گولڈن گرلز: ہا ہائے، کتنی بولڈ ہے


پیاری رابعہ،

آپ کا خط کئی دن پہلے پڑھ چکی تھی لیکن پڑھائی کی مصروفیات کچھ ایسی رہیں کہ جواب لکھنے کا وقت نہ مل سکا۔ اب کچھ فرصت نصیب ہوئی ہے تو جواب لکھنے بیٹھی ہوں۔ لیپ ٹاپ کی سکرین پر آپ کا خط کھلا ہوا ہے اور اسے دوبارہ پڑھتے ہوئے میں رے ذہن میں چند الفاظ میرے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ ملالہ۔ دستخط۔ شادی۔ پارٹنرشپ۔ مرد۔ عورت۔ منافقت

رابعہ، یہ سب اتنا مشکل کب اور کیوں ہوا؟

دستخط کرنے ہیں یا نہیں کرنے ہیں۔ دستخط کریں گے تو کیا ہوگا، نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا۔ اسے ہاں کہیں یا بہتر کا انتظار کریں۔ عجیب کشمکش ہے۔ ابے، جو دل کر رہا ہے کر لو۔ بس کسی کو دھوکہ نہ دو، کسی کا فائدہ نہ اٹھاؤ، کسی کو نقصان نہ پہنچاؤ، جتنا کر سکتے ہو اتنا کہو۔ بڑی بری باتیں نہ کرو۔ باتیں بڑی بڑی کرنی ہیں اور جب ان باتوں پر عمل کرنے کا وقت آئے تب بھاگ جانا ہے۔ رابعہ، جن کی اپنی حرکتیں ایسی ہوں وہ کسی کو اخلاقیات کس طرح سکھا سکتے ہیں؟

پچھلے برس ایک تحقیق کے سلسلے میں فیس بک پر موجود دو چار رشتہ گروپس جوائن کیے۔ کہنے کو تو یہ تمام گروپس روایتی رشتہ کلچر کو ختم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن وہاں وہی ہو رہا تھا جو حقیقی دنیا میں ہوتا ہے۔ جس پروفائل میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یو کے یا یورپ کے الفاظ درج ہوتے، چاہے وہ مرد کی پروفائل ہوتی یا عورت کی، اس کے نیچے کمنٹس کا ایک طوفان موجود ہوتا تھا۔ ہر مرد کو بیوی میں ”بیلنس بیٹوین دین اینڈ دنیا“ ، ”ہوم میکر“ ، ”ریسپیکٹ فار مائی پیرنٹس“ چاہیے۔ خود چاہے کبھی ماں باپ کے پاس بیٹھ کر ان کا حال چال بھی نہ پوچھا ہو۔ بیوی سے پہلی توقع ہی ماں باپ کی خدمت کی ہے۔

کچھ مردوں نے اپنی پروفائل روایت سے ہٹ کر بنائی ہوئی تھیں۔ انہوں نے صاف لکھا ہوا تھا کہ وہ سگریٹ بھی پیتے ہیں۔ شراب بھی کبھی کبھار چلا لیتے ہیں۔ مذہب کے معاملے میں بھی ذرا سے ہلکے واقع ہوئے ہیں۔ غیرت ویرت کا بھی کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ میں نے ان کی پروفائل پر بھی درجنوں کمنٹ دیکھے۔ دوسری طرف ایک خاتون تھیں جن کی کم و بیش ایسی ہی پروفائل تھی، وہاں مکمل خاموشی طاری تھی۔ حتیٰ کہ ان میں سے کسی صاحب نے بھی وہاں کمنٹ نہیں کیا ہوا تھا۔

ہمارے معاشرے کا بھی عجیب حال ہے، مرد کے لیے سب جائز اور عورت کے لیے سب ناجائز۔

لکھنے کا معاملہ ہی لے لیں۔ مرد سیکس پر لکھے تو وہ ایک موضوع ہے۔ عورت لکھے تو ”ہا ہائے، کتنی بولڈ ہے“ ۔ کچھ بڑے بڑے نام ہیں۔ ان کے سفر نامے پڑھتے ہوئے سوچتی ہوں کہ یہ سب کسی عورت نے لکھا ہوتا تو کیا ہوتا؟ عورت تو اپنے سفرنامے کا نام بھی ویسا نہیں رکھ سکتی جیسا آدمی رکھتے ہیں۔ ہمارا سفرنامہ بھی سنبھلا سنبھلا سا رہتا ہے اور وہ اپنے سفر کے دوران چلتے چلتے جہاں چاہے اپنی مرضی سے پھسل جاتے ہیں۔ لفٹ نہ بھی ملے تو زبردستی ساتھ ٹنگے رہتے ہیں، پھر اس کا بیان بھی ایسے کرتے ہیں جیسے کوئی معرکہ مار کر آئے ہوں۔ اب کوئی کہے گا کہ یہ سب تو بس مصالحے کے لیے لکھا جاتا ہے، اصل میں تھوڑی ہوتا ہے۔ جواباً عرض ہے کہ ہمارے لیے مصالحہ ڈالنے کی گنجائش صرف باورچی خانے میں رکھی گئی ہے۔ خواتین کو اپنی تحریر کو بھی پردہ کروانا پڑتا ہے ورنہ وہی ”ہا ہائے، کتنی بولڈ ہے“ ۔

رابعہ، آپ نے اپنے بلاگ میں ملالہ کے بیان کا ذکر کیا۔ میں نے اس کا بیان کئی بار پڑھا اور ہر بار یہی سوچا کہ اس نے کیا غلط کہا ہے؟ اگر دو انسان اپنی مرضی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے ایک کاغذ پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہے؟ دو لوگوں کو ایک دوسرے کا ساتھ پانے کے لیے پچاس لوگوں کی اجازت اور رنگ برنگے کپڑے پہنے چھ سو لوگوں کی موجودگی کیوں ضروری ہے؟ ہاں، حکومت کو اس بارے بتانا ضروری ہے۔ اس سے جوڑے کے حقوق محفوظ رہتے ہیں۔ وہ ایک الگ معاملہ ہے۔

رابعہ، ہمارے اردگرد کتنے ایسے جوڑے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ایک دوسرے کے لیے رہتے ہیں؟ وہی آدمی جو دس لڑکیوں کو محبت میں دھوکہ دیتا ہے، اس عورت سے کیسے مخلص ہو جاتا ہے جسے اس کے والدین اس کے لیے پسند کرتے ہیں؟ شاید، انہی چھ سو لوگوں کا ڈر انہیں اس رشتے میں باندھے رکھتا ہے۔ جسے چھوڑتے ہیں، اسے ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ جسے چھ سو بندے کے سامنے اپناتے ہیں، اسے چھوڑنے کی انہیں اجازت ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتی۔

رابعہ، ایسے لگتا ہے جیسے ہم اپنی زندگی کی ذمہ داری خود اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ یہاں مجھے وزیر اعظم کی یاد آ گئی۔ حال ہی میں انہوں نے بھی ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کم کپڑے پہنیں گی تو اس کا مردوں پر اثر ہوگا، اگر وہ روبوٹ نہ ہوں۔ وزیراعظم ایسے بیان پہلے بھی دے چکے ہیں۔ وزیراعظم نے ایسا بیان دے کر اپنے کردار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ خیر وہ مرد ہیں۔ داڑھی کا آپشن انہوں نے ریجیکٹ کر دیا۔ تسبیح ہاتھ میں پکڑ لی۔ ایک باپردہ خاتون گھر بٹھا لیں۔ بس امیج کلین ہو گیا۔ ساتھ میں ایک لشکر بھی مل گیا جو انٹرنیٹ پر انہیں اس صدی کا مرد حق مرد مجاہد بنانے کے لیے صبح سے رات تک اور رات سے صبح تک لگا رہتا ہے۔ ہماری بھی ایسی پی آر ٹیم ہوتی تو آج ہم بھی کچھ نیک مشہور ہوتے۔

رابعہ، وزیراعظم صاحب نے جو کہا وہ پاکستان کی اکثریت کہتی اور سمجھتی ہے۔ میں اس حوالے سے ایک امریکی ماہر عمرانیات کا تحقیقی پرچہ پڑھ رہی تھی۔ اس میں وہ امریکی ریاست ورجینیا کی جیل میں موجود 114 ریپسٹس کے انٹرویوز کی بنیاد پر بتاتی ہیں کہ ریپسٹ ریپ کسی کے لباس، چال چلن یا ان کے کسی جگہ ہونے کی وجہ سے ان کا ریپ نہیں کرتے بلکہ وہ ریپ کسی سے بدلہ لینے، کسی کو سزا دینے یا سدھارنے، یا ایک نئے ایڈونچر کی خاطر کرتے ہیں۔

ان میں سے کسی نے بھی ریپ اپنے بعض مجرمان کے لیے ریپ کسی اور مجرمانہ سرگرمی کے بعد ایک اضافی بونس تھا، یعنی وہ کوئی اور جرم جیسے کہ چوری یا ڈکیتی کرنے گئے تھے اور اس دوران انہوں نے کسی کا ریپ بھی کر دیا۔ مجھے وہ پیپر پڑھتے ہوئے اندازہ ہوا کہ مردوں کی نظروں میں عورت کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ وہ اسے کوئی شے سمجھتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے تو قوانین بنا لیے۔ مردوں کو ان قوانین کے احترام میں عورت کو اپنے جیسا انسان سمجھنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ابھی منزل کچھ دور ہے۔ تب تک یا تو لڑیں یا سہیں، تیسرا کوئی راستہ نہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےعورت کے لئے مرد ناکافی کیوں ہو گیا ہے؟گولڈن گرلز: اے پردہ دارو، خود کو یوں بے پردہ تو نہ کرو۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments