ملتان کا بازار حسن: ایک گم شدہ منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج چھپ چکا ہے ’شام دھیرے دھیرے گہری ہو رہی ہے۔ ملتان شہر کے حرم دروازے کے باہر ڈھلان پر خاصا ہجوم ہے۔ بازار بند ہو رہے ہیں۔ قرب و جوار اور شہر سے جو لوگ خریداری کو آئے تھے‘ وہ اب واپسی کے لئے سواریاں تلاش کر رہے ہیں۔ تانگوں کے پہیوں کے دھرے اک دوجے سے رگڑ رہے ہیں۔ کوچوان یوں آوازیں لگاتے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ زیادہ تانگوں کا رخ بیرون دولت دروازہ، قلعہ کے شمالی جانب جو لاری اڈا ہے ’اس کی طرف ہے۔ کچھ سیدھے نشاط روڈ سے ہو کر سٹی ریلوے سٹیشن کی طرف جانے کی آوازیں لگا رہے ہیں۔ چند ایک ایسے بھی ہیں جن کا رخ چوک شہیداں کی طرف ہے‘ وہ ریلوے روڈ سے ہوتے ہوئے چھاؤنی کے ریلوے سٹیشن جائیں گے۔

قریب آدھ پون گھنٹے میں یہ بھیڑ چھٹ جاتی ہے۔ اب دو قسم کے لوگ اس چوک پر نظر آرہے ہیں۔ کچھ تو شہر کے باسی ہیں جو دال مونگ لینے کو آئے ہیں۔ شاپروں کا بدبودار زمانہ آنے میں ابھی بہت وقت ہے ’ابھی تو پیپل کے بڑے بڑے پتوں پر دال ڈال کر گاہک کو دی جاتی ہے۔ یہ اس زمانے کی ڈسپوزیبل کراکری ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو یا تو خود دکان دار ہیں یا دکانوں پر ملازم۔ ان کو دکان سمیٹتے کچھ وقت لگ گیا ہے‘ سو وہ اب گھروں کو جانے کے لئے نکلے ہیں۔ جن کے گھر شہر میں ہیں ’وہ تو بیویوں یا ماؤں کے ہاتھ کا پکا کھائیں گے‘ کچھ ایسے بھی ہیں جو مضافات سے تلاش رزق میں ملتان آئے ہیں ’وہ چھڑے ہیں‘ سو یہیں سڑک کے کنارے کسی ٹھیلے یا کسی سستے تنور ہوٹل سے کچھ کھاتے ہوئے اپنی کوٹھڑیوں کو جائیں گے۔

یہ بھیڑ بھی کچھ دیر میں ختم ہو گئی ہے۔ اب مسجدوں میں عشاء کی اذانیں ہونے لگی ہیں۔ تھوڑا وقت اور گزر جاتا ہے۔ نمازی گھروں کو لوٹ رہے ہیں ’رات بھیگنے لگی ہے۔ حرم دروازے کا چوک اور یہاں سے سیدھی سٹی سٹیشن کو جانے والی سڑک‘ جسے نشاط روڈ کہتے ہیں ’پھر سے رونق پکڑنے لگے ہیں۔ چوک پر سواریوں سے لدے پھندے تانگے آرہے ہیں۔ کچھ بڑے سجے سجائے تانگے ہیں جن میں جتے گھوڑے بھی اپنی اعلیٰ نسل کا پتہ دے رہے ہیں۔ یہ کھاتے پیتے لوگوں کے ذاتی تانگے ہیں۔ سائیکل اور سکوٹروں پر بھی لوگ آرہے ہیں۔ کوئی کوئی موٹر بھی نظر آجاتی ہے۔ نشاط روڈ پر دن بھر لوہے کا اور پشاوری چپلوں کا کاروبار ہوتا ہے مگر اب یہاں اور ہی طرح کی دکانیں نظر آ رہی ہیں جیسے یکایک کوئی میلے کا بازار سج گیا ہو۔

کباب لگ رہے ہیں ’وہ مٹن چانپیں جن کے ساتھ لٹکتا گوشت لکڑی کے ہتھوڑے سے کوٹ کوٹ کر خوب پھیلادیا گیا ہے‘ دہکتے کوئلوں پر رکھی جالیوں پر بھونی جا رہی ہیں۔ کسی ہوٹل سے دیسی گھی میں پکے کھانوں کی خوش بو اٹھتی ہے ’کہیں شامی کباب تلے جا رہے ہیں۔ جا بہ جا پان بیڑی کی دکانیں اور خوانچے ہیں۔ ان دکانوں سے پان لگ لگ کر گل روڈ اور اس سے ملحقہ گلیوں میں جا رہے ہیں۔ کچھ سیر دیکھنے والے وہیں کھڑے پان لگوا رہے ہیں۔

یہ پان لگ چکیں گے تو دکان دار نازک پتہ تہہ کر کے اپنے انگوٹھے اور انگشت شہادت کی چٹکی میں نرمی سے پکڑ کر گاہک کی طرف بڑھائے گا۔ اگر تو گاہک نے چہرہ آگے کر کے دہن کھول دیا تو دکان دار یہ پان اس کے منہ میں رکھ دے گا وگرنہ گاہک دوسرے کنارے سے پان کو چٹکی میں وصول کر کے اپنے کلے میں رکھ لے گا۔ پان پکڑتے ہوئے چٹکی کو جو کتھا لگ گیا تھا ’اسے گاہک سر کے پچھلے بالوں میں صاف کرتے ہوئے پان کی قیمت ادا کر کے‘ بیڑی کا بنڈل یا دو چار سگریٹ طلب کرے گا۔

نشاط روڈ پر انہیں دکانوں کی وجہ سے خاصی روشنی نظر آتی ہے مگر رکئے نہیں ’چلتے رہئے‘ اصل روشنیاں اور رونق تو ابھی آپ کی منتظر ہیں۔ جوں جوں آپ آگے بڑھ رہے ہیں ’بھیڑ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اب آپ ایک سہ رستے پر پہنچ چکے ہیں۔ یہاں سے الٹے ہاتھ کو جو راستہ ہے‘ وہ ذرا ترچھا ہے اور آگے جا کر یہ پاک دروازے کے سامنے نکلے گا۔ اسے گل روڈ کہتے ہیں۔ یہ ملتان کا بازار حسن ہے اور گل روڈ پر جو آپ نے گردن پھیر کر نظر ڈالی ہے تو گویا رنگ و نور کا طوفان موج زن ہے۔ بھیڑ ایسی کہ شانے سے شانہ ٹکرائے بغیر گزر ممکن نہیں۔ گل روڈ پر بھی چلتے ہیں مگر پہلے یہاں کا نقشہ جان لیجیے۔

شور خاصا ہے ’کیونکہ جہاں آپ کھڑے ہیں‘ ایک تو وہاں بھیڑ بہت ہے ’دوسرا یہ دائیں جانب جو زلف تراش دکان کھولے بیٹھا ہے‘ اس کے پہلو میں پان والا ہے اور دوسری جانب کبابئے کی دکان سے دھواں اٹھتا ہے، ان کے درمیان سے جو تنگ سی سیڑھیاں اوپر جا رہی ہیں ’وہ بالا خانوں کی طرف لے کر جاتی ہیں جہاں غازے اور آرائشی پاؤڈر کی تہوں تلے چہروں کی بے رنگی چھپائی گئی ہے تاکہ ”مال“ تازہ دکھائی دے۔ وہاں اوپر سے طبلے‘ ڈھولک اور تیز آواز والے ہارمونیم ’جسے ”ٹانٹا“ کہا جاتا ہے‘ کی آوازیں آتی ہیں۔

اس تیز موسیقی کے پیچھے گھنگھرو چھنکتے ہیں اور چونکہ ابھی ساؤنڈ سسٹم کا رواج نہیں ہوا ’سو گانے والی کی آواز ان سب جھنکاروں کے پیچھے پیچھے سنائی دیتی ہے مگر بہت ہی سر میں۔ اس سب کچھ نے مل کر عجیب شور برپا کر رکھا ہے مگر آپ ذرا کان قریب لائیں تو بتاؤں کہ وہ دیکھیں سامنے سڑک دو شاخہ ہو گئی ہے۔ سیدھی تو یہی نشاط روڈ ہے اور یہ جو دائیں کو پھوٹتی ہے‘ اسے شاہ رسال روڈ کہتے ہیں۔ شاہ رسال روڈ پر بھی کچھ بالا خانے ہیں مگر کم ’اس لئے ادھر ہجوم بھی کم ہے۔

تھوڑا آگے جا کر شاہ رسال روڈ پر رونق ختم ہو جائے گی۔ اس طرف بالا خانے تو کم ہیں مگر نشاط روڈ اور شاہ رسال روڈ پر کچھ عالی شان مکان ہیں، یہ شہر اور علاقے کے رؤسا کے ہیں اور کچھ خوش حال طوائفوں کے۔ یہاں انہوں نے مکان کیوں بنا رکھے ہیں؟ یہ ذرا آگے چل کر آپ کو پتہ چل جائے گا۔ ان دونوں سڑکوں کے دائیں بائیں جو تنگ گلیاں ہیں ’ان میں سازندوں کے مکانات ہیں۔ وہ استاد جو کوٹھوں پر مختلف ساز بجاتے ہیں۔ نسبتاً کم وسائل والی طوائفوں کے گھر بھی ہیں۔ وہ طوائفیں جن کا گل روڈ پر کوٹھا ہے مگر وہ کرائے پر لے رکھا ہے۔ رہائش یہاں نشاط روڈ اور شاہ رسال روڈ پر سے پھوٹنے والی گلیوں میں ہے۔ ان گلیوں نے پاکستانی موسیقی کو اور فلم انڈسٹری کو بڑے بڑے نام دیے ہیں۔ ناہید اختر سے لے کراقبال بانو تک اور انجمن سے لے کر ریما تک۔

آئیے اب گل روڈ پر چلتے ہیں۔ یہاں وہی سماں ہے جو میلے میں ہوتا ہے۔ دکانوں پر ’کھوکھوں میں ریڈیو بج رہے ہیں۔ لکڑی کی چھڑیوں پر‘ کلائیوں میں پہننے والے تازہ پھولوں کے گجرے پروئے گل فروش یہاں وہاں پھرتے ہیں۔ بھیڑ کی وجہ سے گل فروش نے اپنی چھڑی سر سے اونچی کر رکھی ہے کہ لوگوں سے ٹکرا کر پھولوں کی پتیاں نہ ٹوٹنے لگیں۔ چنانچہ یہ گل فروش دور سے ہی نظر آ جاتے ہیں۔ ان گل فروشوں سے گجرے اور ہار ’اس بھیڑ میں کوئی خال ہی خریدے گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4 5 6

Leave a Reply