آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے


جوں جوں دن گزر رہے تھے میری بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ میں نے کالج میں عمرہ کے لئے چھٹی کی درخواست بھی دے دی جو کہ دو تین دن کے اندر منظور ہو گئی۔ بھائی جان ظفر نے احتیاطاً میری ریٹرن سیٹ بھی پہلے ہی بک کروا دی۔ لاہور سے ریاض روانگی 24 اگست، 2011 کو تھی، اور ریاض سے لاہور واپسی 11 ستمبر، 2011 کو تھی۔ میں ہر روز نماز کے بعد بڑی شدت سے دعائیں کر رہی تھی، صلواۃ التسبیح اور حاجت کے نوافل پڑھ کر اللہ سے ویزے کی منظوری کی دعائیں مانگ رہی تھی۔

اسی طرح 21، اگست کا دن گزر گیا، میری بیقراری میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ 22 اور 23، اگست کے دو دن بہت اہم تھے۔ شدید انتظار کی کیفیت میں 22، اگست کو دن 11 بجے کے قریب بھائی جان کا فون آ گیا۔ فون کی سکرین پر ان کا نام دیکھ کر میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ یقیناً کوئی خبر آئی ہے۔ سلام لینے کے بعد میں نے بھائی جان سے کہا کہ مجھے کوئی اچھی خبر سنائیں۔ وہ ہنس پڑے اور بولے کہ اچھی خبر ہی ہے، تمہارا ویزا آ گیا ہے، جانے کی تیاری شروع کر دو۔ میں آج ہی تمہارے کاغذات ٹی سی ایس کے ذریعے بھجوا دوں گا جو تمہیں کل مل جائیں گے۔ میں خوشی کے مارے ہواؤں میں اڑنے لگی، اللہ کا شکر بجا لائی، شکرانے کے نوافل ادا کیے ۔ منصور، لیاقت، باقی بہن بھائیوں اور قریبی دوستوں کو خبر سنائی۔ سبھی بہت خوش ہوئے اور دل پکار اٹھا،

”آیا ہے بلاوہ مجھے دربار نبی ﷺ سے“
نا ممکن سی بات اللہ تعالٰی کے حکم سے ممکن ہو چکی تھی۔ الحمد ا للہ۔

چچی ناصرہ کا ویزہ ابھی تک نہیں آیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ ہم اکٹھے سفر کریں کیونکہ اس طرح انہیں آسانی ہو گی۔ شہزاد اور اس کی بیگم ثوبیہ بھی پریشان تھے اور دعائیں کر رہے تھے۔

خیر 24 اگست یعنی میری روانگی کا دن آ گیا۔ افطاری کے بعد میں نے غسل کر کے توبہ اور حاجت کے نفل پڑھے۔ منصور اور لیاقت مجھے الوداع کہنے ائر پورٹ تک آئے۔ ائر پورٹ پر منصور کے ایک دوست عمران نے ہمارے ساتھ بہت تعاون کیا۔ اللہ اس بچے کو جزائے خیر دے، وہ ہمیشہ ہمارے کام آتا ہے۔ میں نے جہاز میں بیٹھنے سے پہلے لاؤنج میں وضو تازہ کیا۔ جہاز میں نماز عشا اور تراویح ادا کی اور اس کے بعد تلبیہ پڑھتی رہی۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ قدم اللہ کے گھر کی جانب اٹھ چکے ہیں۔

دل سے دعائیں نکل رہی تھیں کہ اللہ میرے بھائی کی ان تمام کوششوں کے بدلے میں اسے جزائے خیر دے جو اس نے مجھے بلانے کے سلسلے میں کیں، اس کی کمائی میں برکت ڈالے، اسے اور اس کے اہل خانہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے، آمین۔ اسی دوران میری آنکھ لگ گئی اور میں کچھ دیر کے لئے سو گئی۔ جب جہاز لینڈ کرنے کے لئے اعلان ہوا تو میری آنکھ کھل گئی۔ جہاز اپنے مقررہ وقت پر اور مقامی وقت کے مطابق رات کے ساڑھے بارہ بجے لینڈ کیا۔ تقریباً آدھ گھنٹے کے بعد میں باہر آ گئی۔ الحمد ا للہ، میں مقدس سر زمین پر قدم رکھ چکی تھی۔

شہزاد اپنے دونوں بیٹوں، اسامہ اور داؤد کے ہمراہ مجھے لینے کے لئے آیا ہوا تھا۔ تقریباً آدھ گھنٹے میں ہم گھر پہنچ گئے۔ باقی سب لوگ سو چکے تھے۔ سحری ہونے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا۔ تھوڑی دیر ہم نے باتیں کیں۔ پھر میں نے تہجد کی نماز ادا کی اور خیریت سے پہنچ جانے پر شکرانے کے نفل ادا کیے ۔ اتنے میں سحری کا وقت شروع ہو گیا۔ ثوبیہ اور بچے بھی اٹھ گئے۔ ملنے ملانے کے بعد ہم نے سحری کھائی اور نماز فجر ادا کی۔

ریاض میں پچیسواں روزہ شروع ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد ہم سب نے چچی ناصرہ کے ویزے کے لئے دعائیں کیں کیونکہ ان کے نہ پہنچنے پر گھر کی فضا کچھ بوجھل ہو گئی تھی۔ میں نے بچوں کو ان کے تحائف جو میں لاہور سے ان کے لئے لائی تھی، دیے تو وہ بہت خوش ہوئے اور ان میں مگن ہو گئے۔ اس کے بعد ہم لوگ کچھ دیر کے لئے سو گئے۔ جب میری آنکھ کھلی تو شہزاد آفس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ سب کا دل ایک دم دھڑکا کہ کوئی خبر آئی ہو گی۔

واقعی وہ ثوبیہ کے بھائی نعیم کا فون تھا۔ اس نے بتایا کہ چچی کا ویزہ آ گیا ہے۔ سب بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایک ہلچل مچ گئی کہ آناً فاناً سیٹ کیسے بک کرائی جائے۔ جلدی جلدی لیاقت، منصور اور نعیم سے رابطے کیے گئے۔ سب کو الگ الگ ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ائر پورٹ پر منصور کے دوست عمران کی دوبارہ خدمات حاصل کی گئیں۔ پی آئی اے سے ٹکٹ نہ مل سکی، خدا خدا کر کے سعودی ائر لائن کی ٹکٹ مل گئی اور پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے آٹھ بجے فلائٹ نے لاہور سے روانہ ہونا تھا۔ یہ سارے معاملات طے ہونے کے بعد شہزاد بہت مطمئن ہو ا۔ ثوبیہ اور بچے بھی خوش ہو گئے کیونکہ ان کے لئے عید کے کپڑے نانی اماں نے ہی سلوا کر لانے تھے۔

اگلے روز سے شہزاد کی چھٹیاں بھی شروع ہونا تھیں۔ اس نے طے کیا کہ کل صبح ہم انشا اللہ مکہ کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ ثوبیہ کا چھوٹا بھائی ندیم بھی یہاں سعودیہ میں ہی ہوتا ہے، وہ بھی اپنی گاڑی میں ہمارے ساتھ ہو گا، اس طرح ہم سب آرام سے دو گاڑیوں میں سفر کریں گے۔ دونوں گاڑیاں کافی آرام دہ اور کشادہ ہیں۔ مکہ میں ندیم اور شہزاد کے مشترکہ دوست کا گھر خالی پڑا ہے جہاں ہم اس کی اجازت سے قیام کریں گے، انشا اللہ۔

شہزاد نے میرے فون میں نئی سم اور کریڈٹ ڈلوا دیا۔ میں نے منصور سے بات کی اور اسے کہا کہ میرا یہ نمبر میرے باقی بہن بھائیوں کو بھی دیدے۔ کراچی سے میرے چھوٹے بھائی شہید کا میسج آیا جس سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا نمبر سب کو مل گیا ہے۔ میری ایک کولیگ کی بیٹی سارہ اپنے شوہر عماد کے ہمراہ جدہ میں رہائش پذیر ہے، میں نے اسے بھی کال کی، وہ بہت خوش ہوئی، وہ بھی کل حرم پہنچنے والی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ اگر ممکن ہو تو وہاں پہنچ کر مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7