ازل اک تیرگی ہے


اب جینا نے پھر سے کچھ شاعری سنانے کے لئے ہاتھ میں ایک عجیب و غریب ساز تھام لیا، جس میں سے کچھ مدھم سریوں نکلتے تھے جیسے کسی مظلوم کی چیخیں ہوں۔

 ”تم یہ گاتے تھے

تم بدشکل جنگلی عورتیں ہی تو ہو۔

ہم تمہیں استعمال کر لینے کے بعد تمہارے جسم کے نازک حصوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چیل کوؤں کو کھلائیں گے ”۔

ایسی ہی چند اور حساس نظمیں سنانے کے بعد سیشن اختتام کو پہنچا اور ہم سب بوجھل دل سے وہاں سے اٹھ آئے۔ دل پر کافی اثر ہوا تھا۔

 ”ارے ہمارا مکئی کا سوپ اور مکئی کی روٹی تو کھاتے جاؤ۔ آیانہ بھاگتی بھاگتی آئی اور ہم دونوں کے ہاتھ پکڑ کر ہمیں کھانوں کے سٹال کی طرف لے چلی۔ ہم اس کا کہا کب ٹال سکتے تھے، سو اس کے پیچھے چل دیے۔

آنے والے ویک اینڈ پہ ہماری پوری کلاس نے اردگرد کے علاقے گھومنے پھرنے کا پروگرام بنایا۔ ہمارا چائنیز دوست لی چنگ اس مہم میں پیش پیش تھا۔ اس نے انٹرنیٹ پر سرچ کر کے ایک خاص جگہ ڈھونڈ لی اور ہم سب کو ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ میں گیتا، لی، آیانہ، میگی تو تھے ہی جیکسن اور ژاں پال نے بھی چلنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ سبھی تو وہاں کے رہنے والے نہیں تھے نہ ہی انہیں پینسیلوینیا سٹیٹ کے بارے میں کوئی خاص آگاہی تھی۔ البتہ سائٹ سی انگ کا شوق ضرور تھا۔ سو پلان بن ہی گیا۔ ہفتہ کے دن صبح تقریباً نو بجے سب نے ایک جگہ پر اکٹھا ہو کر چلنے کا عندیہ دے دیا۔ لی چنگ نے کہا :

 ”بھئی پینسلوینیا سٹیٹ کا مشہور شہر فلاڈلفیا تو ہم سب نے دیکھ ہی رکھا ہے مگر ہم انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کو تو جو بھی موقع میسر آ جائے۔ ویسے بھی قدرتی مناظر، پہاڑیوں اور وادیوں کے حسن میں دلکشی تو بہت ہوتی ہے امید ہے ہم سب بہت انجوائے کریں گے۔ ژاں پال نے ہاں میں ہاں ملائی۔ پروگرام کے مطابق سارا گروپ ایک پرانی مشہور غار لانگ کیو کی سیاحت کو چل دیا۔ لی چنگ نے بتایا تھا کہ یہ امریکہ کی واحد ایسی غار ہے جس میں صدیوں سے تاریکی اور پانی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ نہ پانی وہاں سے نکل کر کہیں باہر جا سکتا ہے اور نہ روشنی اندر آنے کی جرات کرتی ہے۔ یہ غار سرسبز وادی کے بہت بڑے پہاڑ کے اندر واقع تھی۔

ہم وہاں پہنچے تو وادی کے جگمگاتے حسن اور ماحول کی تازگی سے روح سرشار ہو گئی۔ کیسی شفاف ہوا تھی وہاں کی، اور جنگل میں گھومتے پھرتے ہرن، اڑتی ہوئی رنگ برنگی چڑیاں، تتلیاں، بھاگتے ہوئے خرگوش سب کچھ اتنا خوبصورت تھا کہ سبھی نے کھٹاکھٹ تصویریں کھینچنا شروع کر دیں، طبعیت شاد ہو گئی۔

دل نے شدت سے چاہا وہ جان لے کہ ان خوبصورت خواب نگر جنگلوں میں آخر ہے کیا؟ پہاڑیاں ٹیلے کون کون سے سربستہ راز اپنی گود میں چھپائے سرنگوں بیٹھے ہیں۔ ندی نالوں کے اونچائی سے گرنے اور بہتے چلے جانے سے کیسا شور اور حشر برپا ہوتا ہے۔ نیلے آسمان میں آوارہ بدلیاں کیوں اور کب کب تیرتی دکھائی دیتی ہیں؟ وہاں کی ہوا کون سے مدھر نغمے الاپتی پھرتی ہے۔ زمرد سبز نگینے جیسی چمکتی خود رو گھاس کو سرما کی ظالم سفید رو برف رت سے کس ماہ آزادی نصیب ہوتی ہے۔ اونچے اونچے پیپل اوک کے مہکتے درخت، چرند پرند کی خوش گلوٹیاں سن کر مجھے مغل بادشاہ جہانگیر کا کشمیر کے بارے میں کہا گیا شعر یاد آ گیا :

اگر فردوس بروئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں است ہمیں است

سوچا، گیتا کو بادشاہ جہانگیر کے بارے میں بتاؤں۔ پھر خیال آیا اس امریکن بورن انڈین لڑکی کو نا جانے جہانگیر بادشاہ کے بارے کچھ پتا بھی ہے یا نہیں، بہتر ہے خاموش ہی رہا جائے اور بے چارہ جہانگیر بادشاہ تو کشمیر سے آگے کہیں گیا بھی نہیں ہو گا۔ اسے کب خبر رہی ہوگی کہ دنیا میں اور بھی ایسے بہت سے خطے ہیں جو جنت نظیر ہیں۔ اگر وہ یہ جگہ دیکھ لیتا تو اس کے تو چودہ طبق ہی روشن ہو جاتے۔

ہم سب خوش گپیاں کرتے ہوئے غار میں اترنے کے لئے اپنی باری کا انتظار کرنے لگے۔ کشتی سواری کے لئے ٹکٹ پہلے سے ہی سے خرید لئے گئے تھے۔ کشتی نے پچھلے گروپ کو واپس لانا اور ہم کو لے کر جانا تھا اور ابھی اس میں کچھ سمے باقی تھا سو ہم نے وقت گزاری کے لئے گھاس پر ایک طرف لگے ہوئے کچھ معلوماتی بورڈ پڑھنے شروع کر دیے۔ ایک بڑے سے بورڈ پر غار کے بارے میں اہم معلومات درج تھیں۔ لکھا تھا کہ یہ غار اور اس میں پوشیدہ چٹانیں پانچ سو ملین سال پہلے وجود میں آئیں۔ ایسا کسی ارضیاتی عمل، ردو بدل، تغیر کی وجہ سے ہوا ہو۔ اور پھر Dripstone limeچونے کے ذرات اس میں جمع ہو گئے۔ کچھ اطراف میں گرے اور کچھ چھت پر اسی طرح جم کر رہ گئے۔

آج وہ صدیوں سے وہیں اسی پوزیشن میں ساکت و جامد بے جان کھڑے ہیں۔ اندر ایک خاموش اور پراسرار تاریکی کا ساکن نگر سانس روکے ہوئے ہے۔ بس آنے جانے والے ہی اس کی تنہائی میں مخل ہوتے رہتے ہیں۔

 ”واؤ۔ اتنی پرانی غار ہے یہ۔ ہمارے کلاس فیلو ژاں پال نے جو اپنے لمبے سنہری بالوں کو ایک پونی ٹیل میں باندھ کے رکھتا تھا۔ دوبارہ سے کس کے باندھتے ہوئے کہا ساتھ ہی اپنے کوک کا کین کھول کر اسے غٹاغٹ پینے لگا۔

نہ جانے کیوں مجھے تو یہ جگہ بہت دیکھی دیکھی، اپنی اپنی سی لگ رہی ہے۔ آیانہ نے اپنے کیمرے سے دور کھڑے ہرنوں کی جوڑی کی تصویر بناتے ہوئے کہا۔

 ”حالانکہ میں پہلی بار یہاں آئی ہوں، شاید کسی مووی میں دیکھا ہو“ ۔ وہ اپنا قیاس دوڑانے لگی۔

 ”تمہیں پتہ ہے میرے پاکستان میں بھی بہت قدیم غاریں ہیں۔ اور خاص طور پر نمک کی کانیں تو اتنی بڑی اور پرانی ہیں کہ بس۔ ہم سے بڑا نمک کا ذخیرہ پوری دنیا میں کسی کے پاس نہیں ہے۔ میں نے لی چنگ اور ایک اور کلاس فیلو میگی کے سامنے فخریہ انداز میں بتایا تو گیتا نے کچھ اس انداز سے میری طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہو“ چھوڑو بس رہنے دو ”یہ ان لوگوں کو بتانے والی باتیں نہیں ہیں۔“

مزے کی بات یہ ہے کہ الیگزینڈر دا گریٹ جب ہمارے علاقے جہلم تک آیا تو اس کے گھوڑوں نے نمک کے پہاڑ چاٹ چاٹ کر اسے احساس دلایا کہ یہ کوئی عام پہاڑیاں نہیں، ان میں نمک ہے ”۔

میری بات سن کر سب نے یوں تائید میں سر ہلا دیا جیسے کہہ رہے ہوں بڑی کمال کی معلومات ہیں یہ تو۔

میرا دل کچھ کھل سا اٹھا۔ آخر اس میں میرے وطن کی شان تھی۔ کشتی کی آمد کا اعلان ہوا اور ہم سب غار کی اترائی میں بنی ہوئی سیڑھیوں پر ہولے ہولے قدم جماتے نیچے کو اترنے لگے۔ اب ہماری نظر ایک بڑے سے بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا ”Legend of penn cave“ یعنی پین غار کی داستان۔ بورڈ پر لکھی عبارت کے ساتھ ہی ایک جوان انڈین دوشیزہ کی تصویر بنی ہوئی تھی جسے دیکھ کر اس کے بارے میں جاننے کی دلچسپی پیدا ہوئی۔ عبارت دیکھتے ہی میں نے جلدی جلدی اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ لکھا تھا ”اس غار سے ایک داستان منسوب ہے جو سب سے پہلے ایک سینیکاSenecaانڈین شخص نے 1892 ءمیں سنائی تھی۔ میں نے کہانی پوری پڑھی بھی نہیں تھی کہ کشتی سے ہارن بجنا شروع ہو گیا۔ جس کا مطلب تھا وقت روانگی آن پہنچا ہے۔ کشتی چلنے کو تیار ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4 5 6 7

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments