سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک


خلیفہ کی طرف سے صلاح الدین کو ’یروشلم فتح کرنے کی تیاری کا پیغام‘

دریں اثنا بغداد سے صلاح الدین کو شام کا حکمران تسلیم کرنے کی درخواست کا بھی جواب آ گیا۔ فلپس بتاتے ہیں کہ خط کے ساتھ عباسی خلافت کا سیاہ پرچم، ان کے لیے خصوصی لباس اور انھیں مصر، یمن اور شام کے اُن علاقوں کا حکمران تسلیم کرنے والی سند بھیجی گئی جو اُس وقت اُن کے قبضے میں تھے۔

مگر صلاح الدین کے لیے مایوسی کی بات یہ تھی کہ اسی طرح کی سند حلب میں الصالح کے لیے بھی جاری کی گئی تھی۔

مؤرخ فلپس کے مطابق یہ خلیفہ کی طرف سے سلطان کے لیے پیغام تھا کہ نورالدین زنگی کے وارثوں اور حلب کے لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے اور وہ خود اب یروشلم کو دوبارہ فتح کرنے کی تیاری کریں۔

سنہ 1187 تک سلطان صلاح الدین کو یروشلم آزاد کروانے کے عزم کا اعادہ کرتے ایک دہائی گزر چکی تھی۔ اب ان کے پاس شام اور مصر اور ’جزیرہ‘ کے علاقے کے وسائل کے ساتھ ایک وسیع سفارتی نیٹ ورک بھی تھا کہ وہ پوری توجہ اس مشن پر لگا سکیں۔

فلپس لکھتے ہیں کہ مسلمان حکمرانوں اور سرداروں سے نمٹنے میں صلاح الدین کا اتنا وقت لگ گیا کہ لوگ کہنے لگے کہ وہ اپنا مقصد بھول کر مسلمانوں سے ہی لڑتے رہتے ہیں۔ ’سالوں کے پروپیگنڈے کے بعد اب سلطان کے لیے فیصلہ کن وار کرنا ضروری ہو گیا تھا۔‘

اسی سال ایک مقامی مسیحی نواب رینلڈ نے ایک تجارتی کارواں پر حملہ کر کے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور پھر قیدیوں کو واپس کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

اب سلطان کے پاس حملہ کرنے کا جواز تھا اور انھوں نے اپنے اقتدار کی سب سے بڑی فوج جمع کی۔ ’ہر طرف ایوبی خاندان کے زرد پرچم لہرا رہے تھے۔‘ فلپس نے سلطان کے قریبی مؤرخ عماد الدین کے حوالے سے لکھا کہ ایسے لگتا تھا جیسے زمین نے نے نیا لباس پہن لیا ہو۔ صلاح الدین نے کہا کہ یہی وہ دن ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔

دو جولائی کو سلطان کے فوجیوں نے طبریا (ٹائبیریاس) نامی ایک شہر کا گھیراؤ کر لیا جس کا حکمران لارڈ ریمنڈ مرکزی مسیحی فوج کے ساتھ تھا اور شہر کا انتظام ان کے اہلیہ کے ہاتھ میں تھا۔ لارڈ ریمنڈ کی بیوی نے شہر پر سلطان کے قبضے کے وقت ایک قلعے میں پناہ لے لی۔

فلپس نے مسلمان مؤرخ ابن الاثیر کا حوالہ دیا ہے کہ ’سلطان کے طبریا پر حملے کا صرف ایک مقصد تھا کہ مسیحی فوج کو اپنی پوزیشن چھوڑنے پر مجبور کیا جائے‘ اور اس میں وہ کامیاب ہو گئے تھے۔ اس جنگ کو معرکہ حطین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی یروشلم کی طرف پیشقدمی سے پہلے صلیبیوں کے خلاف معرکہ حطین میں اہم کامیابی

معرکہ حطین کی اہمیت اور عکا شہر پر قبضہ

فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین کی معرکہ حطین میں کامیابی اور اس میں فرینکس کی فوج کی تباہی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا۔ لیکن یروشلم حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت تھی۔ ’اگلے سات ہفتے انھوں نے سلطنت یروشلم میں کئی زبردست مہمات کیں جن میں سے کئی کی قیادت انھوں نے خود کی۔‘

عکا کا شہر 8 جولائی کو فتح ہوا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار وہاں 10 جولائی سنہ 1187 کو جمعے کی نماز ادا کی گئی۔ اس کے بعد بیروت فتح ہونے میں بھی زیادہ دن نھیں لگے۔

اشکیلون کو فتح کرنے میں دو ہفتے لگے۔ یہاں بھی صلاح الدین نے شہر والوں کے ساتھ سختی نہیں کی۔ ’وہ قتل عام کا سلسلہ نہیں چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ کہیں پر ان کے خلاف زیادہ مزاحمت نہ ہو اور ان شہروں کے قریب مسلمانوں کی بھی آبادیاں تھیں۔‘

اشکیلون کے باسیوں کو یروشلم جانے کا موقع دیا گیا جہاں وہ پناہ گزینوں کی اس بڑی تعداد کا حصہ بن گئے جو مذہبی جذبے سے یروشلم کے دفاع میں حصہ ڈالنے کے لیے وہاں پہنچ رہے تھے۔

سلطان صلاح الدین کی یروشلم آمد

صلاح الدین 20 ستمبر 1187 کو یروشلم پہنچے۔ شہر پر تیروں کی بارش تھی۔ ہر طرف نقاروں، ڈھول اور شدید نعروں کا شور گونج رہا تھا۔ شہر میں تیروں سے اتنا نقصان ہوا کہ اس وقت لاطینی مسیحی دنیا کے سب سے بڑے ہسپتال سینٹ جان ہسپتال کو بھی زخمیوں سے نمٹنے میں مشکلات پیش آنے لگیں۔

سلطان نے کہا کہ معرکہ حطین میں کامیابی اور یروشلم کی دیواروں کے باہر ان کی موجودگی خدا کی نصرت کا ثبوت ہیں۔ سلطان نے اپنی تقریر کا اختتام اس عزم پر کیا کہ ’وہ یروشلم سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک ڈوم آف دی راک یا قبۃ الصخرہ پر ان کا قبضہ نہیں ہو جاتا۔‘

معرکہ حطین میں شکست کے بعد کسی مسیحی امدادی فوج کی آمد کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ یروشلم کے بادشاہ تو معرکہ حطین میں قیدی بن گئے تھے اور ان کی جگہ شہر کے منتظم بالیان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ کھیل ختم ہو گیا ہے اور ہتھیار ڈالنے کے مذاکرات شروع کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

شہر پر قبضے کے لیے خونی ٹکراؤ سے بچنے کے فوائد، مسلمان قیدیوں کی زندگی اور مقدس مقامات کی سلامتی کی صورت میں واضح تھے۔ اس کے علاوہ اس صورت میں مسیحی قیدیوں کے لیے ملنے والے ممکنہ تاوان کی شکل میں مالی فائدے کا بھی امکان تھا۔

ہتھیار ڈالنے کی تاریخ دو اکتوبر طے کی گئی جو جمعے کا دن تھا اور سنہ 1187 کی یہ رات معراج کی رات بھی تھی۔ اس تاریخ کی وجہ سے یروشلم کی فتح کا منظر دیکھنے کے لیے صوفیوں، درویشوں اور علما کو بھی وہاں پہنچنے کا وقت مل گیا۔

یروشلم اور عورتیں

ذرائع کے مطابق شہر میں بچوں اور عورتوں کے علاوہ 60 ہزار مرد تھے۔ شہر کے مسیحی حکمران بالیان نے مختلف طبقات کی مدد سے 18 ہزار غریب افراد کے لیے 30 ہزار دینار کا بندوبست کیا۔ ’اگلے کچھ ہفتوں تک شہر میں لوگ اپنا سامان بیچ کر اپنی آزادی کے لیے پیسوں کا بندوبست کرتے رہے۔‘

فلپس نے لکھا ہے کہ سب کے لیے دس دینار قیمت طے کرنے پر صلاح الدین تنقید کا نشانہ بھی بنے کیونکہ امیر لوگ با آسانی یہ پیسے دے کر اپنے قیمتی سامان کے ساتھ یروشلم سے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ لوگوں نے ایسے ایک امیر مسیحی عہدیدار کا قیمتی سامان ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔ لیکن صلاح الدین نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے بلکہ انھوں نے اُن لوگوں کو اُن کی منزل تک سکیورٹی بھی فراہم کی۔

مؤرخ لکھتے ہیں اس کے باوجود ’16 ہزار غریب لوگ شام اور مصر کی غلاموں کی منڈیوں میں بکے۔‘

پہلا جمعہ اور ’اسلام کے نئے ہیرو‘

مسیحی قبضے میں تقریباً نو دہائیوں میں تمام مقدس مقامات پر مسیحیت کی چھاپ لگ چکی تھی۔ سلطان نے ہر جگہ کو اسلامی تقاضوں کے مطابق بحال کرنے کا حکم دیا۔ مسلمانوں کی حکمرانی میں یروشلم میں نو اکتوبر پہلا جمعہ تھا۔

جمعہ کی نماز کی امامت کے لیے سلطان کا فیصلہ دمشق کے قاضی اور شاعر محی الدین کے حق میں تھا جنھوں نے چار سال قبل سنہ 1183 میں حلب کی فتح کے موقع پر یروشلم کی فتح کی پیشینگوئی کی تھی۔ جمعہ کا خطبہ مسجد الاقصی میں دیا گیا۔ قاضی محی الدین نے سنہ 1187 کی یروشلم کی فتح کا موازنہ تقریباً ساڑھے پانچ سو سال قبل سنہ 638 میں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ کے دور میں اس شہر کی فتح سے کیا۔

انھوں نے سلطان صلاح الدین کو اسلام کا نیا ہیرو قرار دیا۔ ادھر سلطان صلاح الدین کو احساس تھا کہ اب انھیں ایک اور صلیبی جنگ کا سامنا کرنا ہوگا جو یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے لڑی جائے گی۔ انھیں معلوم تھا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے انھیں مزید فرنگی علاقوں پر قبضہ کرنا ہوگا۔

سلطان اور بغداد کے خلیفہ

فلپ لکھتے ہیں کہ ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ بغداد سے خلیفہ کا ایک پیغام آیا۔ سلطان اپنی فتح کے پیغام کے بعد مبارکباد کی توقع کر رہے تھے لیکن ہوا اس کے برعکس۔ دراصل سلطان نے مبارک کا پیغام ایک نوجوان اور ناتجربہ کار ایلچی بھیجا تھا جس کو بغداد میں پسند نھیں کیا گیا۔ بظاہر اس بات کو خلیفہ کو نیچا دکھانے کی کوشش سمجھا گیا۔‘

سلطان نے جواب میں مصر، یمن اور یروشلم میں اپنی کامیابیاں گنوائیں۔ ’کیا میں نے یروشلم کو حاصل کر کے مکہ سے نھیں جوڑا۔۔۔۔کیا میں نے اپنی کارروائیوں سے مغرب کو مرعوب نھیں کیا۔‘

فلپس لکھتے ہیں کہ ایک اور صلیبی جنگ آتے دیکھ کر وہ سنی اسلامی دنیا کے روحانی پیشوا کو ناراض نہیں کر سکتے تھے۔

صلیبی جنگ کی تیاری اور سلطان کی صحت

ستمبر کے مہینے تک صلاح الدین ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر چکے تھے۔ فلپس سلطان کے حلقے میں شامل مؤرخوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس وقت تک مسلمان فوجیں تھک چکی تھیں اور انھیں آرام کی ضرورت تھی۔ سپاہیوں کے ساتھ ساتھ سلطان کو خود بھی آرام کی ضرورت تھی۔

ان کے سیکرٹری کے مطابق سلطان کی جہاد کے لیے تیاری کا یہ عالم تھا کہ وہ رمضان کے مہینے میں بھی آرام نھیں کرتے تھے۔ ’یہ جتنا بھی قابل تعریف تھا حقیقت یہ ہے کہ جیسا آگے چل کر ہوا اس چیز نے ان اور ان کے قریبی ساتھیوں کی صحت کو بری طرح متاثر کیا۔‘

یورپ میں صلیبی جنگ کی تیاری

ادھر یورپ میں تیسری صلیبی جنگ کی تیاری زوروں پر تھی اور گرمیوں کے آغاز میں پہلے صلیبی دستے کی آمد متوقع تھی۔

فلپس لکھتے ہیں کہ پادریوں اور مسیحی امرا نے مغربی یورپ کے دورے کیے اور لوگوں سے کہا کہ مشرق میں مسلمانوں کے ہاتھوں بہت مسیحی خون بہا ہے اور مقدس مقامات کی توہین معمول بن گیا ہے۔ سلطان کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مسیحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

’یروشلم کی شکست لاطینی مسیحی دنیا کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا جس کی اس سے پہلے لاطینی دنیا میں مثال نھیں تھی اور واقعے کا موجب اور مرکزی کردار کے طور پر سلطان صلاح الدین سے برا شخص کوئی نھیں ہو سکتا تھا۔‘

یورپ میں فرانس کے بادشاہ فلپ آگستس، انگلینڈ کے بادشاہ ہنری دوم، جرمنی کے بادشاہ فریڈرک بارباروسا اور کئی دیگر حکمران صلیب تھام چکے تھے۔ اب صلیبی جنگ کی تبلیغ، فوجیوں کی بھرتی اور مقدس مقامات تک پہنچنے کے لیے ایک سال کا وقت درکار تھا۔ کچھ چھوٹی مہمات پہلے ہی روانہ ہو چکی تھیں۔ ان کی پہلی منزل صور کا شہر تھا۔ جرمنی کے بادشاہ مئی 1189 میں روانہ ہوئے۔

عکا کا طویل محاصرہ: مؤرخ لکھتے ہیں کہ ان سب کے علاوہ سب سے اہم پہلو بیماری ہے۔ خوراک کی کمی، خراب رہائشی حالات، جسمانی اور ذہنی تھکان ادنیٰ سپاہی سے جرنیلوں تک سب کو متاثر کرتے ہیں۔ ‘تیروں، تلواروں اور آگ برساتے ہتھیاروں سے کہیں زیادہ جانیں بیماری کے ہاتھوں ضائع ہوئی تھیں۔ ‘

عکا کا طویل محاصرہ اور محاذ پر جوش و خروش

مسیحی فوج نے عکا شہر کی طرف پیش قدمی کی۔ انھوں نے اگست کے آخری ہفتے میں عکا کے سامنے ایسی جگہ پڑاؤ ڈالا کہ انھیں ساحل سے امداد حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اب بیچ میں عکا شہر تھا اس کے گرد مسیحی فوج جو خود صلاح الدین کے فوجیوں کے گھیرے میں تھی۔

فلپس لکھتے ہیں کہ عکا شہر کے لیے یہ لڑائی قرون وسطی کے طویل ترین محاصرے پر مشتمل تھی جو تقریباً دو سال تک جاری رہا۔ سب کو معلوم تھا کہ جو بھی یہاں کامیاب ہو گا اسے یروشلم پر قبضے کے لیے ہونے والی لڑائی میں واضح برتری حاصل ہو گی۔

دونوں طرف اتنا جوش و خروش تھا کہ سمندر پار مغربی یورپ سے اور اسلامی دنیا سے ہزاروں مرد اور عورتوں اس محاذ پر جمع ہو رہے تھے۔ ایک طرف انگلینڈ، فرانس، ویلز، ڈنمارک، فلینڈرز ، ہالینڈ، بیلجیم اور جرمن سلطنت بشمول شمالی اٹلی، پولینڈ، ہنگری، جنوبی اٹلی، سسلی، جنووا، وینس اور پیسا سے مسیحی صلیبی جنگ میں حصہ لینے کے لیے آئے تھے اور ان کے مقابلے کے لیے مصر، شام، یمن، ایشیائے کوچک، آذربائیجان اور خراسان سے آنے والوں کے علاوہ ترک، کرد، عرب، نوبی، آرمینیائی اور بدو مسلمان بھی وہاں موجود تھے۔

مسلمان اور مسیحی فوجیوں کی گپ شپ اور ناچ گانا

عکا کے طویل محاصرے کے سب سے یادگار واقعات سنہ 1191 کے گرمیوں کے موسم میں فرانس کے بادشاہ فلپ آگستس اور انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل کے وہاں پہنچنے کے بعد پیش آئے۔ ان کی آمد سے پہلے کے 20 ماہ تیزی سے بیان ہوتے طویل جنگ نامے کے منظر کی طرح تھے۔

فلپس لکتھے ہیں کہ کسی بھی جنگ کے کچھ ادوار اس کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن اتنی طویل جنگ میں پورا سال ہر روز لڑا نھیں جا سکتا۔ اس میں سفارتکاری کے باب آتے ہیں، تھکی ہوئی فوجیں آرام کرنے کے لیے رکتی ہیں، ہفتوں تک خراب موسم جنگ نھیں ہونے دیتا اور جنگوں کے دوران بوریت سے سب واقف ہیں۔

مؤرخ بہاؤالدین لکھتے ہیں کہ کئی بار بوریت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دونوں طرف کے فوجی لڑائی بھول کر ایک دوسرے سے بات چیت میں لگ جاتے اور بات مل کر گانے اور ناچنے تک بھی پہنچ جاتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کے بٹن پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp