آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے
پیغام صبا لائی ہے گلزار نبی ﷺ سے
آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺ سے
والدین کی وفات کے بعد مجھے اپنی ملازمت کی مصروفیات کی وجہ سے ان کے گھر چکر لگانے کا کم ہی اتفاق ہوا۔ ویسے بھی وہاں جا کر والدین کو نہ پا کر ڈپریشن ہی طاری ہو جاتا تھا۔ پہلے تو شہزاد بھائی کی فیملی وہاں مقیم تھی۔ وہ خود ریاض (سعودیہ) میں ملازم تھا۔ تب تو کبھی کبھار شاہدرہ جانا ہو ہی جاتا تھا۔ فروری 2011ء میں اس کی فیملی بھی ریاض چلی گئی تو گھر بند ہو گیا۔
مجھے کالج سے چھٹیاں ہوئیں تو میں نے شاہدرہ چکر لگایا۔ امی کے گھر کے قریب ہی ماموں کا گھر تھا۔ امی کے گھر کی چابیاں ان کے پاس تھیں۔ میں نے چابیاں لے کر ماموں کو ساتھ لیا اور والدین کے گھر کو کھولا۔ کچن سے کچھ کراکری، ڈرائنگ روم سے پرانا صوفہ، پلاسٹک کی چند کرسیاں اور امی کے پسندیدہ چند پودے جو خشک ہو چکے تھے مگر ابھی ان میں کچھ جان باقی تھی، میں نے ماموں سے کہہ کر ایک وین منگوائی اور وہ چیزیں جن کی مجھے ضرورت بھی تھی اس بھروسے پر وہاں سے اٹھائیں کہ میرے بہن بھائیوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ گھر لا کر صوفے پر نئی پوشش اور پالش کروائی، وہ بالکل نیا لگنے لگا۔ جب میں نے کچن کے برتنوں کو دھویا تو مجھے ماں کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا۔ میری آنکھیں پر نم ہو گئیں کہ کبھی امی ان برتنوں کو استعمال کرتی اور دھوتی تھیں۔
والدین کی وفات کے بعد سے ایک سلسلہ ان کے لئے نوافل برائے ایصال ثواب پڑھنے کا جو شروع کیا تھا وہ کچھ عرصے سے منقطع ہو گیا تھا، میں نے وہ دوبارہ سے شروع کیا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے والدہ خواب میں ملیں اور مجھے ایک اٹیچی کیس خوبصورت کپڑوں اور تحائف سے بھرا ہوا عنایت کیا اور مسکرا کر کہا کہ یہ تمہارے لئے ہے۔ جاگنے کے بعد بھی میرے اندر خوشی کا احساس باقی تھا۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ امی خواب میں مجھے ملیں۔ وہ جوان اور تندرست لگ رہی تھیں۔
سلائی مشین پر کپڑے سیتے ہوئے نظر آئیں۔ ڈھیر سارا ان سلا کپڑا جو کہ دو قسم کا شیفون تھا، آس پاس بکھرا پڑا تھا۔ مجھے انھوں نے دو عدد سکارف تیار شدہ دیے جن کے چاروں طرف پائیپنگ لگی ہوئی تھی اورکہا کہ یہ تمہارے لئے ہیں۔ سکارف لے کر مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ ان کا ڈیزائن اور رنگ، جاگنے کے بعد بھی میرے ذہن میں موجود تھا اور ایک خوشی کا احساس بھی۔ میں ایصال ثواب کے نوافل زیادہ باقاعدگی سے پڑھنے لگی۔
2009 میں جب میں اپنے بیٹے منصور اور بہن کے ہمراہ حج کر کے واپس آئی، تب سے یہ تمنا دل میں موجود تھی کہ دوبارہ حجاز مقدس جانا نصیب ہو۔ والدین کے لئے ایصال ثواب کے نوافل پڑھنے کا سلسلہ جاری تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اپنے والدین کے ہمراہ شاہدرہ والے گھر میں ہوں۔ امی جان گیراج میں ایک چارپائی پر بیٹھی ہیں اور میں ان کے ہمراہ پائنتی کی جانب بیٹھی ہوں۔ ابا جان قریب ہی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
وہ مجھ سے مخاطب ہوئے، ”کلثوم! تم نے ریاض جانا ہے؟“ ۔ میں نے عرض کیا، ”کس کے ساتھ؟“۔ وہ بولے، ”میری کمپنی کچھ لوگوں کو بھجوا رہی ہے۔ آدھے پیسے کمپنی دے گی اور آدھے خود ڈالنے پڑیں گے“ ۔ میں نے پوچھا، ”ریاض کا کرایہ کتنا ہے؟“ ۔ فرمایا، ”پچاس ہزار روپے“ ۔ میں اپنے ذہن میں سوچنے لگی کہ مجھے پچیس ہزار روپے دینے پڑیں گے اور اگر میں ریاض پہنچ جاتی ہوں تو پھر وہاں سے مکہ اور مدینہ جانا کون سا مشکل ہو گا؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں پچیس ہزار میں عمرہ ادا کرنے کی خواہش کو پورا کر سکوں گی۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی مگر وہ خواب اور مکالمہ میرے ذہن میں نقش ہو کر رہ گیا۔ دل ایک خوشگوار تاثر سے بھر گیا۔
کچھ عرصے بعد شہزاد آن لائن ہوا۔ ہماری آپس میں کئی باتیں ہوئیں۔ میں نے اسے خواب بھی سنایا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ کتنا شدید رد عمل ظاہر کرے گا۔ وہ خواب سن کر بہت جذباتی ہو گیا اور بولا کہ میری شدید خواہش تھی کہ امی جان کو عمرہ کرواؤں مگر ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ اب آپ بڑی بہن ہونے کی حیثیت سے ماں کی جگہ پر ہیں۔ ابا جان کا اشارہ واضح طور پر میری جانب ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ میرے لئے ان کا حکم ہے۔ آپ اپنا پاسپورٹ مجھے بھجوائیں، میں آپ کے لئے ویزا اپلائی کرتا ہوں۔ اگر منظور ہو گیا تو آپ کی قسمت۔ میں نے اسے دعائیں دیں کہ تم نے میری لئے اچھی بات سوچی۔ اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔ آمین۔
اس کے بعد بات آئی گئی ہو گئی۔ دس پندرہ دن مزید گزر گئے۔ شہزاد کا فون دوبارہ آ گیا کہ جلدی اپنا پاسپورٹ بھجوائیں تاکہ میں آپ کو رمضان میں بلا سکوں۔ بالآخر اس کے اصرار پر میں نے اپنا پاسپورٹ بھجوادیا۔ اس کے بعد تقریباً ایک ماہ گزر گیا۔ بالکل خاموشی طاری تھی۔ شہزاد سے دوبارہ میری بات نہ ہو سکی۔ میں نے سوچ لیا کہ بات نہیں بنی ہو گی، چلو جو اللہ کو منظور۔ رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا تھا۔ ایک دن میں عشا کی نماز اور تراویح پڑھنے کے بعد مصلے پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی، دوسرے کمرے میں میرا بیٹا منصور کمپیوٹر پر کچھ کام کر رہا تھا، وہ اچانک میرے کمرے میں آیا اور وارفتگی سے مجھے لپٹ گیا۔
پھر بولا، ”ماما جان! آپ کو بہت مبارک ہو“ ۔ میں نے پوچھا، ”کیا ہوا؟“ ۔ کہنے لگا، ”شہزاد ماموں کی ای میل آئی ہے کہ آپ کا ویزا مل گیا ہے“ ۔ مجھے محسوس ہوا کہ میری رگوں میں زندگی دوڑنے لگی ہے۔ منہ سے الحمدللہ نکلا۔ میں نے اٹھ کر ای میل پڑھی اور شکرانے کے نفل پڑھے۔ سحری کے وقت شہزاد کا فون آ گیا، وہ بھی بہت خوش تھا۔ اس نے بتایا کہ چچی ناصرہ جو کہ اس کی ساس بھی ہیں، ان کا بھی ویزہ بھی اپلائی کیا تھا، وہ بھی منظور ہو گیا ہے۔ خیر اگلے مرحلے کا کام جو کہ اسلام آباد ایمبیسی میں ہونا تھا، وہ شہزاد نے بھائی جان ظفر کے حوالے کر دیا جو کہ اسلام آباد میں ہی رہتے تھے۔
میں نے بھائی جان سے رابطہ کیا، انہوں نے مجھے مبارکباد دی اور ساتھ ہی سفارت خانے کے لئے مطلوبہ دستاویزات کی فہرست مجھے لکھوا دی کہ میں انہیں جلد از جلد بھجوا دوں۔ وہ تمام دستاویزات میں نے اپنے شوہر لیاقت کی مدد سے مکمل کیے اور بھائی جان کو بھیج دیے۔ انہوں نے ایمبیسی میں جمع کروا دیے۔ وہاں سے ویزا ملنے کا متوقع وقت دس سے پندرہ دن تھا۔ میری شدید خواہش تھی کہ میں رمضان کے آخری عشرے کے کچھ دن اور بالخصوص لیلۃ القدر حرم میں گزاروں۔



