ملتان کا بازار حسن: ایک گم شدہ منظر


ہارمونیم والا اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جو نیلے سوٹ والی نسبتاً کم رو لڑکی تھی ’وہ الاپ کرتی ہے کہ ماحول بن سکے۔ گھنگھرو والی اب کمرے کے درمیان میں یوں بیٹھی ہے کہ بایاں گھٹنا اس نے آلتی پالتی کے انداز میں موڑ رکھا ہے جبکہ دائیں ٹانگ نصف موڑ کر گھٹنا کھڑا کیا ہوا ہے۔ پشواز کا گھیر چاروں جانب پھیل کے دائرہ بنارہا ہے۔ دائیں پیر کی ایڑی پر وزن دے کر وہ پنجے کو لے میں دھیرے دھیرے فرش پر مارتی ہے۔ گھنگھرو ہلکی چھنکار سے تال دینے لگتے ہیں۔

گھنگھرو والی رقاصہ بہت اچھی ہے مگر اس کی آواز اور گائیکی اچھی نہیں جبکہ نیلے لباس والی گاتی کمال ہے۔ چنانچہ وہ گائے گی اور یہ پشواز والی رقص کرے گی۔ کئی بالاخانے ایسے بھی ہیں جہاں قدرت نے اپنی فیاضی دکھائی ہے۔ وہاں کی لڑکی نہ صرف شکل صورت میں یکتا ہے بلکہ گانے میں بے حد سریلی اور رقص میں بھی مہارت رکھتی ہے۔ سو ایسی جگہوں پر وہ گاتی بھی خود ہے اور رقص بھی کرتی ہے۔ رقص کرتے ہوئے گانابے حد مشکل ہے کہ سانس کا زیرو بم متاثر ہوتا ہے چنانچہ ہوتا یہ ہے کہ گیت کے بول یا غزل کے شعر کہتے ہوئے وہ رک جاتی ہے اور بے حد معمولی حرکت کے ساتھ سر تال کے مطابق گاتی ہے۔ انتروں (غزل کے شعر یا گیت کے بند) کے مابین جو موسیقی کے وقفے ہیں ’ان میں وہ نرت (رقص) کے بھید بھاؤ دکھاتی ہے۔

نیلے لباس والی کے الاپ کے سر ’سارنگی اور ہارمونیم کے سروں میں باہم شیرو شکر ہو گئے ہیں۔ کمرے کی فضا میں راگ داری کار چاؤ ہے۔ پشواز والی لڑکی، گیت، ٹھمری یا دادرا‘ جو بھی گایا جا رہا ہے ’اس کے بولوں پر بے آواز لب ہلاتی ہے اور اوپری دھڑ کو دھیرے دھیرے خم اور گھماؤ دیتی ہے۔ بازو اور ہاتھ سروں کے ساتھ فضا میں ڈوبتے ابھرتے ہیں۔ جب خوب رچاؤ ہوچکے گا تو طبلے والا استاد اپنے ساز کی کھال پر انگلیاں نچائے گا، اس کے ساتھ ہی پشواز والی لڑکی اٹھ کھڑی ہوگی اور اس کے پیر طبلے کی تھاپ پر فرش بجانے لگیں گے۔

لیجیے، الاپ کے بعد گیت لے پر آ گیا ہے۔ کبھی وہ پنجوں کے بل ہوجاتی ہے، کبھی ایڑی سے فرش پر دستک دینے لگتی ہے۔ مگر یہ سب ایک حسن ترتیب کے ساتھ ہے کہ گھنگھرو تال سے باہر نہیں ہوتے۔ نرتکی کے پیر سے لے کر آنکھوں کی پتلیاں تک رقص میں ہیں۔ صرف لب ہی نہیں، آنکھیں بھی گیت کی شاعری گارہی ہیں۔ وہ گھومتی ہے تو پشواز پھیل کر فضا میں ایک گنبد بناتی ہے۔ فرش پر بیٹھے شرفا کی نظریں اس گنبد کے نیچے چوڑی دار پاجامہ میں پھنسی سڈول پنڈلیوں اور رانوں پر مرکوز ہوجاتی ہیں اور ہاتھ بے اختیار جیب کی طرف چلا گیا ہے۔

جیب سے نوٹ نکلا ہے جسے ہتھیلی پر رکھ کر یوں آگے بڑھایا گیا ہے جیسے نذر پیش کی جا رہی ہو۔ پشواز والی لڑکی نرت کاری کرتی ہوئی آتی ہے اور بڑی نزاکت سے نوٹ اٹھالیتی ہے۔ نوٹ والا ہاتھ ماتھے تک لے جا کر سلام کی صورت شکریہ ادا کرتی ہے۔ جب تک گانا چلے گا، نوٹ پیش کیے جاتے رہیں گے۔ بلکہ یوں کہئے کہ جب تک نوٹ چلیں گے، گانا بھی جاری رہے گا۔ اگر کسی تماش بین نے جوش جذبات میں نوٹ یا گڈی فضا میں اچھال دی ہے اور نوٹ فرش پر بکھر گئے ہیں تو اسے نرتکی ہاتھ نہیں لگائے گی۔ گانا ختم ہونے کے بعد وہی پھول والا فرش سے نوٹ چنے گا کیونکہ فرش سے نوٹ اٹھانا طوائف کے شایان شان نہیں۔

سر ’تال اور رقص کا یہ بازار شب کے تیسرے پہر تک آباد رہتا ہے۔ نصف شب کے بعد نیچے بازار کی رونق کم ہونا شروع ہو جائے گی کہ فقط رونق بازار دیکھنے کو آئے ہوئے نظر باز تماش بین تھک کر واپس جانے لگیں گے۔ اب یوں بھی مخصوص کوٹھوں پر مخصوص مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگا۔ بالا خانوں کے دریچے چہروں سے خالی ہونے لگے ہیں۔ جن کے مہمان آیا چاہتے ہیں انہوں نے تو کھڑکیاں بھی بند کردی ہیں۔ مفت خوروں کے دیکھنے کا سامان ختم ہو رہا ہے چنانچہ وہ واپسی کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ تہی جیبوں والے یوں تو مفت خورے کہلاتے ہیں مگر سچ پوچھئے تو اس بازار کی اصل رونق یہی ہیں۔ بالاخانوں کی نہ سہی مگر بازار کے دکان داروں کے کاروبار کا بڑا حصہ انہی کے دم قدم سے چلتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شب بھر جاری رہنے والے ملتان کے اس بازار حسن کے اوقات مقرر کردیے گئے، یہ نو سے بارہ بجے تک کھلا رہتا۔ شب ساڑھے گیارہ بجے بازار میں سیٹیاں بجنی شروع ہوجاتیں۔ ایک پولیس والے کی ڈیوٹی ہوتی اور چند لوگ بازار والوں کی طرف سے رضاکار مقرر تھے۔ یہ سب بازار میں گھوم گھوم کر منہ میں دبی وسل بجاتے، یہ اس امر کا اعلان ہوتا کہ اگلے آدھے گھنٹے کے اندر اندر اپنی ”دکان“ سمیٹ لیں۔ بارہ بجے تمام کھڑکیاں، دروازے بند ہو جاتے۔ ضیاءالحق کے زمانہ میں یہ بازار بالکل ہی بند کر دیا گیا۔

یہ تو تھا ملتان کے بازار حسن کا شبینہ رنگ۔ دن کے وقت یہاں کے مکین خاصی دیر سے بیدار ہوتے ہیں۔ ظہرانے کے وقت ناشتہ ہوتا ہے۔ سہہ پہر ڈھلتی ہے تو تربیت شروع ہوتی ہے۔ لڑکیاں استادوں سے گانے کا ریاض کر رہی ہیں۔ وہ کم عمر بچیاں جو ابھی بازار کی زینت بننے کی عمر کو نہیں پہنچیں، ان کو گانے اور رقص کرنے کی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کوٹھے کا مستقبل ہیں۔ سارا دن استادوں کے ساتھ چہلیں چل رہی ہیں اور بن دھلے منہ اور الجھے بالوں والی لڑکیاں ریاض کر رہی ہیں۔

یہ استاد ایک طرح سے ان کے گھروں کے فردہیں۔ وہ کوٹھے جن کا کاروبار بہت اچھا ہے، ان کے پاس تو اپنے مستقل استاد اور سازندے ہیں۔ استادوں کے گھر آس پڑوس کے محلوں میں بھی ہیں۔ وہ بھی دوپہر کو گھروں سے نکلتے ہیں اور اپنی اپنی شاگردوں کے گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ دن ڈھلنے تک یہ تربیت و ریاض کا کام ختم ہوجاتا اور پھر رات کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جو لڑکی گانے میں سریلی نکلتی ہے تو اس کے استاد کا نام بھی بازار میں گونجنے لگتا ہے۔

ملتان ’برصغیر کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ ظاہر ہے زندگی کے باقی تمام شعبوں کی طرح یہاں بازار حسن کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ چونکہ طوائفوں نے غدر 1857 ء میں باغیوں کا ساتھ دیا تھا چنانچہ جب فرنگی برسر اقتدار آئے تو انہوں نے اس کاروبار سے وابستہ طبقے کے خلاف قوانین مرتب کیے اوراس کلچر کی حوصلہ شکنی کی۔ تاریخ پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا درست ہے مگر ہمارے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انگریز کو مشرقی موسیقی اور رقص سے کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5 6