محبت، سیکس اور شادی: ڈاکٹر خالد سہیل کا اپنے بھانجے کے نام خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک ایسے سماج میں رہتے ہیں جہاں پر زندگی کی حقیقتوں کو پرکھنے کے لیے تنگ نظری کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور چیزوں کو گناہ و ثواب کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔ اس دائروی چلن کی وجہ سے زندگی کی لاتعداد حقیقتیں ہم سے پوشیدہ رہ جاتی ہیں، ہم حقائق سے کچھ دیر تک نظریں تو چرا سکتے ہیں مگر پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ کچھ باتیں اور چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ ہر انسان کی تربیت کا حصہ ہونی چاہئیں کیونکہ ان باتوں کوجانے بغیر زندگی کا پیکج پورا نہیں ہوتا اور زندگی بے رنگ اور بے کیف سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ میں ڈکٹر خالد سہیل کے ایک خط کا حوالہ دینا چاہوں گا جو انہوں نے اپنے بھانجے ذیشان کے نام لکھا تھا۔ ذیشان نے اپنے ماموں کے نام اس خط میں پوچھا کہ

” پیارے ماموں جان بطور ٹین ایجر مجھے سیکس کے بارے میں کن اہم باتوں کا پتہ ہونا چاہیے تاکہ میں اپنی زندگی ایک پر سکون طریقے سے گزار سکوں“

اس خط کے جواب میں ڈاکٹر سہیل لکھتے ہیں کہ پیارے ذیشان جب میں پیچھے مڑ کر اپنی ٹین ایج کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے یہ ادراک ہوتا ہے کہ میں ایک روایتی مسلم پختون کلچر میں پروان چڑھا جہاں پر ہیومن سیکشوئیلٹی کے حوالہ سے کوئی صحت مند رویہ نہیں پایا جاتا اور ہمارا بچپن سیکس جیسے اہم موضوع سے لاعلمی میں گزرا کیونکہ سیکس اور اس سے جڑے ہوئے احساسات کو ڈسکس کرنا گناہ تصورکیا جاتا تھا۔ سیکس ایجوکیشن نہ تو گھر پر دی جاتی تھی اور نہ ہی سکول میں کوئی بندوبست تھا۔

مجھے اس حقیقت کی تہہ تک پہنچنے میں ایک لمبا عرصہ لگا، بطور سائیکو تھرپسٹ میں نے نفسیات کو کھنگالا۔ مغرب میں رہتے ہوئے میں نے لونگ ان ریلیشن کو انجوائے کیا، مختلف مریضوں کی زندگیوں کا قریب سے جائزہ لیا اوراپنے لاتعداد دوستوں سے سیکس اور اس سے جڑی ہوئی حقیقتوں پرایک سیر حاصل گفتگو کی تو مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیکس انسانی زندگی کا بہت ہی اہم حصہ ہے اور ہمارے روایتی سماج کے بہت سے نوجوان زندگی کے اس اہم حصہ سے بے خبرہوتے ہیں اور زندگی کو پورے طریقے سے انجوائے نہیں کر پاتے۔ پیارے ذیشان مجھے بہت خوشی ہوئی ہے کہ تم نے بہت سے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے چند وہ اہم باتیں پوچھی ہیں جس کا ہر نوجوان کو پتا ہونا چاہیے وہ چند باتیں درج ذیل ہیں۔

1۔ ٹین ایج میں رات کو سوتے ہوئے مادہ منویہ کا اخراج ایک نارمل عمل ہوتا ہے
2۔ جب بچیاں بلوغت کی عمر کو پہنچتی ہیں تو حیض یا پیریڈ کا آنا بالکل فطری عمل ہوتا ہے۔

3۔ مادہ تخلیق دودھ کی طرح رطوبت ہوتا ہے، پیشاب کی طرح فضلہ مادہ نہیں ہوتا۔ جو کہ secretion ہے نہ کہ excretion۔

4۔ مشت زنی خود کو سکون دینے کا ایک عمل ہے یہ self abuse بالکل بھی نہیں۔
5۔ ہم سب کو انسانی جنسیاتی ساخت کا علم ہونا چاہیے۔
6۔ جنسی ملاپ کے دوران ابتدائی اوراختتامی اٹکھیلیاں (for play & after play) کا پتاہونا چاہیے۔

7۔ دو رویہ جنسی عروج (mutual orgasm) پیار کے احساسات کے لیے ضروری نہیں ہوتا بلکہ یہ تو حقیقی پیار اور محبت سے پروان چڑھتا ہے۔

8۔ ہمیں مانع حمل طریقوں کا پتا ہونا چاہیے تاکہ ہم پیداواری، وابستگی اورتفریحی ملاپ (reproductive، relational and recreational sex) کے فرق کو واضح طور پر سمجھ سکیں۔

9۔ ہمیں دوسروں کو جانچنے کی بجائے قبول کرنے کے عمل کو سیکھنا چاہیے خاص طور پر ایسے لوگ جو مختلف جنسی رجحان اور طرز زندگی رکھتے ہوں۔

10۔ ہمیں جنسی اعتبار سے جسمانی تبدیلیوں کا ادراک ہونا چاہیے۔

ان نکات کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر سہیل بتاتے ہیں کہ جب لڑکا جوان ہوتا ہے تو والدین کو پتا ہونا چاہیے کہ بلوغت کے اس دورانیہ میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ہم اپنے بچے کو کیسے گائیڈ کر سکتے ہیں۔ بچوں اور والدین کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کی وجہ سے بچے اپنے جسم میں ہونے والی تبدیلیوں مثلاً سیکشوئل ہارمونز کا فعال ہونا، آواز میں تبدیلی، چہرے اور جسم پر بالوں کا نمودار ہونا اور جنسی خوابوں کی وجہ سے کپڑوں کا گیلا ہوجانا جیسے مسائل اپنے والدین سے ڈسکس نہیں کر پاتے، حالانکہ یہ تجربات ان کے لیے ڈر اور عجیب جیسے تاثر سے ملے جلے ہوتے ہیں اور زندگی کے اس اہم موڑ پر انہیں اپنے والدین کی سپورٹ کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی بلوغت والدین کی توجہ زیادہ مانگتی ہے کیونکہ ہمارے کلچر میں پہلے سے کچھ بھی بتانے کا رواج نہیں اور اگر بات جنس کی ہو تو اسے ویسے ہی شجر ممنوعہ خیال کیا جاتا ہے۔

مائیں پیریڈ ہونے سے پہلے لڑکیوں کو اس اہم موضوع پر کچھ نہیں بتاتیں، ماں باپ کی یہی شرم ان کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوتی ہے۔ اچانک پیریڈ آنے سے بچیاں خوف میں مبتلا ہوجاتی ہیں بعض دفعہ تو وہ سکول میں ہوتی ہیں اچانک پیریڈ آنے کی وجہ سے انہیں اپنی سہیلیوں کے سامنے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ زندگی کے اس اہم موڑ پر بچیوں کو اپنے والدین کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پیریڈ معمول کی بات ہوتی ہے اور بچی کو اس کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا پڑتا ہے۔

آگے چل کر ڈاکٹر سہیل مشت زنی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ایک نارمل عمل ہے اس سے کسی بھی طرح کی ذہنی اور جسمانی بیماریاں جنم نہیں لیتیں بلکہ یہ عمل ایسے معاشروں میں blessing in disguises ثابت ہوتا ہے جہاں مرد اور عورت کو ڈیٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ میں نے مشت زنی کے حوالہ سے بہت سی خوفناک کہانیاں پڑھیں اور سنی ہیں۔ جو پاکستان کے اکثر لوکل میگزین میں وقتاً فوقتاً شایع ہوتی رہتی ہیں۔ ان میگزین میں اس قسم کی باتیں شائع ہوتی ہیں کہ مشت زنی کی وجہ سے ذہنی، جسمانی اور خاص طور پر اندھا پن اورذہنی خرابی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں طنز آمیز بات یہ ہے کہ ہزاروں عطائی حکیم اور ڈاکٹرز اسی بنیاد پر نوجوانوں سے ہزاروں روپے بٹور لیتے ہیں اس لیے یہ عمل خود تسکینی کہلاتا ہے اور انسانی صحت پر کوئی اثرنہیں پڑتا اور اس عمل کے ساتھ جڑی ہوئی تمام کہانیاں فضول ہیں۔ مجھے اس بات کا ادراک کرنے میں کافی وقت لگا کہ مختلف جنسی رجحان والے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

1۔ Hermaphrodites دو جنسی مخلوق جس میں نر مادہ دونوں کے جنسی اعضا موجود ہوتے ہیں۔
2۔ Transvestites مخالف جنس کے کپڑے پہننے والے، کراس ڈریسر
3۔ Transsexualsجسمانی طور پر ایک جنس اور نفسیاتی طور پردوسری جنس سے تعلق رکھنے والے
4۔ Homosexualsہم جنس پرست

بہت سے مشرقی لوگ ان اصلاحات کے فرق کو نہیں سمجھتے اوران کی نظر میں یہ مترادفات ہیں۔ ڈاکٹر سہیل مزید بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں pre mature ejaculation قبل از وقت اخراج جیسے مسئلے کا پتا ہونا چاہیے کیونکہ یہ صورتحال مردوں کے ساتھ پیش آتی ہے کہ وہ جلد فارغ ہو کر دوسری طرف منہ کر کے سو جاتے ہیں۔ اس مسئلے سے نپٹنے کے لیے fore play بہت ضروری ہوتا ہے، ٹائمنگ کا یہ مسئلہ ابتدائی اٹکھیلیوں سے حل کیا جا سکتا ہے ورنہ تو پھر یہ عمل اپنے پارٹنر کو ایذا دہی کے لیے جسم کو کسنے کے شکنجے کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے کلچر میں ہر چیز کو صحیح اور غلط یا اچھے اور برے کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے اور نوجوانوں کے ذہن پر احساس گناہ کا بوجھ سوار رہتا ہے ہر چیز کو مذہبی بنیادوں پر پرکھنا کوئی صحت مند رویہ نہیں ہے زندگی ایک پر اسرار چیز ہے اس کی پراسراریت کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے ایک فکس اینگل یا ایک نقطہ نظر کافی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر سہیل کا یہ خط بہت طویل ہے مگر میں نے کچھ اہم باتیں شیئر کی ہیں تاکہ بات چیت کا آغاز ہو اور ہمارے نوجوانوں کو مسائل کا ادراک ہو سکے آپ بہت سی باتوں سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس اہم موضوع کی اہمیت سے انکار بالکل بھی نہیں کر سکتے اس لیے ابلاغ کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

(ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب Love، sex and marriage سے اقتباس)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply