آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے


تقریباً رات بارہ بجے سب لوگ چچی کو لے کر واپس گھر پہنچے اور ہم نے مل کر کھانا کھایا۔ ثوبیہ نے خوب کراری بریانی بنا رکھی تھی۔ کھانے کی میز پر شہزاد نے بتایا کہ سحری کے بعد وہ دوبارہ سو کر اپنی نیند پوری کرے گا۔ باقی سب لوگ اپنی اپنی پیکنگ مکمل کر لیں، صبح آٹھ بجے ہم مکہ کی طرف روانہ ہوں گے۔ انشا اللہ۔ ندیم بھی گھر سے بیگ لے کر آ چکا تھا اور یہیں سو گیا تھا۔

یہ 26 اگست، اور جمعۃ الوداع کا دن تھا۔ فجر کی نماز کے بعد سب نے اپنی نیند پوری کی۔ میں ساڑھے سات بجے اٹھی۔ چچی جان مجھ سے پہلے جاگ چکی تھیں، غسل کر کے نوافل اور قرآن پڑھ رہی تھیں۔ غسل خانہ خالی دیکھ کر میں نے غنیمت جانا، جلدی جلدی غسل کیا، صلوۃ التسبیح اور نوافل پڑھے، سورۃ یٰسین، کہف اور فتح کی تلاوت کی۔ میرا بیگ تو پہلے سے ہی تیار تھا۔ آہستہ آہستہ باقی سب لوگ بھی اٹھ کر تیار ہو گئے۔ تقریباً ساڑھے 9 بجے شہزاد اور ندیم نے سامان گاڑیوں میں رکھنا شروع کر دیا اور پونے دس بجے ہم عمرہ کی نیت سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔

گاڑیاں بہت آرام دہ تھیں، اس لئے سفر آرام سے گزرا۔ ثوبیہ، میں اور چچی شہزاد کی گاڑی میں تھے اور ہمارے ساتھ شہزاد کی چھوٹی دو بیٹیاں، جو جڑواں ہیں، بھی تھیں۔ بڑے تینوں بچے اپنے ماموں کی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ راستے میں ایک مقام پر رک کر ایک مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ شہزاد گاڑی میں کبھی تلاوت اور کبھی نعتیں لگا تا رہا اور ہم عقیدت سے سنتے رہے، کبھی مختلف وظائف پڑھنے لگتے۔ شہزاد اور ندیم کا خیال تھا کہ آج دوسرے شہروں سے آنے والی ٹریفک کو مکہ شہر سے باہر ہی روک دیا جائے گا اور ہمیں کسی ٹیکسی کے ذریعے سامان اور بچوں کے ساتھ ندیم کے دوست کے گھر جانا پڑے گا۔

وہ گھر حرم پاک سے آدھ گھنٹہ کی پیدل مسافت پر تھا۔ مگر اللہ تعالٰی نے ہماری دعائیں سن لیں اور ہمیں بہت آسانیاں دیں۔ مکہ شہر سے باہر پولیس کھڑی تو تھی مگر ابھی گاڑیوں کو روکنا شروع نہیں کیا تھا۔ اگرچہ رش بہت زیادہ تھا اور ٹریفک بہت آہستہ چل رہی تھی۔ ہم گاڑیاں گھر کے بہت قریب لے آئے اور تھوڑی سی جدوجہد کے بعد اللہ کی مہربانی سے پارکنگ بھی مل گئی۔

مکہ میں داخل ہونے سے پہلے تقریباً شام 6 بجے ہم میقات والے مقام پر پہنچے۔ ندیم اور شہزاد نے ایک ہوٹل میں کمرے کا انتظام کیا اور افطاری کے لئے چیزیں لے آئے۔ سب نے افطاری کی اور مغرب کی نماز پڑھی، اس کے بعد سب نے احرام پہن کر نفل پڑھے اور تلبیہ پڑھنا شروع کر دیا۔ ریاض سے مکہ تک کا سفر تقریباً دس گھنٹے کا تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا کہ خیریت سے طے ہوا۔ خاتون خانہ ہمارے پہنچنے سے پہلے آ چکی تھیں مگر شوہر کسی کام کے سلسلے میں شہر سے باہر تھا۔

سامان گھر میں رکھنے کے بعد ازکٰی اور دونوں چھوٹی بچیوں کو گھر پر چھوڑ کر ہم حرم کی جانب روانہ ہو گئے۔ چچی کی سہولت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیکسی لے لی گئی مگر ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ٹیکسی کو حرم سے کافی دور روک دیا گیا۔ لہٰذا ہمیں حرم تک پیدل جانا پڑا۔ ہم باب الفتح سے داخل ہوئے۔ رویت بیت اللہ پر میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں دوبارہ یہاں پہنچ گئی ہوں۔ دعاؤں کا تو ہوش نہ رہا، بس اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے دوبارہ یہاں آنے کا موقع دیا۔

اشکوں کے سیلاب میں کمی آئی تو کافی دیر تک کھڑی دعائیں مانگتی رہی۔ شہزاد اور اس کے اہل خانہ کے لئے جزائے خیر کی دعائیں کیں، بھائی جان ظفر نے بھی حصہ ڈالا تھا اس سفر کے انتظامات کے سلسلے میں، ان کے لئے، والدین کی بخشش کے لئے، اپنے بچوں، بہن بھائیوں اور تمام عزیزو اقارب کے لئے دعائیں کیں۔ اس کے بعد آگے بڑھے، رش بہت زیادہ تھا۔ یہ لیلۃ القدر یعنی ہزار راتوں کے برابر رات تھی۔ اللہ نے میری خواہش پوری کی۔

میں آج حرم میں تھی۔ اللہ کے عظمت والے گھر کو دیکھ رہی تھی۔ خواب سا لگ رہا تھا۔ مشکل سے جگہ ڈھونڈ کر نماز عشا ادا کی اور اس کے بعد عمرے کی نیت کر کے ہم طواف کرنے والے ہجوم میں داخل ہو گئے۔ شہزاد اپنے چھوٹے بیٹے داؤد کے ہمراہ ہم سے الگ ہو گیا۔ میں نے اسامہ کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ندیم نے چچی اور ثوبیہ کو ساتھ لے لیا۔ تیسرے چکر تک ہم ساتھ رہے مگر اس کے بعد رش کی وجہ سے ہم سب ایک دوسرے سے الگ ہو کر تین گروہوں میں بٹ ہو چکے تھے۔

سب نے اپنا اپنا طواف جاری رکھا۔ اسامہ میرے پیچھے تھا اور دونوں بازو پھیلا کر اس نے مجھے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا تاکہ وہ مجھ سے بچھڑ نہ جائے۔ مجھے اس پر بہت پیار آیا اور میں نے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ دعائیں کرتے، آنسو بہاتے، اللہ سے آہ و زاری کرتے سات چکر پورے ہو گئے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر یہ سعادت مجھے نصیب فرمائی اور ہزار راتو ں کے برابر یہ رات مجھے اللہ کے مقدس گھر میں نصیب ہوئی۔

اس رات کے بارے میں خود اللہ تعالٰی نے سورۃ القدر میں فرمایا ہے اس رات میں آسمان سے فرشتے نازل ہو تے ہیں اور فجر تک اللہ کی رحمتیں اور برکتیں اس کا ذکر کرنے والوں پر برستی ہیں۔ میں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور دعا کی کہ یا میرے اللہ مجھے، میرے سارے خاندان کو اور وہ جو سب اس وقت تیرا ذکر کرنے میں مصروف ہیں، سب کو اپنی رحمتوں کے حصار میں لے لے۔ بقول خواجہ میر دردؔ

مدرسہ یا د یر تھا، کعبہ یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہمان تھے واں، تو ہی صاحب خانہ تھا

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7