ملتان کا بازار حسن: ایک گم شدہ منظر


برصغیر کا کوئی نام ور گائیک ایسا نہیں جو ان کی حویلی کا مہمان نہ ہوا ہو۔ سب ان کے ہاں اپنے فن کے مظاہرے کو آتے تھے۔ زاہدہ پروین کافی گائیک تواکثر ان کے ہاں حاضر رہتی تھیں۔ استاد صغیر احمد نے بتایا کہ حیدرباندی نام کی ایک ڈیرہ دار طوائف گزری ہے جو نہ صرف گاتی کمال تھی بلکہ خوب صورتی میں بھی یکتا تھی۔ ان پر بہاول پور کے مشہور شاعر خرم بہاول پوری عاشق تھے اور اکثر اس کے ہاں پائے جاتے۔ خرم بہاول پوری کا یہ شعر حیدر باندی کے عروج کے دنوں میں زبان زد عام تھا۔

واہ مکھڑا حیدر باندی دا
جیویں چندر چمکدے چاندی دا

تقسیم ہندوستان سے آس پاس کا ایک واقعہ استاد صغیر احمد سناتے ہیں۔ نواب ممتاز چترالی تھے جن کی بوہڑ دروازے کے باہر بے تحاشا جائیداد تھی۔ وہ بازار حسن کی طوائف پکھراج بائی پر عاشق ہو گئے۔ عاشق بھی ایسے کہ اپنی زندگی اور جائیداد، سب پکھراج بائی کے لئے وقف کر دیا۔ کوٹھیاں، مکان، موٹریں اور دیگر تعیشات ’نواب صاحب کی نوازشوں کے طفیل پکھراج بائی کے در کی لونڈیاں ہوئیں۔ ایک دن پکھراج بائی نے فرمائش کی کہ اگر مجھے بمبئی لے چلو تو میری گائیکی فلم کے راستے چہار وانگ عالم میں چھا جائے گی۔

نواب صاحب کی جائیداد تب آخری دموں پر تھی۔ اس کا شاید پکھراج بائی کو بھی احساس تھا۔ بہرحال نواب صاحب آخری جمع پونجی لے کر پکھراج بائی کو بمبئی لے گئے۔ وہاں اس نے تیر نظر سے ایک اور موٹی اسامی گھائل کرلی۔ نواب صاحب دل برداشتہ ہو کر ملتان لوٹ آئے۔ سب کچھ فروخت ہو چکا تھا۔ یہاں ایک معروف بس کمپنی ہوا کرتی تھی مسلم وہاڑی اینڈ وہنی وال بس سروس۔ وہ نواب صاحب کے آشنا تھے۔ ان سے ایک بس لی اور نواب صاحب بس ڈرائیور ہو گئے۔ بس سروس والوں نے کہا کہ نواب صاحب آپ یہ بس رکھیں اور اس کی آمدن بھی اپنے تصرف میں لایا کریں ’یہ آپ کی ہوئی مگر نواب صاحب کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔ انہوں نے بقیہ عمر بس چلائی۔ اس وقت ڈرائیور کی جو بھی مروجہ تنخواہ تھی، وہ اپنے پاس رکھتے، باقی آمدن مالکان کو پہنچاتے۔

کاخ (محل) سے خاک تک کے سفر کی ایسی داستانیں صرف ملتان کے بازار حسن ہی نہیں بلکہ برصغیر کے سبھی بازاروں میں تحریر ہوئیں۔ ایک زمانے میں جو بڑے ٹھسے سے آ کر گانا سنا کرتے تھے، وہ سب کچھ لٹانے کے بعد اسی کوٹھے پر گاہکوں کو پان پیش کرتے دیکھے گئے۔

بازار حسن کی پہلی اینٹ تب رکھی گئی ہوگی جب اس زمین پر کسی پہلی عورت نے پیٹ میں لگی بھوک کی آگ بجھانے کے لئے چند لقمے حاصل کرنے کو اپنا ناز نخرہ اور جسم بیچا ہوگا۔ خریداریقیناً اس قدر صاحب حیثیت ضرورہوگا کہ اپنی اور اپنے متعلقین کی بھوک مٹانے کے بعد اس کے پاس چند نوالے بچ رہے ہوں گے ’جن سے اس نے کچھ دیر کو ایک نسوانی جسم خرید لیا ہوگا۔ یہ خرید و فروخت آج بھی جاری ہے۔ بیچنے والے شاید آج بھی مجبور ہیں۔

اگر کچھ فی صد مجبور نہیں تو وہ تعیشات کی ہوس کی ہاتھوں مجبور ضرور ہیں جبکہ خریدنے والے کے پاس اپنی بنیادی ضروریات سے زائد ہے اور وہ اپنی حس لامسہ، حس باصرہ اور حس سامعہ کو لذت اندوزکرنے کی خواہش پوری کرنے کووسائل رکھتا ہے۔ سو تجارت جاری و ساری ہے۔ اچھا کہیں یا برا ’کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ حقیقت یہی ہے کہ حسن کے بازار انسانی معاشرت کا ناگزیرحصہ ہیں اور روئے زمین کا قدیم ترین پیشہ۔

طوائف کا شباب ڈھل جائے تو وہ بازار کی سیر دیکھنے والوں کے لئے اہمیت کھو بیٹھتی ہے، ایسے ہی ملتان کا بازار حسن بھی فقط گئے وقتوں کا ذکر ہو کر رہ گیا ہے۔

حرم دروازہ وہیں ہے، اس سے پھوٹنے والی نشاط روڈ بھی اور اس کی ذیلی سڑک گل روڈ بھی مگر روشنیاں اور رنگ روٹھ گئے ہیں۔ اب وہاں تاریک شام اترتی ہے۔ ویران ’پھیکی اور وحشت زدہ۔ گل روڈ پر بیابانی برستی ہے۔ کہیں کہیں مدقوق، بڈھے چہرے دکانوں پر بیٹھے یا اپنے ناتواں پیکر گھسیٹتے نظر آتے ہیں، جن کی آنکھوں میں اجڑے بازار کی خاک اڑتی ہے۔ گویا منیر نیازی کا مصرع ہوں ”آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول“

گل روڈ پر دکانوں کی نوعیت بدل چکی۔ عمارتوں نے بھی پیرہن بدلا۔ بیچ میں کہیں کوئی ایک آدھ عمارت رہ گئی ہے کہ جس کی پیشانی پر حسرت زدہ کھڑکیاں اور محرابی دریچے خستگی کی تصویر بنے موجود ہیں۔ وہ دریچے جہاں سے کبھی روشنیاں لپکتی تھیں اور سجے سنورے چہرے طلوع ہوتے تھے۔ طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم، سارنگی کے سر سنائی دیتے تھے۔ اب گل روڈ پرحسرت مزار کی سی پژمردگی اوڑھ کر شام اترتی ہے۔ اب کسی آٹریا (بالاخانہ، چھت پر بنا کمرہ، چوبارہ) سے بھیرویں میں ترتیب دیے داد راکی یہ صداسنائی نہیں دیتی۔

ہمری اٹریا پہ آؤ سنوریا
دیکھا دیکھی بلم ہوئی جائے

اب کوئی اختری بائی بھی تو پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال بانو، مائی دارو، بدرو ملنگ والی، نسیم اختر، مسرت بانو، بدرو ملتانی، ثریا ملتانیکر کا بدل بھی تو کوئی نہیں آیا۔

”اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے“

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6