سماج میں ریپ کلچر کس طرح نمو پاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک اتفاق ہی جانئیے کہ ہائی وے پہ ہونے والے ریپ کے واقعہ سے محض ایک دن قبل میں امریکی چینل کے مشہورپروگرام ”ڈیٹ لائن“ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پروگرم میں قتل کی وارداتوں کو حل کرکے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی سچی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس دن کی کہانی ایک ایسی نوجوان لڑکی کی تھی کہ جس کو رات میں ہائی وے پہ ڈیوٹی پہ تعینات پولیس نے روکا اور پھر ریپ کے بعد فاصلے سے گولی مار کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس افسر نے اپنے جرم کی پردہ پوشی کے ممکنہ حفاظتی اقدامات کے بعد اپنے ساتھی پولیس افسران کو فون کرکے اس قتل سے اس طرح آگاہ کیا کہ جیسے اس نے لاش کو ابھی دیکھا ہے، تاکہ کسی کو شک نہیں ہوکہ اندھیرے میں پڑی نوجوان لڑکی کی لاش اس افسر کے کرتوت کا نتیجہ ہے۔ لیکن ایک سراغ رساں کے شک نے بالآخیراس کے جرم کو ثابت کرکے ہی دم لیا۔ اور یوں اس پولیس افسر کا انتقال جیل میں عمر قید کی سزا کے دوران ہوا۔

اگلے ہی دن میں نے سنا کہ پاکستان میں ہائی وے پہ ایک خاتون کے ساتھ ہونے والے ریپ کے واقعہ سے پورا ملک طیش، صدمہ اور بے بسی کے شدید جذبات کے طوفان سے گزر رہا تھا۔ ہر ایک کو اپنی ہی زمین پہ غیر محفوظ ہونے کا احساس شدید تر ہورہا تھا۔ اور حقیقت بھی یہ ہے کہ اس معاشرہ میں اب بلی کے بچے سے لے کر قبر میں پڑی مردہ عورت کی لاش بھی محفوظ نہیں رہی ہے۔ لیکن یہ جنسی زیادتی کا پہلا واقعہ تو نہیں۔ گھروں کے اندر، بند دروازوں کے پیچھے اپنے ہی رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ہاتھوں جنسی واقعات کی درندگی کی کھلواڑ کوئی نئی نہیں۔ مگر ہمارا مہذب سماج اس سلسلے میں زباں بندی کا قائل رہا ہے۔ سن لیجیے منور حسن صاحب یا اور دوسرے ملاؤں کے بیانات کہ جن کی طاقت منہ زور طوفان کی طرح بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اور جو نہ صرف خاموشی اختیار کرنے کا کہتے ہیں بلکہ ریپ کے جرم کا محرک عورت کو قرار دیتے ہیں۔

اس ریپ کے رد عمل میں مختلف سزاؤں کی تجاویز گشت کررہی ہیں خاص کر سرعام پھانسی کی عبرتناک سزا تاکہ مستقبل میں جرم کا ارتکاب کرنے والے اپنے انجام کو بھی پھانسی پہ لٹکی لاش کی طرح تصور کرتے ہوئے دہل جائیں۔ اس سزا کو قانونی شکل دینے میں وہ عورتیں ہی نہیں مرد بھی شامل ہیں کہ جو جنسی جرائم پہ بیک وقت طیش، غم وغصہ اور خوف کے عالم میں ممکنہ خطرات کو منڈلاتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ شدید جذباتی صورتحال سے دو چار ہیں۔ میں ان کے جذبات سے واقف ہونے کے باجود سرعام پھانسی کی اس سزا کو مسئلہ کا حل نہیں قرار دیتی جو مجھے قبائلی دور کی یاد دلاتے ہیں کہ جب عبرت کے لیے کٹے سر نیزوں پہ اورلاشیں سرعام لٹکائی جاتی تھیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی سماج میں ریپ کا کلچر کس طرح نمو پاتا ہے؟ کچھ معاشروں میں اس کا تناسب کم اور دوسر ے میں زیادہ کیوں ہوتا ہے؟ بطور سوشل ورکر میں بیمار معاشرے کی مریض کی تشخیص کے لیے مرض کی جڑ تک پہنچنا چاہوں گی۔ ہر مرض کا تدارک اس کے علاج کی صورت ہوتاہے۔ جو چاہے قانونی ادارے سزا تجویز کرنے کی صورت کریں یا ماہر ذہنی امراض سے علاج کی صورت لیکن پھانسی میری نظر میں band aid بینڈایڈ ( جو عارضی علاج ہے ) کی طرح ہے۔

ننھی زینب کے ریپ اور قتل کے سزاوار کو پھانسی دینے کے فوراً بعد بھی کتنے ریپ اور قتل کے کیس ہوئے۔ اگر پھانسی ہی علاج تھا تو جرم میں ٹھہراؤ آتا مگر سماج کا مرض سنگینی کی حد تک پھیل چکا ہے اور سلسلہ اس قسم کی سزاؤں سے رکنے والا نہیں۔ اس معاشرتی کرائسس میں ضروری ہے کہ ہم ان تمام عوامل کا جائزہ لیں جو سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ کیونکہ اگر اس کا اب بھی علاج نہ ہوا تو پھر کب؟

جب میں منشیات کے عادی افراد کی تھریپسٹ کی حیثیت سے علاج کے لیے آنے والے مریض دیکھتی ہوں تو میرا سب سے زیادہ زوراس فرد کی زندگی کے مختلف عوامل کے گہرے جائزہ پہ ہوتا ہے۔ مثلاً ان کا بچپن اور گھریلو زندگی کی نا آسودگیاں اور ان پہ بیتے ہوئے سانحات یا ٹراما، رشتوں سے محرومیاں، غربت کے ہاتھوں مناسب رہائش اور صاف اور پرسکون ماحول کی کمیابی، جنسی تشدد کے شکار مرد اور عورتیں، ان کے نفسیاتی الجھنیں اور ذہنی امراض وغیرہ۔

میں جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ آخر ان کے نشہ کی جڑ یں کہاں پہ ملتی ہیں؟ اس وقت میرے سامنے معمولی نوعیت کا جرم کرنے والے نہیں بلکہ وہ مجرم بھی ہوتے ہیں جنہوں نے ریپ بلکہ کچھ کا ہاتھ تو قتل جیسے سنگین نوعیت کے جرم کی واردات میں بھی ہوتا ہے۔ مگر اس وقت میں ان کی زندگی کے اندھیری کھائیوں میں اترتی، مرض کے سرے کو ٹٹولتی ایک تھرپسٹ، ان کی رازدان اور اعتماد دیتی دردمند انسان ہوتی ہوں۔ جو نشہ کی وجوہات سمجھنے کے بعد مریض کے ساتھ اس کا ٹریٹمنٹ پلان تجویز کرے۔ اسی لیے بطورسماجی ایکٹیو سٹ بھی میں ضروری سمجھتی ہوں کہ ہم اپنے معاشرے میں تیزی سے نمو پاتے بیمار ریپ کلچر کو بھی اسی طرح سمجھیں اور حل تلاش کریں۔ سر عام پھانسی کے قانون کا جذباتی فیصلہ جو لواحقین کے لیے عارضی سکون کا باعث تو ہو سکتا ہے مگر اس مرض کا علاج نہیں جس کی جڑیں گہری ہیں۔

ویسے تو ریپ ایک عالمگیر مسئلہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر تین میں ایک عورت کو اپنی زندگی کے کسی حصے میں جسمانی یاجنسی استحصال کا سامنا ہے۔ یہ شرح جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں 37.7 فی صد ہے۔ اگر بات ریپ کی ہوتو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا شکار عورتیں اور چھوٹی بچیاں ہی نہیں کم عمر لڑکے اور کمزور مرد بھی ہوتے ہیں گویا یہ طاقتور اور مظلوم کے درمیان ہونے والی وہ کھلواڑ ہے جس کا ارتکاب مرد یا عورت کوئی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن چونکہ ہم پدرسری معاشرہ کا حصہ ہیں لہٰذا عمومی طور پہ ریپ کو مرد اور عورت کی صنفی تفریق ہی کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ جس کی بنیادیں مردانہ برتری کے جعلی زعم پہ کھڑی ہیں۔

اب اگر بات سماجی صنفی امتیاز سے شروع کی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سماج میں مرد اور عورت کی درمیان غیر مساواتی یا تفریقی برتاؤ گہوارے سے لحد تک جاری رہتا ہے۔ اپنے حالات دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات پہ چنداں حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ صنفی امتیاز کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے 153 ممالک میں سے 151 واں ہے۔ مثلاً عورتوں میں خواندگی کی شرح مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہی حال ملازمتوں اور دوسری مراعات کا ہے۔

اکثر عورتیں تعلیم حاصل کرنے کے بجائے کم عمری کی شادی، بچے پیدا کرنے اور گھریلو ذمہ داریوں میں الجھ کر اپنی زندگی تمام کر دیتی ہیں۔ اکیاون فی صد آبادی کی تعلیم و شعور سے دوری اور آبادی میں اضافہ کی ذمہ داری ملکی معیشت پہ ایک بوجھ تو ہے ہی لیکن صنفی امتیاز کے رویہ کی جڑیں معاشرہ میں کچھ اس گہرائی سے پیوستہ ہیں کہ خود عورت بھی اپنے آپ کو معاشرہ کا دوسرے درجے کا شہری اور سکس اوبجکٹ ہی سمجھتی ہے جس کا کام مرد کی خوشنودی، اس کا بیجا غصہ برداشت کرنا اور اس کے ہاتھوں ہونے والے ہر قسم کے استحصال کو خاموشی سے پی جانا ہے۔ کیونکہ یہی رویہ اس نے ماں باپ کے درمیان دیکھا اور پھر بڑے ہوتے ہوئے خود اپنی ماں کے ہاتھوں وہ صنفی تفریقی رویہ کا شکار ہوئی کہ جب بیٹے کو ہر معاملہ میں بیٹی کے مقابلہ میں فوقیت ملی اور یہی سوچ وہ اپنی اگلی نسل میں منتقل کرتی ہے۔

اس قسم کے سماج میں اگر عورت معذوری (جسمانی یا ذہنی) کا شکار بھی ہو تو گھریلو اور جنسی تشدد کا خدشہ اور بھی بڑھ جاتا۔ اور پھر تیسری جنس کے افراد کی حق تلفی کا تو پوچھنا ہی کیاہے۔ جنہیں تشدد کے ساتھ جان سے جانے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ ناموس کی خاطرقتل، گھریلو تشدد، لڑکیوں کی ختنہ، کم عمری کی شادی، قرآن سے شادی، کاروکاری وغیرہ اسی پدرسری نظام کی کڑیاں ہی تو ہیں۔

بدقسمتی سے آزادی کے وقت سے ہی جاگیرداری اور قبائلی نظام کی مہربانی سے ہمارے ملکی حالات اس قسم کے سماجی رویہ کی نمو میں زرخیز کھاد کا کردار ادا کر رہے۔ لہٰذا جنسی تشدد برپا کرنے والے ریپسٹوں کی فصل بھی ہری بھری ہی رہی۔ جہاں طاقت کے نشہ میں چور حکمران کسی بھی من پسند لڑکی کے ساتھ جبری زنا کا اختیار رکھتے ہیں۔ ہم ایک ایسے نظام کا حصہ ہیں جہاں غربت کا بسیرا، قانون کا منہ کالا، ملکی معیشت پہ منافع خور اور خود غرض حکمرانوں نے غنڈہ گردی کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔

جس کے عوام آزادی سے آج تک قطار میں کشکول لئے اپنی باری کے انتظار میں محض صاف پانی، مناسب تعلیم، بنیادی علاج اور رہنے کے لیے مکان کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ جہاں اب جینا تو ایک طرف مرنا بھی محال ہوگیا ہے۔ معاشرے میں پھیلی غربت اوربڑھتی ہوئدولت کی نا منصفانہ تقسیم نے انار کی پیدا کردی ہے۔ مہنگائی نے سب کو پسپا کر دیا ہے۔ سوال پوچھنے والے ذہنوں پہ قدغن اورمذہبی رواداری کی موت واقع ہو چکی ہے۔ کھلے ذہن رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ مشعل اور اس جیسے لوگوں کو معاشرہ کا جاہل معاشر ہ پتھروں سے مارنے کا حق رکھتا ہے اور بند ذہن رکھنے والے اور کفر کے فتوے دینے والے ملاؤں کو حکمرانوں نے سر چڑھایا ہواہے۔ آفرینش ہی سے ملک کرائسس کی حالت میں ایڑیاں رگڑ رہا ہے۔ ایسے ملک کا ماحول تشدد کے رویہ کو جنم نہیں دے گا تو اور کیادے گا؟ اور ریپ تشدد کی ایک گھناؤنی شکل ہے۔

ریپ کرنے والے ریپسٹ مرد ہوا میں تخلیق نہیں ہوتے۔ بلکہ ایک مردانہ تسلط اور فیوڈل سماج کی پیداوار ہیں۔ ان کا رویہ ہمارے سماج کا عکس ہے۔ اب اگر ہم نے ”اصل مرد“ کو طاقت اور بالا دستی کی علامت اور اس کی معاشی حیثیت کو اس کی برتری کاجواز بنا دیا تو اس قسم کے معاشرے میں جہاں غربت اور جہالت اور بے شمار عوامل کا بسیرا، معمولی سہولتوں اور نوکریوں کافقدان ہو وہاں ہم ”اصلی برتر مرد“ کے بجائے ناکامی کے پاتال میں دھنسے، غصہ اور فریسٹریشن سے آلودہ ناکام اور پرتشدد مرد دیکھتے ہیں۔ جن کا آسان شکار معاشرہ کا کمزور طبقہ مثلاً عورتیں اور بچے بنتے ہیں۔ گو اس پرتشدد جنسی رویے کی اور بھی بے شمار وجوہات ہیں مثلاً بچپن کی محرومیاں اور گزرے سانحات، جنسی جسمانی اور ذہنی تشدد، ذہنی یا جسمانی بیماریاں وغیرہ وغیرہ

اس مضمون کو لکھنے کا کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ریپ کا جواز پیش کرکے اس جرم کو قابل معافی قرار دے کے ریپسٹ کو بغیر سزاکے چھوڑ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ عدالتی سطح پہ اس کے لیے قوانین کا نفاذ اور اطلاق اور ان پہ عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ تاکہ مجرم کو اپنے جرم کی سنگینی کا احساس ہو۔ اور وہ جس پر تشدد کیا ہے اس پر الزام دینے اور اپنے جرم کا جواز دینے کے بجائے اپنے مجرمانہ عمل کو سر عام قبول کرے اور کیے کی سزا بھگتے۔

لیکن اس ریپ کلچر کو نمو پاتے معاشرہ کی تبدیلی کے اقدام کی ذمہ داری بنیادی طور پہ ریاستی سطح پہ حکومت کی ہے۔ عوام کے ووٹوں سے آنے والے یہ سمجھیں کہ ملکی دولت ان کی تجوریاں بھرنے اور دوسرے ملکوں کی بینکوں میں منتقل ہونے کے بجائے عوام کی بہتری پہ کے منصوبوں کے لیے ہے۔ تاکہ کبھی تو اکثریت کی بھی داد رسائی ہو سکے۔ گھریلو سطح پی ریپ کلچر کی روک تھام کی ابتدا بچپن کی تربیت سے ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ اس صنفی امتیاز کی رویے کے نتائج کو سمجھا جائے۔ والدین گھروں میں اپنے بچوں کے درمیان صنفی تفریق کا رویہ نہ پنپنے دیں۔ ان کے روایتی رولز کو چیلنج کریں۔ صرف کہنے سے کام نہیں چلے گا۔ اس کے بجائے عمل یعنی رول ماڈلنگ کریں۔

تشہیری اداروں میں عورت اور مرد کی روایتی کردار کے خلاف حتجاج کریں۔ ادب، ٹی وی ڈرامے، فلمیں، ٹی وی اینکروں سے لے کر سیاست دانوں کے بیان کا محاسبہ کریں۔

اس ریپ کلچر کی گہری جڑوں کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیں۔
اسکولوں میں سیکس تعلیم کی شروعات پہ زور دیں۔
عورت اور مرد کے درمیان صحتمندانہ رشتے کو بچپن سے فروغ دیں۔
عورتوں کی تعلیم، شعور و آگہی اور معاشی طاقت کو بڑھائیں۔

جنس کے موضوع پہ بات کریں۔ اکثریت ریپ کا ارتکاب گھروں میں اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں انجام پاتا ہے۔ اگر کھل کربات نہیں ہوگی تو یہ سلسلہ اسی طرح چلے گا۔

ریپ ہونے والی عورتوں کو الزام دینے کے بجائے ان کو جذباتی، ذہنی، علمی اور معاشی سپورٹ دیں۔

کونسلنگ (گروپ اور انفرادیی) کے علاوہ اور سپورٹ گروپ سے متعارف کرائیں۔ کیونکہ تشدد سے گزرنے والا شدید نفسیاتی کیفیت مثلاپوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر، ڈپریشن، احساس ندامت سے گزرتا ہے۔

ان جرائم کے خلاف قوانین کے بل منظور کروانے اور ان پہ عمل کروانے کے لیے متحرک ہوں۔ جس ملک کے وزیر عورتوں کواپنی جنسی تسکین کے لیے مرضی سے اٹھوالیتے ہوں وہاں تبدیلی کا عمل مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ بجائے معجزوں کے منتظر ہونے کے خود فعال ہوں اور محض تبدیلی کے نعروں پہ تکیہ کرنے کے بجائے خود سماجی تبدیلی کا حصہ بنیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •