صحافت کا پیشہ: خدمت، قومی ذمہ داری یا وسیلہ روزگار!
برطانوی ناول نگار چارلس ڈکنز، بطور رپورٹر کا قصہ:
ماضی میں صحافیوں کے لئے نقل و حمل کی سہولیات کے فقدان اور محدود وسائل کے باعث اخباری رپورٹروں کو رپورٹنگ اور اپنے اخبار کو تازہ ترین خبروں کی بروقت ترسیل کے لئے کس قدر پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ اس کا اندازہ درج ذیل واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
انگریزی کے معروف ناول نگار چارلس ڈکنز ( 1812۔ 1870 ) ایک دور میں برطانوی پارلیمنٹ کے رپورٹر ہو گئے تھے۔ انہوں نے 1830 ء میں اپنی ایک تحریر میں خبریں جمع کرنے اور ان کی اخبار کے دفتر میں بروقت ترسیل کے مصائب کو بیان کیا ہے۔ جس سے ان کی اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے لگن اور فرض شناسی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
” کتنی ہی بار میں نے ایسی تقریروں کو جن میں بے حد احتیاط اور بالکل ٹھیک ٹھاک بیان کرنے کی ضرورت تھی۔ صرف یادداشت کی بنیاد پر بول بول کر لکھوایا ہے۔ ایسی تقریریں جن میں ذرا سی غلطی مجھ جیسے نوجوان رپورٹر کو نقصان پہنچا سکتی تھی، اندھی سی لالٹین کی روشنی میں اپنی ہتھیلی پر نوٹس لیتا رہتا تھا۔ چار گھوڑوں کی ڈاک گاڑی رات کے سناٹے میں جنگل کے راستوں پر حیرت ناک 15 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی رہتی۔
پارلیمنٹ میں دھواں دار اور جوشیلی تقریریں سننے کے بعد میں سیدھا پریس کو واپس لوٹتا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ملک میں چلنے والی شاید ہر قسم کی گاڑی میں بیٹھنے کی تکلیف برداشت کی ہے صرف اس لئے کہ اخبار کی اشاعت کے لئے ٹھیک وقت پر پہنچ سکوں۔ میں نے لندن سے چالیس میل کے فاصلہ پر بغیر پہیوں والی گاڑی میں دلدل میں اٹی سڑکوں پر رات کے اندھیرے میں بھی سفر کیا ہے۔ جن کے گھوڑے تھکن اور گاڑی بان نشے سے چور ہوتا ”
برصغیر کے چند نامور اور بیباک صحافی:
برصغیر میں آسمان صحافت کے اولین ستاروں مولانا محمد علی جوہر، ایڈیٹر کامریڈ اور ہمدرد، مولانا ابوالکلام آزاد، ایڈیٹر الہلال اور البلاغ، مولانا حسرت موہانی، ایڈیٹر رسالہ اردوئے معلی اور مولانا ظفر علی خان، ایڈیٹر زمیندار کے مقبول عام اخبارات اپنی بیباکی اور بے خوفی کے ساتھ اظہار خیال کا بھی بہترین نمونہ تھے۔ ان نامور صحافیوں کی جانب سے حکومت پر کڑی تنقید اور باغیانہ پالیسیوں کے باعث انگریز حکومت اکثر ان اخبارات سے خائف رہا کرتی تھی اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اکثر ان کے اخبارات کی اشاعت پر کئی کئی ماہ تک پابندی عائد کر دیا کرتی تھی۔
مالکان اور ایڈیٹروں سے سزاؤں کے طور پر جرمانوں کی مد میں بھاری زر ضمانت طلب کی جاتی تھیں۔ لیکن ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ان عظیم شخصیات نے پابند سلاسل ہونا تو قبول کیا لیکن نہ کبھی اپنے موقف سے ذرہ برابر پیچھے ہٹے اور نہ ہی کبھی ان باطل قوتوں کے آگے جھکے اور نہ ہی کبھی حکومت سے اصولوں پر سمجھوتہ قبول نہیں کیا
صحافت ایک خطرناک پیشہ:
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرح اب ملک میں صحافت کا پیشہ بھی ایک انتہائی جان لیوا اور خطرناک پیشہ بن گیا ہے۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں کو فرض کی ادائیگی کے دوران مادر وطن کے لئے اپنی قیمتی جان نچھاور کرنے کے صلہ میں نا صرف مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ ان کی تجہیز اور تکفین عمل میں آتی ہے۔ بلکہ شجاعت کا مظاہرہ کرنے اور مادر وطن کے دفاع کے لئے گرانقدر خدمات کے اعتراف میں ان شہداء افسران اور جوانوں کو یوم آزادی اور یوم پاکستان کے مواقعوں پر بہادری اور شجاعت کے ایوارڈز سے بھی نوازا جاتا ہے اور ان کے پسماندگان کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے بجائے ان کی ہر طرح سے بھرپور کفالت بھی کی جاتی ہے۔
لیکن دوسری جانب ریاست کے چوتھے ستون سے تعلق رکھنے والے اور اس کی وطن کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ دینے والے مجاہد صحافیوں کی شہادت کے بعد محض ان کی غیر معمولی خدمات کا زبانی کلامی اظہار کر کے نا صرف ان کی گرانقدر خدمات کو فراموش کر دیا جاتا ہے بلکہ ان کے پسماندگان کو بھی بالکل بے یار و مددگار اور تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا رتبہ پانے والے صحافیوں کے ساتھ سراسر انصافی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ سنگین حق تلفی کے مترادف ہے۔
باضمیر اور فرض شناس صحافیوں کی جانب سے ملک کی انتہائی با اثر اور بدعنوان شخصیات، بدعنوان سیاستدانوں، طاقت ور گروہوں، غیر قانونی دھندوں میں ملوث نامی گرامی کاروباری سیٹھوں، بدعنوان سرکاری حکام، منتخب نمائندوں کی جانب قانون کی خلاف ورزیوں، سنگین مالی بدعنوانیوں، بڑے پیمانے پر کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی خزانہ کو کروڑوں اور اربوں روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے میگا اسکینڈلز کو عوام الناس کے سامنے بے نقاب کرنے کی پاداش میں صحافیوں پر دباؤ ڈالنے، راہ میں رکاوٹیں ڈالنے، اغواء اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیوں کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تشویش ناک صورت حال کے باعث صحافیوں کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
نیو یارک میں قائم صحافیوں کے تحفظ کی عالمی انجمن، کمیٹی برائے حفاظت صحافی (Committee to Protect Journalists) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوان قوتوں اور طاقتور گروہوں کے غیر قانونی احکامات نہ ماننے کی پاداش میں 1992 ء سے 2022 ء تک 96 صحافی اپنی قیمتی زندگیوں سے محروم ہوچکے ہیں۔ ملک میں ہر سطح پر انتہائی طاقتور گروہوں، مفادات پرست عناصر، جرائم پیشہ گروہوں اور با اثر مسلح افراد کا غلبہ اور اجارہ داری قائم ہے۔
جس کے باعث ان انتہائی طاقت ور عناصر کی جانب سے آئے دن فرض شناس صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض سے روکنے اور انہیں اپنے راستے ہٹانے اور قتل کیے جانے کی سنگین دھمکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اخباری اداروں اور نیوز ٹی وی چینلز کی جانب سے اپنے صحافیوں اور رپورٹروں کی جان و مال کی حفاظت کی ضمانت اور ان کی زندگی کے تحفظ کے لئے بیمہ (Life Insurace) کی سہولت فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
شعبہ صحافت کی موجودہ حالت زار :
اگرچہ ایک زمانہ تک صحافت طباعت اور براڈکاسٹنگ تک محدود تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رواں صدی میں برق رفتار رابطوں کی سہولیات میسر آنے کے بعد شعبہ صحافت میں کئی نئی جہتیں سامنے آئی ہیں۔ جن میں پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا قابل ذکر ہیں۔ رابطہ کے جدید اور برق رفتار ذرائع مہیا ہونے کے باعث موجودہ دور میں صحافت کے پیشہ کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران اور امن و امان کی ابتر صورت حال کے باعث پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے اداروں کے مابین سبقت حاصل کرنے کے لئے انتہائی جلد بازی اور عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بریکنگ نیوز (Breaking News) کے نام پر سب سے پہلے خبر جاری کرنے اور نشر کرنے کی ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے۔
پاکستان جیسے ناخواندہ، غیر ترقی یافتہ اور سخت معاشی بحران کے شکار ملک میں درجنوں نجی ٹی وی چینلز اپنی 24 گھنٹے نشریات کے ذریعہ صحافت کے مقدس نام پر محض اپنے ذاتی اور کاروباری مفادات کے حصول کیے بیشتر ناخواندہ اور معصوم عوام الناس پر ہر گھنٹہ بعد سچی، جھوٹی اور من گھڑت اور سنسنی خیز خبروں کی مسلسل بوچھاڑ کیے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث قوم میں ملک کی درست صورت حال اور اصل حقائق سے واقفیت اور آگہی کے بجائے ان میں سخت اضطراب، ذہنی مسائل، خلفشار اور زبردست انتشار جنم لے رہا ہے۔
حتیٰ کہ اب پاکستانی میڈیا اپنے اصل فرائض اور ذمہ داریاں فراموش کر کے ملک کی دیگر آئینی اور قانونی قوتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھاری معاوضوں اور ترغیبات کے لالچ اپنی من پسند سیاسی شخصیات کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے اور منتخب حکومتوں کو اقتدار سے محروم کرنے کے ناپاک کھیل میں کنگ میکر کا روپ دھار گیا ہے۔
صحافیوں کا بدترین استحصال:
برصغیر میں دو صدیوں کے دوران صحافت لیتھو گرافی، برقی پرنٹنگ، آفسٹ پرنٹنگ سے گزرتی ہوئی الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا تک کا سفر طے کرچکی ہے۔ دنیا میں ٹیکنالوجی کے تیز تر انقلاب کے باعث موجودہ دور میں معاشرہ کے ہر خواندہ اور ناخواندہ فرد کی دسترس میں کثیرالمقاصد اسمارٹ فون آ گیا ہے۔ جس میں فوری رابطہ، صدا بندی، تصویر کشی اور عکس بندی کی سہولیات کی بدولت اب ہر ایرا غیرا (Unedited) صحافی بن گیا ہے۔ جو صحافت کے مقدس اور ذمہ دار پیشہ کے لئے ایک نہایت ہی خطرناک رجحان ہے۔
ملک میں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے دن بدن عروج کے باعث اب روایتی اخباری صنعت تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں اشاعت والے روزنامے اب سینکڑوں پر آ گئے ہیں یا سرے سے بند ہوچکے ہیں۔ اخباری مالکان نے اپنے اخبارات کی کمائی کے بل پر اب سیٹیلائٹ نیوز ٹی وی چینلز اور دیگر منافع بخش کاروبار قائم کر لئے ہیں اور اس موقع پر اپنے برسہا برس سے خدمات انجام دینے والے پرانے عامل صحافی ملازمین اور کارکنوں کی گرانقدر خدمات اور قربانیوں کو یکسر فراموش کر دیا ہے۔ جنہوں نے اپنا خون پسینہ ایک کر کے ان کے موقر اخبارات کو بام عروج تک پہنچایا تھا۔
اخباری مالکان کے ان غیر انسانی سخت ظالمانہ اقدامات، بدترین استحصال اور صحافیوں کی سنگین حق تلفی کے باعث ان اخباری اداروں کے صحافی اور کارکنان انتہائی نامساعد حالات میں اپنے فرائض انجام دینے کے باوجود نہ صرف اپنی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں سے محروم ہیں بلکہ 30 اور 40 برسوں سے ان اخباری اداروں میں شاندار خدمات انجام دینے کے بعد ملازمت سے ریٹائر ہو جانے والے بیشتر صحافیوں کو ان کے لاکھوں روپے کے جائز واجبات پروویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ، علاج و معالجہ اور EOBIپنشن کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ جبکہ متعدد صحافی اپنے جائز واجبات اور پنشن کی حسرت لئے اس دنیا ہی سے خالی ہاتھ رخصت ہو گئے ہیں۔ ان مظلوم اور ستم رسیدہ بزرگ صحافیوں اور ان کے لاوارث پسماندگان کا وفاقی و صوبائی حکومت، اخباری اداروں کے مالکان اور صحافیوں کی تنظیموں سمیت بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
ملک میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، صنعت صحافت کے متعلقہ سرکاری اداروں، وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات، صوبائی انفارمیشن ڈپارٹمنٹ، صحافیوں کی اجرتوں میں اضافہ کے محکمہ ویج بورڈ ایوارڈ ملک کے اخبارات کے ملازمین کو درپیش مسائل کے حل کے لئے 1973 ء سے قائم شدہ عملدرآمد ٹریبونل (Implemetation Tribunal for Newspaper Employees) ، صوبائی لیبر عدالتوں، صنعتی تعلقات کے قومی کمیشن (NIRC) ، اعلیٰ عدلیہ اور وفاقی محتسب کی ”غریبوں کی عدالت“ کی موجودگی کے باوجود اکثر اخبارات اور نیوز ٹی وی چینلز میں ملازم صحافیوں اور کارکنوں کے ساتھ سخت نا انصافی، زبردست ذہنی، جسمانی اور مالی استحصال کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
صحافت زوال پذیر ہے! :
نجی سیٹیلائٹس ٹی وی چینلز نے تو سبقت بازی اور منافع کمانے کی صحافت کے رجحان کے ذریعہ صحافت جیسے عظیم اور مقدس پیشہ کے نام پر بٹہ لگادیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں نیوز چینلز محض اپنے کاروباری مفادات کے تحفظ اور منافع خوری کے لالچ میں صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین اور قانون، نظام حکومت اور جمہوریت کی اقدار کی پیچیدگیوں سے ناواقف بھولے بھالے عوام الناس کو 24 گھنٹے تازہ ترین خبروں کے نام پر ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا نشر کر کے ان کے ذہن کو منتشر اور ماؤف کر نے میں جتے ہوئے ہیں۔ لیکن وزارت اطلاعات و نشریات، صوبائی محکمہ اطلاعات سمیت اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) اپنے فرائض سے مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے خاموش ہیں۔
برصغیر میں صحافت نے تقریباً دو سو برسوں کے دوران قاصدوں، ڈاک گھوڑا گاڑیوں، تار برقی سے لے کر ٹیلی پرنٹر، ٹیلیکس، فیکس، فوٹو کاپی، ای میل، واٹس ایپ اور ٹویٹر تک کا طویل سفر طے کیا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں برق رفتار ذرائع اطلاعات اور لمحہ لمحہ خبروں کی بھرمار کے باعث اشاعت پذیر اور نشر ہونے والی خبروں کے معیار، ان کی جانچ پڑتال اور تصدیق کا عمل نہ ہونے باعث اب خبروں میں خبریت (Newism) ، اطلاعات، معلومات، حقائق اور غیر جانبداری کا لازمی عنصر برقرار نہیں رہا ہے۔
شعبہ صحافت کے مختلف حصوں پر مشتمل پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے انتہائی جانبدارانہ، غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور اخبارات کی صنعت کو درپیش موجودہ بحرانی کیفیت کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اب صحافت کا پیشہ خدمت قوم، آزادی صحافت اور اظہار رائے کی علم برداری کے بجائے محض ایک وسیلہ روزگار بن کر رہ گیا ہے۔

