ملتان کا بازار حسن: ایک گم شدہ منظر
کوئی دوچار جو اپنی کسی منظور نظر کو ملنے جا رہے ہیں دو گجرے لے لیں گے وگرنہ ان پھول والوں کی اصل فروخت تو اوپر چوباروں میں ہوتی ہے۔ اس لئے ان کی نظریں بھی اوپر کھڑکیوں اور دریچوں پر لگی ہیں۔ ان دریچوں میں ”حسن“ سجا ہے۔ بالا خانوں میں روشنی کا اہتمام سوا ہے۔ ”مال“ چونکہ مصنوعی ہے سو تیز روشنی سے چمک دمک بڑھا کر نظروں کو خیرہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس بازار میں اصلی نگینے بھی ہیں جن کے حسن کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے اور گلے میں بھگوان بیٹھا سر لگاتا ہے مگر وہ یوں بالاخانوں کے شوکیس میں سجائے نہیں جاتے۔
ان کا رقص و گیت خواص کے لئے مخصوص ہے ’ہر کہہ و مہ کو وہ میسر نہیں۔ وہ کسی خان صاحب‘ ملک صاحب یا نواب صاحب کی منظور نظر ہے اور انہی کے لئے مخصوص۔ یہاں ”نواب“ کی اصطلاح پڑھ کر آپ اودھ کے صدر مقام لکھنؤ نہ پہنچ جائیے گا ’یہاں ملتان میں بھی کئی خوانین اپنے نام نامی سے قبل نواب کا سابقہ استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال! میں گزارش کر رہا تھا‘ ان در و دیوار کے پیچھے اچھا مال بھی موجود ہے مگر اسے دریچوں میں بیٹھ کر ایرے غیرے کو دعوت نظارہ دینے کی حاجت نہیں کہ اس کے قدردان موجود ہیں۔
پھول والوں کی بات ہو رہی تھی کہ ان کی نظریں اوپر کھڑکیوں میں ہیں۔ یوں تو بازار میں پھرتے سبھی لوگوں کی نظریں اوپر ہیں کہ ان میں سے اکثریت تو آئی ہی صرف نظر بازی کو ہے مگر پھول والا نظر باز نہیں ’وہ تو اپنی گاہکی کی تلاش میں ہے۔ وہ اس انتظار میں ہے کہ ابھی کسی چوبارے کی کھڑکی سے متلاشی نگاہیں نیچے اتر کے اس کی نظروں سے ٹکرائیں گی اور اشارہ کریں گی۔ وہ لپکتا ہوا تنگ زینہ چڑھ کر اوپر چلاجائے گا۔ ایک مختصر سا صحن گزر کے اس کمرے کا دروازہ نظر آئے گا جس کی پرلی دیوار کی کھڑکی بازار میں کھلتی ہے‘ اسی کھڑکی سے پھول والے کو اشارہ کر کے بلایا گیا تھا۔
ممکن ہے اس نیم روشن مختصر صحن سے گزرتے ہوئے اسے کسی کونے کھدرے سے بلغم بھری چھاتی سے راستہ بنا کر آتے جاتے سانس کی کھڑکھڑاہٹ بھی سنائی دے جائے۔ درمیان میں بوجھل اور تھکی ہوئی کھانسی بھی سماعت سے ٹکرا سکتی ہے۔ یہ اس کوٹھے کی وہ ازکار رفتہ بڈھی طوائف ہے جو اب استادوں کے پہلو میں بیٹھ کر گاہکوں کے سامنے ناچتی اپنی پوتی یا نواسی کی بلائیں لینے کے قابل بھی نہیں رہی۔ دن میں تو اس کی قدر کی جاتی ہے کہ یہ اپنے تجربے کی روشنی میں اگلی نسل کی تربیت کیا کرتی ہے تاہم دھندے کا وقت اس کو اندھیرے اکلاپے کے ساتھ گزارنا پڑتا ہے۔
پھول والا یہاں سے گزر کر اماں کا حال پوچھتا ہوا دروازے کے پٹ کھولتا ہے تو اک الگ جہان آباد ہے۔ خوشبو اور روشنی کا طوفان ہے۔ ریشمی لباسوں کے رنگ ہیں اور سرسراہٹیں۔ دیواروں پر تصاویر کے فریم ٹنگے ہیں جس میں اس کوٹھے کی فتنہ ساماں حسینائیں جلوے دکھاتی ہیں۔ سفید براق چادروں کا فرش ہے۔ چادروں کے نیچے دبیز قالین ہے کہ نشست آرام دہ رہے۔ دائیں دیوار کے ساتھ استاد بیٹھے ہیں۔ ہارمونیم ہے ’سارنگی اور طبلہ۔ ان کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر بھاری جسم کی بائی ہے جس کے نام سے یہ بالا خانہ پہچانا جاتا ہے۔
وہ کھڑکی جو بازار کی طرف کھلتی ہے ’اس کے پٹ بھیڑ دیے گئے ہیں۔ اس کھڑکی کے سامنے اب دو حسینائیں بیٹھی ہیں۔ ایک نے بھاری کام والی ریشمی پشواز پہن رکھی ہے جو گھٹنوں سے نیچے تک آتی ہے۔ پشواز کے ساتھ اسی رنگ کا چوڑی دار پاجامہ ہے۔ وہ پاجامے کے اوپر ہی اپنی پنڈلیوں پر گھنگھرؤں کے بند باندھ رہی ہے۔ اس کے ہاتھ گورے اور بھرے بھرے ہیں۔ پیر بھی یوں چمک رہے ہیں کہ ان پر نظر نہیں ٹھہرتی۔ سرخ رنگ میں رنگے ناخن اور پیروں کی چھت پر مہندی سے بنے باریک باریک پتیوں والے پھول۔
میدے میں شہد ملی رنگت والے پیروں پر مہندی کے نقش و نگار نے حسن کو دوآتشہ کر دیا ہے۔ یہی ہاتھ ’پیر‘ گردن اور چہرہ ہی تو حسن کے خریدار کو پہلی نظر میں دکھائی پڑتا ہے، سو ان اعضاء کی صفائی ستھرائی اور سجاوٹ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ دوسری لڑکی مناسب شکل و صورت کی ہے۔ جوانی کی بہار تو اس پر بھی ہے مگر گھنگھرو والی کے سامنے، اس کی جوانی کا چراغ جل نہیں پارہا۔ اگر منظر سے گھنگھرو والی کو ہٹادیا جائے تو نیلے رنگ کی شلوار قمیص والی یہ دوسری لڑکی بھی کچھ کم حسیں نہیں۔
پھولوں والا جس دروازے سے اندر آیا ہے ’اس کے بائیں جانب والی دیوار کے ساتھ تین شرفا آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں۔ ان کی کمروں کے پیچھے ریشمی غلاف والے گاؤ تکئے دھرے ہیں۔ پھولوں والا سلام کرتا ہے اور سیدھا شرفا کی طرف جاتا ہے۔ اپنی لکڑی کی خوب گول گول گھڑی ہوئی چھڑی سے ایک ایک ہار اتارتا ہے اور باری باری تینوں کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ ان کو ایک ایک گجرا بھی تھمادیتا ہے۔ گھنگھرو بندھ چکے ہیں‘ وہ لڑکی اٹھتی ہے اور چھن چھن کرتی سب سے پہلے درمیان والے کے سامنے اپنے پنجے موڑ کر گھٹنے فرش پر ٹکاتی ہے اور بالائی جسم کا وزن کھڑے پیروں پر ڈال کر بیٹھ جاتی ہے۔
وہ دایاں ہاتھ آگے بڑھاتی ہے۔ مرد ہاتھ پکڑ کر اس کا گداز پن تولتا ہے اور گجرا اس کی کلائی میں پہنا دیتا ہے۔ گجرا پہن کر وہ مسکراتی ہے ’پپوٹوں پر لگائی گئی مصنوعی لمبی لمبی پلکیں اٹھا کر شکریہ ادا کرتی ہے۔ پھر دوسرے اور تیسرے کے پاس جاکر گجرا پہنتی ہے۔ تیسرا تو اپنے گلے کا ہار بھی اتار کر اس کے گلے میں ڈال دیتا ہے۔ پھول والا ابھی کھڑا ہے۔ درمیان والا کرتے کی بغلی جیب سے ایک نوٹ نکال کر پھول والے کو دیتا ہے۔ یہ نوٹ گانا سننے والی کی مالی حیثیت کا پتہ دیا کرتا ہے۔ بہرحال کم سے کم بھی جو رقم پھول والے کو ملتی ہے وہ عام بازار کی نسبت چار پانچ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ وہ سلام کر کے رخصت ہوجاتا ہے اور دروازہ بھیڑ دیا جاتا ہے۔
اب استادوں کے ساتھ بیٹھی بائی پوچھتی ہے ”کیا سنیں گے؟“ اگر تو کوئی صاحب ذوق ہے تو اپنی پسند کی غزل ’ٹھمری یا کسی راگ کا خیال بتادیتا ہے۔ اکثریت یہی کہتی ہے کہ کچھ بھی سنادیں۔ سارنگی والا اپنا گز تولتا ہے۔ طبلے والا جوڑی پر پاؤڈر چھڑک کر اسے ہتھیلی سے دائیں اور بائیں پر ملتا ہے۔ ہارمونیم والے نے اپنے ساز کا پنکھا کھول لیا ہے۔ اب جو فرمائش ہوئی ہے یا جو بائی نے بجانے کے لئے کہا ہے‘ سارنگی والا استاد اس کے سر چھیڑتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


