آیا ہے بلاوا مجھے دربار نبی ﷺسے


بالآخر 11 ستمبر کا دن آن پہنچا، میری فلائٹ رات سوا بارہ بجے تھی۔ شہزاد نے اس خیال سے کہ کہیں آفس میں زیادہ مصروفیت نہ ہو، ندیم کو بلا لیا، مگر وہ خود بھی وقت پر گھر پہنچ گیا۔ اگلے دن بچوں نے سکول بھی جانا تھا اس لئے گھر پر ہی سب سے مل کر خدا حافظ کہا۔ ہم عشا کی نماز پڑھ کر تقریباً سوا نو بجے گھر سے نکلے اور دس بجے ائر پورٹ پہنچ گئے۔ سامان کی کلئیرنس کروا کے میں نے بورڈنگ کارڈ حاصل کیا۔ میرے پاس آب زم زم کی دو بوتلیں تھیں مگر وہ صرف ایک بوتل کی اجازت دے رہے تھے۔

میری اور شہزاد کی ریکویسٹ پر انہوں نے دونوں بوتلوں کی اجازت دے دی اور ٹیگ لگا دیا۔ اس کے بعد میں شہزاد سے مل کر، اسے خدا حافظ کہہ کر بورڈنگ لاؤنج میں چلی گئی۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہمارے کاغذات چیک کر کے ہمیں جہاز میں بیٹھنے کے لئے کہا گیا۔ مسافر آہستہ آہستہ اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھتے رہے۔ سوا بارہ بجے جہاز نے ریاض کی سر زمیں کو چھوڑ دیا۔ میرا دل ڈوبنے لگا کہ جانے اب اس پاک سر زمین پر قدم رکھنے کا کب موقع ملے۔

میری سیٹ کھڑکی کے ساتھ تھی۔ جہاز اوپر اٹھنے لگا، کچھ دیر بعد نیچے کا منظر یوں لگنے لگا جیسے ستاروں بھرا آسمان زمین پر اتر آیا ہو۔ پھر روشنیاں ٹمٹمانے لگیں اور ہم روشنیوں کے شہر سے بہت دور نکل آئے تھے۔ میں نے آنکھیں موند لیں، سونے کی کوشش کرنے لگی مگر ایک ننھی بچی اپنی ماں کی گود میں بہت زیادہ رو رہی تھی، شاید اس کے کانوں میں تکلیف ہو رہی تھی۔ لاکھ بہلانے کے باوجود وہ بہل نہ رہی تھی۔ جہاز کے عملے نے کھانا سرو کیا، نہ جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی۔

جب آنکھ کھلی تو فجر کا وقت ہو رہا تھا، واش روم جا کر تازہ وضو کیا اور واپس آ کر اپنی سیٹ پر ہی نماز فجر ادا کی۔ کچھ اور مسافر خواتین بھی اپنی سیٹوں پر ہی نماز ادا کر رہی تھیں۔ نماز کے بعد کچھ وظائف پڑھے، اتنے میں صبح کی سفیدی نمودار ہونا شروع ہو گئی۔ کھڑکی کے باہر کا منظر بڑا سہانا تھا۔ تمام کرہ ارض دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا، یوں جیسے ایک لکیر سی کھچ گئی ہو، نیچے کا آدھا حصہ مکمل سیاہ اور اوپر کا آدھا حصہ سفیدی پر مشتمل۔

کچھ دیر بعد سورج بھی طلوع ہو گیا۔ سورج ہمیں دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر اس کی سرخی جب آسمان پر پھیلی تو اندازہ ہو گیا اور سورج کی سنہری کرنوں سے جہاز کے پر چمکنے لگے۔ پھر اس کے بعد میری زندگی کا نہایت ہی خوبصورت منظر میں نے دیکھا۔ ہم بادلوں کے سمندر کے اوپر سے گزر رہے تھے، کبھی ہم ہم بادلوں کے درمیان سے گزرتے، پہاڑوں جیسے بڑے بڑے بادل، سورج کی کرنوں سے چمکتے ہوئے، کچھ چاندی جیسے سفید، روئی کے گالوں کی طرح، کچھ سیاہی مائل، کچھ ساکن اور کچھ جہاز کی مخالف سمت بھاگتے ہوئے۔

کبھی وہ بادل ایسے دکھائی دیتے جیسے سمندر کی لہریں بہہ رہی ہوں اور کبھی ایسے لگتے جیسے بڑے بڑے پہاڑ، کچھ سفید اور کچھ سیاہ، کھڑے ہوں۔ اور جب جہاز ان بادلوں کے اندر سے گزرا تو کھڑکیوں کے باہر دھند پھیل گئی۔ کافی دیر تک یہ منظر دکھائی دیتا رہا۔ اس دوران میں سبحان اللہ اور اللہ اکبر پڑھتی رہی اور خدا کی قدرتوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہوتی رہی۔ مجھے مستنصر حسین تارڑ کی کسی سفر نامے میں لکھی ہوئی ایک بات یاد آ گئی کہ اللہ تعالٰی بعض اوقات سیاح کو سفر میں سہی گئی صعوبتوں کے بدلے میں ایسے مناظر انعام کے طور پر دکھاتا ہے۔ جب بادلوں کا سمندر ختم ہوا تو اعلان کیا گیا کہ ہم تھوڑی دیر بعد پشاور ائر پورٹ پر اترنے والے ہیں۔ پشاور میں موسم ابر آلود تھا۔ تقریباً آدھے مسافر اتر گئے۔ لاہور جانے والے مسافروں کے لئے اعلان ہوا کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں۔

جہاز کا عملہ بھی تبدیل ہو گیا۔ جہاز کی صفائی کی گئی۔ جہاز کے بقیہ مسافروں کی گنتی کی گئی۔ تقریباً سوا گھنٹہ گزرنے کے بعد ہم لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ اب تیز دھوپ نکل چکی تھی اور آنکھیں باہر دیکھنے سے سورج کی روشنی سے چندھیانے لگی تھیں۔ تقریباً 50 منٹ کے بعد ہم لاہور پہنچے۔ بڑی آسانی سے سامان کی کلئیرنس کروا کے میں ائر پورٹ سے باہر آئی، میرے شوہر، لیاقت مجھے لینے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ میرا بیٹا منصور، جس کے ساتھ میں نے پشاور ائر پورٹ پر فون پر بات بھی کی تھی، وہ رات بھر اس مقصد کے لئے جاگتا رہا کہ میں صبح اپنی ماں کو لینے ائر پورٹ جاؤں گا، مزید ایک گھنٹے کے لئے اپنی نیند پر قابو نہ رکھ سکا اور نیند کی گود میں جا گرا۔

جب ہم گھر پہنچے تو دروازے اندر سے بند تھے۔ لہٰذا ہم چابیاں ہونے کے باوجود دروازے نہ کھول سکے۔ خوب ڈور بیل بجائی، اس کے موبائل پر فون کیے ۔ کافی دیر بعد بمشکل اس کی آنکھ کھلی۔ اس نے دروازہ کھولا اور شرمندہ شرمندہ سا مجھے ملا، وہ سامان اٹھا کر اوپر لایا اور دوبارہ سو گیا۔ میں بھی بہت نیند محسوس کر رہی تھی، دن بھی اتوار کا تھا، اس لئے میں بھی نیند پوری کرنے اور تھکاوٹ دور کرنے کے لئے بے فکر ہو کر سو گئی۔ جسم پاکستان پہنچ چکا تھا مگر دل اور روح، ایسے لگ رہا تھا جیسے حرم پاک میں ہی چھٹ گئے تھے۔ دیکھیں پھر کب حاضری کا موقع ملے۔

(میرے پیارے بھائی شہزاد میر کے نام، جس نے مجھے عمرے پر بلانے کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالٰی اس پر اور اس کے اہل خانہ پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے۔ آمین)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7