سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک

اسد علی - بی بی سی اردو، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یروشلم کی فتح کے موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہر اس اندازے کو غلط ثابت کیا جو شاید ماضی میں اس شہر میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسی یورپ میں جہاں انھیں اپنے زمانے میں’خون کا پیاسہ’ اور شیطان کی اولاد!’ کہا گیا تھا 20ویں اور 21 ویں صدی میں ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔

وہ دو اکتوبر 1187 کی تاریخ اور جمعے کا دن تھا جب دنیا کے ‘مذہبی دارالحکومت’ اور سب سے ‘متنازع’ سمجھے جانے والے شہر یروشلم میں تقریباً نو دہائیوں کے وقفے کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں ایک بار پھر مسلمانوں کی حکمرانی کا دور شروع ہوا تھا۔

شہر کی فصیلوں پر ایوبی پرچم لہرایا گیا تھا اور مذہبی مقامات سے مسیحیت کی علامات ہٹانے کا کام شروع کیا گیا تھا۔ ٹھیک 833 برس قبل دو اکتوبر کی وہ رات شب معراج کی رات بھی تھی۔

یروشلم جنگ کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک محاصرے کے بعد شہر کے مسیحی منتظمین اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں مسلمانوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ شہر کا ہر باسی معاہدے میں طے کی گئی رقم ادا کر کے آزادی سے کسی دوسرے مسیحی علاقے میں جا سکتا تھا۔ جو لوگ پہلے ہونے والے ممکنہ ظلم کا سوچ کر پریشان تھے اب اس فکر میں تھے کہ اپنی آزادی خریدنے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں۔

دو اکتوبر کے دن اور آنے والے کئی ہفتوں تک شہر سے لوگ رقم ادا کر کے جاتے رہے۔ جو نہیں ادا کر سکتے تھے وہ مدد مانگتے رہے اور ان میں سے ہزاروں کی مدد خود سلطان صلاح الدین ایوبی اور ان کے بھائی سیف الدین نے ذاتی طور پر ان کا تاوان ادا کر کے کی اور بہت سے غربا کو شہر کے سابق مسیحی حکمرانوں کی درخواست پر بغیر تاوان ادا کیے جانے دیا گیا۔

مؤرخ جانتھن فلپس نے سلطان صلاح الدین کی زندگی پر اپنی کتاب ‘دی لائف اینڈ لیجنڈ آف سلطان سلاڈن (صلاح الدین)’ میں لکھا ہے کہ ‘یروشلم کے مسیحی شہریوں کو کچھ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ مسلمانوں کے محاصرے کے دوران یروشلم کی خواتین نے اپنے بال کٹوا دیے تھے کہ وہ فاتح فوج کے سپاہیوں کی نظروں میں نہ آئیں لیکن فلپس لکھتے ہیں کہ فتح اور یروشلم پر قبضے مکمل کرنے کا مرحلہ طے کرنے کے بعد سلطان صلاح الدین نے خاص طور پر عورتوں کے معاملے میں رحم دلی کا مظاہرہ کیا جس کے لیے وہ مشہور تھے۔۔۔سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ ان کا یہ جذبہ سچا تھا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی تھا۔ وہ ان کو فروخت کر سکتے تھے یا اپنے فوجیوں کے حوالے کر سکتے تھے۔’

یروشلم کی فتح کے موقع پر سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہر اس اندازے کو غلط ثابت کیا جو شاید ماضی میں اس شہر میں ہونے والے واقعات کی بنیاد پر قائم کیے گئے تھے اور یہی وجہ ہے کہ اسی یورپ میں جہاں انھیں اپنے زمانے میں’خون کا پیاسا’ اور ‘شیطان کی اولاد!’ کہا گیا تھا، وہاں 20 ویں اور 21 ویں صدی میں ہیرو کا درجہ بھی دیا گیا۔

یہ وہی یروشلم تھا جس کی سنہ 1099 میں فتح کے بعد صلیبیوں کی یروشلم میں داخلے کے موقع پر یہاں ہر طرف لاشیں تھیں اور مرد، عورتیں اور بچے کوئی فاتحین کی تلواروں سے محفوظ نہیں تھا۔ مصنف جسٹن ماروزی نے اپنی کتاب ‘اسلامی سلطنتیں: 15 شہر جو ایک تہذیب کو بیان کرتے ہیں’ میں یروشلم کے بارے میں باب میں مسیحی ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے صلیبیوں کی فتح کے بعد شہر کے مناظر بیان کیے ہیں۔ انھوں نے صلیبیوں کے رویے کی مثال کے طور پر ان کے ایک عہدیدار کا بیان نقل کیا ‘زبردست مناظر تھے۔ ہمارے فوجیوں نے دشمنوں کے سر قلم کر دیے۔۔۔۔۔۔ کچھ کو زیادہ تکلیف دینے کے لیے آگ میں جھونکا گیا۔ گلیوں میں سروں، کٹے ہوئے پیروں اور ہاتھوں کے ڈھیر تھے۔’

سلطان صلاح الدین ایوبی کا چیلنج یروشلم کی فتح پر ختم نہیں ہوا بلکہ انھیں اندازہ تھا کہ اب مسیحی دنیا جس پر یروشلم جیسے مقدس شہر کے ہاتھ سے نکلنے کی خبر بجلی بن کر گری ہو گی اس کو واپس حاصل کر نے کی کوشش کرے گی۔

سنہ 1187 میں یروشلم کی فتح سے تیسری صلیبی جنگ میں اس کے کامیاب دفاع کا باب تقریباً پانچ برسوں پر محیط ہے، وہ صلیبی جنگ جس میں مغربی یورپ کے بڑے بڑے بادشاہ خود شریک ہوئے اور یورپ بھر سے لوگوں کو جنگ میں شرکت پر مائل کرنے کے لیے سلطان کی بدترین سے بدترین شبیہ پیش کی گئی لیکن جنگ کے لیے آنے والے نہ صرف یروشلم حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ سلطان کی ایک مختلف تصویر لے کر واپس گئے جو تمام تر پراپیگنڈے کے بعد آج تک قائم ہے۔

صلاح الدین ایوبی کی یروشلم آمد کے بارے میں 20 ویں صدی کی ایک پینٹنگ: مؤرخ جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ ‘میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔’

مثال کے طور پر اس اکتوبر ہی میں ناروے میں ‘سیلاڈن ڈے’ (یوم صلاح الدین) منایا جائے گا۔ بی بی سی اردو سروس نے ناروے کے ایک ادارے ہاؤس آف لٹریچر سے رابطہ کیا جو سنہ 2009 سے ‘بین الاقوامی سیلاڈن ڈے’ منا رہا ہے، اور ان سے پوچھا کہ ناروے میں کسی کو صلاح الدین ڈے منانے کا خیال کیسے آیا؟

اس ادارے کی رکن اور صلاح الدین ڈے کی کیوریٹر اشلد لاپےگارد لاہن نے بتایا کہ اس خیال کا پہلی بار اظہار سنہ 2008 میں ناروے کے ایک قومی شاعر ہینریک ویرگے لیند کی 200 سالہ تقریبات کے دوران کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہینریک ویرگے لیند وہ شاعر تھے جنھوں نے ناروے کے آئین میں اس ترمیم کو متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا جس کے بعد یہودیوں کو اس ملک میں آنے کی اجازت ملی تھی۔ وہ مذہبی رواداری کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

اشلد لاہن نے بتایا کہ سنہ 2008 میں اس تقریب کے دوران ناروے کے ایک مصنف تھوروالد سٹین نے تجویز پیش کی کہ ویرگے لیند کی سوچ کو آگے بڑھانے کے لیے ہمیں صلاح الدین کی یاد میں بھی ایک دن منانا چاہیے کیونکہ انھوں نے یروشلم کی فتح کے موقع پر جس کردار کا مظاہرہ کیا تھا وہ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں کے مل کر رہنے کے بارے میں ایک سبق ہے۔

اشلد لاہن نے بتایا کہ ‘ناروے کی طرح شاید یورپ میں بھی بہت کم لوگ صلاح الدین کے بارے میں جانتے ہیں اور جو جانتے بھی ہیں، ان کی نظر میں وہ ان کا موازنہ (صلیبی جنگوں کے یورپ میں ہیرو) رچرڈ شیردل سے کرتے ہیں اور ان کے خیال میں صلاح الدین ایک وِلن ہیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ‘صلاح الدین ڈے’ کے ذریعے ہم پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں۔’

بات صرف ناروے کی نہیں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک جنگی جہاز کو ‘ایچ ایم ایس سیلاڈن’ کا نام دیا اور پھر سنہ 1959 اور 1994 کے درمیان برطانوی فوج نے ‘سیلاڈن’ کے نام سے ایک بکتر بند گاڑی بھی بنائی۔ یہ وہی برطانیہ ہے جہاں سے انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل نے تیسری صلیبی جنگ میں مسیحی فوج کی قیادت کی تھی۔

جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ ‘میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔’

یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے یورپ سے پہنچنے والی فوج اور سلطان صلاح الدین کے درمیان تقریباً تین برس پر پھیلے ٹکراؤ (تیسری صلیبی جنگ) کی تفصیلات کے ذکر سے پہلے بات کریں گے صلاح الدین اور ان کے خاندان کے ماضی کی اور جہاد کے اس ماحول کی جس میں مشرق وسطیٰ کے لوگوں کی یروشلم کی بحالی کی توقعات ان سے وابستہ ہو گئی تھیں۔ ‘

تاہم اس شخص کو جس نے 800 سال پہلے مغرب کو شکست دے کر یروشلم کو فتح کیا تھا ایک مثالی کردار کے طور پر یاد کیا گیا۔ برطانیہ کی رائل نیوی نے پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک جنگی جہاز کو ’ایچ ایم ایس سیلاڈن‘ کا نام دیا اور پھر سنہ 1959 اور 1994 کے درمیان برطانوی فوج نے ’سیلاڈن‘ کے نام سے ایک بکتر بند گاڑی بھی بنائی۔ یہ وہی برطانیہ ہے جہاں سے انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ شیردل نے تیسری صلیبی جنگ میں مسیحی فوج کی قیادت کی تھی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے اعزاز میں انگلینڈ کی فوجی بکتر بند گاڑی ملک کے نورفوک ٹینک میوزیم میں رکھی ہے۔ میوزیم سے رابطے پر انھوں نے تصدیق کی اس بکتر بند گاڑی کا نام ’سیلاڈن‘ سلطان صلاح الدین کے نام پر ہی رکھا گیا ہے۔

جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ ’میں کہوں گا کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔‘

یروشلم کو مسلمانوں کے قبضے سے آزاد کروانے کے لیے یورپ سے پہنچنے والی فوج اور سلطان صلاح الدین کے درمیان تقریباً تین برس پر پھیلے ٹکراؤ (تیسری صلیبی جنگ) کی تفصیلات کے ذکر سے پہلے بات کریں گے صلاح الدین اور ان کے خاندان کے ماضی کی اور جہاد کے اس ماحول کی جس میں مشرق وسطیٰ کے لوگوں کی یروشلم کی بحالی کی توقعات ان سے وابستہ ہو گئی تھیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کا سنی اسلامی دنیا کے روحانی رہنما بغداد کے خلیفہ اور مصر کے اسماعیلی شیعہ فاطمی خلیفہ کے ساتھ تعلق خاص اہمیت کا حامل ہے اور آخر میں ان کا ذکر ایک اور مسلمان سلطان نور الدین زنگی کے ذکر بغیر نامکمل ہے۔ ایوبی اور زنگی خاندانوں کے عروج کی کہانی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہے اور اس میں ایوبی خاندان زنگی خاندان کے تابع تھا۔

فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین کی سلطنت کے شمالی افریقہ سے شروع ہو کر مقدس مقامات اور شام کو اپنے اندر سموتے ہوئے آج کے عراق میں دریائے دجلہ تک اپنی سرحدیں پھیلانے کے عمل میں حیران کن حد تک مختلف مذہبی، نسلی اور سیاسی پس منظر کے لوگ شامل تھے۔ ان کی کہانی خونی جنگوں سے بھری ہے لیکن یہ جنگیں ہمیشہ سیدھا سیدھا ایک مذہب کی دوسرے مذہب سے لڑائی نہیں تھی۔’

’اس کہانی میں مسیحی مسیحیوں سے اور مسلمان مسلمانوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔ اس میں مسلمان اور مسیحی مل کر دوسرے مسلمانوں اور مسیحیوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔‘ اس کہانی میں لوگوں نے پارٹیاں بھی بدلیں اور لڑائی نئے روپ میں اب بھی جاری رہی۔‘

’اس وقت بھی آج کی طرح کسی بھی معاملے میں زمینی صورتحال اس تصویر سے بہت مختلف اور الجھی ہوئی تھی جو کہ دور سے نظر آتی ہے۔ نسلی، سیاسی، اقتصادی اور ذاتی مفادات کی کھچڑی تھی جو صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں کھڑی تھی۔‘

ایوبی اور زنگی بزرگوں کی ملاقات: احسان کا بدلہ احسان

فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین کی سلطنت کے شمالی افریقہ سے شروع ہو کر مقدس مقامات اور شام کو اپنے اندر سموتے ہوئے آج کے عراق میں دریائے دجلہ تک اپنی سرحدیں پھیلانے کے عمل میں حیران کن حد تک مختلف مذہبی، نسلی اور سیاسی پس منظر کے لوگ شامل تھے۔ ان کی کہانی خونی جنگوں سے بھری ہے لیکن یہ جنگیں ہمیشہ سیدھا سیدھا ایک مذہب کی دوسرے مذہب سے لڑائی نہیں تھیں۔اس کہانی میں مسیحی مسیحیوں سے اور مسلمان مسلمانوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔ اس میں مسلمان اور مسیحی مل کر دوسرے مسلمانوں اور مسیحیوں سے لڑتے ہوئے ملیں گے۔ اس کہانی میں لوگوں نے پارٹیاں بھی بدلیں اور لڑائی نئے روپ میں اب بھی جاری رہی۔’

فلپس کے مطابق ‘اس وقت بھی آج کی طرح کسی بھی معاملے میں زمینی صورتحال اس تصویر سے بہت مختلف اور الجھی ہوئی تھی جو کہ دور سے نظر آتی ہے۔ وہ نسلی، سیاسی، اقتصادی اور ذاتی مفادات کی کھچڑی تھی جو صرف مذہبی عقائد کی بنیاد پر نہیں کھڑی تھی۔’

اس کہانی کی بنیاد سنہ 1132 میں صلاح الدین ایوبی کی پیدائش سے بہت پہلے رکھی گئی تھی جب ان کے والد نجم الدین ایوب عراق کے شہر تِکریت کے گورنر تھے۔ فلپس کے مطابق ایک روز زنگی نامی ایک طاقتور ترک جنگجو سردار دشمنوں سے بچتے ہوئے دریائے دجلہ کے کنارے ان کے شہر کے دروازے پر آئے۔ ایوب نے انھیں پناہ دی اور ان کا یہی فعل بعد میں تاریخی ثابت ہوا۔

کئی برس بعد سنہ 1137-38 میں نجم الدین ایوب کے بھائی شیرکوہ نے ایک عورت کی توہین کرنے پر ایک مقامی فوجی کمانڈر کو ہلاک کر دیا اور اس کی پاداش میں نہ صرف ایوب سے عہدہ چھن گیا بلکہ پورے خاندان کو علاقہ بھی چھوڑنا پڑا۔ اس وقت ترک سردار زنگی نے پرانے احسان کے بدلے اس کرد خاندان کو موصل میں بسایا اور انھیں زمینیں بھی الاٹ کر دیں۔

فلپس لکھتے ہیں کہ انھی دنوں میں نجم الدین ایوب اور ان کے خاندان کے تکریت چھوڑنے سے کچھ ہی عرصہ پہلے صلاح الدین کی پیدائش ہوئی تھی۔

سردار زنگی کے علاقے کے مسلمان حکمرانوں سے تو جھگڑے تھے ہی لیکن ان کے عزائم نے انھیں فرنجیوں (الفرنجہ/فرینکس) کے سامنے بھی لا کھڑا کیا۔ یہ وہ مسیحی تھے جنھوں نے سنہ 1099 کی پہلی صلیبی جنگ کے بعد یورپ سے آ کر اس علاقے میں آزاد ریاستیں قائم کی تھیں۔ ان مسیحیوں کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے جہاد کا پہلو اہم ہو گیا۔

فلپس لکھتے ہیں کہ سنہ 1105 دمشق میں ایک عالم السلیمی نے جہاد کی تبلیغ کی تھی اور مسلمان اشرافیہ کو اسلام کے اس پہلو کو نظر انداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا پیغام آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا اور پھر 1140 کی دہائی میں دمشق کے ایک مدرسے کی دیوار پر زنگی کے لیے مجاہد اور سرحدوں کے محافظ کے الفاظ لکھے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے سنہ 1144 میں الرُّهَا‎ شہر بھی فرینکس کے قبضے سے چھین لیا جس پر انھوں نے پہلی صلیبی جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔ اس کامیابی پر انھیں بغداد میں خلیفہ کی طرف سے سند بھی ملی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کے بٹن پر کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15919 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp