سرزمین سندھ: دختر مشرق سے عینی بلیدی تک

سندھ کی سرزمین کو جہاں یہ افتخار حاصل ہے کہ یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب Indus valley civilization کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے یہ تہذیب اپنی ہم عصر تہذیبوں سے چار گنا بڑی اور پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ یہ شاہ عبدالطیف بھٹائی اور شیخ ایاز کی سرزمین ہے جن کی شاعری محبت اور مرد و عورت کی برابری اور انسانوں کی باہمی محبت عزت اور، تہذیب کا پیغام دیتی ہے۔ بے نظیر بھٹو جیسی بے نظیر خاتون کا تعلق اس سرزمین سے ہے جنہوں نے نہ صرف آمریت کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کیے رکھا بلکہ ان کی ذہانت، ہمت اور استقامت جرات کی نئی مثال بنی اور اپنی مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے جاگیردار سرمایہ دار ان کی موجودگی میں خاموش اور وردی میں ملبوس ان سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔

ان کی کتابیں، ان کی تقاریر اور وہ لیکچرر جو انہوں نے مختلف یونیورسٹیوں میں دیے وہ اس بات کا اظہار ہیں کہ ان کی ذہانت بے مثال تھی اور ان کی نظر نہ صرف پاکستان کے مسائل پر تھی بلکہ وہ بین الاقوامی مسائل پر گہری نظر رکھتی تھیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ اتنی عظیم خاتون بھی اسی پرتشدد موت کا شکار ہوئی جو ہمارے خطے کی خواتین کا مقدر بنا دی گئی ہے چاہے وہ طالبان کے ہاتھوں ہو، اپنے باپ بھائی کے ہاتھوں کاری ہوتے ہوئے یا ان کی جرم کے بدلے گینگ ریپ کا شکار ہوتے ہوئے، رشتے سے انکار پر تیزاب کا نشانہ بنتے ہوئے، خاوند کے ہاتھوں گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہوئے یا بازاروں، کام کی جگہوں، اسکولوں، کالجوں، مدرسوں میں جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہوئے، مقدر وہی اذیت اور پرتشدد موت ہے۔

سندھ کی اسمبلی نے سب سے پہلے پاکستان میں Domestic violence protection and prevention bill پاس کیا تھا سن 2013 میں یہ ایک انتہائی جامع بل ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ قرۃ العین (عینی) بلیدی کے خاندان کو ان کی اپنے خاوند کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد بھی ان کے لیے انصاف حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلانی پڑی تب جا کر سوئے ہوئے قانون کو ہوش آیا، شہلا رضا کی ان کے گھر میں آمد ہوئی تو اذیت کا شکار عینی کی ماں کو اس کے قاتل کی گرفتاری کی خبر ملی اور پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے اس تشدد کو جس سے قرۃ العین ان دس برسوں میں نہ جانے کتنی دفعہ گزری ہوں گی ثابت کیا تو ہمیں یقین آیا ورنہ ہمارا قانون تو اس کو با آسانی سیڑھیوں سے گر کر حادثاتی موت ثابت کرنے پر تلا تھا اور یہ کوئی اچنبھا نہیں جہاں عورت کی تکلیف اس کی عادت، اس کے آنسو اس کا ڈرامہ، اس کا درد اس کی قسمت سمجھا جاتا ہو وہاں یہ سب عام بات ہے۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے domestic violence prevention and protection bill پاکستان میں سب سے پہلے پاس کیا اس کے علاوہ Sindh child marriage restrain act 2013، Sindh commission on the status of women act 2015، harassment of women at workplace act 2010، criminal law third amendment act 2011 موجود ہیں لیکن پھر بھی ہم عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھ رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ ان قوانین کا آئین کی کتابوں تک محدود ہونا ہے اور عملاً ایسے infrastructures کی عدم موجودگی ہے جو عورت کو تحفظ فراہم کر سکیں۔

سال 2020 میں Sindh women development department کی مطابق عورتوں پر تشدد کے 1500 کیس رپورٹ ہوئے۔ جبکہ سندھ پولیس کے مطابق سال 2020 میں کاروکاری کے 126 جبکہ 2029 میں 113 کیس رپورٹ ہوئے تھے اسی طرح سال 2019 میں ریپ کے 295 کیس رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2020 میں 334 کیس رپوٹ ہوئے ابھی یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں ان مظالم کے جو رپورٹ ہوئے جو تاریک راہوں میں مارے گئے ان کا کوئی شمار نہیں۔ جبری مذہب تبدیلی کے بعد معصوم اور کمسن غیر مسلم بچیوں کے اپنی باپ دادا کی عمر کے مسلمان مردوں سے شادی کے کیس اس سے الگ ایک المیہ ہیں۔

عورت فاونڈیشن اور Movement for Peace and Solidary کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک ہزار اس طرح کے کیس رپورٹ ہوتے ہیں اور United nation high commissioner for human rights کے مطابق ہر ماہ بیس ہندو کمسن لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کر کے ان کی شادی کر دی جاتی ہے اور ان میں سے بیشتر بارہ سے چودہ سال کے درمیان ہوتی ہیں اور اکثر سندھ سے تعلق رکھتی ہیں یہاں بیک وقت دو جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے زبردستی مذہب کی تبدیلی اور کم سنی کی شادی لیکن مظلوم کی سنوائی صرف اس وقت ہے جب سوشل میڈیا تک خبر پہنچے اور ہیش ٹیگ اس وقت تک اس خاندان پر کیا قیامت گزرتی ہے وہ ہمارے وہم و گمان میں نہیں اور ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ، وکلا کو ہر بار کیس ٹو کیس بھاگنا پڑتا ہے کیونکہ کوئی بھی قانونی دائرہ کار کے بار میں نہیں واضح اور جن کو پتہ ہے وہ اچھے سے آگاہ ہیں کہ کسی بھی خاتون یا لڑکی کو اس طرح کے ظلم سے بچانے کے لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

اس کی وجہ ان اہم قوانین کا اطلاق نہ ہونا ہے وہ وومن پروٹیکشن سینٹر جو ہر ضلع میں ہونے چاہیے صرف کراچی میں موجود ہے، اگر یہ سینٹر ہر ضلع میں ہوں اور ان کے اندر وومن پروٹیکشن پولیس افسر ، ڈاکٹر، وکیل اور رہائش کی سہولت موجود ہو اور اس کے ساتھ ایسی ہیلپ لائن کی موجودگی جس پہ شکایت کی صورت پہ پولیس فوراً مدد کو پہنچے اور تشدد کرنے والے شخص کو گرفتار کرے تو خواتین میں یہ حوصلہ پیدا ہوگا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے تشدد کو برداشت کرنے کی بجائے وہ اس کو رپورٹ کریں گی، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ خواتین میں بھی اپنے حقوق سے متعلق آگاہی اجاگر کرے اور ان کو ان قوانین کے متعلق آگاہی کمیونٹی کی سطح پر فراہم کرے تاکہ وہ اس ڈر سے کہ ان کے ساتھ قانون نہیں مار کھاتے رہنے کی بجائے قانون کا سہارا لیں ریاست کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنے کمزور طبقات کو حفاظت فراہم کرے۔

ماں باپ کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ طلاق یافتہ بیٹی مردہ بیٹی سے بہتر ہے بجائے کہ آپ اس کے جنازے کا بوجھ اٹھائیں۔ ہر اسکول کالج یونیورسٹی میں ان قوانین کی تعلیم عام کی جائے اور میڈیا خدارا بیوٹی اور بیسٹ کی کہانی کے رومانس سے باہر آئے اور اس بات کو اپنے صارفین تک پہنچائیں کہ لڑکیاں ان دماغی بیمار مردوں کے لیے rehabilitation centre نہیں۔ جب تک ہم ان قوانین کا عملی اطلاق نہیں کریں گے اسی طرح ہم ایک ہیش ٹیگ سے دوسرا ہیش ٹیگ چلاتے رہیں گے لاشوں کو نہیں زندہ عورتوں کو قانون سے تحفظ اور ریاست سے مدد کی ضرورت ہے ہم صرف کیس یا فائل نمبر یا ہیش ٹیگ نہیں ہم جیتے جاگتے انسان ہیں جن کو مصیبت میں مدد کی ضرورت ہے۔ میں امید رکھتی ہوں کہ سندھ حکومت اپنے قوانین کو عملی جامع پہنا کر بنت حوا کی زندگی آسان کرے گی اور دختر مشرق کا روشن پرامن اور انصاف پر مبنی پاکستان کا خواب پورا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words