سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک


سلطان اور رچرڈ شیردل کی خراب صحت

اس دوران سلطان کی صحت کے مسائل جاری تھے۔ وہ کئی بار گھڑسواری بھی نھیں کر پا رہے تھے اور گرمی سے بچنے کے لیے رات کو فوج کا معائنہ کرتے تھے۔

اس دوران انھوں نے تیزی سے شہر میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا کے معائنے کے لیے یروشلم کا ایک ہنگامی دورہ بھی کیا اور واپس آ کر اپنے امرا سے صورتحال پر مشاورت کی۔

انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ کی بھی صحت اچھی نھیں تھی جس کی وجہ سے انھیں ایک بار واپس عکا بھی جانا پڑا۔ اس کے علاوہ عکا کی کامیابی کے بعد ان کے سپاہی وہاں شراب اور لڑکیوں کی کشش میں بھی وقت ضائع کر رہے تھے۔ رچرڈ کو خود جا کر انھیں صلیبی جنگ کے فرائض یاد کروانے پڑے۔

اس دوران صلیبی کچھ دیر کے جافا کی تعمیر نو کے لیے بھی رکے کیونکہ انھیں یروشلم تک راستے کو محفوظ کرنا تھا۔ پیسوں کی کمی بھی ہونا شروع ہو گئی تھی اور رچرڈ نے مغربی یورپ امداد کے لیے پیغامات بھیجے۔

تیسری صلی جنگ کا سب سے اہم پہلو سفارتکاری

تیسری صلیبی جنگ کا سب سے اہم پہلو اس کے دوران ہونے والی سفارتی ملاقاتوں کی تعداد تھی۔ اہم واقعات کے ساتھ صلیبیوں کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے خاص طور پر ان کے ایک اہم رہنما کونراڈ کے ساتھ جو اپنے آپ کو مستقبل میں یروشلم کا بادشاہ دیکھ رہے تھے۔

ستمبر 1191 کے آخر سے اکتوبر کے وسط تک رچرڈ اور سلطان کے بھائی سیف الدین کے درمیان بھی رابطے جاری رہے جن میں دونوں طرف سے نفاست اور درباری آداب سے ایک دوسرے کو مرعوب کرنے کی پوری کوشش کی جاتی رہی۔

مذہبی اور لسانی فرق اپنی جگہ دونوں میں سلطان صلاح الدین میں بہت کچھ مشترک تھا مثلاً گھوڑوں کا شوق۔ ملاقاتوں کے ان ادوار میں رچرڈ اور سیف الدین کے تعلقات ابتدائی تکلفات سے آگے بڑھ چکے تھے۔ لیکن اس سب سے یروشلم کے مستقبل کا سوال اپنی جگہ موجود تھا۔

رچرڈ نے کیا پیغام بھیجا

سیف الدین کی عدم موجودگی میں رچرڈ کی جافا کے قریب ایک اہم ملاقات ان کے سیکرٹری الثانیہ سے ہوئی۔ بہاؤ الدین کے مطابق رچرڈ نے لکھا ’مسلمانوں اورفرینکس کا کھیل ختم ہو چکا ہے۔ دونوں کے ہاتھوں زمین تباہ ہو چکی ہے، مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ دونوں طرف جائدادیں اور املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ہماری عبادت کا مرکز یروشلم بچا جسے ہم کبھی نھیں چھوڑ سکتے۔۔۔۔۔ان شرائط پر صلح ہو سکتی ہے جس کے بعد ہمیں اس مشکل صورتحال سے نجات مل سکتی ہے۔”

سلطان نے اپنے امرا سے مشاورت کے بعد جواب دیا ’یروشلم جتنا آپ کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے، بلکہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہاں سے ہمارے پیغمبر معراج پر گئے تھے۔ بادشاہ کو یہ بلکل خیال نھیں آنا چاہیے کہ ہم اسے چھوڑ سکتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کے بیچ میں اس طرح کا ایک لفظ بھی نھیں نکال سکتے۔ جہان تک زمین کا تعلق ہے یہ شروع سے ہماری تھی۔ آپ لوگوں کے ہاتھوں اس کی فتح ایک غیر متوقع حادثہ تھا جو مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے پیش آیا۔۔۔۔‘

صلیبی اور مسلمان کیمپوں میں نرمی اور سلطان کے بھائی اور رچرڈ کی بہن کی شادی کی تجویز

فلپس لکھتے ہیں کہ یروشلم کے بارے میں دونوں طرف کے جذبات کی روشنی میں کسی کے لیے بھی پیچھے ہٹنا آسان نھیں تھا۔ لیکن اگلے ایک سال میں دونوں کی پوزیشن میں کافی نرمی آ چکی تھی۔

کچھ روز تک دونوں طرف سے پیغام آتے رہے جس کے بعد سلطان کے بھائی سیف الدین نے اپنے خاص امرا کی میٹنگ بلا کر رچرڈ کی صلح کے لیے بنیادی تجویز ان کے سامنے رکھی جس کے مطابق سیف الدین رچرڈ کی بہن جو این سے شادی کریں گے جو حال ہی میں بیوہ ہوئی تھیں اور صلاح الدین انھیں ساحلی علاقوں کا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ یروشلم ان کا دارالحکومت ہو گا اور دیہات مسیحی فوجی گروپوں کے زیر انتظام چلیں گے اور قلعے نو بیاہتا جوڑے کی ملکیت ہوں گے۔ تمام قیدی رہا کر دیے جائیں گے اور مقدس صلیب مسیحیوں کے حوالے کر دی جائے گی اور بادشاہ رچرڈ واپس یورپ چلے جائیں گے۔

جب صلاح الدین نے تجویز سنی پہلے تو انھیں اس کے سچ ہونے پر یقین نہ آیا لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ وہ اصولاً اس پر راضی ہو سکتے ہیں۔

تاہم بعد میں رچرڈ کی بہن کی شادی کا معاملہ دیگر صلیبیوں کی طرف سے اعتراض کے بعد پاپائے روم کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پاپائے روم نے منع کر دیا تو اہنی نوجوان بھتیجی کی شادی سیف الدین سے کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ان کو کسی کی اجازت کی ضرورت نھیں۔

صلیبی یروشلم پر حملے کے لیے تیار اور رچرڈ اور سیف الدین کی ملاقات

خبر آنے پر کہ صلیبی یروشلم پر حملے کے لیے تیار ہیں مسلمان بھی جنگی حالت میں آ گئے۔ سیف الدین ہراول دستے کے انچارج تھے۔ رچرڈ شہر سے چھبیس کلومیٹر دور تھے۔ شہر کی طرف جانے والے راستے پر سفر آسان نھیں تھا۔ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ اس دوران بھی ایسے سیاسی اور نجی واقعات جاری تھے جن کا قیادت پر بوجھ پڑ سکتا تھا۔

سلطان کے ایک کزن کا دمشق میں انتقال ہو گیا اور بہاؤالدین لکھتے ہیں سلطان کو اس کا بہت غم تھا۔ اس کے بعد نومبر کے آغاز میں جب دونوں فوجیں رام اللہ میں آمنے سامنے تھیں اور کشیدگی بڑھ چکی تھی سلطان کو ایک خط موصول ہوا جسے پڑھ کر وہ رونے لگے اور انھیں اس حالت میں دیکھ کر ان کے کئی ساتھیوں کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ بالآخر سلطان نے مخصوص لوگوں کے سامنے اپنے بھتیجے تقی الدین کی شمال میں ایک مہم میں موت کا اعلان کر کے سب کی تشویش ختم کی۔ لیکن انھوں نے اس خبر کی تشہیر سے سب کو منع کر دیا۔

لیکن اس دوران بھی سفارتی ملاقاتیں جاری تھیں۔ سیف الدین اور رچرڈ کی نومبر میں دوستانہ ماحول میں ایک ملاقات ہوئی۔ دونوں طرف سے بڑے بڑے خیمے نصب کیے گئے اور تحائف اور خاص طور پر تیار کیے گئے پکوانوں کے تبادلے ہوئے۔ سیف الدین کی طرف سے سات قیمتی اونٹ اور ایک خیمہ تحفے میں دیا گیا۔

رچرڈ نے مسلمانوں کی موسیقی سننے کی خواہش کا اظہار کیا تو سیف الدین نے خاتون کو طلب کیا جس نے ہارپ بجایا جسے بہت پسند کیا گیا۔ دونوں بظاہر ایک دوسرے سے مل کرخوش تھے لیکن دونوں طرف کے کاتب ان دونوں رہنماؤں کی نیت کے بارے میں شک کا اظہار کرتے رہے۔

رچرڈ کی طرف سے ایک بار پھر صلاح الدین سے ملنے کی خواہش کا اظہار اور سلطان کا انکار

بادشاہ رچرڈ نے سیف الدین کے سامنے ایک بار صلاح الدین سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور جب صلاح الدین تک یہ دعوت نامہ پہنچا تو انھوں نے پھر یہ کہہ کر منع کر دیا کہ بادشاہ بغیر کسی معاہدے کے نھیں ملتے۔

فلپس لکھتے ہیں کہ ’ایوبی خوش مزاجی ایک بار مسیحی کیمپ میں خوف کا باعث بن رہی تھی۔‘ سفارتی گنجل میں ایک اور الجھاؤ کا اضافہ اسی رات رچرڈ کی طرف سے نئی تجاویز کی آمد تھی۔

رچرڈ شیر دل کی نئی تجویز میں سلطان کے بارے میں کیا لکھا تھا؟

مؤرخین کے مطابق رچرڈ نے لکھا کہ اگر سیف الدین ساحلی علاقے لے لیتے ہیں تو ان کے اور رچرڈ کے درمیان کسی تنازعے کی صورت میں سلطان صلاح الدین منصف کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ’یہ ضروری ہے کہ یروشلم میں ہمارا بھی کچھ کنٹرول ہو۔ میرا مقصد ہے کہ آپ اس طرح علاقے تقسیم کریں کہ سیف الدین پر مسلمانوں اور مجھ پر فرنگیوں کی طرف سے کوئی تنقید کی گنجائش نہ نکلے۔‘

نومبر کا وسط آ چکا تھا اور رچرڈ کی طرف سے سردیوں میں یروشلم کے محاصرے کا امکان بہت کم تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی طے تھا کہ اس صورت میں وہ سنہ 1192 تک ادھر ہی موجود رہیں گے۔

سلطان کی مشاورت

سلطان نے اپنے امرا کو مشاورت کے لیے طلب کر لیا اور سب امکانات ان کے سامنے رکھے۔ فلپس کہتے ہیں کہ امرا کے جواب جو تاریخ کے حوالوں میں درج ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر حاضرین کی رائے میں بادشاہ رچرڈ پر اعتبار کیا جا سکتا تھا لیکن ان کے بعد پیچھے رہ جانے والے فرینکس پر نھیں۔ ان کی باتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عکا کی شکست سے کا غصہ اب کم ہو چکا تھا۔

ہمیشہ کی طرح ان ملاقاتوں اور پیغامات کے ساتھ جھڑپیں اور فوجی کارروائیاں جاری تھیں اور ایک بار تو رچرڈ مسلمانوں کے مورچوں کے اتنے قریب آ گئے کہ ان کے وہاں سے بحفاظت واپس جانے کے لیے ان ایک سپاہی کو ان کا روپ اختیار کرنا پڑا۔

رچرڈ شیر دل کی مشکل

مؤرخ لکھتے ہیں کہ رچرڈ کے لیے یہ فیصلہ کی گھڑی تھی۔ کئی سالوں کی مہم، ہزاروں میل کے سفر اور عکا شہر کی فتح کے بعد اب وہ یروشلم سے چند میل دور تھے۔ ان کے رفقا اور فوجی آگے بڑھنے کے لیے بیچین تھے لیکن ان کے لیے یہ آسان فیصلہ نھیں تھا۔

عسکری اعتبار سے ان کی سپلائی لائن بہت لمبی ہو چکی تھی۔ عکا کی کامیابی میں بندرگاہ تک رسائی کا اہم کردار تھا۔ یہاں وہ کسی قسم کی امداد سے 50 کلومیٹر دور تھے۔ قریب کے چھوٹے شہر اور قصبے سلطان صلاح الدین حکمت عملی کے تحت خود ہی تباہ اور خالی کروا چکے تھے۔

فلپس لکھتے ہیں کہ ’مسلمان عکا کی کامیابی کے بعد صلیبیوں کو الجھا دینے میں کامیاب رہے تھے۔ سردی کے موسم میں کسی قسم کا محاصرہ کسی بھی فوج کے لیے مشکل ہونا تھا۔ فلپس لکھتے ہیں کہ مسیح کے شہر کو مسلمانوں سے آزاد کروانے کا خواب پورا کی خواہش لیے وہ اس کے سامنے آ چکے تھے لیکن بحیثیت لیڈر ان پر اپنے ہزاروں لوگوں کی بھاری ذمہداری بھی تھی۔

رچرڈ شیر دل کی یروشلم سے پسپائی

فلپس لکھتے ہیں کہ چھ اور 13 جنوری 1192 نے اپنی فوج کو ساحل سمندر سے 15 کلومیٹر دور رام اللہ کی طرف پسپائی کا حکم دیا۔ سلطان صلاح الدین نے پوری سردیاں اپنی فوج کے ساتھ یروشلم میں گزاریں۔ فوجیوں کو اپنے گھروں کو جانے کا موقع دیا گیا۔

مارچ سنہ 1192 میں انگلینڈ کے بادشاہ رچرڈ نے ایک بار پھر سلطان کے بھائی سیف الدین سے رابطہ کیا اور سفارتکاری کا نیا دور شروع ہو گیا۔

سلطان صلاح الدین کے خاندان میں اختلافات

دریں اثنا سلطان صلاح الدین کو خاندان کے اندر اختلافات کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ اب تک ان کی کامیابی یہیں تھی کہ اہم مواقع پر ان کے خاندان نے مل کر فیصلے کیے تھے لیکن اب ان کے بھتیجے تقی الدین کا بیٹا المنصور کچھ ایسے علاقے مانگ رہا تھا جو اس کی کم عمر میں سلطان کے لیے اسے دینا مشکل تھا۔

فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان کو اپنے ویٹے الافضل کو روانہ کرنا پڑا۔ رچرڈ کو اس پیشرفت کا پتہ تھا اور ان کی طرف سے بھی معاملات میں سستی دکھائی جانے لگی۔ معاملات نے اتنا طول پکڑا کہ سلطان کے بھائی سیف الدین کو مسئلے کو حل کرنے کے لیے یروشلم سے جانا پڑا۔ اس دوران سلطان کے اپنے بیٹے الافضل سے بھی اختلافات پیدا ہو گئے۔

تیسری صلیبی جنگ کے آخری مرحلے میں سنہ 1192 جافا کا معرکہ ہوا جس کے کے بعد رچرڈ شیر دل اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدے یہ صلیبی جنگ اختتام کو پہنچی

صلیبیوں کی یروشلم کی طرف پیشقدمی

دریں اثنا انگلینڈ سے رچرڈ کے بھائی جان کی شکایات آنے لگیں کہ وہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں اور اب ان پر معاملات کو جلد نمٹانے کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یروشلم کی بادشاہت کے بارے میں مسیحی کیمپ میں پھوٹ پڑ گئی اور رچرڈ کی طرف سے اس عہدے کے نامزد امیدوار کونراڈ قتل ہو گئے۔ تاہم رچرڈ نے حالات پر قابو پا لیا اور مئی میں صلیبی ایک بار یروشلم کی طرف پیشقدمی کے لیے تیار تھے۔ اس بار وہ تیزی سے آگے بڑھے۔

اس دوران سلطان کے بھائی سیف الدین اور کچھ اہم لوگ بھی مخبری کی وجہ سے ان کے قیدی بن گئے۔ لیکن سلطان کے لیے اچھی خبر یہ تھی کہ ان کے بیٹے اختلافات کو بھلا کر دو جولائی یروشلم پہنچ گئے۔ مسلمانوں نے یروشلم کے قریبی کنووں میں زہر ملا دیا اور اس پتھریلی زمین پر نئے کنوییں کھودنا آسان نھیں تھا۔

صلیبی ایک بار پھر پسپائی پر مجبور

تاریخ بتاتی ہے کہ بالکل اس طرح جیسے سلطان کے کیمپ میں شہر کے اندر دفاع کرنے یا باہر نکل کر لڑائی کرنے کے معاملے میں بحث چل رہی تھی اسی طرح صلیبی کیمپ میں انگریزوں اور فرانسیسیوں کے درمیان بھی حکمت عملی کے معاملے پر اختلافات سامنے آ چکے تھے اور 4 جولائی کو خبر آئی کہ ایک بار پھر صلیبی یروشلم کا محاصرہ ختم کر کے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ فلپس لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح الدین ایک بار پھر سرخرو ہو گئے تھے۔ لیکن مسئلہ ابھی ختم نھیں ہوا تھا۔

معاہدہ، رچرڈ کی واپسی اور صلاح الدین کا انتقال

صلح کی کوششوں کے ساتھ عسکری کارروائیاں جاری رہیں اور اس بار سلطان ضلاح الدین نے یروشلم سے پیش قدمی کی اور حملہ کیا۔ فلپس لکھتے ہیں کہ رچرڈ شیر دل سمجھ چکے تھے کے دو بار پسپائی کے بعد یروشلم پر حملہ ممکن نھیں۔ اس کے علاوہ ان پر انگلینڈ سے گھر واپس آنے کا بھی دباؤ تھا۔ دو ستمبر سنہ 1192 کو صلح کے معاہدے پر دستخط ہو گئے اور 10 اکتوبر 1192 کو رچرڈ واپس روانہ ہو گئے۔

صلح کے اس معاہدے کے پانچ ماہ بعد سلطان صلاح الدین آخری بار 19 فروری 1193 کو دمشق میں ایک عوامی تقریب میں نظر آئے اور چار مارچ 1193 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp