آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے
اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہ تھے۔ بس آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ اور میرا دل کہہ رہا تھا کہ اے میرے مالک مجھ پر ایسی مہربانیاں کرتے رہنا اور مجھے اپنا مہمان بار بار بناتے رہنا۔ میں نے کھڑے ہو کر مطاف کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ طواف کرنے والوں کا رش کافی کم ہے۔ میں نے چچی سے کہا کہ چلیں آج میں آپ کو طواف کرواتی ہوں۔
میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ سبز لائیٹوں کی سیدھ میں آ کر طواف کی نیت کی، حجر اسود کا استقبال اور استلام کر کے ہم آہستہ آہستہ طواف کرنے لگے۔ خدا کے حضور سر جھکائے دعائیں مانگتے رہے۔ گھیرا چھوٹا تھا اس لئے چکر جلدی مکمل ہو رہا تھا۔ اس دوران کئی لوگ رضا کارانہ طور پر طواف کرنے والوں کو پانی پلاتے رہے۔ وہ آب زم زم سے بھری بوتلیں اور گلاس پکڑے اطراف میں کھڑے تھے۔ چچی بہت آہستہ چلتی ہیں اور ان کا ہاتھ بھی پکڑنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ گر نہ جائیں۔
پھر بھی ہم نے 40 منٹ میں سات چکر مکمل کر لئے۔ اس کے بعد مقام ابراہیم کی سیدھ میں مطاف میں نفل پڑھنے کا موقع بھی مل گیا۔ اس کے بعد ہم حطیم میں داخل ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ وہاں بہت رش تھا۔ بمشکل دو دو نفل پڑھ سکے۔ پھر ہم باہر آ گئے، مجھے ڈر تھا کہ کہیں چچی گر نہ جائیں۔ اس کے بعد جی بھر کر دعائیں مانگیں۔ پھر آب زم زم پیا، اللہ کا شکر ادا کیا اور واپس اپنی جگہ پر آئے تو صفائی پر مامور لوگوں نے عورتوں کو وہاں سے اٹھانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ عید کی نماز کی تیاری کے سلسلے میں مطاف کو دھو رہے تھے۔ ہم لوگ برآمدوں میں آ گئے وہاں پنکھے چل رہے تھے، ہمیں سکون محسوس ہوا۔ وہاں بیٹھ کر قرآن پڑھتے رہے۔
تقریباً رات کے ایک بجے خواتین اور بچے عید کی نماز کے لئے آنا شروع ہو گئے۔ حرم میں ہماری یہ پہلی عید تھی۔ لوگوں کا یہ اہتمام، عید کی نماز کے لئے آدھی رات کو نکل پڑنا، بہت حیرت انگیز لگ رہا تھا۔ لوگ بہت ذوق شوق سے آتے رہے حتٰی کہ تل دھرنے کی جگہ باقی نہ رہی۔ شہزاد، ندیم، ثوبیہ اور بچے رات کے تقریباً ڈھائی بجے حرم پہنچے اور ہمیں فون کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے آس پاس تو کوئی جگہ خالی نہیں ہے اس لئے آپ کو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں۔
تہجد کا وقت شروع ہو گیا تو ہم نے نوافل اور وتر پڑھ کر عشا کی نماز کو مکمل کیا۔ پھر با جماعت نماز فجر ادا کی اور سورج طلوع ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ اس کے بعد عید کی نماز ہونے والی تھی۔ لاؤڈ سپیکر پر تکبیرات پڑھی جا رہی تھیں ہم بھی انہیں دہرا رہے تھے۔ اسی دوران ہم لوگوں کا بھی نظارہ کر نے لگے۔ ایک عراقی فلمی اداکارہ بھی آئی ہوئی تھی۔ تمام عراقی عورتیں اسے پہچان کر اس کے گرد جمع ہو گئیں، اس سے ہاتھ ملاتیں اور والہانہ انداز سے کبھی اس کے ہاتھوں کو اور کبھی اس کو چومتیں، کبھی اس کی تصویریں بناتیں، ایک تماشا سا لگ گیا۔
وہ لوگوں سے چھپنے کے لئے ایک ستون کی اوٹ میں ہو گئی مگر عورتوں کا اشتیاق ختم نہ ہو رہا تھا۔ میں خدا کے رنگ دیکھ رہی تھی۔ یہ خدا کا گھر تھا اور ہر رنگ کے لوگ یہاں موجود تھے۔ سب اللہ کے مہمان تھے۔ سبحان اللہ۔ لاؤڈ سپیکر پر تکبیرات جاری تھیں۔ نماز فجر کے ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد عید کی نماز پڑھائی گئی، اس کے بعد خطبہ اور دعا ہوئی۔ لیکن کئی لوگ نماز کے بعد خطبہ سنے بغیر جانا شروع ہو گئے۔ ایک بھگدڑ مچ گئی۔ سعودی خواتین نے ٹافیاں بانٹنی شروع کر دیں۔ کئی خواتین کھجوریں لائی تھیں، ان سے لوگوں کا منہ میٹھا کرانے لگیں اور ایک دوسرے کو عید مبارک کہنے لگیں۔ باقی لوگ خطبہ اور دعا سنتے رہے مگر دعا کا مزا کرکرا ہو گیا۔
دعا کے بعد شہزاد کا فون آیا، انہوں نے ہمیں اپنی جگہ بتائی، میں اور چچی ان سے جا ملے۔ ہماری گاڑیاں حرم سے باہر کچھ فاصلے پر کھڑی تھیں۔ وہاں سے گھر واپس آئے۔ تمام مرد حضرات بھی واپس پہنچ چکے تھے۔ خاتون خانہ جس کا نام نادیہ تھا، اس نے ہمارے لئے شیر خورما بنا رکھا تھا۔ سب نے تھوڑا تھوڑا کھایا۔ شہزاد اور ثوبیہ نے نادیہ اور دوسری لڑکی عظمٰی، جو کل رات اپنے شوہر کے ساتھ آئی تھی، دونوں کو عیدی دی۔ پھر ہم ان کو خدا حافظ کہہ کر وہاں سے چل پڑے۔
شہزاد اور ندیم کا پروگرام پہلے طائف جانے کا تھا، پھرواپسی پر میقات سے احرام پہن کر دوبارہ حرم جانے اور دوسرا عمرہ کرنے کا ارادہ تھا۔ راستے میں خوبصورت مناظر دیکھتے ہوئے ہم طائف پہنچے۔ طائف وہ شہر، جہاں کے مکینوں نے اللہ کے رسولﷺ پر پتھر برسائے اور انہیں لہو لہان کر دیا، یہ خیال آج بھی دل کو آزردہ کر دیتا ہے۔ یہ شہر اب بہت ترقی کر چکا ہے۔ پہاڑوں کے درمیان کافی پکنک پوائنٹس بنا دیے گئے ہیں۔ کافی فیمیلیز وہاں آئی ہوئی تھیں مگر زیادہ رش نہیں تھا۔ واپسی پر وادیٔ محرم میں میقات تھا۔ ہوا چل رہی تھی اس لئے دھوپ کے باوجود موسم خوشگوار تھا۔ دوپہر ہو چکی تھی اور بھوک بھی لگ رہی تھی۔ وہاں سے برگر اور کولڈ ڈرنکس خریدے گئے اور بھوک مٹائی گئی۔ غسل خانے بہت اچھے تھے۔ سب نے غسل کر کے احرام پہنے، ظہر کی نماز پڑھی اور حرم کی طرف روانہ ہوئے۔
جب ہم حرم پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے وضو تازہ کیا، اندر پہنچے تو اذان ہونے لگی۔ جلدی جلدی جگہ ڈھونڈ کر نماز ادا کی۔ پھر ہم نے عمرہ شروع کیا۔ ثوبیہ چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر خاص النسا، برآمدوں میں بیٹھ گئی۔ آج رش زیادہ تھا۔ چچی سعی کے دوران تھک گئیں۔ ندیم نے انہیں ویل چیئر پر بٹھا دیا اور سعی کرانے لگا۔ جب ہم نے عمرہ مکمل کیا تو مغرب کی اذان ہونے والی تھی۔ بھاگم بھاگ ثوبیہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ کہ وہ بچوں سمیت اپنی جگہ پر موجود نہیں ہے۔
ہم بہت پریشان ہوئے۔ اسے فون کیا تو پتا چلا کہ وہ بچوں کو لے کر واش روم گئی اور واپسی پر رش زیادہ ہو جانے کی وجہ سے اندر داخل نہیں ہو سکی۔ چنانچہ ہم نے اندر نماز مغرب ادا کی اور اس نے باہر۔ نماز کے بعد ہم سب اکٹھے ہو گئے۔ دل اداس ہونے لگا کہ اب نجانے کب دوبارہ اللہ کے گھر آنا نصیب ہو گا۔ بوجھل دل سے اللہ کے گھر کو اللہ حافظ کہا اور ہم گاڑیوں کی جانب چل پڑے۔ مدینہ روانگی کی تیاری تھی۔ بچوں نے مکہ کا مشہور فرائیڈ چکن ”البیک“ کھانے کی فرمائش کی۔
لیکن نماز عشا کا وقت ہو چکا تھا اس لئے دکان بند تھی۔ انتظار کرتے ہوئے سڑکوں پر گاڑیاں گھماتے رہے۔ جب دکان کھلی تو اس قدر زیادہ رش تھا کہ خدا کی پناہ، ہم چل پڑے، سوچا کہ کسی اور جگہ سے کھانے کے لئے کچھ لے لیں گے۔ میں زیادہ تر وضو کے ساتھ سفر کرتی ہوں اور اگر نماز کا وقت ہو اور کوئی مسجد قریب نہ ہو یا شہزاد گاڑی روکنا نہ چاہتا ہو تو میں گاڑی میں ہی کسر نماز ادا کر لیتی ہوں۔ ایک مقام سے چکن روسٹ اور فنگر چپس لے لئے گئے جو ہم نے گاڑی میں بیٹھ کر ہی کھا لئے اور مدینہ کے لئے روانہ ہو گئے۔
گاڑی میں نعتوں کی کیسٹ چلتی رہی، ایک ماحول بنا رہا۔ ”مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ“ ۔ سارا راستہ درود شریف زیر لب رہا۔ یہی ہدیہ رسول اللہ ﷺ کو پیش کیا جا سکتا تھا۔ ہم فجر سے کچھ ہی دیر پہلے مدینہ پہنچے۔ جلدی جلدی ایک ہوٹل میں دو کمرے لئے گئے۔ ثوبیہ اور بچے تو سو گئے۔ باقی لوگ مسجد نبوی کی طرف دوڑے۔ ہوٹل ذرا دور تھا اس لئے گاڑیوں میں گئے۔ اسامہ، چچی اور ندیم ایک گاڑ میں تھے، میں اور شہزاد دوسری گاڑی میں تھے۔
مسجد پہنچ کر ہم الگ ہو چکے تھے۔ گاڑی پارک کرنے کے بعد اوپر آئے تو میں باب عثمان سے عورتوں والے حصے میں داخل ہوئی۔ شہزاد مردوں والے حصے میں چلا گیا۔ ندیم، چچی اور اسامہ باب بقیع کی طرف سے داخل ہوئے۔ میرا دل لرز رہا تھا، آنکھیں دو سال بعد اس مبارک مقام کو دیکھ رہی تھیں۔ میں نے جلدی جلدی تحیۃ المسجد اور تہجد کے نوافل پڑھے، اتنے میں فجر کی اذان ہو گئی۔ میں نے پانی پی کر روزے کی نیت کر لی کیونکہ کچھ کھانے کی طلب ہی نہ تھی۔ فجر کی نماز پڑھ کر ہم سب دوبارہ اکٹھے ہوئے اور ہوٹل واپس آ گئے۔
نیند بہت آ رہی تھی اس لئے فوراً سو گئے۔ جب ہم نیند پوری کر کے اٹھے تو ظہر کا وقت تھا مگر جماعت چھوٹ چکی تھی۔ ہم نے کمرے میں ہی نماز ادا کی اور نہا کر کپڑے بدل لئے۔ پھر میں اور چچی، شہزاد کے ساتھ حرم پہنچے۔ راستے میں سے افطاری کے لئے کچھ پھل اور کھجوریں لے لیں۔ شہزاد تو عصر کی نماز پڑھ کر ہوٹل واپس لوٹ گیا جب کہ میں اور چچی ناصرہ مسجد نبویﷺ میں ہی رہے اور قرآن مجید پڑھتے رہے۔ شکرانے کے نوافل عصر کی نماز سے پہلے ادا کیے کہ اللہ تعالٰی نے مجھے دوبارہ یہاں آنے کا موقع فراہم کیا۔
لوگوں کی تمام وہ دعائیں جو حرم میں خدا کے حضور پیش کر چکی تھی، وہ دہرائیں۔ کیا معلوم کون سی گھڑی قبولیت کی ہو۔ اللہ تعالٰی قبول فرمائے، آمین۔ عشا سے پہلے شہزاد، ثوبیہ اور بچوں کو لے کر آ گیا، مجھے فون کیا کہ آ کر انہیں اندر لے جاؤ۔ میں اور چچی تو آخری پورشن میں بیٹھے تھے۔ وہاں چھوٹے بچوں اور ان کی ماؤں کو بیٹھنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ اکثر چھوٹے بچے نماز کے دوران رونا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نے ثوبیہ کو درمیانی حصے میں ایک خالی جگہ ڈھونڈ کر بٹھایا اور خود چچی کے پاس واپس چلی گئی۔ نمازعشا کے بعد دعا مانگی اور ہم ثوبیہ اور بچوں کے ساتھ باہر نکل آئے۔ ایک مرتبہ واش روم گئے اور وضو تازہ کیا اور روضۂ رسولﷺ کی زیارت کا ارادہ کیا۔
ثوبیہ چھوٹی بچیوں کو لے کر صحن میں بیٹھ گئی اور شہزاد کا انتظار کرنے لگی۔ وہ زیارت کے لئے اندر جا چکا تھا، اس کے ہمراہ ندیم اور دونوں بیٹے بھی تھے۔ میں چچی اور ازکٰی کو ساتھ لے کر اندر داخل ہوئی، لوگ گروپس میں بٹ چکے تھے۔ پاکستانیوں، انڈین اور بنگالیوں کا ایک گروپ تھا۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے گروپس تھے۔ اس دوران شہزاد اور ندیم زیارت روضۂ رسولﷺ کر کے واپس آ چکے تھے۔ انہوں نے بچیوں کو سنبھالا اور ثوبیہ کو اندر بھیج دیا، وہ بھی ہم سے آن ملی۔


