مریم نواز، میں آپ سے مخاطب ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز، میں محمد مبشر اکرم بٹ، اک پاکستانی شہری، آپ سے مخاطب ہوں۔ اور اس لیے ہوں کہ میں اپنے وطن سے محبت اور آپ کی بطور سیاست دان قدر کرتا ہوں۔

آپ کی آج کی پریس کانفرنس اور آپ کے والد صاحب کے ویڈیو بیان نے شدید تشویش میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل دیکھ چکا ہوں اور اپنی 49 سالہ زندگی میں سے 35 سال براہ راست یا بالواسطہ مارشل لاء کے دیکھے ہیں۔ ان میں جنرل ضیا کے 11 برس، 1988 سے لے کر 1999 تک کا پتلی تماشا ، 1999 سے 2008 تک جنرل مشرف کا مارشل لاء اور پھر پچھلے تقریباً 3 برس کی موجودہ حکومت۔

مجھے آپ سے اپنے دل کا حال یہ کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں جب بھی یہ خیال کیا کہ سیاستدانوں پر وار کرنے والے، وہ جو بھی تھے، اک خاص حد سے نیچے نہیں گریں گے، انہوں نے ہر مرتبہ میرے خیال کو غلط ثابت کیا۔ وہ ہر مرتبہ، میرے اپنے لیے، خود مقرر کردہ نچلی حد سے بھی کہیں نیچے جا گرے۔

آپ کو لیکچر دینا مقصود نہیں، مگر اک پاکستانی کی حیثیت سے شدید تفکر اور پریشانی کے عالم میں چند واقعات ہیں، آپ کی نذر کرتا ہوں۔ اس لیے نہیں کہ آپ ان سے واقف نہیں ہیں، اس لیے کہ آپ کو ریفرنس رہے۔

بھٹو نے اک گرے پڑے ملک کو سہارا دیا۔ اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ معاہدے کی تفصیلات عام موجود ہیں کہ اک ہاری ہوئی جنگ والے ملک کے نمائندے ہونے کے باوجود وہ 93 ہزار فوجی جنگی قیدی چھڑا کر لائے۔ ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھی۔ انہیں قتل کر دیا گیا۔ جنرل ضیا 90 دنوں میں الیکشنز کے وعدے پر آئے۔ 11 برس بیٹھے رہے۔ ان کے بارے میں احمد بشیر لکھتے ہیں کہ ان کے پاس جو سوالی، حکومتی عتاب سے بچنے کی دہائی اور امید لے کر آتا، اس سوالی پر اتنا ہی برا وقت آتا۔

جب جنرل مشرف کا مارشل لا لگا، میں 28 برس کا تھا اور تھوڑے شعور کی عمر میں داخل ہو رہا تھا۔ مارشل لا کا کوئی چانس نہ تھا۔ لگا۔ رفیق تارڑ صاحب کو ہٹانے کی کوئی صورت سامنے نہ تھی، وہ ہٹائے گئے۔ میاں اظہر نے آپ کی جماعت توڑی۔ ان سے یہ امید نہ تھی۔ مگر کسی کے کہنے پر یہ ہوا۔ جمالی صاحب کو ہٹانے کی امید نہ تھی۔ وہ ہٹائے گئے۔ چوہدری شجاعت صاحب کے ہٹائے جانے کی امید نہ تھی۔ وہ بھی گئے۔ شوکت عزیز صاحب نے دیہاڑی لگائی اور ایسے گئے کہ پلٹ واپس نہ آئے۔

جنرل مشرف سے این آر او کی توقع نہ تھی۔ ہوا۔ ان سے نومبر 2007 کے اقدامات کی توقع بھی نہ تھی۔ ہوئے۔ چوہدری پرویز الہی آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ انہیں کہا گیا تھا کہ چوہدری افتخار کو جی ٹی روڈ سے لاہور جاتے ہوئے رستے میں قتل کروا دیں۔ اندازہ کر لیجیے۔

بی بی کے قتل کی امید نہ تھی۔ وہ قتل کی گئیں۔ گیلانی و زرداری حکومت کے مناسب چلنے کی امید تھی۔ ان پر مسلسل وار رہے۔ وہ زرداری جس نے بی بی شہید کے بہتے تازہ خون میں بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، ان کو اس حد تک تنگ کیا گیا کہ وہ اک موقع پر بیزار ہو کر دبئی ”علاج“ کی نیت سے چلے گئے تھے۔ یہ بھی سنتے تھے کہ کبھی کبھار وہ اپنے ساتھ بندوق بھی رکھ کر سویا کرتے تھے کہ ایوان صدر سے اب میری لاش ہی جائے گی۔ آپ کی جماعت کی حکومت بنی تو خیال تھا کہ سیاسی جمہور چلے گا۔ نہ چلنے دیا گیا۔ عمومی بکے ہوئے سیٹھ میڈیا کی تشہیر کے باوجود، عمرانی انقلاب کی کوئی صورت سامنے نہ تھی۔ مگر 2018 کے الیکشنز کی کہانیاں ابھی ڈسکہ میں تازہ ہوئیں۔

اب آپ کو دھمکیاں اور گالیاں۔

پاکستانی ریاست پر میری نسل کے لوگوں کا سیاسی اعتبار بہت کمزور ہو چکا ہے۔ ہاں اگر کوئی تحریک انصاف سے ہے، تو اس کو سب معاف ہے۔ میں بحیثیت اک محب الوطن پاکستانی، آپ کی تحفظ اور سلامتی کے لیے نہ صرف دعا گو ہوں، بلکہ آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اپنے تحفظ کے معاملات میں سوئی کے ناکے برابر بھی کوتاہی مت برتیے گا۔ کسی قسم کی کوئی بھی کوتاہی مت برتیے گا۔

اس بدقسمت ملک و معاشرے کے مقدروں میں کیا ہے، یہ صرف خدا ہی جانتا ہے۔ انسان مگر اسباب کرتا ہے۔ آپ ہر قسم کے اسباب کیجیے، کر کے رکھیے کہ آپ، بحیثیت اک سیاستدان مجھے بہت عزیز ہیں۔ آپ کو سیاست میں رکھنا، یا اس میں سے باہر کرنا، بحیثیت شہری میرا حق ہے۔ اور عین اسی حق کا پہرہ آپ نے، بلاول نے دینا ہے۔

اپنی تمام عمر کے تجربہ کے بعد اب تو ذہن میں کوئی نچلی حد رکھنے کی بھی گنجائش موجود نہیں رہی۔ محسوس ہوتا ہے کہ سب حدیں ختم ہو چکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *