آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے


شہزاد کے بیٹے بہت خوش تھے کہ وہ اندر نواز شریف اور اسحٰق ڈار کو دیکھ کر آئے تھے۔ تقریباً دس بجے ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی، رش بہت زیادہ تھا۔ ہمیں ڈر تھا کہ کہیں چچی گر نہ جائیں کیونکہ لوگ بہت زیادہ دھکم پیل کر رہے تھے۔ ہم ریاض ا لجنۃ کے باہر ہی کھڑے درود و سلام پڑھتے رہے اور جالیوں کا نظارہ کرتے رہے۔ دل تڑپنے لگا اور آنسو مچلنے لگے۔ کچھ یر بعد ہمیں سبز قالینوں تک پہنچنے کا موقع مل گیا۔ جنت کے اس ٹکڑے پر قدم رکھتے ہی صبر کے بندھن ٹوٹ گئے، اشک بے قابو ہو گئے۔

ہم نے نفل پڑھے اور دعائیں کیں۔ دل پکارا، اے میرے رب! آج ایک مرتبہ پھر میں تیری جنت کے ٹکڑے پر کھڑی ہوں، تیرا شکر کیسے ادا کروں، تیرا بڑا کرم ہے، میرے مالک مجھے مرنے کے بعد بھی اپنے کرم سے اپنی جنت میں داخل کرنا، میرے گناہوں کو بخش دینا اور میرے ماں باپ کو بھی بخش دینا۔ اس کے علاوہ بھی جو جو دعائیں ذہن میں آتی گئیں وہ سب مانگیں۔ مگر ایسا لگتا تھا کہ جیسے ذہن اور زبان ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ دل پکارا، اے مالک!

تو ہمیں بن مانگے عطا کر، ہمیں مانگنا نہیں آتا، ہم تیرے رحم اور کرم کے امیدوار ہیں۔ ہر کوئی رو رہا تھا، جھولیاں پھیلائے، ہاتھ اٹھائے اللہ سے ہمکلام تھا، اس یقین کے ساتھ کہ وہ سن رہا ہے۔ پھر اس خیال سے کہ اوروں کو بھی موقع دیا جائے ہم درود شریف پڑھتے ہوئے ریاض الجنۃ سے باہر چلے آئے۔ دل ایک مرتبہ پھر آزردہ ہوا کہ جانے زندگی میں دوبارہ یہاں آنے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ ہم اللہ کے حبیب ﷺ کو الوداع کہہ کر مسجد نبوی سے باہر نکل آئے۔

ہوٹل آ کر کھانا کھایا۔ میں نے شہزاد اور ندیم سے کہا کہ وہ مجھے اور چچی کو ایک مرتبہ پھر تہجد کے وقت مسجد نبوی ﷺ لے جائیں کیونکہ صبح ان کا ارادہ چیک آؤٹ کا تھا۔ ندیم ہمیں تہجد کے وقت مسجد چھوڑ آیا۔ میں نے دو کیلے کھا کر آب زم زم پی لیا اور روزے کی نیت کر لی۔ ندیم میرے لئے چائے لینے گیا مگر چائے کی دکانیں بند تھیں اور فجر کی اذان بھی ہونے والی تھی۔ ہم نے تحیۃ المسجد اور تہجد کے نوافل پڑھ لئے۔ میں نے ندیم کو فون کیا کہ تم چائے کی تلاش چھوڑو اور مسجد میں جا کر نماز پڑھو۔

شہزاد اور ثوبیہ بچوں کو سوتا چھوڑ کر، کمرہ لاک کر کے مسجد آ گئے اور باہر صحن میں ہی نماز پڑھ کر جلدی میں واپس ہوٹل چلے گئے۔ ہم نے ایک مرتبہ پھر مسجد نبوی ﷺ کو خدا حافظ کہا اور ندیم کے ساتھ واپس ہوٹل آئے۔ سامان گاڑیوں میں رکھا اور ہوٹل سے چل پڑھے۔ ہمارا ارادہ مسجد قبا جانے کا تھا، ہم وہاں پہنچے تو سورج طلوع ہو چکا تھا۔ وہاں دونفل پڑھنے کا ثواب عمرے جتنا ہے۔ ہم نے وہاں تحیۃ المسجد اور اشراق کے نوافل پڑھے، دعائیں مانگیں۔

پھر مسجد قبلٰتین پہنچے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی دیر لگ گئی۔ وہاں پہنچ کر نوافل پڑھے اور مصلٰی دیکھاجو پرانے قبلے یعنی مسجد اقصٰی کی یادگار کے طور پردیوار کے اوپر کنندہ کیا گیا ہے۔ ہم نے بچوں کا اس کا پس منظر بتایا کہ اللہ کے نبیﷺ کو نماز کے دوران اپنا رخ مسجد اقصٰی سے خانہ کعبہ کی طرف موڑنے کا حکم آیا تھا۔ نماز کی کچھ رکعتیں مسجد اقصٰی کی طرف رخ کے ساتھ پڑھی جا چکی تھیں مگر وحی آتے ہی نبیﷺ اور باقی نمازیوں نے اپنا رخ نماز کے دوران ہی خانہ کعبہ کی طرف موڑ لیا اور بقیہ نماز مکمل کی۔

یہ اللہ اور اس کے نبیﷺ پر مسلمانوں کے ایمان اور یقین کا امتحان تھا۔ ایمان والوں نے بلا چوں و چراں آپﷺ کا اتباع کیا۔ اس مسجد کی زیارت کے بعد ہم میدان احد دیکھنے گئے۔ شہدائے احد کی قبروں پر فاتحہ پڑھی، خاص طور پر حضرت امیر حمزہ ؓ کی قبر کی زیارت کی۔ جبل احد کو دیکھا، لوگ احد پہاڑ کی پشت پر چھوٹی پہاڑی پر چڑھے ہوئے تھے جس پر نبی اکرمﷺ نے جنگ احد میں خاص تیر اندازوں کو کھڑا کیاتھا اور ہدایت کی تھی کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں مگر وہ مال غنیمت کو دیکھ کر نبیﷺ کی ہدایت کو بھول گئے اور اپنی جگہ چھوڑ دی اور مال غنیمت سمیٹنے لگے۔

شکست کھاتے کفار نے یہ دیکھا تو پلٹ کر دوباہ غافل مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور یوں مسلمانوں کو جیتی ہوئی جنگ ہارنی پڑی۔ اس پر اللہ اور نبی ﷺ مسمانوں کی اس غفلت پر بہت ناراض ہوئے۔ سارا ماضی یاد آنے لگا۔ دھوپ بہت تیز تھی لیکن میدان احد میں ایک میلہ سا لگا ہوا تھا۔ دکانیں اور ریڑھیاں سجی ہوئی تھیں، زائرین چیزیں خرید رہے تھے، ہم نے بھی کھجوریں خرید لیں۔ شہزاد نے مجھے سن گلاسز خرید کر دیں۔

اس کے بعد ہم وادیٔ جن کی طرف روانہ ہوئے، بہت سے اور لوگ بھی وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ اس وادی کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر گاڑیاں بغیر گیئر کے خود بخود چلتی رہتی ہیں، ڈھلوان پر خود بخود چڑھنے لگتی ہیں اور نیچے اترتے ہوئے گاڑی کی رفتار تیز ہونے لگتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں اس وادی میں رہنے والے جنوں کی کرامت ہے مگر شاید یہ وہاں کی زمیں کی کشش ثقل کا کوئی نتیجہ ہے۔ یہ سب زیارتیں کرتے ہمیں دوپہر کے بارہ بج گئے۔

ہم مدینہ سے رخصت ہوئے اور گاڑیوں کا رخ ریاض کی جانب موڑ دیا۔ ہائی وے پر ایک بجے ہم ایک پٹرول پمپ پر رکے جہاں ایک مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی، پھر آگے روانہ ہوئے۔ میرا روزہ تھا اور افطاری ریاض پہنچنے سے پہلے ہی ہونے والی تھی اس لئے کسی پٹرول پمپ پر ایک دکان سے شہزاد اور ندیم نے افطاری کے لئے خریداری کر لی۔ کچھ چیزیں مجھے دے دیں اور کچھ بچوں کو دیں۔ ایک کپ چائے بھی مجھے لا دی اور خود انہوں نے بھی چائے لی۔

اس طرح وہ دونوں تازہ دم ہو کر ریاض کی جانب روانہ ہوئے۔ میں ندیم کی گاڑی میں شفٹ ہو گئی اور پچھلی سیٹ پر لیٹ کر سو گئی۔ افطاری کے وقت اٹھ کر روزہ افطار کیا لیکن وضو نہ ہونے کی وجہ سے نماز کو عشا تک کے لئے مؤخر کر دیا۔ گھر پہنچنے کے بعد مغرب اور عشا کی نمازیں اکٹھی ادا کیں اور شکرانے کے نفل بھی ادا کیے کہ سفر خیریت سے طے ہوا۔

جمعہ کے دن شہزاد اور ندیم نے آرام کیا، دونوں بیٹوں کے ہمراہ جمعہ کی نماز پڑھی اور ہفتہ کے دن دونوں نے اپنی اپنی ڈیوٹی کو جوائن کر لیا۔ میری فلائٹ 11 ستمبر کو تھی، میں نے بقیہ دنوں میں شوال کے روزے پورے کرنے کا ارادہ کیا تو چچی جان نے بھی میرا ساتھ دیا۔ ہم دونوں نے روزے پورے کیے ۔ ہر روز شام کے وقت افطاری کے بعد شہزاد آفس سے واپس آ کر کھانا کھاتا اور پھر ہمیں گھمانے ریاض کے مختلف شاپنگ مالز میں لے جاتا۔

ہم کبھی تو ہلکی پھلکی شاپنگ کر لیتے اور کبھی صرف ونڈو شاپنگ کر کے واپس آ جاتے۔ ویک اینڈ پر ندیم دوبارہ آ گیا اور ویک اینڈ ہمارے ساتھ گزارا۔ دن جیسے پر لگا کر اڑ گئے، ریاض میں شہزاد کے گھر میں رہتے ہوئے میں محسوس کیا کہ جیسے میں شاہدرہ میں اپنے والدین کے گھر میں رہ رہی ہوں۔ میرے دل کی گہرائیوں سے شہزاد اور اس کے گھر والوں کے لئے دعائیں نکلتی رہیں جس نے میرے خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا تھا۔ خواب میں والد صاحب کی کہی ہوئی بات کو اس نے اپنے لئے حکم کا درجہ دیا۔ اللہ تعالٰی اس کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7