صحافت کا پیشہ: خدمت، قومی ذمہ داری یا وسیلہ روزگار!


ابتدائی صحافت کی معلوم تاریخ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ قدیم روم میں 59 قبل از مسیح ایک خبری ٹکڑا (News Sheet) جسے (Acta Diurna) کہا جاتا تھا، اس پر روزانہ کی بنیاد پر اہم واقعات اور عوامی خطابات تحریر کیے جاتے تھے۔ یہ یومیہ شائع کیا جاتا تھا اور اسے عوام کی آگہی کے لئے نمایاں مقامات پر آویزاں کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح چین میں ٹانگ خاندان (Tang dynesty) کے عہد میں سرکاری حکام ایک عدالتی سرکلر جاری کیا کرتے تھے جسے (bao) یا رپورٹ کہا جاتا تھا۔ یہ گزٹ مختلف صورتوں اور مختلف ناموں سے 1911 ء میں چنگ خاندان (Qing dynesty) کے عہد کے اختتام تک برابر جاری رہا۔ جدید دنیا میں پہلے باقاعدہ شائع شدہ اخبارات 1609 ء میں جرمن شہروں اور انٹیورپ سے شائع ہوئے۔ انگریزی زبان کا پہلا اخبار دی ویکلی نیوز 1622 ء میں شائع ہوا اور سب سے پہلا روزنامہ The Daily Courant) ( 1702 ء میں منظر عام پر آیا۔

صحیفہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی وہ چیزیں جن پر لکھا جا سکے۔ اسی مناسبت سے کاغذ کے ورق کے ایک جانب کے صفحہ کو صحیفہ بھی کہتے ہیں۔ جدید عربی میں صحیفہ بمعنی جریدہ اور اخبار بھی مستعمل ہے۔ آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں لفظ ”صحیفہ“ آٹھ مقامات پر آیا ہے۔ اس سے لفظ صحافت کی تشکیل ہوئی۔ قرآن مجید میں قرطاس و قلم کا ذکر بھی موجود ہے۔ لہذا اسی لئے صحافت کو پیغمبری پیشہ بھی کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں صحیفہ نگاری یا نامہ نگاری کو ہی اردو میں صحافت کہا جانے لگا۔ انگریزی زبان میں یہ لفظ (Journal) سے ماخوذ ہے۔ جبکہ آج کل زبان زد عام میں شعبہ صحافت کو میڈیا کہا جاتا ہے۔

ممتاز صحافی، ادیب اور محقق اور سابق صدر شعبہ صحافت جامعہ پنجاب ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اپنی کتاب فن صحافت میں رقم طراز ہیں کہ:

” صحافت کا لفظ صحیفہ سے ماخذ ہے، صحیفہ کے لغوی معنی کتاب یا رسالہ کے ہیں۔ عرصہ دراز سے صحیفہ سے مراد ایک ایسا مطبوعہ ہے جو مقررہ اوقات میں شائع ہوتا ہے۔ چنانچہ تمام اخبارات اور رسائل صحیفہ میں شمار ہوتے ہیں اور جو لوگ اس کی ترتیب و تحسین اور تحریر سے وابستہ ہیں انہیں صحافی کہا جاتا ہے اور ان کے پیشہ کو صحافت کا نام دیا گیا ہے“ ۔ انگریزی زبان کی ایک کتاب ”صحافت: ایک تعارف“ میں لیزی اسٹیفن نے صحافت کی تعریف یوں بیان کی ہے۔

” صحافت ان معاملات کو ضبط تحریر میں لاکر استفادہ کرنے کا نام ہے، جن کے بارے میں آپ کچھ نہیں جانتے۔“
اسی طرح معروف عالمی جریدہ ٹائم میگزین (Time Magazine) کے ایرک ہوجنز کے خیال میں :

” صحافت، معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ دیانت، بصیرت اور رسائی سے ایسے انداز میں پہنچانے کا نام ہے، جس میں سچ کی بالا دستی ہو“ ۔

صحافت کا مفہوم بے حد وسیع ہے۔ آج کی صحافت محض فطری قوت تحریر ہی نہیں بلکہ صحافت کے اعلیٰ اصولوں فن طباعت، زبان و بیاں، تاریخ، جغرافیہ، شہریت، ملکی اور بین الاقوامی سیاست، اقتصادیات، علم انتظامیہ، آئین و قانون اور عمرانیات جیسے متنوع موضوعات کا ادراک ہے۔ لہذا صحافت کی علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ عملی تربیت اور تحقیق بھی یکساں ضروری ہے۔ صحافت کو ریاست کا ایک اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ ایک ایسا ستون جو دنیا بھر کی حکومتوں، اداروں اور اہم شخصیات کے شب و روز اور نشیب و فراز میں انتہائی موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ دور حاضر کی جدید ٹیکنالوجی ابلاغیات (Media) کو ایک موثر اور منظم سائنس کا درجہ دے چکی ہے۔

انسائیکلو پیڈیا آف امریکانا کے مطابق ”Journalism is the collection of periodical dissemination of current news and events or more strictly the business of managing، editing or writnig for journals and newspapers“

برصغیر میں آغاز صحافت:

برصغیر میں برطانوی راج کے دوران صحافت کا باقاعدہ آغاز 29 جنوری 1780 ء کو کلکتہ میں ایک آئرش باشندہ جیمز آگسٹس ہکیز ( 1740۔ 1802 ) کے ”ہکیز بنگال گزٹ“ نامی مطبوعہ اخبار کی اشاعت سے ہوا۔ جبکہ 27 مارچ 1822 ء کو کلکتہ سے اردو زبان کا پہلا اخبار جام جہاں نما بھی منظر عام پر آیا۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اردو زبان کا پہلا خالص اخبار ہفت روزہ ”دہلی اردو اخبار“ تھا۔ جسے مولوی محمد باقر دہلوی ( 1780۔ 1857 ) نے 1837 ء میں دہلی سے جاری کیا تھا۔

یہ اخبار ہندوستانی قوم پرستی کا زبردست حامی تھا اور 1857 ء کی جنگ آزادی میں اس کا بے حد اہم کردار تھا۔ مولوی محمد باقر نے اپنے اخبار دہلی کو جنگ آزادی 1857 ء کی خبروں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اسی لئے انگریزوں کی جانب سے بغاوت پر غلبہ پانے کے بعد مولوی محمد باقر دہلوی تاج برطانیہ کے خلاف بغاوت کے جرم میں معتوب ٹھہرائے گئے تھے۔ اور بالآخر انہیں ایک نا کردہ جرم کی پاداش میں کوئی مقدمہ چلائے بغیر توپ کے آگے کھڑا کر کے بارود سے اڑا دیا گیا تھا۔ مولوی محمد باقر کو ہندوستان کی تحریک آزادی کے پہلے شہید صحافی کا اعزاز حاصل ہے۔

برصغیر میں ایک دور میں معاشرہ پر اخبارات کے اتنے گہرے اثرات ہوا کرتے تھے کہ شاید دنیا کی کوئی طاقت بھی ان کے آگے نہ ٹھہر سکتی تھی۔ اس دور میں اخبار کو کاغذی دیو بھی کہا جاتا تھا۔ اسی لئے اکبر الہ آبادی نے کہا تھا!

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
مقابل ہو توپ تو اخبار نکالو
رئیس الاحرار اور کامریڈ اور ہمدرد کے ایڈیٹر مولانا محمد علی جوہر ( 1878۔ 1931 ) کی رائے میں ” صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کو پوری صحت سے درج کرے اسے خیال رکھنا چاہیے کہ واقعاتی صحت کا معیار اس قدر بلند ہو کہ آنے والا مورخ اس کی تحریر کی بنیاد پہ تاریخ کا ڈھانچہ کھڑا کرسکے۔ صحافی رائے عامہ کا ترجمان ہی نہیں رہنماء بھی ہوتا ہے۔ اسے صرف عوام الناس کی تائید اور حمایت نہیں کرنی چاہیے بلکہ صحافت کے منبر سے عوام کو درس بھی دینا چاہیے۔“

اسی طرح گیا (بہار) ہندوستان کے ایک سابق آئی پی ایس افسر اور مصنف معصوم عزیز کاظمی (ولادت 1946 ء) کے صحافت کے موضوع پرایک تحقیقی مقالہ کے مطابق
” صحافت خلا میں جنم نہیں لیتی، بلکہ صحافت معاشرہ، مملکت کی سچائیاں، تلخیاں، خوشگوار و ناخوشگوار واقعات، سیاست، مذہب، حادثات اور تجربات سماج کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں سب کچھ عیاں ہوتا ہے۔“

صحافت کے بنیادی اصول:

صحافت کا پیشہ آزادی اظہار اور ریاست کے چار بنیادی ستونوں میں سے ایک ستون ہے۔ ماہرین نے صحافت کے چار بنیادی اخلاقی اصول تعین کیے گئے ہیں۔ اطلاع، تنقید، اصلاح اور تحسین۔ کہتے ہیں کہ صحافت آزاد ہوتی ہے لیکن صحافی کبھی آزاد نہیں ہو سکتا کہ صحافی مصلح ہے۔ چنانچہ اخلاقیات کا سب سے اولین پابند صحافی ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ صحافت کا کوئی عالمی ضابطہ اخلاق مقرر نہیں، لیکن اس کے باوجود دنیا بھر کے خطوں میں صحافت کے تقریباً 242 مختلف ضابطہ اخلاق موجود ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں انسانی زندگی کے تمام شعبہ حیات بشمول صحافت کے لئے رہبری کا سبق موجود ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

” باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بناؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کو چھپانے کی کوشش کرو“ ( القرآن، سورۃ البقرۃ 42 )

اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

”جب تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لائے تو اچھی طرح چھان بین کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں تمہیں ندامت اٹھانی پڑے“ ۔

(القرآن، سورۃ الحجرات 6 )

صحافی کی تعریف: صحافی سے مراد ایسا فرد جو کسی بھی معاملہ میں تحقیق اور پھر متن، خبر، صوتی، سمعی، بصری مواد اور تصاویر کی شکل میں جمع کر کے بڑے پیمانے پر قارئین، سامعین اور ناظرین تک پہنچائے، ایسے فرد کو صحافی اور اس عمل کو صحافت کہا جاتا ہے۔ صحافتی امور میں تحریر، رپورٹنگ، پروف ریڈنگ، تصویر کشی، صدا بندی، فلم بندی، تدوین، ادارت، کالم نگاری، فیچر نگاری اور دستاویزی فلم بندی وغیرہ شامل ہیں۔

صحافت کی اقسام :

خبروں کے لحاظ سے صحافت کو دو درجات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ یعنی سخت خبریں (Hard News) اور نرم خبریں (Soft News) ۔

سخت خبروں اور نرم خبروں کی درجہ بندی اطلاعات کی فراہمی اور خبر کی نوعیت کی بنیاد سے کی جاتی ہے۔ سخت خبریں عموماً سنجیدہ حقائق پر مبنی اسٹوریز یعنی سیاست، حالات حاضرہ، حکومت کی کارکردگی، جرائم اور کاروبار پر مشتمل ہوتی ہیں۔

سخت خبریں (Hard News) :

تحقیقاتی صحافت: تحقیقاتی صحافت (Investigative Journalism) کا تعلق کسی خاص موضوع، فرد، ادارے، دلچسپی کے کسی موضوع یا کسی اہم واقعہ سے متعلق پوشیدہ سچائی یا حقائق کی بنیاد پردہ اٹھانا ہے۔ تحقیقاتی صحافی (Investigative Journalist) حقائق کی تلاش کے لئے ان معاملات اور جملہ دستاویزات کا بغور مطالعہ کرتا ہے۔ تحقیقاتی صحافی کو خبر کے حقائق کا کھوج لگانے کے دوران بے حد مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا 4

پڑتا ہے۔ پھر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد صحافی اس تحقیقاتی خبر کو خصوصی خبر کی شکل دے کر جلی سرخیوں کے ساتھ اسکینڈلز کی صورت میں بے نقاب کرتا ہے۔ لیکن متعلقہ دستاویزات تک رسائی اور حقائق کی تصدیق کے پیچیدہ طریقہ کار کے باعث بعض اوقات کسی ایک کیس کو مکمل کرنے میں مہینے اور سال تک لگ جاتے ہیں۔ لہذا اس مقصد کے لئے کسی بھی تحقیقاتی صحافی کے پاس ٹھوس معلومات اور دوران تحقیق صبر و تحمل اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سرکاری اداروں کی صحافت:

وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں اور دیگر سرکاری اداروں کے متعلق رپورٹنگ کو ایک انتہائی ذمہ دارانہ صحافت میں شمار کیا جاتا ہے۔ بیشتر سینئر صحافی وفاقی، صوبائی اداروں اور دیگر سرکاری اور خود مختار محکموں کی رپورٹنگ (Govt۔ Department Reporting) سے وابستہ ہیں۔ جو اپنی رپورٹوں، خصوصی رپورٹوں اور خبروں کے ذریعہ عوامی محصولات کے ذریعہ چلنے والے ان قومی سرکاری اداروں کی خدمات اور کار گزاری اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان سرکاری اداروں کی کوتاہیوں، ناقص کارکردگی، اعلیٰ افسران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، بے قاعدگیوں، غبن اور بد عنوانیوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں پر لازم ہے کہ وہ ملک کے آئین و قوانین، مختلف وفاقی، صوبائی اور خود مختار سرکاری اداروں کے قواعد و ضوابط، ان اداروں اور محکموں کے فرائض اور ان اداروں اور محکموں کے افسران اعلیٰ کے فرائض و خدمات کے متعلق درکار معلومات رکھتے ہوں۔

سیاسی شعبہ کی صحافت:

سیاسی صحافت (Political Journalism) کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ جن میں بین الاقوامی سیاست، ملکی سیاست اور مقامی سیاست کی خبریں شامل ہیں۔ جو صحافی (Political Reporting) کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ انہیں آئین پاکستان، برصغیر کی سیاسی تاریخ، ملک کی سیاسی تاریخ، سیاسی جماعتوں، اہم سیاسی واقعات، سیاسی شخصیات، عام انتخابات کا طریقہ کار، سیاسی پالیسیوں اور ان کے اثرات و نتائج کی گہری سمجھ بوجھ ہونی چاہیے اور پھر ان خبروں میں اپنی ذاتی رائے شامل کیے بغیر بالکل غیر جانبدارانہ انداز میں ان سچی خبروں کو اپنے قارئین اور ناظرین تک پہنچانا چاہیے۔ یہاں یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ سیاسی رپورٹنگ ایک نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ کی متقاضی ہے۔ جس میں اگر آپ کی ذاتی رائے اثر انداز ہو گئی تو اپنے قارئین اور ناظرین کی نظروں میں آپ کی ساکھ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

جرائم کی صحافت:

جرائم کی رپورٹنگ سے وابستہ صحافی (Crime Reporter) اپنے اخبار یا نیوز ٹی وی چینل کے لئے معاشرہ میں وقوع پذیر ہونے والے مختلف نوعیت کے جرائم، چوری، ڈکیتی، قتل، اغواء، حادثات اور اسمگلنگ وغیرہ کے واقعات اور اہم وارداتوں کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ ملزمان کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری، عدالتوں میں پیشی، مقدمات کی سماعت کے دوران عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ اور قیدیوں کے ساتھ غیر قانونی سلوک اور انہیں درپیش مسائل پر انٹرویو کرتا ہے۔

کسی انسان کے بہیمانہ قتل سے لے کر اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی ہیرا پھیری تک جو بھی عمل خلاف ضابطہ اور خلاف قانون ہو وہ فوجداری جرم کے زمرہ میں آتا ہے۔ جرائم کا رپورٹر پر اسرار طور سے ہونے والے انسانی قتل یا کسی ادارہ میں رقوم کے غبن اور ہر نوعیت کے جرائم اور سزاؤں کی خبروں کی بھی رپورٹنگ کرتا ہے۔ ایک جرائم رپورٹر کو ملک کے آئین و قانون، تعزیرات پاکستان، قواعد و ضوابط، سمیت فوجداری قوانین کی دفعات، ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ کار اور دیوانی قوانین پر عبور ہونا چاہیے۔

عدالتی صحافت:

ملک میں ایک عرصہ سے جاری آئینی بحران اور سنگین بدعنوانیوں کے کیسوں کے باعث سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کو رٹوں میں آئے دن کسی نا کسی اہم مسئلہ پر سماعت کی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائی کو رٹوں، خصوصی احتساب عدالتوں میں پولیس، نیب اور ایف آئی کی جانب سے سنگین مالی بدعنوانیوں میں ملوث اہم سیاسی شخصیات اعلیٰ سرکاری افسران، اور سابق وزراء کو بے شمار مقدمات کا سامنا ہے۔ لہذا اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی اخبارات اور نیوز ٹی وی چینلز کی جانب سے عدالتوں میں زیر سماعت ان اہم مقدمات کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کے لئے عدالتی رپورٹروں (Court Reporter) کو بھی تعینات کیا جانے لگا ہے۔ عدالتی رپورٹروں کو آئین پاکستان، مجموعہ تعزیرات پاکستان کی متعلقہ قانونی دفعات، عدالتی طریقہ کار، نیب اور ایف آئی اے کے تادیبی کارروائیوں کے قوانین سے واقفیت ہونا لازمی ہے۔

سفارتی صحافت:

بعض قومی اخبارات کے سینئر اور تجربہ کار رپورٹر سفارتی رپورٹر (Diplomatic Reporter) کی حیثیت سے ملک میں غیر ملکی قائم سفارت خانوں، قونصل خانوں اور سفارت کاروں کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سفارتی رپورٹر کی ذمہ داریوں میں سفراء کرام اور سفارت کاروں کے انٹرویوز، دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، دو طرفہ تجارت، درآمدات و برآمدات، دونوں ممالک کے عوام میں خیرسگالی اور دوروں اور ان ممالک کے قومی دن کی تقریبات کی رپورٹنگ شامل ہے۔ سفارتی رپورٹنگ کا شمار رپورٹنگ کے اہم شعبہ میں کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اسرار ایوبی کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments