آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے
طواف مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر نفل پڑھنے کی جگہ نہ ملی۔ ہم نے برآمدوں میں جا کر نفل پڑھے، آب زم زم پینے کے لئے پولیس والوں نے جانے نہ دیا۔ میں اسامہ کو لے کر صفا پہاڑی کی طرف بڑھ گئی اور سعی کی نیت کر کے سعی شروع کر دی۔ نیچے رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم فرسٹ فلور پر آ گئے۔ ایک جگہ پانی کی سبیل سے آب زم زم پیا۔ میں نے فون کر کے اسامہ کے والدین کو بتا دیا کہ ہم سعی کر رہے ہیں اس لئے پریشان نہ ہوں۔
سعی مکمل کرنے کے بعد میں نے بیگ سے فولڈنگ قینچی نکالی اور بال کاٹے۔ تہجد کا وقت شروع ہوا چاہتا تھا۔
امام کعبہ قاری عبد الرحمٰن سدیس کا قیام اللیل بھی ختم ہونے کو تھا۔ انہوں نے رو رو کر بہت لمبی اور موثر دعا مانگی، وہ خود بھی روتے رہے اور ہمیں بھی رلاتے رہے۔ اس کے بعد میں نے عمرہ مکمل ہونے پر شکرانے کے نفل پڑھے۔ میں نے اسامہ کو بھی کہا کہ عشا کی نماز کا بقیہ حصہ مکمل کر لو۔ ہم مروہ پہاڑی پر تھے۔ ہم چونکہ با جماعت تراویح نہیں پڑھ سکے تھے، لہٰذا تراویح، تہجد کے نفل اور پھر وتر پڑھ کر عشا کی نماز کو مکمل کیا۔
شہزاد سے فون پر رابطہ نہیں ہو رہا تھا اس لئے ثوبیہ کو فون کیا اور پوچھا کہ وہ لوگ کہاں پر ہیں۔ وہ لوگ سعی مکمل کر کے باب فتح سے باہر نکل کر بیٹھ چکے تھے۔ میں بھی اسامہ کے ساتھ وہاں پہنچ گئی، اس طرح سب لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو گئے۔ سحری کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ ندیم سحری کا سامان لینے گیا ہو تھا مگر اسے کچھ بھی نہ مل سکا۔ بالآخر وہ تھوڑا سا پھل اور پانی کی دو بڑی بوتلیں، وہ بھی گرم، لے آیا، ہم نے اسی کو غنیمت جانا، اللہ کا شکر کیا اور اسی کو کھا کر روزہ رکھ لیا۔ مجھے سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس ہو رہا تھا اس لئے احتیاطاً دوائی بھی کھا لی۔
شہزاد نے مجھے مبارکباد دی کہ باجی آپ کی شدید خواہش تھی لیلۃ القدر میں عمرہ کرنے کی، اللہ نے وہ پوری کر دی۔ میرے پاس جواب میں الفاظ نہیں تھے۔ میری آنکھوں سے شکرانے کے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ الحمد للہ۔ ہم نے با جماعت نماز فجر ادا کی۔ تھوڑی دیر رش ختم ہونے کا انتظار کیا، پھر ٹیکسی لے کر گھر واپس آئے اور سو گئے۔ اگلی رات رمضان کی 28ویں رات تھی۔ افطاری کے بعد ہم لوگ حرم چلے گئے۔ میں اور چچی تو نماز عشا اور تراویح کے بعد قیام اللیل کے لئے رک گئے، شہزاد نے بھی رکنے کا ارادہ کر لیا، باقی سب لوگ چھوٹے بچوں کی وجہ سے گھر واپس لوٹ گئے۔ قیام اللیل ختم ہوا توہم نے کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت کی، پھر تہجد کی نماز پڑھی۔ اس دوران سحری سے تھوڑی دیر پہلے شہزاد ہمارے لئے بازار سے سحری کے لئے کھانے پینے کا سامان لے آیا۔ سحری کھانے اور فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم گھر لوٹ آئے اور ظہر تک سوتے رہے۔
29 ویں رات کو افطاری کے بعد ثوبیہ چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر پر ہی ٹھہری، باقی سب لوگ حرم آ گئے۔ آج رش پچھلے دنوں سے بھی زیادہ تھا۔ ہم نماز کے لئے حرم کے اندر داخل نہ ہو سکے۔ حرم سے باہر تمام سڑکوں اور بازاروں میں صفیں بھر چکیں تھیں۔ وہیں پر ہمیں جہاں جگہ ملی، ہم نے اپنے اپنے جائے نماز بچھا لئے اور با جماعت نماز ادا کر لی۔ اس کے بعد امام صاحب تبدیل ہوئے اور تراویح شروع ہوئی، انھوں نے دس رکعتیں پڑھائیں۔
پھر قاری عبد ا لرحمٰن سدیس نے امامت سنبھالی اور تراویح کی بقیہ رکعتیں مکمل کروائیں، پھر وتر میں بہت لمبی اور رقت آمیز دعا مانگی۔ تقریباً 35 منٹ کی دعا میں وہ خدا کے حضور گڑگڑاتے رہے، خود روتے رہے اور نمازیوں کو بھی رلاتے رہے۔ ان کی دعاؤں پر آمین کی صداؤں سے مکہ کے پہاڑ گونج اٹھے۔ لوگ زارو قطار رو رہے تھے۔ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے۔ لوگ توقع کر رہے تھے کہ یہ رمضان ا لمبارک کی آخری رات ہے، اس لئے آج خدا سے جی بھر کے مانگ لیا جائے۔
اللہ کے خزانوں کے منہ کھلے ہوئے تھے، اس کے فرشتے انعامات لٹا رہے تھے اور اللہ کے بندے جھولیاں پھیلائے رحمتوں کے خزانے سمیٹ رہے تھے۔ کچھ ہوش نہ تھا کہ ہم کہاں ہیں، صرف ایک احساس تھا کہ ہم اپنے رب کے سامنے کھڑے ہیں۔ بڑی ہی عجیب اور نا قابل بیان کیفیت تھی۔ آنسوؤں، ہچکیوں اور سسکیوں کے ساتھ دعا کا اختتام ہوا۔ لوگوں کی اکثریت واپس جانے لگی مگر جو لوگ قیام اللیل کا ارادہ رکھتے تھے وہ حرم کے اندر جانے کے لئے آگے بڑھنے لگے۔
ہمیں معلوم ہوا کہ فی الحال صرف باہر نکلنے والوں کے لئے راستہ کھولا گیا ہے، لیکن اندر جانے والوں کے لئے راستہ بند ہے۔ ہم لوگ پیچھے ہٹ آئے اور زمین پر جائے نماز بچھا کر بیٹھ گئے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ راستہ کھلنے کا انتظار کیا جائے۔ تقریباً آدھ گھنٹے کے بعد راستہ کھول دیا گیا اور سب لوگ اندر داخل ہوئے۔ آج ہمارے ساتھ ندیم اور اسامہ رک گئے تھے۔ شہزاد اپنے ہمراہ ازکیٰ اور داؤد کو لے کر واپس چلا گیا۔
قیام اللیل سے پہلے مجھے ایک طواف مکمل کرنے کا موقع مل گیا۔ اس دوران چچی جان بیٹھی قرآن پڑھتی رہیں۔ آج میں نے برآمدے میں طواف کیا۔ ہم لوگ فرسٹ فلور پر بیٹھے تھے۔ قیام اللیل کے بعد جب وقفہ ہوا تو اسامہ اور ندیم سحری میں کھانے کے لئے کچھ سامان لے آئے۔ ہم نے تہجد پڑھنے کے بعد سحری کھائی۔ فجر پڑھنے کے بعد ہم سب گھر آ کر سو گئے اور ظہر کے وقت اٹھے۔ بقیہ نمازیں گھر میں پڑھیں۔ میزبان خاتون کے ساتھ مل کر افطاری تیار کی۔
خاتون کے والد صاحب اور ایک اور جوڑا عمرے کے لئے پہنچ چکے تھے۔ افطاری کے بعد سعودی حکومت نے گولے چھوڑے جو اس بات کا اعلان تھا کہ کل عید ہو گی۔ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے۔ میں نے بھائی اور چچی سے کہا کہ میں آج رات بھی حرم میں ہی گزارنا چاہتی ہوں۔ چچی بھی رکنے کے لئے تیار ہو گئیں۔ ندیم ہمیں حرم تک چھوڑ آیا۔ ہم نے اسے واپس گھر بھیج دیا۔ ہم باب الفتح سے حرم میں داخل ہوئے۔ رش کافی تھا، برآمدے میں نماز عشا ادا کی۔
اس کے بعد ہم دونوں مطاف میں داخل ہوئے۔ وہاں عورتوں کے لئے ایک کونہ مخصوص کیا گیا تھا۔ نماز عشا کے بعد رش کم ہو چکا تھا اس لئے آسانی سے جگہ مل گئی۔ سامنے خانہ کعبہ روشنیوں میں نہا رہا تھا۔ دیکھ دیکھ کر دل نہال ہو رہا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ کی زیارت کرنا بھی وہاں عبادت میں ہی شمار ہوتا ہے۔ وہاں بیٹھ کر خوب دعائیں مانگیں۔ لوگوں کی جو دعائیں امانتاً میرے پاس تھیں وہ بھی اللہ کے حوالے کیں۔ مجھے اپنی قسمت پر بہت ناز ہو رہا تھا کہ اللہ نے دوسری مرتبہ مجھے اپنے گھر میں بلایا ہے۔



