسمتی ہی سمجھتا ہوں کہ ان کے طفیل میں بہت ساری ایسی تاریخی حقیقتوں سے روشناس ہوا جن کا مجھے اندازہ ہی نہیں تھا۔ کاش میں ان کی خواہش پوری کرسکوں اور بچوں کے لیے اندلس کے بارے میں تفصیل سے کچھ لکھ سکوں۔ مگر مصیبت یہ ہے کہ آج کل کے ماحول میں جہادی اسلامی کتابیں پڑھی جاتی ہیں اوروہی خریدی بھی جاتی ہیں۔ طارق جمیل صاحب، اوریا مقبول جان جیسے عالموں کی رہنمائی میں جو کچھ پڑھایا سکھایا سمجھایا جاتا ہے وہ ذہنوں کو بند کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایسے بند ذہن جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں نہ تو تجسس ہے نہ ہی سوال کرنے والی سوچ ہے اور نہ ہی رواداری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ارب پتی مسلمان حکمرانوں کو عیش و عشرت سے فرصت نہیں اورغریب ملکوں کے مسلمان حکمران بدعنوانی، مذہبی تشدد اور انتہاپسندی میں گھرے ہوئے ہیں۔
فون بند کرنے کے بعد عمر میمن صاحب نے ای میل پر ہی ماریہ اوسوسلومینی کول کی کتاب کے تین باب جن کا وہ ترجمہ کرچکے تھے مجھے اس تاکید کے ساتھ بھیج دیے کہ فی الحال کسی اورکونہ بھیجوں کیوں کہ ترجمہ ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
میں اکثر فون پر ان سے ان کی صحت کے بارے میں پوچھتا اور وہ خاصی تفصیل سے اپنی اوراپنے ڈاکٹر کی روداد سناتے تھے مگرمجھے یہ اندازہ بالکل بھی نہیں تھا کہ وہ یکایک شدید بیمار ہوکرچل بسیں گے۔
مارچ دو ہزار اٹھارہ میں ان کا ای میل آیا کہ آپ کہاں ہیں۔ میں نے جواب میں لکھا کہ کراچی میں ہوں مگرمارچ کے آخر میں امریکا آنا ہوگا۔
انہوں نے پوچھا کہ ان کی کچھ کتابیں محترمہ حوری نورانی شائع کررہی ہیں اس وقت تک وہ کتابیں تیار ہوجائیں گی۔ کیا میں کچھ کتابیں لاسکوں گا۔
میں نے کہا ضرور۔ میری پرواز سے چند گھنٹے قبل محترمہ حوری نورانی کے ایک اہلکار تقریباً دو درجن کتابیں پہنچا گئے جنہیں میں نے اٹلانٹا پہنچتے ہی ڈاک خانے کے حوالے کر دیا۔ ان کتابوں کے ملتے ہی انہوں نے مجھے فون کرکے وصولیابی کی خبر دیدی اورپوچھا کہ میں نے کتاب کی ایک کاپی اپنے لیے رکھی ہے کہ نہیں۔
میں نے کہا تھا کہ نہیں فی الحال تو ساری کتابیں آپ کوبھیج دی ہیں کیوں کہ مجھے کہا گیا تھا کہ آپ کو کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔
ہاں بھئی مجھے ضرورت تو ہے لیکن ایک کاپی میں آپ کو ہر صورت میں بھیجنا چاہتا ہوں۔
میں نے کہا کہ میں کراچی جا کر حوری صاحبہ سے کتاب لے لوں گا مگر انہوں نے واپسی ڈاک سے ایک کتاب مجھے بھیج دی تھی۔
اس دفعہ قیام کے دوران ان سے زیادہ باتیں نہیں ہوسکیں، کچھ دنوں کے لیے وہ شاید اپنے بیٹے کے پاس چلے گئے تھے۔ امریکا سے نکلتے وقت میں نے انہیں پھر فون کیا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ آتے وقت ای میل ضرور کرلیجیے گا کیوں کہ سنگ میل والے کچھ کتابیں چھاپ رہے ہیں اگر ممکن ہو تو لے آئیے گا۔ میں نے کہا تھا ضرور۔
مئی 2018 ء کے آخری ہفتے میں میں دوبارہ امریکا گیا اور اپنے آنے سے قبل انہیں ای میل بھی کیا، جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ وہ کتابیں ابھی نہیں چھپی ہیں لہٰذا میں کتابوں کے بارے میں فکرنہ کروں۔ انہوں نے تاکید کی کہ میں امریکا پہنچ کر انہیں فون کروں۔
امریکا پہنچ کر اور جٹ لیگ سے نجات پاکر میں انہیں فون کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ کراچی سے طارق رحمان فضلی کا واٹس ایپ پیغام ملا کہ محمد عمر میمن صاحب کا انتقال ہوگیا ہے۔
مجھے یقین ہی نہیں آیا کیوں کہ ان کی ای میل سے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ بیمار ہیں اور اتنے شدید کہ جانبر نہ ہوسکیں گے، میں صرف افسوس ہی کرتا رہ گیا کہ میں نے انہیں آتے ہی فون کیوں نہیں کر لیا۔
میں اب بھی امریکا جاتا ہوں، کچھ پڑھ رہا ہوتا ہوں تو ذہن میں سوالات اٹھتے ہیں اور یکایک خیال آتا ہے کہ عمر میمن صاحب سے پوچھتا ہوں، اس بارے میں انہیں ضرور پتا ہوگا مگر پھر فوراً ہی یہ ظالم احساس دل روند دیتا ہے کہ وہ نہیں رہے!



